اداریہ .. میں اگر سوختہ ساماں ہوں 47-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 15, 2019

اداریہ .. میں اگر سوختہ ساماں ہوں 47-2019


میں اگر سوختہ ساماں ہوں!

علامہ اقبالa نے جس اسلامی وفلاحی مملکت کا خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر قائد اعظم محمد علی جناحa کی قیادت میں لا الٰہ الا اللہ اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان معرض وجود میں آیا۔ کم وبیش ربع صدی بعد ۱۶ دسمبر ۱۹۷۱ء کو سانحۂ مشرقی پاکستان پیش آیا جو دشمنوں کی سازشوں‘ اپنوں کی حماقتوں‘ لیڈروں کی ہوس اقتدار اور بھارت کی فوجی جارحیت کی وجہ سے رونما ہوا اور ہمارا مشرقی پاکستان ہم سے کٹ کر رہ گیا۔
تاریخ شاہد ہے کہ سقوط بغداد اور سقوطِ غرناطہ کے بعد سقوط ڈھاکہ تاریخ اسلام کا وہ المناک باب ہے جس کی کسک ملت اسلامیہ ہمیشہ دل میں محسوس کرتی رہے گی۔ حقیقی بات یہ ہے کہ جب ۱۶ دسمبر کا دن آتا ہے تو ہر محب وطن پاکستانی اس سانحہ کے تصور سے نہ صرف خوفزدہ ہو جاتا ہے بلکہ بہت سے زخم تازہ ہو جاتے ہیں۔ نیز اس کی درد انگیزی دو چند ہو جاتی ہے۔
اس موقعہ پر تجزیہ نگار حضرات نے اس سانحہ کے اسباب پر بہت کچھ لکھا تا ہم چند اسباب کا ذکر مکرر کیا جاتا ہے:
اولاً:         ایک تو مارشل لاء کی حکومت نے ملک کو اندر سے کھوکھلا کر رکھا تھا اور اسے عوام کی کوئی تائید وحمایت حاصل نہ تھی۔ ظاہر ہے ایسی حکومت کبھی بھی غیر ملکی جارحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
ثانیا:        کبھی بھی فوجی حکمران ملک کی حفاظت اور دفاع اس انداز سے نہیں کر سکتا جس انداز سے سویلین حکومت کر سکتی ہے کیونکہ فوجی حکمران ہونے کی وجہ سے اس کی توجہ دو محاذوں پر بٹ جاتی ہے۔ ایک ملک کے نظم ونسق کے چلانے پر اور دوسرا ملکی سرحدوں کے دفاع پر جو بذات خود یکسوئی کا متقاضی ہے۔ جب تک اس پر پوری توجہ مرکوز نہ کی جائے اس اہم فریضہ سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔
ثالثا:        فوجی اور جنگی حکمت عملی میں مسلسل تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں اور وہی جرنیل اپنی فوجوں کے بہتر طریقے سے کمان کر سکتے ہیں اور انہیں پوری مہارت سے لڑا سکتے ہیں جن کی سوچ ہمہ وقت جنگی چالوں اور ان کی بہتری میں لگی رہے۔ جو لوگ حکومت میں آجاتے ہیں وہ فنی اور تکنیکی طور پر فنون حرب سے اس طرح وابستہ نہیں رہ سکتے اور نہ ہی نئی نئی حکمت عملیوں سے آشنا ہو سکتے ہیں جو پیشہ وارانہ مصروفیتوں میں شریک ہو کر رہتے ہیں۔
رابعا:       عوام کی رائے کا احترام نہ کرتے ہوئے جبر وتشدد سے ان کے منتخب کردہ نمائندوں اقتدار سے محروم رکھنے کی کوشش کی گئی جو حکومت بنانے کا حق رکھتے ہیں۔ انہیں جوڑ توڑ اور سازشوں کے ذریعے اس سے محروم رکھا گیا۔
خامسا: اس دور کے حکمرانوں کی عیاشیاں اور ہوس اقتدار نے یہ روز سیاہ دکھلایا۔ حکمرانوں کے حاشیہ برداروں نے انہیں حقائق سے بے خبر رکھتے ہوئے لذتوں میں سرمست رکھا۔ انہیں اس بات کا احساس ہی نہ ہوا کہ ملک ٹوٹ جائے گے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مشرقی پاکستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہو سکتا تھا مگر مسٹر بھٹو نے یواین او میں پولینڈ کی سیز فائر قرار داد پھاڑ ڈالی جس کی وجہ سے بھارتی فوج اور مکتی باہنی کو ڈھاکہ پہنچنے میں آسانی ہو گئی۔ جبکہ مشرقی پاکستان کے پاس لڑاکا طیارے‘ طیارہ شکن توپیں‘ ٹینک اور ہیلی کاپٹڑ نہ ہونے کے باوجود مشرقی سرحد پر پاک فوج تنہا کھڑی تھی۔
جس وقت مشرقی پاکستان میں فوج اور محب وطن لوگ اتحاد پاکستان کے لیے کوشاں تھے تو اس وقت اس امر کا بڑا شہرہ تھا کہ امریکی ساتواں بحری بیڑا پاکستان کی مدد کے لیے آ رہا ہے۔ وہ تو نہ آیا اور نہ ہی اسے آنا تھا۔ یہ محض طفل تسلی تھی کیونکہ امریکہ کو مشرقی پاکستان سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ مغربی پاکستان کے ساتھ اس کے مفادات وابستہ تھے۔ مارچ ۲۰۰۰ء میں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورۂ پاکستان سے قبل بھی امریکی وزیر خارجہ اور دیگر امریکی سفارتکاروں نے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ اس بات کا اعتراف کیا کہ امریکہ پاکستان توڑنے میں ملوث تھا۔
۷۱/۱۹۷۰ء میں امریکی سفارتکاروں کی جانب سے اپنے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھیجے گئے خفیہ خطوط سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ امریکہ مشرقی پاکستان کے سانحہ میں ملوث تھا۔ جبکہ اس وقت پاکستان‘ چین اور امریکہ کے تعلقات بہتر بنانے میں پل کا کردار ادا کر رہا تھا۔
ہم کو ان سے ہے وفا کی امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے؟
یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ بنگلا دیش میں بھارت پرست وزیر اعظم حسینہ واجد نے بھارت کی شہہ پر اسلامی نظریات کے حامل‘ متحدہ پاکستان کے حامی افراد اور جماعتوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ نیز باہمی معاہدوں کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہنے دی۔ پھر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم نے سقوطِ ڈھاکہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور اپنے فکر وعمل میں بہتری کی کوشش نہیں کی اور سابقہ ڈگر پر ہی چلتے رہے۔ ایسی صورت میں ہم کس طرح ترقی کر سکتے ہیں؟ آپ یاد رکھیں کہ
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی!
چنانچہ اپنی بات اس شعر پر ختم کرتے ہیں       ؎
میں اگر سوختہ ساماں ہوں تو یہ روز سیاہ
خود دکھایا ہے میرے گھر کے چراغاں نے مجھے


No comments:

Post a Comment

View My Stats