اسلام کا نظریۂ اجماع 47-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 15, 2019

اسلام کا نظریۂ اجماع 47-2019


اسلام کا نظریۂ اجماع

(تیسری قسط)  تحریر: جناب پروفیسر حافظ محمد شریف شاکر
اجماع صحابہ اوراس کی اہمیت:
قاضی شوکانی لکھتے ہیںکہ اجماع صحابہ بلااختلاف حجت ہے ،قاضی عبدالوہاب نے مبتدعہ کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کا اجماع حجت نہیں،اور دائود ظاہری حجیت اجماع کے لیے صحابہ ہی کے اجماع کو مختص کرتے ہیں۔ امام ابن حبان کا ظاہر کلام ان کی صحیح میں یہی ہے اور امام احمد بن حنبل سے یہی مشہور ہے۔ ابو دائود کی روایت میں امام احمد بن حنبل سے منقول ہے کہ آپ نے کہا کہ اجماع تو یہ ہے کہ جو کچھ نبیe سے اور آپ کے اصحاب سے آئے اس کی اتباع کی جائے اور وہ تابعین میں بااختیار ہے۔ ابو حنیفہa نے کہاکہ جب صحابہ کسی چیز پر اجماع کرلیں ہم تسلیم کریں گے اور جب تابعین اجماع کریں تو ہم ان کی مزاحمت کریں گے۔‘‘ (ارشاد الفحول للشوکانی:ص۷۲)
امام شوکانی مزید لکھتے ہیں کہ ابن وہب نے کہا کہ دائود اوراس کے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ اجماع صرف صحابہ ہی کا ہے اور اس قول کی مخالفت جائز نہیں کیونکہ اجماع کی بنیاد توقیف کتاب و سنت ہے اور توقیف کوجو حاضر ہوئے وہ صرف صحابہ ہیں۔ (نفس المرجع)
مرزاحیرت دہلوی (م ۱۹۲۸ء) لکھتے ہیں:
’’قرآن و حدیث کے ساتھ اجماع بھی شریک کیا جاتاہے ۔اس میں مسلمان باہم مختلف ہیں۔ مقلدین کا تو مذہب ہے کہ چار مجتہدوں (مثلاً امام ابوحنیفہ، امام مالک، شافعی، حنبل) سے اجماع شروع ہوااور ان ہی پر ختم ہوچکا، اس کے مقابل اہل حدیث کا یہ مذہب ہے کہ خلفائے راشدین کے بعد اجماع کبھی نہیں ہو سکتا۔‘‘ (حیات طیبہ‘ از مرزا حیرت دہلوی: ص ۳۱۴)
یعنی خلفائے راشدین کے زمانہ خلافت کے بعد اجماع نہیں ہوسکتا۔
صاحب التوضیح لکھتے ہیں:
[وبعض الناس خصوا الاجماع بالصحابة لانھم ھم الاصول۔] (التوضح (مع التلویح): ص: ۵۲۸)
’’کچھ لوگوں نے اجماع کو صحابہ کے ساتھ مختص کیا ہے کیونکہ امور دین میں وہی اصل ٹھہرتے ہیں۔‘‘
حافظ ابن حزم لکھتے ہیں کہ ایک جماعت نے کہا کہ اجماع تو صرف صحابہ] کا اجماع ہے لیکن ان کے بعد والوں کااجماع اجماع نہیں۔ (الاحکام فی اصول الاحکام: ص: ۴/۱۴۴)
یہ مضمون پڑھیں:    شفاعت کا اسلامی عقیدہ
ابن حزم مزید لکھتے ہیں کہ یہ تمام گروہ اس پر متفق ہیں کہ بلاشبہ صحابہ] کا اجماع ہی صحیح اجماع ہے اور یہ تمام گروہ اس بات کے قائل ہیں کہ جو کچھ صحابہ] میں مشتہر ہو ا اور صحابہ کی طرف سے اس کا انکار واقع نہیں ہوا وہ صحیح اجماع ہے۔ (نفس المرجع: ص ۱۴۶)
 نیز صحابہ] کل مومنین تھے‘ لوگوں میں سے ان کے سوا کوئی بھی مومن نہیں تھا اور جن کی یہ صفت ہو انہی کا اجماع مؤمنین کا اجماع ہے اور یہی اجماع قطعی ہے۔ (نفس المرجع: ص ۱۴۷)
 اہل مدینہ کااجماع :
اہل مدینہ کے اجماع کے بارے میں ابن تیمیہa لکھتے ہیںکہ اجماع اہل مدینہ کے مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ اس میں سے کچھ تو مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ ہیں اور کچھ کے جمہور ائمہ مسلمین قائل ہیں اور بعض کے کچھ لوگ ہی قائل ہیں اس طرح اجماع اہل مدینہ کے چار مراتب بنے:
پہلامرتبہ:
جو نبی e سے منقول کے قائم مقام ہو ،جیسے اہل مدینہ سے صاع اور مُد کی مقدار کا منقول ہونا اور سبزیوں پر زکوۃ کی چھوٹ ۔یہ اجماع باتفاق علماء حجت ہے۔ شافعی ، احمداور ان کے اصحاب کے ہاں تو بلانزاع ایسے ہی حجت ہے جیسے یہ مالک کے ہاں حجت ہے اور ابو حنیفہa اور آپ کے اصحاب کا بھی یہی مذھب ہے۔قاضی ابو یوسف،a امام ابوحنیفہa کے اجل ساتھی ہیں اور آپ پہلے شخص ہیں جن کو قاضی القضاۃ کا لقب دیا گیا ۔ جب آپ کی امام مالک سے ملاقات ہوئی اورآپ نے امام مالک سے ان مسائل کے بارے دریافت کیا اورامام مالک نے اہل مدینہ سے نقل متواتر کے ساتھ جواب دیا تو ابویوسفa نے مالک کے قول کی طرف رجوع کیا اور فرمایا کہ
’’اگرمیرے استاد ابو حنیفہa وہ کچھ دیکھ لیتے جو کچھ میں نے دیکھا ہے تو وہ بھی ویسے ہی رجوع کرلیتے جیسے میں نے رجوع کیا ہے۔‘‘
ابو یوسفa نے یہ بات بیان کردی کہ اس جیسی نقل متواتر ان کے استاد ابوحنیفہ کے ہاں بھی اسی طرح حجت ہے جیسے ابوحنیفہa کے غیر کے ہاں حجت ہے ۔ لیکن یہ نقل ابوحنیفہa کو نہیں پہنچ سکی ،جس طرح ابو حنیفہ اور آپ کے علاوہ دیگر ائمہ کو بہت سی احادیث نہیں پہنچیں لہٰذا جس حدیث کا علم انہیں نہیں ہوا اس کے ترک پر انہیں کوئی ملامت نہیں۔ ابو یوسف کا ان منقولہ مسائل کی طرف رجوع بہت سی احادیث کی طرف آپ کے رجوع جیسا ہے، جن کی پیروی آپ نے اور آپ کے ساتھی محمدبن حسن شیبانی نے کی اور اپنے شیخ ابو حنیفہa کے قول کو ترک کردیا۔‘‘(مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص ۲۰/۳۰۳-۳۰۴)
 دوسر ا مرتبہ:
وہ ہے جو شہادتِ عثمانt سے پہلے کے زمانہ میںچلاآرہا ہو۔ امام مالک کے مذہب میں یہ حجت ہے۔ شافعی سے بھی یہی منصوص ہے ،یونس بن عبدالاعلیٰ کی روایت میں ہے کہ شافعی نے کہاکہ جب تم قدماء اہل مدینہ کو کسی چیز کے تابع پائو تو اس میں شک کرتے ہوئے اپنے دل میں اسے حق تسلیم کرنے میں توقف اختیار نہ کرو۔ اور ایسا ہی امام احمدبن حنبل کا ظاہر مذہب ہے کہ جسے خلفائے راشدین نے جاری کیا وہ حجت ہے ، اس کی اتباع واجب ہے۔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ
[كل بیعة كانت فی المدینة فھی خلافة نبوة۔]
’’ہر وہ بیعت جو مدینہ میں ہوئی وہ خلافت نبوت ہے۔‘‘
یہ معلوم ہے کہ ابو بکر ؓ ،عمرؓ اور عثمانؓ کی بیعت مدینہ میں ہوئی۔ اسی طرح علیؓ کی بیعت مدینہ میں ہوئی پھر وہ مدینہ سے نکل گئے اور اس کے بعد مدینہ میں بیعت منعقد نہیں ہوئی۔‘‘ (نفس المرجع: ص ۲۰/۳۰۸)
تیسرا مرتبہ:
جب کسی مسئلہ میں دو دلیلیں متعارض آ جائیں جیسے دو حدیثیں اور دو قیاس،اور یہ معلوم نہ ہو کہ ان میں سے ارجح کو ن سی دلیل ہے اور ان دونوں میں سے ایک پر اہل مدینہ کا عمل ہو تو اس میں ائمہ کے درمیان نزاع پایا جاتا ہے: مالک اور شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اہل مدینہ کے عمل کو ترجیح ہوگی۔ ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اہل مدینہ کے عمل کو ترجیح نہیں ہوگی۔ امام احمدکے اصحاب کے ہاں دو صورتیں ہیں :ایک یہ کہ عمل اہل مدینہ کو ترجیح نہیں ہوگی اور یہ قاضی ابویعلیٰف اور ابن عقیلق کا قول ہے۔ دوم یہ کہ اسے ترجیح ہوگی اور یہ ابوالخطاب (م۵۱۰ھ) وغیرہ کا قول ہے۔ امام احمدکاقول ہے :
[اذا راٰی اھل المدینة حدیثاً وعملوا به فھو الغایة۔]
’’جب اہل مدینہ کے سامنے کوئی حدیث ہو اور یہ اس پر عمل کریں تو یہ آخری بات ہوگی۔‘‘
آپ اہلِ مدینہ کے مذہب پر فتویٰ دیا کرتے اور اس مذہب اہلِ مدینہ کوبہت سی تقریر میں اہلِ عراق کے مذہب پر مقدم رکھتے تھے۔‘‘ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص: ۲۰/۳۰۹)
امام احمد بن حنبلa مستفتی کو مذاہب اہل حدیث اورمذہب اہل مدینہ کی راہنمائی فرمایا کرتے تھے اور آپ مستفتی کو اسحاق (م ۲۳۸ھ) ،ابو عبید(م ۲۲۴ھ) ، ابو ثور (م ۲۴۰) ، اور ان جیسے فقہائے اہل حدیث کی راہنمائی کرتے اور ابو مصعب زہری(م ۲۴۲ھ) اور اس جیسے مدنیوں کے حلقہ درس کی راہنمائی کرتے تھے ۔امام احمد جس طرح اہل رائے کو مسترد کرتے ہیں اس طرح اہل مدینہ کو مسترد نہیں کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ انہوں نے آثار کی پیروی کی ہے۔ (نفس المرجع: ص ۲۰/۳۱۰)
چوتھا مرتبہ:
مدینہ میں متأخر عمل کا ہے ۔کیا یہ حجت شرعیہ ہے ؟ کہ اس کی اتباع واجب ہو۔یا نہیں؟ ائمۃ الناس اس بات کے قائل ہیں کہ یہ شرعی حجت نہیں ۔یہ مذہب شافعی ، احمد،ابوحنیفہ وغیرہم کا ہے۔ محققین اصحاب مالک کا بھی یہی قول ہے جیساکہ فاضل عبدالوہاب (م۴۲۲ھ ) نے اسے اپنی کتاب ’’اُصول فقہ‘‘ میں ذکر کیا، آپ نے ذکر کیا کہ یہ اجماع نہیں اور نہ ہی محققینِ اصحاب مالک کے ہاں حجت ہے۔ بعض دفعہ اصحاب مالک میں سے بعض اہل مغرب نے اسے حجت قرار دیا ہے ،حالانکہ ایسے شخصوں کے پاس ائمہ کی کوئی نص موجود نہیں اور نہ ہی کوئی دلیل ، بلکہ یہ اہل تقلید ہیں۔‘‘ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ۲۰/۳۱۰)
یہ مضمون پڑھیں:    اسلام، عورت اور پردہ
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام لکھتے ہیں کہ جب واضح ہوگیا کہ اہل مدینہ کے اجماع کے بارے میں جمہور ائمہ کے مذاہب مختلف ہیں تو اس سے معلوم ہواکہ اہل مدینہ کا قول روایت و رائے کے لحاظ سے تمام شہروں کے باشندوں کے اقوال سے زیادہ صحیح ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کبھی تو یہ قول قطعی حجت ہوتاہے اور کبھی قوی حجت ہوتاہے اور دلیل کے لیے راجح ہوتاہے۔ جبکہ یہ خاصیت مسلمانوں کے کسی اور شہر کو حاصل نہیں۔ (نفس المرجع: ص ۲۰/۳۱۱)
مدنی صحابہ کامقام مرتبہ:
ابن تیمیہa لکھتے ہیںکہ یہ بات واضح ہے کہ جو صحابہ مدینہ میں موجود تھے وہ بہترین صحابہ تھے کیونکہ قتل عثمانt سے قبل کوئی صحابی مدینہ سے نہیں نکلامگر اس سے افضل وہاں مقیم ہوگیا ۔جب شام و عراق وغیرہما فتح ہوئے تو سیدنا عمرؓ نے کتاب وسنت سکھانے والے صحابہ دیگر شہروں میں بھیجے: عراق کی طرف عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر، عمران بن حصین، سلمان فارسی وغیرہم گئے۔ شام کی طرف معاذ بن جبل، عبادہ بن صامت، ابودرداء، بلال بن رباح وغیرہ اور عمر کے پاس عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف، ابی بن کعب، محمد بن مسلمہ، زید بن ثابت وغیرہم جیسے صحابہ] باقی رہے۔عبداللہ بن مسعود :جو عراق میں رہنے والے صحابہ] میں سب سے زیادہ عالم تھے، فتویٰ دیتے پھر مدینہ آکر وہا ں کے علماء سے پوچھتے تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعودt کو ان کے قول سے پھیرتے توابن مسعود ان کے قول کی طرف رجوع فرماتے، جیسا کہ بیویوں کی مائوں کے مسئلہ میں دخول کی شرط کا مسئلہ پیش آیا، جب ابن مسعود نے گمان کیا کہ بیوی کی ماںسے نکاح کی حرمت کے لیے بیوی سے دخول کی شرط ہے۔ جیسے ربیبہ میںاس سے نکاح کی حرمت کے لیے اس کی ماں سے دخول شرط ہے۔ ایسے ہی ابن مسعود کا یہ گمان کہ جب کو ئی شخص دخول سے پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اس  کے لیے اس کی ماں اسی طرح حلال ٹھہرتی ہے جیسے اس کی بیٹی حلال ٹھہرتی ہے۔ جب ابن مسعود مدینہ واپس آئے اوراس مسئلہ کے بارے میں صحابہ سے دریافت کیاتو علماء صحابہ نے انہیں بتایا کہ ربیبہ سے نکاح کی حرمت میں اس کی ماں سے دخول شرط ہے لیکن بیویوں کی مائوں سے نکاح کی حرمت ثابت کرنے کے لیے بیویوں سے دخول شرط نہیں تو ابن مسعودt نے ان صحابہ کے قول کی طرف رجوع کیا اور آدمی کو اس کی بیوی سے اس کے حاملہ ہونے کے بعد اس سے جدائی کا حکم دیا۔
اہلِ مدینہ جن چیزوں پر عمل پیرا تھے  وہ یا تو رسول اللہe کی سنت ہوتی تھی، یا وہ عمر بن خطابt کے فیصلوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔ کہا جاتاہے کہ مالک نے المؤطا کا زیادہ حصہ ربیعہ (م: ۱۳۳ھ) سے اور ربیعہف نے سعید بن مسیب (م:۹۳ھ)سے اخذکیا، سعید بن مسیب نے سیدنا عمرؓ سے،اورعمرکو الہام ہوتا تھا۔ترمذی میں رسول اللہ e سے منقول ہے، آپ e نے فرمایا: [لو لم ابعث فیكم لبعث فیكم عمر] اورآپ e سے صحیحین میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: [كان فی الامم قبلكم محدثون فان یكن فی امتی احد فعمر] اور نبی e سے سنن میںمنقول ہے کہ آپ نے فرمایا [اقتدوا بالذین من بعدی : ابی بكر و عمر] اور عمر، عثمان، علی، طلحہ ، زبیر،سعد ،عبد الرحمان جیسے اکابر صحابہ سے سیدنا عمرt مشورہ کیا کرتے۔اسی لیے شعبی (م: ۱۰۴ھ) نے کہا تھا: [انظروا ماقضیٰ به عمر فانه كان یشاور۔] ’’سیدنا عمرt کے فیصلوں پر نظر رکھو کیونکہ وہ مشورہ کیا کرتے تھے۔‘‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ سیدنا عمرt جو  فیصلہ کرتے یا فتویٰ دیتے اوروہ اس میں صحابہ] سے مشورہ کرتے ۔یہ فتاویٰ اور فیصلے ابن مسعود کے فیصلوں یا فتوئوں سے راجح یا اس جیسے ہوتے تھے۔ سیدنا عمرt مسائل دین اوراصول و فروع میں صرف رسول اللہ e کے فیصلوں کی پیروی کیاکرتے تھے اور اہل شوریٰ میں سے سیدنا علیt وغیرہ سے مشورہ کیا کر تے تھے جس طرح آپ نے رجعی طلاق کی عدت گزارتی مطلقہ کے بارے میں اپنی بیماری میں سیدنا علیt سے مشورہ کیا کہ کیا جب اس کا خاونددورانِ عدت فوت ہوجائے وہ اس کی وارث ہوگی؟ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص ۲۰/۳۱۳)
شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں کہ پھر جب سیدنا عثمانt قتل کردیے گئے اور فتنہ و افتراق نے سر اٹھا یا اور علی رضی اللہ عنہ عراق منتقل ہوگئے اور طلحہ و زبیرw بھی مدینہ سے چلے گئے، مدینہ میںان جیسا کوئی نہ رہا لیکن مدینہ میں سعد بن ابی وقاص، ابو ایوب انصاری، محمد بن مسلمہ] جیسے صحابہ موجود تھے اور ان جیسے صحابہ]، سیدنا علیt کے ساتھ جانے والے صحابہ] سے بلند مرتبہ تھے۔ کوفہ میںرہنے والے صحابہ میں سب سے زیادہ عالم سیدنا علیt اور سیدنا ابن مسعودt تھے۔ آپ عمر وعثمانw کے نائب تھے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ سیدنا علیt ان کے ساتھ ہوتے ہوئے علم وفضل میں اپنے عراقی ساتھیوں سے بڑھ کر تھے۔ اسی لیے امام شافعیa فقہی مسائل میں بعض عراقیوں سے ، مناظر کے خلاف علی اور ابن مسعود کے قول کو بطورحجت پیش کرتے ہوئے، مناظرہ کیا کرتے تھے۔امام شافعیa نے کتاب [اختلاف علی وعبداللّٰه] تالیف کی جس میں آپ ان دونوں کے ان اقوال کو بیان کرتے ہیں جنہیں مناظر وغیرہ اہل علم نے ترک کیا تھا ۔آپ کے بعد محمد بن نصر مروزی(م۲۹۴ھ)آئے انہوں نے اس فن میں شافعی کی تالیفات سے زائد تالیفات کیں ۔آپ نے فرمایا کہ تم اور تمام مسلمان ان دونوں کے قول سے راجح کے لیے ان دونوں کے اقوال ترک کردیتے ہیں ۔اسی طرح تمہارے غیر بھی اس سے راجح کے لیے اسے ترک کر دیتے ہیں۔ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص ۲۰/۳۱۳-۳۱۴)
شیخ الاسلام ابن تیمیہa مزید لکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں جس چیز سے معاملہ واضح ہوتاہے و ہ یہ ہے کہ کوفہ کے علاوہ مسلمانوں کے تمام شہر اہل مدینہ کے علم کے تابع تھے،اپنی ذات کو علم میں ان کے برابر شمار نہیں کرتے تھے۔ جیسے شام و مصر والے‘ مثلاً شامیوں میں سے امام اوزاعی (م ۱۵۷ھ) اور آپ سے پہلے کے اور بعد کے ،اور مصریوں میں سے لیث بن سعید(م ۱۷۵ھ) جیسے اورآپ سے پہلے اور بعد کے ،ان محدثین کا اہل مدینہ کے عمل کی تعظیم کرنا اور ان کا ان کے قدیم مذہب کی اتباع کرنا واضح ہے ۔اسی طرح اہل بصرہ کے علماء مثلاً :ایوب ،حماد بن زیداور عبدالرحمان بن مہدی اوران جیسے دیگر علماء ہیں۔اسی لیے ان شہروں میں اہل مدینہ کا مذہب ظاہر ہوا کیوںکہ اہل مصر ،اہل مدینہ کے قول کے مددگار بنے اوروہ امام مالک کے جلیل القدر مصری اصحاب ہیں ۔ جیسے ابن وھب ،ابن القاسم ، اشھب اور عبداللہ بن الحکم ہیں۔ شامیوں کی امام مالک سے روایات معروف ہیں جیسے ولید بن مسلم ،مروان بن محمد اور ان جیسے دیگر علماء ہیں ۔لیکن اہل عراق مثلاً : عبدالرحمان بن مہدی ، حماد بن زیداور اسماعیل بن اسحاق قاضی اور ان جیسے دیگر مالک کے مذہب کے پیروکار بنے اوروہ چیف جسٹس کے عہدوں پر فائز رہے۔ اسماعیل اور آپ جیسے تو اسلام کے اجل علماء میں سے ہیں۔ لیکن کوفہ کے رہنے والے فتنہ و افتراق کے بعد اہل مدینہ کی برابری کے دعوے دار بنے رہے ،جبکہ فتنہ و افتراق سے قبل وہ اہل مدینہ کے منقاد و متبع تھے۔ قتل عثمانؓ سے پہلے کوفہ یا کسی اور شہر کا رہنے والا کو ئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو اس بات کا دعویدارہو کہ اس کے شہر کے رہنے والے اہل مدینہ سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔ جب عثمانt قتل کردیے گئے اور امت کا شیرازہ بکھرا اور وہ کئی فرقوں میں بٹ گئے تو اہل کوفہ میں سے ایسے لوگ ظاہر ہوئے جو علمائے اہل کوفہ کو علمائے اہل مدینہ کے مساوی قرار دینے لگے۔ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص ۲۰/۳۱۴-۳۱۵)
اہل مدینہ کی روایت اور رائے کی برتری:
اس کے بارے میں شیخ الاسلام لکھتے ہیں کہ علم یا تو روایت ہے یا رائے ہے اوراہل مدینہ تمام شہروں سے زیادہ صحیح روایت و رائے والے ہیں۔ جہاں تک ان کی حدیث کا معاملہ ہے تو وہ تمام احادیث سے زیادہ صحیح ہے۔ حدیث کا علم رکھنے والے اس پر متفق ہیں کہ سب سے زیادہ صحیح احادیث اہل مدینہ کی روایت کردہ  ہیں۔اس کے بعد اہل بصرہ کی روایت کردہ احادیث ہیں ، لیکن جہاں تک اہل شام کی احادیث کا تعلق ہے تو یہ اس سے کم تر ہیں ۔ اہل شام میں وہ اتصالِ سند اورضبطِ الفاظ نہیں جو اہلِ مدینہ اوراہلِ بصرہ میں ہے۔ ان میں یعنی مدینہ، مکہ ،بصرہ اورشام والوں میں معروف بالکذب تو نہیں ہیں لیکن ان میں سے کچھ ضبط رکھتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ضبط نہیں رکھتے ۔ لیکن اہل کوفہ ؟ تو ان سے بڑھ کر کسی اور شہر والوں میں جھوٹ نہیں پایا جاتا،تابعین کے زمانہ میں وہاں بہت سے لوگ معروف بالکذب تھے۔ خصوصاً شیعہ کیونکہ باتفاق اہل علم وہ تمام جماعتو ں سے زیادہ جھوٹ بولنے والے ہیں ۔اسی لیے اہل مدینہ میں سے مالک وغیرہ سے مذکور ہے کہ اہل عراق کی عام احادیث کو قابل حجت نہیں سمجھتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان میںکذّاب موجود ہیں اوروہ صادق و کاذب میں تمیز نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن جب انہیں حدیث کی سچائی معلوم ہوجاتی تو وہ اس سے حجت پکڑتے جیساکہ مالک نے ایوب سختیانی سے روایت کیا حالانکہ وہ عراقی ہیں ۔اس بارے میں کسی نے مالک سے کہا تو آپ نے فرمایا کہ جس کسی سے میں نے تمھیں روایت کیا ایوب اس سے افضل ہیں یا اس جیسے ہیں۔ شافعی کا قدیم قول بھی یہی ہے، حتیٰ کہ یہ مروی ہے کہ شافعی سے کہا گیا کہ جب سفیان،’’منصورعن علقمۃ عن عبداللّٰہ‘‘سے کوئی حدیث روایت کریں تو اس سے حجت نہ پکڑی جائے؟تو شافعی نے کہا : اگر اس کی اصل حجاز میں نہیں توحجت نہ پکڑی جائے لیکن اگر ایسا نہیں تو کوئی حرج نہیں۔ پھر شافعی نے اس سے رجوع کرلیا اور احمد بن حنبل سے کہا کہ
’’تم حدیث کو ہم سے زیادہ جانتے ہو،جب حدیث صحیح ہو تو اس کے بارے میں بتادیاکرو تاکہ میں اسے اختیار کرلوں،خواہ وہ شامی ہو، بصری ہو یاکوفی۔‘‘
آپ نے مدنی یا مکی نہیں کہا کیونکہ اس سے تو وہ پہلے ہی حجت پکڑتے تھے،لیکن شعبہ ، یحییٰ بن سعید جیسے علمائے اہلحدیث اور صحیح وسنن کے مصنّفین تو ثقات حفاظ اور ان کے غیروں کے درمیان تمیز کرتے تھے۔ لہٰذا وہ جانتے تھے کہ کوفہ اور بصرہ میں کون سے شبہ سے پاک ثقات ہیں،اور ان میں کونسے بہت سے اہلِ حجازسے افضل ہیں۔ کوئی عالم علقمہ،اسود،عبیدہ سلمانی،حارث تمیمی اورقاضی شریح جیسے عبداللہ بن مسعودt کے شاگردوں میں شک و شبہ نہیں کرسکتا ، پھر ابراہیم نخعی ،حکم بن عتیبہ اور ان جیسے تو لوگوں سے زیادہ ثقاہت اور زیادہ حافظہ رکھنے والے ہیں۔ لہٰذا علمائے اہلِ اسلام اس حدیث کے ساتھ حجت پکڑ نے پر متفق ہیں جسے حدیث کا علم رکھنے والوں نے صحیح کہاہوخوا ہ وہ حدیث کسی بھی شہر کی ہو۔ابو دائود سجستانی نے ’’مفارید اہل الامصار‘‘ تالیف کی جس میں آپ نے ان احادیث کو ذکر کیا ہے جنہیں مسلمانوں کے ہر ایک شہر کے سنت کا علم کررکھنے والوں نے علیحدہ علیحدہ روایت کیا ہے۔ (مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام: ص: ۳۱۶-۳۱۷)
اس کے بعد شیخ الاسلام لکھتے ہیں کہ جب یہ بات واضح ہوگئی تو کسی کو اس میں شک نہیں رہا کہ مالک اہل مدینہ کے مذہب کو روایت ورائے کے لحاظ سے تمام لوگوں سے بڑھ کر قائم کرنے والے تھے،اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے زمانے میں اور آپ کے بعد اہل مدینہ کے مذہب کو آپ سے زیادہ قائم کرنے والا کو ئی نہیں ہوا۔ (نفس المرجع: ص ۳۲۰) …… (جاری ہے)


No comments:

Post a Comment

View My Stats