ولیمہ کی شرعی حیثیت 48-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 22, 2019

ولیمہ کی شرعی حیثیت 48-2019


ولیمہ کی شرعی حیثیت

تحریر: جناب مولانا ارش عبدالباقی
ولیمہ‘ ولم‘ سے مشتحق ہے جس کا معنی اکٹھا اور جمع کرنا ہے۔
اصطلاح شرع میں ولیمہ اس دعوت کو کہا جاتا ہے جو شادی کے موقع پر زوجین کے باہمی اختلاط کے بعد کی جاتی ہے۔
 ضیافت کی قسمیں:
امام محی الدین ابوزکریا یحییٰ بن شرف النوویa نے ضیافت ومہمان نوازی کی آٹھ اقسام رقم فرمائی ہیں:
1          الولیمۃ للعرس: شادی کے موقع پر دعوت کرنا۔ (یہ مسنون ہے۔)
2          الخرس لسلامۃ المرأۃ من الولادۃ: عورت کا ایام ولادت سے صحیح وسالم فراغت پانے کے بعد دعوت کرنا۔ (اس میں مضیف مختار ہے۔)
3          الاعذار للختان: بچہ کے ختنہ کرانے کے بعد دعوت کرنا۔ (یہ دعوت مختلف فیہ ہے۔)
4          الوکیرۃ للبناء: نئی عمارت بنوانے کے بعد دعوت کرنا۔ (اس میں مضیف مختار ہے۔)
5          النقیعۃ لقدوم المسافر: مسافر کا اپنے سفر سے صحیح وسالم منزل مقصود تک پہنچ جانے پر دعوت کرنا۔ (اس میں مضیف مختار ہے۔)
6          العقیقۃ یوم سابع الولادۃ: بچے کی ولادت کے ساتویں روز دعوت کرنا۔ (مسنون ہے)
7          الوضیمۃ عند المصیبۃ: نزول مصیبت پر دعوت کرنا (حرام ہے)
8          المأدبۃ الطعام المتخذ للضیافۃ: بلاسبب‘ بغیر کسی وجہ کے دعوت کرنا۔ (مسنون ہے) (تحفۃ الاحوذی: ۲/۱۷۲)
 ولیمہ کی شرعی حیثیت:
[عن أنس أن النبیﷺ رأی علی عبدالرحمن بن ع وف أثر صفرة فقال: ما هذا؟ قال إنی تزوجت امرأة علی وزن نواة من ذهب۔ فقال: بارك الله لك أولم ولو بشاة] (متفق علیه)
سیدنا انسt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف کے کپڑے پر زردی کا نشان دیکھا تو آپe نے ان سے دریافت کیا یہ کیا ہے؟ عبدالرحمن بن عوفt نے جواب دیا کہ میں نے ایک عورت سے پانچ درہم کے برابر سونے کے عوض شادی کی ہے۔ آپe نے ارشاد فرمایا: اللہ تمہیں برکت سے ہمکنار کرے‘ تم ولیمہ ضرور کرو اگرچہ ایک ہی بکری کیوں نہ ہو۔‘‘
اس حدیث میں وارد شدہ آخری (اختتامی) کلمے [اولم ولو بشاة] سے استدلال کرتے ہوئے داؤد ظاہری اور ان کے متبعین کہتے ہیں کہ ولیمہ کرنا واجب ہے‘ امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ ولیمہ کرنا سنت ہے‘ ابن بطال کا قول ہے کہ میں کسی عالم کو نہیں جانتا جنہوں نے ولیمہ کو واجب کہا ہو‘ جمہور علماء امت کا قول ہے کہ ولیمہ کرنا مندوب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی: ۲/۱۷۳)
 ولیمہ کس چیز کا ہو؟!
ناکح اپنی سہولت واستطاعت کی بنیاد پر ولیمہ میں حسن انتظام کا مختار ہے‘ کیونکہ رسول اللہe نے زینب بنت خزیمہr سے نکاح کے بعد ایک بکری‘ زینب بنت جحشr سے نکاح کے بعد گوشت روٹی اور صفیہr بنت حیی بن اخطب سے نکاح کے بعد کھجور‘ گھی‘ پنیر اور ستو کا ولیمہ کیا تھا۔ (g) بعض علماء نے [ولو بشاة] میں [لو] کو نافیہ مان کر بکری کو ممنوع قرار دیا ہے لیکن امام ابن حجر عسقلانیa نے ان کا رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ [لو] نافیہ نہیں بلکہ تقلیل کے لیے ہے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہt کی روایت سے معلوم ہوتا ہے‘ نبی کریمe نے ان سے دریافت کیا:
[أ عرست؟ قال نعم، قال: أولمت؟ قال: لا، فرمی إلیه رسول اللهﷺ بنواة من ذهب فقال أولم ولو بشاة]
’’کیا تم نے شادی کر لی ہے؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا جی ہاں۔ آپe نے دریافت فرمایا ’’کیا ولیمہ بھی کر لیا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا نہیں تو رسول اللہe نے پانچ درہم کے برابر سونا ان کی طرف پھینکا اور کہا: ’’ولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی بکری کیوں نہ ہو۔‘‘ (تحفۃ الاحوذی: ۲/۱۷۲)
 ولیمہ کب ہو؟
علماء امت کے درمیان اس بارے میں شدید اختلاف ہے کہ ولیمہ کس وقت کیا جائے؟ چنانچہ امام صنعانی رقم طراز ہیں: شوافع میں سے ماوردی کا قول ہے کہ دخول کے وقت ولیمہ کیا جائے گا۔ لیکن ابن السبکی کا قول ہے کہ نبی کریمe سے بعد الدخول ولیمہ کرنا ثابت ہے۔ (سبل السلام: ۳/۱۵۵)
مذکورہ بالا اقوال میں سے ثانی الذکر قول موافق سنت ہے‘ اس لیے ناکح کو چاہیے کہ منکوحہ سے اختلاط باہمی اور زن وشوی کے بعد ہی ولیمہ کرے۔
[عن أنس قال أقام النبی ﷺ بین خیبر والمدینة ثلث لیال یبنی علیه بصفیة فدعوت المسلمین إ لی ولیمته] (رواه البخاری)
سیدنا انسt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین رات قیام کیا اور وہیں سیدہ صفیہr کے ساتھ باہمی شب باشی کی پھر میں نے دیگر صحابہ کرام] کو آپe کی دعوت ولیمہ پر بلایا۔
صحیح بخاری کی ہی سیدنا انسt سے مروی دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہe نے جب زینب بنت جحشr کے ساتھ شب باشی فرمائی: [فأشبع الناس خبزا ولحما] تو صحابہ کرام] کو خوب آسودگی کے ساتھ گوشت روٹی کھلائی۔
 دعوت ولیمہ کن کو دی جائے:
موجودہ زمانے میں اسلامی معاشرے کی اخلاقی پستی کا حال یوں ہے کہ لوگ اپنی ’’انا‘‘ کو برقرار رکھنے کے لیے معاشی واقتصادی خوشحالی کی آڑ لے کر بطور نمود ونمائش اپنی دعوت میں محتاجوں وبیکسوں کو فراموش کر کے مالداروں اور معاشرے کے سربرآوردہ لوگوں کو ہی شریک کرتے ہیں جبکہ اس بارے میں رسول اللہe کی انتہائی سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
[عن أبی هریرة قال: قال رسول الله ﷺ: ’شر الطعام الولیمة یدعی لها الأغنیاء ویترك الفقراء۔] (متفق علیه)
’’دعوت ولیمہ میں بدترین دعوت وہ ہے جس میں مالداروں کو مدعو کیا جائے اور محتاجوں کو دعوت نہ دی جائے۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا:
[شر الطعام، طعام الولیمة یمنعها من یأتیها ویدعی إلیها من یأباها]
یعنی ’’بدترین دعوت ولیمہ وہ ہے جس میں حاجت مندوں کو روک دیا جائے اور بے نیازوں کو مدعو کیا جائے۔‘‘
 ایجاب دعوت ولیمہ:
امت مسلمہ کے ہر فرد بشر (مرد وعورت) پر دعوت ولیمہ کا قبول کرنا واجب ہے‘ جس نے دعوت قبول کرنے سے انکار کیا تو اس نے درج ذیل حدیث کی روشنی میں اللہ اور اس کے رسولe کی نافرمانی کا ارتکاب کیا۔ آپe نے ارشاد فرمایا:
[إذا دعی أحدكم إلی طعام فلیجب فإ ن شاء طعم وإن شاء ترك۔] (مسلم)
یعنی ’’تم میں سے جو کوئی کسی دعوت میں مدعو کیا جائے تو اسے قبول کر لے پھر چاہے تو کھانا کھائے یا چاہے تو چھوڑ دے۔ بلکہ اگر کوئی شخص نفلی روزے سے ہے تو وہ مختار ہے حسب منشا افطار کر کے دعوت کھا لے وگرنہ دعائے برکت دے کر واپس آ جائے۔‘‘
رسول اللہe نے ارشاد فرمایا:
[إذا دعی أحدكم فلیجب فإن كان صائما فیصل، وإن كان مفطرا فلیطعم] (مسلم)
متذکرہ بالا احادیث کی روشنی میں علماء کرام اس مسئلہ میں مختلف الرای ہیں‘ داؤد ظاہری اور ان کے متبعین اور بعض شافعیہ کے نزدیک ولیمہ العرس کی دعوت قبول کرنا واجب ہے۔ جمہور‘ شوافع اور حنابلہ کے نزدیک دعوت ولیمہ قبول کرنا فرض عین ہے۔ امام مالک کے نزدیک فرض کفایہ ہے۔ امام ابن عبدالبر‘ قاضی عیاض‘ امام نووی کے نزدیک ولیمہ العرس کی دعوت قبول کرنا باتفاق علماء واجب ہے۔ (تحفۃ الاحوذی۲/۱۷۴‘ سبل السلام: ۳/۱۵۵)
دعوت میں مدعوین حضرات انتہائی متانت وسنجیدگی کے ساتھ سازگار ماحول کے تحت اجتماعی صورت سے دعوت کھائیں‘ اس لیے کہ اس ماحول میں اللہ کی طرف سے برکت کا نزول ہوتا ہے۔ رسول اللہe نے ارشاد فرمایا:
[اجتمعوا علی طعامكم یبارك لكم فیه] (ابوداؤد‘ ترمذی)
یعنی ’’اکٹھے ہو کر کھانا کھاؤ‘ اس میں تمہارے واسطے برکت ہو گی۔‘‘
اگر کسی کو کوئی دعوت محبوب نہیں تو دسترخوان پر بیٹھ کر عیب جوئی نہ کرے بلکہ رسول اللہe کے فعل کے موافق خواہش ہو تو کھا لے ورنہ چھوڑ دے۔
[ما عاب رسول الله ﷺ طعاما قط إن اشتهاه أكل وإن كره ترك] (تنقیح الرواة: ۳/۲۰۵)
ہاں اگر دعوت میں کسی غیر شرعی روش کو فروغ دیا گیا ہے تو پھر ایسی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کر کے اس میں شرکت سے احتراز کرنا چاہیے۔
[عن علی قال: صنعت طعاما فدعوت رسول الله ﷺ فجاء فرأی فی البیت تصاویر فرجع] (ابن ماجه)
سیدنا علیt سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا پھر رسول اللہe کو مدعو کیا تو آپe تشریف لائے لیکن گھر کے اندر تصاویر دیکھ کر واپس چلے گئے۔
اب آخر میں اس امر کی وضاحت بھی انتہائی اہم ہے کہ آیا عورتوں اور بچوں کو دعوت ولیمہ میں شرکت کی دعوت دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ اس بارے میں نبی کریمe کا ارشاد گرامی وارد ہوا ہے جسے امام محمد بن اسماعیل البخاری نے سیدنا انسt سے روایت کیا ہے:
[قال أبصر النبی ﷺ نساء وصبیانا مقبلین من عرس فقام ممتنا فقال: ’اللهم أنتم من أحب الناس إلی۔‘] (بخاری)
سیدنا انسt کہتے ہیں کہ نبی کریمe نے کچھ عورتوں اور بچوں کو دعوت ولیمہ سے لوٹتے ہوئے دیکھا تو آپe مسرت وشادمانی سے کھڑے ہو گئے پھر ارشاد فرمایا: ’’تم لوگ میرے لیے محبوب ترین لوگوں میں سے ہو۔‘‘
رب العالمین تمام مسلمانوں کو سنت صحیحہ کی اتباع اور سنت سیئہ سے اعراض کی توفیق بخشے۔ آمین!
لیکن آج مختلف قسم کی دعوتوں میں جن میں دعوت ولیمہ بھی شامل ہے عورتیں بے پردگی اور حیا باختگی کا جو مظاہرہ کر رہی ہیں اسلام اس کی قطعا اجازت نہیں دیتا۔ جوان لڑکیاں بے پردہ سارے پنڈال میں شور مچاتی پھرتی ہیں‘ یہ مسلم معاشرے کی بے مرادی اور بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے‘ اس کو بدلنا امت مسلمہ کے لیے ضروری اور واجب ہے اور ان دعوتوں کو لعنت بننے سے بچانا ضروری ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats