نماز مومن کی معراج ہے 48-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 22, 2019

نماز مومن کی معراج ہے 48-2019


نماز مومن کی معراج ہے

تحریر: جناب قاری محمد اقبال
اس امر میں شک نہیں کہ نماز محبت کرنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور مؤمنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص تحفہ ہے۔ رسول اللہ e کافرمان عالی شان ہے:
[جُعِلَتْ قُرَّة عَینِي فِي الصَّلَاة۔] (النسائی)
’’میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی ہے۔‘‘
جب اللہ کے رسول کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے تو آپ سے محبت کرنے والوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی نماز ہی میں ہونی چاہیے۔نماز اہل ایمان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہے اور ان کے دل کا سکون وسرور بھی ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
{اَلَا بِذِكرِ اللَّه تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ}(الرعد:  ۲۸)
’’آگاہ رہو! اللہ کے ذکر ہی سے دل قرار پاتے ہیں۔‘‘
میں اپنے قارئین کرام سے گزارش کروں گا کہ اگر کبھی رات کو انہیں نیند نہ آرہی ہو‘ بے چینی کا سامنا ہو تو نیند کی گولیاں یا سکون آور دوائیں نہ کھائیں بلکہ اٹھ کر نماز شروع کردیا کریں۔ اس طریقے سے اجر وثواب بھی پائیں اورسکون وآرام بھی حاصل کریں۔
 مؤمنین کے لیے خاص تحفہ:
نماز مؤمنین کے لیے خاص تحفہ اس طرح ہے کہ معراج کی رات اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کو یہ خاص تحفہ عطا فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کے تمام احکام جبریل کے ذریعے زمین پر ارسال فرمائے لیکن جب بندوں کو نماز کا حکم دینا تھا تو اس کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر اللہ رب العزت نے سات آسمانوں سے اوپر بہت عزت وتکریم سے اپنے رسول کو اپنے پاس بلایا اور وہاں عالم بالا میں یہ عظیم الشان تحفہ امت محمدیہ کے لیے عطا فرمایا۔ بخاری ومسلم کی ایک طویل حدیث میں آپ e فرماتے ہیں: ’’پھرمجھے اتنی بلندی پر لے جایا گیا کہ مجھے ملائکہ مقربین کے قلموں کے لکھنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ‘‘امام خطابی کہتے ہیں: ملائکہ مقربین وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام اور وحی لکھتے ہیں اور جو کچھ تقدیر سے منسوخ کیا جاتا ہے اسے بھی وہی لکھتے ہیں۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں۔ یہ تحفہ ربانی لے کر میں واپس آرہا تھا کہ میرا گزر موسی علیہ السلا م پر ہوا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا؟ آپ کو بارگاہ الٰہی سے کیا تحفہ ملا؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں ‘ کہنے لگے: واپس جاکر اللہ تعالیٰ سے تخفیف کی درخواست کیجیے۔ میں واپس گیا تو پانچ نمازیں کم کر دی گئیں۔ پھر میں بار بار ان کے مشورے پر گیا اور ہر بار پانچ نمازیں کم ہوتی چلی گئیں۔ آخر میں جب پانچ رہ گئیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ ہیں تو پانچ مگر ان پر ثواب پچاس ہی کا ملے گا۔
قارئین! دنیا میں جب کوئی بڑی شخصیت آپ کو تحفہ دیتی ہے تو کیا آپ اسے رد کرنے کی جرأت کرتے ہیں؟! ہر گز نہیں۔ پھر مالک کائنات رب السماوات والأرض کا دیا ہوا تحفہ کیسے مسترد کرتے ہو؟ کیا ہم سب کے خالق ومالک کا عطا کردہ تحفہ اس لائق نہیں کہ ہم اسے دل وجان سے قبول کریں اور اس کی حفاظت کریں۔
علامہ ابن القیمa فرماتے ہیں:
’’یہ بات اچھی طرح جان لو کہ نماز واقعی محبین کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور موحدین کی ارواح کے لیے لذیذ ترین شے ہے۔ یہ عبادت کرنے والوں کاچمنستان ہے اور خاشعین کے نفوس کے لیے لذت وسرور کا باعث ہے۔ یہ صادقین کے حالات کو جانچنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ راہ سلوک کے مسافروں کے لیے معیار اور میزان کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘
مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص سچا مسلمان ہونے کا دعویٰ کرے اور نماز نہ پڑھتا ہو یہ ممکن ہی نہیں ۔ سچا وہی ہے جو اللہ کے رسول کا سچا پیروکار ہے اور جوشخص نبی کریمe کا امتی ہونے کا دعویٰ کرے اور نماز کاتارک ہوتو اس سے بڑا کوئی جھوٹا نہیں۔ آپe توسیدنا بلال سے فرمایا کرتے تھے:
[یَا بِلَالُ! اَقِمِ الصَّلَاة اَرِحْنَا بِها۔] (ابو داود )
’’بلال! اٹھو‘ نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں راحت پہنچاؤ۔‘‘
دراصل اپنے دین میں سچا وہی ہے جو پانچ وقت نماز مسجد میں باجماعت ادا کرتا ہو۔
یہ راہ سلوک کے مسافروں کے لیے بھی معیار اور میزان ہے۔ مطلب یہ کہ جو شخص اللہ کی محبت کی راہ کا سالک ہو اور پھر اللہ کا عائد کردہ یہ فریضہ ادا نہ کرتا ہووہ کبھی محبت الٰہی کی منزل کو نہیں پاسکتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’ فرمادیجیے! اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو‘ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔‘‘ (آل عمران: ۳۱)
آپe کا حال تو یہ تھا کہ مرض الموت میں جب آپ کو تھوڑا سا افاقہ ہوا تو آپ دو آدمیوں کا سہارالے کر گھسٹتے پیروں کے ساتھ مسجد میں تشریف لائے اور نماز ادا کی۔ راہ سلوک کا سالک اگر تزکیہ نفس چاہتا ہے تو وہ بھی نماز کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ نماز کی اولیں شرط طہارت ہے۔ غسل استنجاء اور وضوء ظاہری طہارت کے ذرائع ہیں اورنماز باطنی اور قلبی طہارت کا ذریعہ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا مانگی تھی اس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے:
’’اے ہمارے پرودگار! ان میں ایک رسول مبعوث فرما جو انہی میں سے ہو‘ وہ ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۹)
اللہ کے نبی e نے صحابہ کا تزکیہ اس طرح فرمایا کہ انہیں سب سے پہلے نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی۔ فرمایا:
’’تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر ایک نہر ہو جس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا؟ کہنے لگے: کوئی میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔ فرمایا: یہ مثال پانچ نمازوں کی ہے اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
پتہ چلا کہ ظاہری اورقلبی تزکیہ حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے۔ اگر کوئی شخص نماز نہیں پڑھتا اور خود کو اللہ والا ظاہر کرتا ہے تو وہ بہت بڑا مفتری اور کذاب ہے۔
نماز اللہ کی بہت بڑی رحمت ہے:
نماز اللہ تعالیٰ کی وہ رحمت ہے جسے اس نے اپنے ایمان دار بندوں کے لیے ہدیہ کیا ہے۔ اس نے اپنے بندوں کو نماز کی طرف ہدایت عطا فرمائی۔ انہیں نماز کا طریقہ سکھایا۔ اپنے صادق وامین رسول کے ذریعے انہیں نماز سکھائی۔ ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کا اکرام کرتے ہوئے تاکہ وہ نماز کے ذریعے کرامت وتکریم الٰہی کا شرف حاصل کر سکیں اور تاکہ وہ قربت الٰہی کے حصول میں کامیاب ہو سکیں۔ اس قربت کی اللہ تعالیٰ کو تو کوئی ضرورت نہیں بلکہ یہ مالک کائنات کا بندوں پر احسان اور اس کا فضل وکرم ہے کہ وہ انہیں اپنی قربت نصیب فرما دیتا ہے۔
قربت الٰہی کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} ’’اے میرے حبیب! کثرت سے سجدے کرو اور میرے قریب ہو جاؤ۔‘‘ بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کی جس قدر قربت حاصل کرتا ہے کسی اور حالت میں وہ قربت اور خاص تعلق اسے نصیب نہیں ہو سکتا۔ رحمت للعالمین کا ارشاد گرامی ہے:
’’آدمی اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، حالت سجدہ میں دعا کی کثرت کیا کرو۔‘‘(مسلم)
آپ e کا یہ بھی ارشادگرامی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’میرا بندہ جن جن چیزوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ‘ ان میں سے کوئی چیز مجھے اس سے زیادہ پسند نہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرے قریب ہوتا چلا جاتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو ا س کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور میں اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اب اگر وہ مجھ سے مانگے گا تو میں اسے عطا کروں گا اور اگر مجھ سے پناہ طلب کرے گا تو اسے پناہ دوں گا…‘‘آخر حدیث تک‘(البخاری)
مطلب یہ ہے کہ جب بندہ میری قربت حاصل کر لیتا ہے تو پھر اس کے کان میری مرضی کے خلاف کچھ نہیں سنتے‘ اس کی آنکھیں ایسی کوئی بھی چیز نہیں دیکھتیں جس سے میں نے منع کیا ہو‘ اس کے ہاتھ کسی ایسی چیز کو نہیں پکڑتے جس سے میری ناراضی کا ڈر ہو اور اس کے پاؤں کسی ایسے کام کی طرف چل کر نہیں جاتے جس میں میری نافرمانی کا اندیشہ ہو۔
 تمام اعضاء و جوارح کے لیے عبادت کا موقع:
اللہ تعالیٰ نے اس نماز کے ذریعے اپنے بندوں کے دلوں اور تمام اعضاء وجوارح کو اپنی عبادت کا موقع عطا فرمایا ہے۔
یعنی نماز ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان کے تمام ظاہری وباطنی اعضاء عبادت الٰہی میں مشغول ہونے چاہئیں۔ اگر کسی شخص کے دل میں خشوع ہوگا‘تعلق باللہ ہوگا تو اس کے اعضاء پر بھی اس کا اثر دکھائی دے گا۔ اگرنمازی کے دل میں خشوع نہ ہو تواس کے اعضاء و جوارح بھی ادھر ادھر حرکات کرکے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔اگر کوئی شخص اعضاء کے ساتھ تو نماز پڑھ رہا ہو مگر اس کا دل غیر حاضر ہو تو اسے نماز سے پورا فائدہ نہیں ملتا۔ رسول اللہ e کا فرمان ہے:
’’اللہ سے دعا مانگتے وقت قبولیت کا یقین رکھ کر دعا مانگو۔ جان لو کہ اللہ تعالیٰ کسی غافل بے پروا دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔‘‘(الترمذی)
نمازی کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مرکوزرہنی چاہیے۔یحییٰ بن زکریاu نے اپنی قوم کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے تمہیں نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ جب تم نماز پڑھو تو اپنی توجہ ادھر ادھر نہ ہونے دو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی طرف رکھتاہے جب تک وہ کسی اور طرف متوجہ نہ ہو۔‘‘ (الترمذی)
آنکھوں کو سجدے کی جگہ پر رکھنا بھی توجہ إلی اللہ کی علامت ہے۔ اگر آدمی دائیں بائیں دیکھے گاتو اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی اس سے ہٹ جائے گی۔ رسول اللہ e سے ام المؤمنین سیدہ عائشہ نے عرض کیا: یار سول اللہ! یہ نماز میں التفات کیا ہے؟ فرمایا:
[هوَ اخْتِلَاسٌ یَخْتَلِسُه الشَّیْطَانُ مِنْ صَلَاة الْعَبْدِ۔] (البخاری)
’’یہ شیطان کی چوری ہوتی ہے جو وہ بندے کی نما ز سے چرا لیتا ہے۔‘‘
 ایک مثال: 
اللہ کے لیے تو بہت بڑی مثال ہے مگر آپ یوںسمجھیں کہ جیسے کسی بڑی حکومت کا سلطان کسی بندے کو اپنے دربار میں ملاقات کا شرف بخشے اور وہ ملاقاتی اس دوران بادشاہ کی طرف توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ادھر ادھرموجود اشیاء کی طرف متوجہ ہو جائے تو ایسا بندہ یقینا بادشاہ کی نظروں سے گر جائے گا۔ یہی حال نمازی کا ہے۔ دراصل وہ مالک کائنات کی ملاقات کے لیے اس کے دربار میں حاضر ہوتا ہے‘ مگر اس کی طرف پوری طرح متوجہ نہ ہو تو اسے مطلوبہ فوائد حاصل نہیں ہوسکتے۔
نماز تقرب الٰہی کا بہت بڑا ذریعہ ہے:
اپنے رب کی معرفت رکھنے والے دل کے لیے نماز میں سے کامل ترین اور عظیم ترین حصہ ہے۔ یہ حصہ اسے اپنے رب کی طرف خوب متوجہ ہونے کے باعث‘ اپنے رب کے قرب سے لذت وسرور حاصل کرنے کی صورت میں ملتا ہے۔وہ اپنے رب کی محبت سے سرشار ہوتا ہے۔ وہ اپنے مالک کے حضور کھڑا ہونے میں انتہا درجے کا لطف محسوس کرتا ہے۔ وہ غیروں سے منہ موڑ کر جب اپنے مولا کی طرف رخ کرتا ہے اور ظاہر ی وباطنی طور پر اس کی عبودیت کے حقوق کی ادائیگی کرتا ہے تو ایک ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے جو اس کے رب کو بہت پسند ہوتی ہے۔
انسان اگر نماز کے کلمات کے معانی پر توجہ مرکوز رکھے اور بارگاہ رب العزت میںحاضری کے احساس سے سرشار ہو تو اسے نمازمیں لذت وسرور حاصل ہوتا ہے۔ اگر زبان سے کلمات ادا ہورہے ہوں اور دل کو معلوم ہی نہ ہو کہ زبان نے کیا کہا تو پھر یہ لذت مفقود ہو جاتی ہے۔ پھر حالت یہ ہو جاتی ہے کہ آپ ایک نمازی سے پوچھیں: آپ نے دوسری رکعت میں کون سی سورت کی تلاوت کی تھی۔ وہ کہے گا: مجھے تو معلوم نہیں میں نے کیا پڑھا تھا۔جتنے لوگ بھی نماز ادا کرنے والے ہیں ان میں سے ہر نمازی کو اس کی نماز کا پورا فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ رسول اللہe فرماتے ہیں:
’’آدمی نما ز پڑھ کے فارغ ہوتا ہے تو ا س کو نماز کا صرف دسواں حصہ اجر ملتا ہے‘ کسی کو نواں‘ آٹھواں‘ ساتواں‘ چھٹا‘ پانچواں‘ چوتھا‘ تیسراحصہ اور کسی کو نصف اجر ملتاہے۔‘‘ (ابوداود)
یہ اتنا بڑا فرق کیسے واقع ہو جاتا ہے جب کہ نماز تو سبھی پڑھتے ہیںاور سب کا عمل دیکھنے میں تقریبا ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ جو شخص پوری توجہ سے نماز نہیں پڑھتا‘ اس کا دل دنیا میں مشغول رہتا ہے یا وہ رکوع وسجود اور قیام اطمینان سے نہیں کرتا تو ا س کی نماز ناقص رہ جاتی ہے۔آج کے اس ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کے دل اکثر انٹرنیٹ اور موبائل وغیرہ میں اٹکے رہتے ہیں یا پھر کاروباری الجھنیں انسان کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ہوتیں اس لیے نماز میں خشوع ‘ توجہ اور اخلاص مفقود ہوتا جا رہا ہے۔آج ہماری نوجوان نسل کو سب سے پہلے تو پانچ وقت مسجد میں حاضر ہونے اور نماز باجماعت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ جب یہ اہتمام ہو جائے تو پھر اخلاص‘ خشوع اور توجہ إلی اللہ پر زور دینے کی ضرورت ہے۔
 اللہ کے دسترخوان پر روحانی غذا: 
دنیا کی اس زندگی میں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو اندرونی اور بیرونی شہوات کے امتحان میں ڈالاتو اس کی رحمت کی تکمیل اور احسان کا تقاضا ہوا کہ اس نے بندے کے لیے ایک ایسے دسترخوان کا انتظام کر دیا جس میں اس کے لیے رنگا رنگ نعمتیں اور انواع واقسام کے تحائف جمع کر دیے۔ اس کے لیے مختلف قسم کے لباس‘ اور بخشش وعطا کی فراہمی کا اہتمام کرکے بندے کو دن میں پانچ مرتبہ اس دستر خوان پر آنے کی دعوت دی۔ا س دستر خوان کے رنگوں میں سے ہر ایک رنگ میں مالک کائنات نے بندے کے لیے ایسا نفع‘ مصلحت اور وقار رکھ دیا‘ جو دوسرے رنگوں سے مختلف ہے؛ تاکہ بندے کے لیے عبودیت کے ہر رنگ میں ا س کے لیے لذت وسرور کی تکمیل ہو جائے اور تاکہ وہ اپنے بندے کو عزت وتکریم کے تمام رنگ دکھا دے۔
مساجد اور ذکر الٰہی کے حلقے ایسے دسترخوان ہیں جن پر روح کی غذا کا انتظام ہوتا ہے۔ آج اکثر انسان دن رات اپنے اجسام کی غذا کی فکر ہی میں رہتے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنی روح کو غذا فراہم کرنے کی فکر بھی کرتے ہیں۔ حالانکہ مربی اعظم نے اس بارے میںبہت وضاحت سے امت کی رہنمائی فرما دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
’’جب تمہارا گزر جنت کے باغیچوں سے ہو ا کرے تو کچھ چَر چُگ لیا کرو۔ عرض کیا گیا: جنت کے باغیچے کیا ہیں؟ فرمایا: اللہ کے ذکر کے حلقے۔‘‘ (الترمذی)
پیارے بھائی! یہ کھانا پینا یہ چرنا چگنا جسمانی غذا کے لیے تو نہیں مساجد میں کوئی روٹی گوشت یا انواع واقسام کے پکوان تو نہیں ہوتے‘ وہاں تو نماز‘ تلاوت‘ ذکر‘ وعظ ‘ درس وتدریس ہوتی ہے۔ یہ سب روحانی غذا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں: میں نماز فجر کے بعد اشراق تک مسجد میں بیٹھ کر ذکر واذکار کرتا ہوں۔ یہ میرا روحانی ناشتہ ہے۔ اگر میں یہ نہ کروں تو میری طاقت سلب ہو جائے۔
تاریخ وسیر کی کتابوں میں مذکور ہے کہ سیدناعبد اللہ بن مسعودt کے شاگرد خاص ربیع بن خثیم کوفہ میں رہتے تھے۔ایک بار انہوں نے تیس ہزار درہم کا گھوڑا خریدا۔ گھوڑے کو اپنے قریب باندھ کر وہ نماز میں مشغول ہو گئے۔ ایک چور آیا اور ان کا گھوڑا کھول کر لے گیا۔ ان کا غلام گھوڑے کو چارہ کھلانے آیا تو دیکھا کہ گھوڑا غائب ہے۔ ربیع سے پوچھنے لگا: میرے آقا!گھوڑا کہاںہے؟ فرمانے لگے: چوری ہو گیا۔ کہا: آپ کی موجودگی میں کیسے چوری ہوگیا۔ کہنے لگے: میںنماز میں مشغول تھا اور اپنے رب کی حاضری کا لطف اٹھا رہا تھا۔ میں نے سوچا گھوڑے کو بچانے کے لیے نماز منقطع کرنا ٹھیک نہیں۔ چور تو میری چوری کر ہی رہا تھا مگر میں نے اپنے رب کی چوری کرنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ تھاہمارے اسلاف کا حال کہ وہ تیس ہزار درہم کے مقابلے میں نماز کی لذت کو مقدم جانتے تھے۔
 دعوت کے لوازمات: 
جس طرح جسمانی غذا کی دعوتوں میں کھانے سے پہلے اور بعد میں کچھ لوازمات ہوتے ہیں۔ کھانے سے پہلے مہمانوں کی خدمت میں ہلکی پھلکی اشیاء پیش کی جاتی ہیں اور کھانے کے بعد بالعموم پھل یاسویٹ ڈش پیش کی جاتی ہے۔ اسی طرح روحانی غذا کے طلب گار ربانی مہمانوں کو بھی نماز سے پہلے کچھ انعامات دیے جاتے ہیں اور پھر نماز کے بعد بھی انعام اکرام کی بارش کی جاتی ہے‘ اگر وہ اپنی جگہ پر کچھ دیر بیٹھ کر ذکر الٰہی کرتے رہیں۔
مسجد میں نمازی کے لیے بیٹھنے کے وقت سے لے کر اٹھنے کے وقت تک اللہ کے فرشتے بخشش ورحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ نبی اکرم e فرماتے ہیں:
’’بندہ جب تک اپنی نماز والی جگہ میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے تب تک وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔فرشتے اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس بندے کو بخش دے ‘ اس پر رحم فرما۔‘‘(مسلم)
جو شخص نماز ادا کرنے کے بعد اپنی جگہ بیٹھا رہے اور اللہ کو یاد کرتا رہے تب تک وہ فرشتوں کی دعا کا مستحق رہتا ہے۔ اللہ کے رسول نے ہمیں بتلا دیا ہے کہ جو شخص نماز فجر کے بعد اپنی جگہ بیٹھ کر ذکر کر تاہے حتی کہ سورج پوری طرح نکل آئے اور پھر دو سے لے کر آٹھ رکعات تک نماز ادا کرکے مسجد سے نکلے تو اس کے لیے ایک نفلی حج اورعمرے کا ثواب ہے۔ حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:
’’جس شخص نے نماز فجر باجماعت اداکی ‘ بھر بیٹھ کر اللہ کا ذکرتا رہا‘ حتی کہ سورج نکل آیا‘ اس کے لیے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ہے پورے حج وعمرے کا‘ پورے حج وعمرے کا‘ پورے حج وعمرے کا۔‘‘ (صحیح الجامع)


No comments:

Post a Comment

View My Stats