موسم سرما کے احکام ومسائل 48-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 22, 2019

موسم سرما کے احکام ومسائل 48-2019


موسم سرما کے احکام ومسائل

امام الحرم النبوی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالرحمن البعیجان d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
بہترین کلام اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریقہ محمد بن عبد اللہ e، کا طریقہ ہے۔ ایجاد کردہ عبادتیں بد ترین کام ہیں۔ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم کی طرف لیجاتی ہے۔
اللہ کے بندو! جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو۔ جن چیزوں سے اس نے منع کیا یا خوب ڈانٹا ہے ان سے بچ جاؤ۔
{یَا اَیُّها الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّه حَقَّ تُقَاتِه وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ}
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۲)
اللہ کے بندو! دنوں کے گزر میں بڑی عبرت ہے، ماضی میں بھی بڑی یاد دہانیاں اور سبق ہیں۔
{یُقَلِّبُ اللَّه اللَّیْلَ وَالنَّهارَ إِنَّ فِی ذَلِك لَعِبْرَة لِاُولِی الْأَبْصَارِ}
’’رات اور دن کا الٹ پھیر وہی کر رہا ہے اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔‘‘ (النور: ۴۴)
اے مسلمانو! دن، مہینے، موسم اور سال یکے بعد دیگرے آتے جاتے ہیں، امیدیں بھی گزرتی جاتی ہیں، عمریں بھی فنا ہوتی جاتی ہیں، نسلوں کے بعد نسلیں آتی جاتی ہیں، اس زمین پر رہنے والی ہر چیز نے بالآخر ہلاک ہو ہی جانا ہے۔ رہے گا تو بس وہ پروردگار جو صاحب جلالت ہے۔ اللہ کے بندو! موسم سرما آگیا ہے۔ اس میں ٹھنڈی ہوائی بڑی تیزی سے چلتی ہیں۔ اس کی ٹھنڈک بھی ایک یاد دہانی ہے۔ اس موسم میں اللہ تعالیٰ نے جہنم کو ایک سانس لینے کی اجازت دی ہے۔
[عن أبی هریرة -رضی الله عنه- أن النبیﷺ قال: ’اشتكتِ النارُ إلی ربها وقالَتْ: اَكلَ بعضی بعضًا، فجعل لها نفسَینِ؛ نَفَسًا فی الشتاء ونَفَسًا فی الصیف، فأمَّا نَفَسُها فی الشتاء فزمهریرٌ، وأمَّا نَفَسُها فی الصیف فسمومٌ۔‘] (متفق علیه)
سیدنا ابو ہریرہt سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’آگ نے اپنے پروردگار سے شکوہ کیا، کہنے لگی: میں خود ہی کو کھاتی جا رہی ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی۔ ایک مرتبہ موسم سرما میں اور ایک مرتبہ موسم گرما میں۔ موسم سرما میں اس کا سانس سخت ٹھنڈا ہوتا ہے جبکہ موسم گرما میں اس کا سانس شدید گرم ہوتا ہے۔‘‘ (بخاری ومسلم)
[وروی عن عمر بن الخطاب -رضی الله عنه- أنه كان إذا حضَر الشتائُ تعاهد رعیتَه وكتَب لهم: ’إن الشتاء قد حضَر، وهو عدوٌّ، فتأهبُوا له اُهبَتَه من الصوف والخفاف والجوارب، واتخِذُوا الصوفَ شعارًا ودثارًا؛ فإن البردَ عدوٌّ سریعٌ دخولُه، بعیدٌ خروجُه۔‘]
سیدنا عمر بن خطابt سے روایت ہے کہ جب موسم سرما آتا تو وہ لوگوں کے احوال معلوم کرتے اور یہ خط اپنے مختلف علاقوں میں بھیجتے: ’’موسم سرما آ گیا ہے، یہ بھی ایک دشمن ہے۔ اس کے لیے تیاری کر لو۔ اون کے کپڑے تیار کر لو، موزے اور جرابیں تیار کر لو۔ اون کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنا لو۔ سردی ایسا دشمن ہے جو بڑی تیزی سے داخل ہوتا ہے اور بڑی مشکل سے نکلتا ہے۔‘‘
اللہ کے بندو! کمزور لوگوں کا خیال رکھو۔ موسم سرما میں سردی کا مقابلہ کرنے میں ان کی مدد کرو۔ ان کے کھانے، پینے، لباس اور بستروں کا خیال رکھو۔ روز قیامت اللہ سے ملاقات کے وقت اس سے اجر کی توقع رکھو۔
{وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكمْ وَمَا تُنْفِقُونَ اِلَّا ابْتِغَائَ وَجْه اللّٰه وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَیْرٍ یُوَفَّ إِلَیْكمْ وَاَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ}
’’خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے‘ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہو گی۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۲)
اللہ کے بندو! زمانوں اور  موسموںمیں غور کیجیے کہ ان میں کتنی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اگر زمانے میں بس ایک ہی موسم ہوتا تو لوگ بقیہ موسموں کے فوائد سے محروم ہو جاتے۔ اگر صرف گرمی ہی گرمی ہوتی تو سردیوں کے فوائد نہ ملتے اور صرف سردی ہی سردی ہوتی تو گرمیوں کیفوائد  نہ نصیب ہوتے۔ اسی طرح اگر صرف بہار ہی ہوتی یا صرف خزاں ہی ہوتی تو دوسرے موسموں کے فوائد سے محروم ہو جاتے۔
فوا عجبًا كیف یُعصَی الإله
أم كیف یجحده الجاحدُ
وفی كل شیء له آیة
تدل علی أنه الواحد
ترجمہ ’’عجب ہے! الٰہ کی نافرمانی کس طرح ہو سکتی ہے؟ انکار کرنے والا اس کا انکار کس طرح کر سکتا ہے؟ حالانکہ ہر چیز میں کوئی نہ کوئی نشانی موجود ہے جو بتاتی ہے کہ وہ اکیلا ہی الٰہ ہے۔
اے مسلمانو! موسم سرما آ چکا ہے۔ تو ہم عبادت گزاروں کے لیے اس سنہری موقع کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ یہی اہل ایمان کی بہار ہے۔ اس کی رات طویل ہو جاتی ہے اور لوگ اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں، پھر تہجد کے لیے ان کے پہلو بستروں سے الگ ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح اس کے دن چھوٹے ہو جاتے ہیں اور روزہ رکھنا آسان ہو جاتا ہے۔
{إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَعُیُونٍ٭ آخِذِینَ مَا آتَاهمْ رَبُّهمْ إِنَّهمْ كانُوا قَبْلَ ذَلِك مُحْسِنِینَ٭ كانُوا قَلِیلًا مِنَ اللَّیْلِ مَا یَهجَعُونَ٭ وَبِالْأَسْحَارِ همْ یَسْتَغْفِرُونَ٭}
’’البتہ متقی لوگ اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ جو کچھ اُن کا رب انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے وہ اُس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے۔ راتوں کو کم ہی سوتے تھے۔ پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے۔‘‘ (الذاریات: ۱۵-۱۸)
اللہ کے بندو! موسم سرما مؤمنوں کی بہار ہوتا ہے۔ اس کے دوران وہ نیکیوں کے باغوں کی سیر کرتے ہیں۔ فرماں برداری کے میدانوں میں گھومتے ہیں۔ قربت کے گلستانوں میں تفریح کرتے ہیں۔ اس کے دوران تھکاوٹ، مشکلات اور پریشانیاں کم ہو جاتی ہیں۔ اس میں نہ تو روزہ تھکاتا ہے اور نہ رات نیند اور تہجد کے لیے چھوٹی پڑتی ہے، سیدنا عامر بن مسعود   بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے فرمایا:
[الصوم فی الشتاء الغنیمة الباردة۔]
’’سردیوں کے روزے وہ غنیمت ہے جو بغیر محنت کے مل جاتی ہے۔‘‘ (مسند احمد ودیگر)
سیدنا عبد اللہ بن سلام t بیان کرتے ہیں:
’’جب رسول اللہ e مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ انہیں دیکھنے کے لیے باہر نکل آئے۔ تو میں بھی اور لوگوں کی طرح انہیں دیکھنے کے لیے آیا۔ جب مجھے آپ e کا چہرہ نظر آیا تو مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے انسان کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ اس روز آپ e نے سب سے پہلے لوگوں کو یہ حکم دیا:
’یاأیها الناسُ، اَفْشُوا السلامَ، واَطْعِمُوا الطعامَ، وصَلُّوا باللیل والناسُ نیامٌ، تدخُلُوا الجنة بسلام۔‘
لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ۔ جب لوگ سو جائیں تو نماز پڑھا کرو۔ اس طرح اپنے پروردگار کی جنت میں سلامتی سے داخل ہو جاؤ گے۔‘‘ (مسند احمد‘ ترمذی)
[ولَمَّا حضرت معاذَ بن جبل -رضی الله عنه- الوفاة قال لجاریته: ’هل اَصْبَحْنَا؟ قالت: لا، ثم ترَكها ساعة، ثم قال: انظری. فقالت: نعم، فقال: أعوذ بالله من صباح إلی النار، ثم قال: مرحبًا بالموت، مرحبًا بزائر جاء علی فاقة، لا أفلَح مَنْ نَدِمَ، اللهم إنك تعلم أنی لم أكن اُحِبُّ البقائَ فی الدنیا لكری الأنهار ولا لغرس الأشجار، ولكن كنتُ اُحِبُّ البقائَ لمكابَدة لیل الشتاء الطویل، ولظمأ الهواجر فی الحر الشدید، ولمزاحَمة العلماء بالرُّكب فی حِلَق الذِّكر۔‘]
جب سیدنا معاذ بن جبلt کا آخری وقت آیا تو وہ اپنی لونڈی سے کہنے لگے: ’’کیا صبح ہو گئی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، پھر کچھ دیر خاموش رہے۔ پھر کہنے لگے: دیکھو! اس نے کہا: جی ہاں! انہوں نے کہا: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ایسی صبح سے جو آگ کی طرف لیجائے۔ پھر کہنے لگے: موت کو خوش آمدید! اس مہمان کو خوش آمدید جو فاقے کے وقت آیا ہے۔ افسوس کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں دنیا میں اس لیے نہیں رہنا چاہتا ہے کہ نہریں بہاؤں اور درخت لگاؤں، بلکہ میں تو دنیا میں اس لیے رہنا چاہتا تھا کہ سردیوں کی لمبی رات کا مقابلہ کروں، سخت گرمی میں شدید پیاس کو برداشت کروں، اور ذکر کی مجلسوں میں علماء کے سامنے گھٹنے ٹیکوں۔‘‘
اللہ کے بندو! سردیوں میں راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رات کو لباس اور نیند کو سکون بنایا ہے۔
{وَهوَ الَّذِی جَعَلَ لَكمُ اللَّیْلَ لِبَاسًا وَالنَّوْمَ سُبَاتًا وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُورًا}
’’اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔‘‘ (الفرقان: ۴۷)
راتوں کو جاگتے رہنا ایسی بیماری ہے جو توانائی کو ختم کر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے سستی آ جاتی ہے۔ کمائی اور محنت ناممکن ہو جاتی ہے۔ اوقات ضائع ہوتے ہیں، عبادت سے مصروف کرتی ہے۔ اور یہ سنت کے خلاف بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{وَمِنْ آیَاتِه مَنَامُكمْ بِاللَّیْلِ وَالنَّهارِ وَابْتِغَاؤُكمْ مِنْ فَضْلِه إِنَّ فِی ذَلِك لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ}
’’اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غور سے) سُنتے ہیں۔‘‘ (الروم: ۲۳)
ایک اور جگہ فرمایا:
{اللَّه الَّذِی جَعَلَ لَكمُ اللَّیْلَ لِتَسْكنُوا فِیه وَالنَّهارَ مُبْصِرًا إِنَّ اللَّه لَذُو فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلَكنَّ اَكثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكرُونَ}
’’وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو روشن کیا حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔‘‘ (غافر: ۶۱)
رسول اللہ e عشاء سے پہلے سونے کو اور عشاء کے بعد بات کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ یعنی نماز عشاء کے بعد۔ اللہ آپ پر رحم فرمائے! اپنے نبی کی پیروی کرو۔ اسی طرح کامیابی حاصل کر سکو گے۔
دوسرا خطبہ
اے مسلمانو! دین اسلام نے لوگوں کے حالات کا خیال رکھا ہے۔ زمانے اور اوقات کے اختلاف کا لحاظ کیا ہے۔ اس کے کچھ احکام تو عزیمت پر مشتمل ہیں، اسی طرح اس کے دوسرے احکام ضرورت کی بنیاد پر آسانی اور رخصت پر مبنی ہیں۔ وہ عمل جس سے اللہ تعالیٰ اس کے درجے بلند فرما دیتا ہے، گناہ اور غلطیاں معاف فرما دیتا ہے، وہ پاکیزگی کا اہتمام ہے۔ پاکیزگی ایمان کا حصہ ہے۔ اسلام کے بنیادی رکن نماز کی شرط ہے۔ ناپسند اوقات میں عبادت کرنا، سخت سردی میں پانی سے وضوء کرنے سے گناہ جھڑتے ہیں۔
[فعن أبی هریرة -رضی الله عنه- أن رسول اللهﷺ قال: ’ألَا أدُلُّكم علی ما یمحو الله به الخطایا، ویرفع به الدرجاتِ؟ قالوا: بلی یا رسول الله! قال: إسباغُ الوضوئِ علی المكاره، وكثرة الخطا إلی المساجد، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط۔‘
سیدنا ابو ہریرہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسے کام نہ بتاؤں جن سے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کرتا ہے اور درجے بلند کرتا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! ضرور! اے اللہ کے رسول! ضرور بتائیے! آپ e نے فرمایا: مشقت کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر جانا۔ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہی حقیقی پہرہ داری ہے۔ یہی حقیقی پہرہ داری ہے۔‘‘ (مسلم)
اللہ کے بندو! دین اسلام کی آسانی اور حکمت یہ ہے کہ جب بھی کوئی عارضی مشکل پیش آتی ہے یا کسی نقصان کا خدشہ ہوتا ہے تو اس میں لوگوں کے لیے آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{وَمَا جَعَلَ عَلَیْكمْ فِی الدِّینِ مِنْ حَرَجٍ}
’’اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘ (الحج: ۷۸)
مشقت آسانی کو ساتھ لے آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{لَا یُكلِّفُ اللَّه نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاها سَیَجْعَلُ اللَّه بَعْدَ عُسْرٍ یُسْرًا}
’’اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا۔‘‘ (الطلاق: ۷)
جب مشقت اور تکلیف سامنے آتی ہے تو دین اسلام رخصت دے دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مریض، بلکہ تندرست بھی، وضوء کی بجائے تیمم کر سکتا ہے اگر اسے پانے کے استعمال سے ہلاکت کا خدشہ ہو۔ اسی طرح زخمی شخص کو پٹی پر مسح کرنے کی اجازت ہے۔
[فعن جابر -رضی الله عنه- قال: ’خرَجْنا فی سفر فأصاب رجلًا منا حجرٌ فشَجَّه فی رأسه، ثم احتلم، فسأل أصحابَه فقال: هل تجدون لی رخصة فی التیمم؟ قالوا: ما نجد لك رخصة وأنتَ تقدِر علی الماء۔ فاغتسل فمات، فلما قَدِمْنا علی النبیﷺ اُخبِرَ بذلك فقال: ما لهم؟ قتلوه قتَلَهم الله، قتلوه قتَلَهم الله، قتلوه قتَلَهم الله، قد جعَل الله الصعیدَ طهورًا، ألَا سألوا إذ لم یعلموا؛ فإنما شفاء العِیِّ السؤال، إنما كان یكفیه أن یتیمَّم ویعصب علی جرحه خرقة، ثم یمسح علیها ویغسل سائرَ جسده۔‘]
سیدنا جابرt بیان کرتے ہیں: ’’ہم سفر میں تھے کہ ایک شخص کے سر پر پتھر لگا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ پھر اسے احتلام ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ کہا: کیا مجھے تیمم کی رخصت مل سکتی ہے؟ لوگوں نے کہا: جب تم پانی استعمال کر سکتے ہو تو تیمم کی رخصت نہیں ہے۔ اس نے پانی سے غسل کیا اور وہ فوت ہو گیا۔ جب ہم رسول اللہ e کے پاس لوٹے اور ہم نے آپe کو یہ واقعہ بتایا تو آپ e نے فرمایا: لوگوں نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے اسے مار دیا، اللہ انہیں مار دے! انہوں نے اسے مار دیا، اللہ انہیں مار دے! انہوں نے اسے مار دیا، اللہ انہیں مار دے! اللہ تعالیٰ نے مٹی کو پاکیزہ بنایا ہے۔ اگر انہیں علم نہیں تھا تو وہ کسی سے پوچھ ہی لیتے۔ لا علمی کا علاج سوال ہی تو ہے۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے سر پر پٹی باندھ لیتا، پٹی پر مسح کر لیتا اور بقیہ جسم دھو لیتا۔‘‘ (ابوداؤد)
[وعن عمرو بن العاص -رضی الله عنه- قال: ’احتلمتُ فی لیلة باردة فی غزوة ذات السلاسل، فأشفقتُ إن اغتسلتُ أن أهلك، فتیممتُ ثم صلیتُ بأصحابی الصبحَ، فذَكرُوا ذلك للنبیﷺ، فقال: یا عمرو، صلیتَ بأصحابِك وأنتَ جُنُبٌ؟ فأخبرتُه بما منعنی من الاغتسال وقلتُ: إنی سمعتُ الله یقول: {وَلَا تَقْتُلُوا اَنْفُسَكمْ إِنَّ اللَّه كانَ بِكمْ رَحِیمًا} (النِّسَائِ: ۲۹)، فضَحِك رسولُ اللهﷺ ولم یقل شیئًا۔]
اسی طرح سیدنا عمرو بن عاصt بیان کرتے ہیں: ’’غزوہ ذات سلاسل کے دوران ایک سخت ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہو گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نہایا تو میں مر جاؤں گا۔ میں نے تیمم کیا اور اپنے ساتھیوں کو فجر کی نماز پڑھائی۔ میرے ساتھیوں نے معاملہ رسول اللہe کو بتایا تو آپe نے فرمایا: اے عمرو! کیا تو نے جنابت کی حالت میں امامت کرائی؟ میں  نے نہ نہانے کی وجہ بیان کر دی۔ میں نے کہا: میں نے اللہ کا یہ فرمان سنا تھا: ’’اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے۔‘‘ اس پر رسول اللہe ہنس پڑے اور کچھ نہ فرمایا۔‘‘ (ابوداؤد)
اے اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما! اے اللہ! اپنے موحد بندوں کی نصرت فرما! اے اللہ! اس ملک کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن وسلامتی نصیب فرما! اے اللہ! ہمیں ہمارے ملکوں میں امن نصیب فرما! ہمارے حکمرانوں اور اماموں کی اصلاح فرما! اے اللہ! ہمارے حکمران، خادم حرمین کو کامیاب فرما! اس کی تائید فرما! اے اللہ! اسے اور اس کے ولی عہد کو ان کاموں کی توفیق عطا فرما جن سے تو خوش اور راضی ہوتا ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats