چھتیسویں سالانہ سیرۃ النبیﷺ کانفرنس 48-2049 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 22, 2019

چھتیسویں سالانہ سیرۃ النبیﷺ کانفرنس 48-2049


چھتیسویں سالانہ سیرۃ النبیﷺ کانفرنس

رپورٹ: جناب حافظ توحید الرحمن فیصل
مرکزی جمعیت واہل حدیث یوتھ فورس سٹی وضلع شیخوپورہ کے زیر اہتمام 36ویں سالانہ سیرۃ النبیﷺ کانفرنس 12 ربیع الاول کو رات گئے تک مین بازار ریگل چوک میں مولانا عبدالباسط شیخوپوری حفظہ اللہ (امیر ضلع) کی صدارت اور الحاج میاں محمد راشد حفظہ اللہ(امیر سٹی) کی نگرانی میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس اللہ کی رحمت سے انتہائی کامیاب ہوئی‘ اس کانفرنس کے بانی مناظر اسلام حافظ محمد عبداللہ شیخوپوری رحمہ اللہ ہیں۔ شیخوپورہ کے لوگ آج بھی حافظ صاحب مرحوم سے بے پناہ محبت وعقیدت رکھتے ہیں۔ کانفرنس مناظر اسلام کا صدقہ جاریہ ہے۔ حافظ صاحب مرحوم کے اس مشن کو ان کے جانشین اور مسند ومنبر کے وارث صاحبزادہ مولانا عبدالباسط شیخوپوری سنبھالے ہوئے ہیں۔
تشہیری مہم: کانفرنس کی بھر پور تشہیری مہم چلائی گئی۔ اہل حدیث یوتھ فورس کے نوجوانوں نے ضلع اور شہر بھر میں اشتہارات لگائے اور شہر بھر میں فلیکس لگائی گئیں۔ اس کانفرنس کی خاص بات یہ ہے کہ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ‘ مولانا حبیب الرحمن یزدانی رحمہ اللہ بھی اس کانفرنس میں شرکت فرما چکے ہیں اور قائد ملت اسلامیہ پروفیسر علامہ حافظ ساجد میر حفظہ اللہ بھی تقریبا ہر سال اس کانفرنس میں خصوصی شرکت فرماتے ہیں۔ محسن جماعت محترم ڈاکٹر حافظ عبدالکریم ناظم اعلیٰ اور جانشین علامہ شہید علامہ ابتسام الٰہی ظہیر حفظہ اللہ بھی سعودیہ میں امیر محترم کے ساتھ دورہ پر تھے اس لیے کانفرنس میں شریک نہ ہو سکے۔
پنڈال اور اسٹیج: مین بازار میں وسیع وعریض پنڈال لگایا گیا۔ پنڈال میں لوگوں کے بیٹھنے کے لیے آرام دہ کرسیاں لگائی گئیں اور پورے پنڈال کو جماعتی فلیکسز سے سجایا گیا۔ فلیکسز کے اوپر جماعتی نعرے اور پیغام درج تھے‘ اسی طرح اسٹیج کو خوبصورتی سے تیار کیا گیا۔
سکیورٹی انتظامات: کانفرنس کی سکیورٹی بہت اہم مسئلہ ہوتا ہے اس کانفرنس کے سکیورٹی کے فرائض مقامی پولیس فورسز کے ساتھ ہماری جماعت کے نوجوان اہل حدیث یوتھ فورس کے کارکنان‘ جمعیت طلبہ اہل حدیث کے جوانوں نے مل کر ادا کیے۔
تقاریر: پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ تلاوت قرآن پاک قاری محمد فیاض المالکی نے کی‘ ان کے بعد شاعر اسلام جناب حمزہ انجم نے حمد ونعت پیش کی۔ پھر تقاریر کا سلسلہ جاری ہوا اور فجر کی اذان تک یہ سلسلہ جاری رہا۔
جلسہ کے شروع میں نوجوان خطباء نے تقاریر کیں جن میں مولانا زبیر حیدر‘ مولانا جمیل الرحمن رحمانی نے خطابات کیے۔ مولانا حافظ محمد فیاض بھٹی‘ حافظ عمر فاروق اصغر ودیگر نوجوان خطباء نے سامعین سے داد وصول کی پھر مولانا قاری محمد بنیامین عابد نے اپنے مخصوص انداز میں بڑا شاندار خطاب کیا اور پنڈال میں موجود سامعین نے بڑی توجہ سے خطاب سنا۔ قاری خالد مجاہد نے سیرت بیان کی اور اشعار بھی سنائے۔ محترم قاری صاحب نے اپنی تقاریر سے سماں باندھ دیا پھر غازی اسلام رانا محمد شفیق خاں پسروری نے بڑا تاریخی اور مواد سے بھر پور خطاب کیا جو سامعین نے بڑی توجہ سے سنا۔ مولانا عبداللہ نثار نے اپنے مخصوص انداز میں خطاب کیا اور دوران تقریر اہل بدعہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ پھر علامہ ابتسام الٰہی ظہیر حفظہ اللہ کے صاحبزادے جناب حافظ قیم الٰہی ظہیر خطاب کے لیے تشریف لائے۔ انہوں نے نو عمری کے باوجود بڑی مدلل تقریر کی اور اپنے دادا شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کی یاد تازہ کر دی۔ پھر دوران خطاب مناظر اسلام حافظ محمد عمر صدیق حفظہ اللہ نے بھی جناب حافظ قیم الٰہی ظہیر کو شاباش دی اور حوصلہ افزائی کی۔ ان کے بعد مناظر اسلام جناب حافظ محمد عمر صدیق خطاب کے لیے مائیک پر تشریف لائے اور بہت ہی پیارا اور دلائل سے مزین ’’عقیدہ توحید‘‘ پر خطاب کیا‘ ان کے بعد قاری محمد اسماعیل عتیق نے ’’وفات النبیﷺ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔ ان کی تقریر کے دوران ہر آنکھ اشکبار تھی۔ قاری صاحب نے بڑا ہی رقت آمیز خطاب کیا۔ ان کے بعد جناب سید طیب الرحمن زیدی حفظہ اللہ نے اپنے مخصوص انداز میں ’’توحید‘‘ کے موضوع پر گفتگو فرمائی جو سامعین نے بے حد پسند کی۔ اہل حدیث یوتھ فورس پاکستان کی نمائندگی جناب حافظ سلمان اعظم نے کی اور بڑی پیاری اور مدلل گفتگو کی۔ اسی طرح جناب ڈاکٹر عبدالغفور راشد حفظہ اللہ نے بھی سیرت کے موضوع پر بہت بہترین گفتگو کی۔ جناب قاری یٰسین بلوچ حفظہ اللہ نے ماں کی شان بیان کی اور سیرت النبی ﷺ بھی بیان کی۔ اختتام سے پہلے مولانا زبیر قاسمی اور مولانا حبیب الرحمن منظور کی تقاریر بھی ہوئی۔ مولانا محمد ناصر مدنی آخری خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے۔ مدنی صاحب کا پھر اپنا ہی انداز ہے جو ہر طبقہ پسند کرتا ہے‘ ان کے خطاب کے بعد گذشتہ سال کی طرح ایک نوجوان نے اہل حدیث ہونے کا اعلان بھی کیا۔مولانا عبدالباسط شیخوپوری نے کانفرنس کے اختتام پر دعا کروائی۔ آخر میں ہم مرکزی جمعیت اہل حدیث شیخوپورہ کی طرف سے مشکور ہیں ان احباب کے جنہوں نے رات اسٹیج پر بیٹھ کر جلسہ سنا اور ہماری حوصلہ افزائی کی۔ میری مراد ضلعی ناظم جناب حافظ عطاء الرحمن عامر‘ ضلعی ناظم مالیات جناب حاجی نواز آف مریدکے‘ جناب جہانزیب قریشی‘ قاری فقیر اللہ مجاہد‘ جناب قاری عبدالوحید آف مانانوالہ‘ محمد عمران مجاہد‘ پروفیسر عبدالرحیم اشرف‘ مولانا عبدالستار انجم‘ امانت اللہ ظہیر‘ حافظ الیاس‘ شہباز ڈوگر‘ جناب حافظ محمد خاں آف ننکانہ‘ حاجی تنویر السدیس ہوٹل والے‘ مولانا ابوسفیان سلفی۔ اس کے ساتھ ساتھ حافظ محمد قسیم‘ حافظ بابر سلفی‘ حافظ محمد نعیم ربانی‘ میاں زید الحسن‘ اپنی اور ان احباب کی طرف سے خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اپنے بھائیوں کا جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ ان میں جناب عبدالباسط ظہیر‘ حافظ محمد عثمان‘ مدثر عزیز‘ ڈاکٹر محمد عمران‘ عبدالعظیم منصور‘ حافظ محمد عابد عثمانی‘ قاری محمد سعید‘ اعجاز الحق‘ عبداللہ حجازی‘ رانا عبدالوہاب‘ محسن سلیم‘ حافظ عمر فاروق اصغر ودیگر احباب شامل ہیں۔



No comments:

Post a Comment

View My Stats