پیکر کردار وعمل شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف 49-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 29, 2019

پیکر کردار وعمل شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف 49-2019


پیکر کردار وعمل شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف

تحریر: جناب حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی
آج صرف خطہ برصغیر میں پچاس کروڑ سے زائد فرزندان توحید سچ وحق کا علم تھامے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ قیامت تک دائم وقائم رہیں گے۔ان شاء اللہ! ہم ان نصف ارب مسلمانوں کے شجرہ نصب کی کھوج لگائیں تو ان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی دینی مدرسہ کارفرما نظر آئے گا۔ مدارس میں طلبہ کی جاری تدریس‘ مساجد میں نمازیوں کی حاضری اور معاشرے میں اسلامی تہذیب وثقافت کے جو آثار نظر آ رہے ہیں دراصل یہ صحابہ کرام] اہل بیت]‘ تابعین‘ تبع تابعین‘ ائمہ دین‘ محدثین عظام‘ شہدائے اسلام‘ علماء واولیاء کرامS کی بے لوث قربانیوں‘ جد وجہد‘ اشاعت اسلام وخدمات اسلام کا ثمر ہے۔ پوری دنیا میں دین اسلام کی تحریکیں پھیل چکی ہیں۔ عالم کفر کی تمام تر سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود دین اسلام کی تعلیمات قرآن وحدیث کے مجموعے کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ہر طرف نظام اسلام کا غلبہ ہو گا۔ ان شاء اللہ!
مدارس دینیہ میں دار الحدیث جامعہ کمالیہ راجووال ضلع اوکاڑہ اور اس کے بانی ولی کامل تحریک پاکستان کے سرگرم رہنما‘ تحریک ختم نبوت کے اسیر‘ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے نامور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث استاذ العلماء مولانا محمد یوسفa کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ بلاشبہ ایک فقیر منش‘ خاموش طبع‘ لائق ترین مدرس‘ قابل اتالیق‘ لائق تقلید استاد‘ علم کا خزانہ‘ عمل کا نمونہ اور منیب الی اللہ ولی اللہ تھے۔ عاجزی‘ انکساری‘ مہمان نوازی‘ ان کی فطرت میں رچ بس گئی تھی۔ حضرت بابا جی شیخ الحدیث پیرانہ سالی میں بھی جوانوں سے زیادہ کام کرتے تھے۔ وہ مایوسیوں اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امیدوں کی کرن تھے۔ استقامت اور ہمت کا ایک کوہسار تھے۔ حضرت بابا جی کی ظاہری وباطنی شخصیت آئینہ کی طرح شفاف تھی۔ آپ کی شخصیت دلوں کو موہ لینے‘ مسکرانے والے‘ محبت کرنے والے‘ غرباء‘ مساکین‘ بے سہارا‘ مساجد‘ مدارس کی بے لوث خدمت کرنے والوں میں باکمال تھے۔ پھر اپنی زندگی کی پچانوے بہاریں گذارنے کے بعد اندرون وبیرون ملک لاکھوں سوگواران کو غم سے نڈھال کر کے ۱۲ ربیع الاول ۱۴ جنوری ۲۰۱۴ء کو یہ علم وعرفان کا آفتابِ ماہتاب غروب ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
دین اسلام کا روز اول سے تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے درس وتدریس ایک عبادت ہے‘ یہ ایک لازوال سعادت ہے۔ عرفان حق اور خدا رسی کا ایک زینہ ہے۔ خود رحمت دو عالم محسن انسانیت سیدنا حضرت محمد رسول اللہe نے فرمایا کہ ’’مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے۔‘‘
شرک وکفر‘ رسوم وبدعات میں پھنسے ہوئے معاشرے کو بالخصوص دعوت الی اللہ‘ اتباع رسول کا درس دینا کوئی معمولی کام نہیں۔ یہ مرحلہ صبر وتحمل‘ جواں مردی‘ حکمت وتدبر کے ساتھ ساتھ صابر وشاکر کی عملی تصویر بنے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔ حضرت بابا جی شیخ الحدیث مولانا محمد یوسفa نے اپنی پوری زندگی درس وتدریس کی مسند پر بیٹھ کر امت مسلمہ کو قرآن وحدیث کی تعلیمات کو فروغ دینے میں صرف کی۔ آپ کی درسگاہ سے فیض حاصل کرنے والے علمائے کرام‘ شیوخ عظام اور قاری قرآن حضرات اس وقت نہ صرف پاکستان بھر میں بلکہ بیرون ممالک میں دین اسلام کی اشاعت وترویج میں مصروف کار ہیں۔
شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف نے ۱۹۱۹ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور کے گاؤں چک سومیاں عرف اعوان میں جنم لیا۔ آپ کے والد محترم کا نام کمال دین اور دادا جان حق نواز کی وفات حالت سجدہ میں ہوئی۔ آپ کا خاندان سادگی‘ تقویٰ‘ مہمان نوازی میں مثالی تھا۔ آپ نے دار الحدیث نذیریہ فیروزپور‘ مدرسہ قمر الہدیٰ عثمان والا‘ مرکز اسلام جامعہ محمدیہ لکھو کے‘ مدرسہ غزنویہ امرتسر‘ مدرسہ دار الکتاب والسنہ دہلی جیسے مدارس میں زیر تعلیم رہ کر مولانا دل محمد اعوان‘ مولانا محمد قلعوی‘ شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی‘ مولانا محمد داؤد راشد کوٹلوی‘ مولانا عطاء اللہ لکھوی‘ مولانا نیک محمد جہلمی‘ مولانا محمد حسین ہزاروی‘ مولانا عبداللہ بھوجیانی شہید‘ مولانا عبدالرحیم بھوجیانی شہید‘ محدث زماں حافظ محمد عبداللہ روپڑی‘ امام حافظ عبدالستار دہلویs جیسے علماء شیوخ عظام سے علوم قرآنی‘ کتب احادیث نبویہ‘ منطق‘ فارسی‘ ادب ودیگر علوم وفنون کی تکمیل ۱۹۴۴ء میں کی۔ اس دوران تحریک پاکستان کے پلیٹ فارم پر قیام پاکستان کے حصول‘ مہاجرین کے قیام وطعام کے لیے سرگرم عمل رہے۔
بطور خطیب وامام جامع مسجد اہل حدیث شیخاں والی چونیاں‘ مدرسہ دار العلوم ضیاء السنہ راجہ جنگ‘ جامع مسجد اہل حدیث تھہ کامل میں چند سال خدمات انجام دیں۔ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۴۹ء کو قصور تا ملتان روڈ برلب سڑک منڈی راجووال ضلع اوکاڑہ کے قصبہ میں دار الحدیث جامعہ کمالیہ کے نام سے محدث زماں حافظ محمد گوندلوی اور مجتہد العصر مفتی دوراں حافظ محمد عبداللہ روپڑی جیسے شیخین کریمین نے دار العلوم کا سنگ بنیاد رکھا۔ اسی جگہ پر بیٹھ کر وہ ہر طرح کے حالات وواقعات میں قرآن وحدیث کی تعلیمات کو فروغ دینے میں کمربستہ رہے۔ خواہ تحریر‘ تقریر‘ فتویٰ نویسی اور تدریس کا میدان ہو یا ملکی سطح پر اٹھنے والی مرزائیت کے خلاف تحریک ختم نبوت‘ نظام مصطفی‘ دفاع وبقا پاکستان کی تحاریک ہوں ہر ایک میں آپ نے اپنے اکابرین مرکز جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کے حکم پر دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ شانہ بشانہ خدمات انجام دیں۔
۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران چار ماہ مسلسل ڈسٹرکٹ جیل ساہیوال میں قید رہے۔ جیل میں بھی درس قرآن وحدیث اور خطبہ جمعہ کی صورت میں اپنی جد وجہد جاری رکھی۔ ضلع قصور‘ ضلع ساہیوال‘ ہیڈ سلیمان کی‘ وپاکپتن تک بے شمار گاؤں اور قصبہ جات میں مساجد کا قیام اور تکمیل ان کی نگرانی میں ہوئیں۔
دار الحدیث کی عظیم الشان لائبریری‘ ہزاروں کتب پر مشتمل پنجاب بھر کے مدارس دینیہ میں مثال ہے۔ آپ نے فضائل رمضان المبارک‘ حیات عیسیٰ ابن مریم‘ خود ساختہ جشن عید میلاد النبی‘ مقتدی کے لیے نماز میں امام کی طرح سورتوں کے جواب دینے کا مسئلہ‘ قربانی کے جانور کے مسنہ ہونے کی بحث‘ نیا جال لائے پرانے شکاری‘ تحفۃ الجمعہ جیسی علمی تحقیقی کتب تصانیف کیں۔ جبکہ دیگر علماء وشیوخ کی درجنوں کتب جن میں فتویٰ حصاریہ جو کہ سات جلدوں پر مشتمل ہے ان کو دار الحدیث کی اکیڈمی دعوت ارشاد کی طرف سے عوام الناس کی اصلاح‘ عقائد واعمال کے سلسلہ میں مفت تقسیم کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تین مرتبہ حج بیت اللہ شریف اور تقریبا ۲۵ مرتبہ صحیح بخاری شریف کا درس دینے کی سعادت سے نوازا تھا۔ خدمت خلق کا جذبہ آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ غرباء‘ لاوارث‘ پریشان حال‘ یتیم طلبہ‘ مساجد ومدارس اور دینی رسائل جرائد کے ساتھ تعاون ومعاونت کرنا‘ روز مرہ کا معمول زندگی بھر رہا۔
دار الحدیث میں جب بھی کوئی مہمان آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا موسم گرما ہو یا سرما‘ دن ہو یا رات‘ آپ آنے والے مہمان کو بغیر مہمان نوازی کے جانے کی اجازت نہیں دیتے۔
آج بھی مہنگائی اور افراتفری کے دور میں سینکڑوں طلبہ اس دار العلوم میں زیر تعلیم ہیں۔ آپ کی نماز جنازہ آپ کے بڑے بیٹے ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن یوسف نے پڑھائی۔ آپ کی نماز جنازہ میں بے پناہ لوگوں کا ہجوم تھا۔ تمام مکاتب فکر اور تمام شعبہ زندگی سے وابستہ ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ آپ کی اولاد صالحہ سینکڑوں حفاظ کرام‘ علماء کرام‘ دار الحدیث جامعہ کمالیہ‘ ریاض الحدیث برائے طالبات‘ مساجد اور کئی دینی کتب کو اپنی باقیات الصالحات کے طور پر چھوڑ گئے ہیں۔
دلی دعا بارگاہِ الٰہی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت بابا جی شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف a کی دینی‘ تدریسی‘ قومی‘ رفاہی‘ خدمات جلیلہ کو شرف قبولیت سے نواز کر انہیں جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats