کرسمس کی حقیقت 49-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 29, 2019

کرسمس کی حقیقت 49-2019


کرسمس کی حقیقت

تحریر: جناب عبدالوارث گل (سابق وارث مسیح)
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا میں انسان کسی بھی مذہب، گروہ ، فرقہ ، قوم یا ملک سے ہو، ا سے خوشی چاہیے۔ وہ خوش ہونا، ہنسنا اور مسکرانا چاہتا ہے ، وہ تہوار منانا چاہتا ہے۔ مذہب انسان کی اس فطرت سے واقف ہے، لہٰذا وہ اسے تقریبات،عیدوں اور تہواروں کی اجازت دیتا ہے ۔
انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ جب وہ خوش ہوتا ہے تو اکثر و بیشتر حدود اللہ سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آسمانی مذاہب نے ان تقریبات، عیدوں اور تہواروں کو پاکیزہ رکھنے کی ہمیشہ تاکید کی ہے۔لیکن حضرت انسان کی خواہش نفس کی تکمیل کے آگے جہاں مقدس الہامی کتب اور صحائف نہ بچ سکے وہاں یہ بے چاری عیدیں اور تہوار کیا چیز ہیں؟ کرسمس (Christmas) دو الفاظ کرائسٹ (Christ)اور ماس (Mass)کا مرکب ہے۔
کرائسٹ  (Christ)مسیح (u) کو کہتے ہیں اورماس (Mass) اجتماع ، اکھٹا ہوناہے یعنی مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، مسیحی اجتماع یایوم میلاد مسیح۔
یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا۔ اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا ۔
دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے۔ اسے یول ڈے نیٹوئی (پیدائش کا سال)اور نوائل (پیدائشی یا یوم پیدائش)جیسے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔ (نوائے وقت 27دسمبر 2005ء)
بڑا دن بھی کرسمس کا مروجہ نام ہے ۔ یہ یوم ولادت مسیحu کے سلسلے میں منایا جاتا ہے کیونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے، اس لیے اسے بڑا دن کہا جاتا ہے۔
نہ صرف مسیحu کی تاریخ پیدائش بلکہ سن پیدائش کے حوالے سے بھی مسیحی علماء میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔  عام خیال ہے کہ سن عیسویA D  جو کہ مخفف ہے Anno domini (یعنی ہمارے خدا وند کا سال)  مسیحu کی پیدائش سے شروع ہوتا ہے مگر قاموس الکتاب اور دیگر مسیحی کتب کی ورق گردانی سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مسیحu کی ولادت باسعادت 4یا 6ق م میں ہوئی ۔ قاموس الکتاب میں 4ق م دی گئی ہے جبکہ مائیکل ہارٹ ’’The Hundred‘‘ میں چھ ق م تسلیم کرتا ہے۔ مسیحی کلیسائوں میں مسیحu کی تاریخ پیدائش کے اختلاف کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ  رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسا اسے 25دسمبر کو۔ مشرقی آرتھوڈوکس کلیسا 6جنوری کو اور ارمنی کلیسا 19جنوری کو مناتا ہے۔کرسمس کے تہوار کا 25 دسمبر ہونے کا ذکر پہلی مرتبہ شاہِ قسطنطین (جو کہ چوتھی صدی عیسوی میں بت پرستی ترک کر کے عیسائیت میں داخل ہو گیا تھا )کے عہد میں 325عیسوی میں ہوا۔ یہ بات صحیح طور پر معلوم نہیں کہ اولین کلیسا بڑا دن مناتے بھی تھے یا نہیں‘ یادرہے کہ مسیحu کی صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں۔ تیسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20مئی کو منایا جائے ۔ لیکن 25دسمبر کو پہلے پہل روم(اٹلی) میں بطور مسیحی مذہبی تہوار مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشن زحل Saturnaliaکو ( یہ رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا،اس روز رنگ رلیاں خوب منائی جاتی تھیں) جو سورج کے راس الجدی پرپہنچنے کے موقع پر ہوتا تھا، پسِ پشت ڈال کر اُس کی جگہ مسیح علیہ السلام کی سالگرہ منائی جائے۔(قاموس الکتاب ص147) چونکہ رومی قوم میں مسیحی تعلیمات کو جوں کا توں پہنچانا ایک مشکل بلکہ نا ممکن سی بات معلوم ہوتی تھی اسی لئے مسیحی مبلغین نے رومی مذہب وتہذیب  کوChrischanise کرنے کی بجائے Chrischanity کو Romaniseکرنے کافارمولہ اپنایا جو کہ بہر حال کامیاب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی مذہب میں ایک سے زیادہ عقائد و تہوار ایسے ہیں جن کا تاریخی حوالے سے جائزہ لیاجائے تو بات دو اور دو چار کی طرح واضح ہو جاتی ہے ۔
ایک مسیحی محقق شہزادہ تحسین گل کرسمس کے رد میں گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نا صرف 25 دسمبر مسیحu کی پیدائش کا دن نہیں بلکہ اس دن کو سورج و بت پرست اقوام میں ایک خاص اور مقد س دن تصور کیا جاتا تھا‘ اسی لئے وہ اس دن کو پورے جوش و خروش سے منایا کرتے تھے۔ مزید بائبل کے مندرجہ ذیل چند حوالے جو کہ ایک شاہ کلید Master Keyکی حیثیت  رکھتے ہیں پیش کئے جا رہے ہیں جس سے مسیحu  کی پیدائش کا دن تو پھر بھی نہیں مگر ماہ کا تعین کیا جا سکتا ہے ۔
انجیل لوقا (باب 1 ، آیت نمبر 26 تا 31) میں لکھا ہے
’’چھٹے مہینے میں جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرۃ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا ۔۔۔اورفرشتہ نے اسے کہا کہ اے مریم خوف نہ کر کیوں کہ خداوند کی طرف سے تجھ پر فضل ہوا ہے اور دیکھ تو حاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہوگا اس کا نام یسوع رکھنا۔‘‘
ہم جانتے ہیں کہ جب مریم کو مذکورہ بالاپیغام دیا جا رہا تھا تب Gregorian Calendar کا تو تصور بھی نہیں تھا‘ 525عیسوی میںDionysius Exiquusکے مشورے پر عیسوی کیلنڈر کی بنیاد رکھی گئی چنانچہ (قاموس ا لکتاب اور دیگر مسیحی کتب کے حوالے سے سن عیسوی کا آغاز مسیح uکی پیدائش کے  525 سال بعد شروع ہوا)
مزکورہ بالا آیت میں چھٹا مہینہ یقینا یہودی کیلنڈر کا ہی ذکر کیا گیا ہے اور یہودی کیلنڈر کا چھٹا مہینہ الول کا ہوتا ہے جو Gregorian Calendar کے مطابق اگست میں آتا ہے۔
یعنی اگر مریم uکو یہودی چھٹے مہینے میں الول میں بشارت ملتی ہے تو نو ماہ بعد مسیح uکی پیدائش یہودی مہینہ ایّارمیں ہونا بنتی ہے یعنی اپریل یا مئی جو کہ عین گرمی کے موسم میں ہوتا ہے جبکہ دسمبر کے مہینے کا مسیحuکی پیدائش سے دور کا بھی تعلق نہ ہے۔ بعض مسیحی محققین کے نزدیک لوقا میں بیان کردہ چھٹا مہینہ دراصل الیشبع کے حمل کاچھٹا مہینہ ہے جو کہ بڑی ہی نا معقول سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اگر ان کی یہ بات مان بھی لی جائے تب بھی مسیحu کی پیدائش ماہ دسمبر میں نہیں بنتی کیونکہ بائبل کے مطابق ان کے حمل کی ابتداء ماہ دسمبر میں ہوئی، اس لحاظ سے چھٹا مہینہ مئی ہوا اور اس میں سیدہ مریمu کو حمل ٹھہرا‘ نو ماہ شمار کئے جائیں تو جنوری کا مہینہ بنتا ہے اور اگر نو ماہ کے بعد ولادت تسلیم کر لیں تو فروری کا مہینہ بنتا ہے اسی ضمن میں لوقا کی انجیل باب 1میں جہاں مریم uکو یہ بشارت دی گئی کہ :
’’اور دیکھ توُ حاملہ ہوگی اور تیرے بیٹا ہوگا اس کا نام یسوع رکھنا۔‘‘
اسی باب کی آیت نمبر 36 میں یو ں مرقوم ہے :
’’اور دیکھ تیری رشتہ دار الیشبع کے بھی بڑھاپے میں بیٹا ہونے والا ہے اور اب اس کو جو بانجھ کہلاتی تھی چھٹا مہینہ ہے۔‘‘
یعنی مریم u کو جب مسیح uکی بشارت دی گئی تب الیشبع کو چھہ ماہ کا حمل تھا‘ الیشبع کے شوہر زکریا uکو جب یوحنا کی بشارت ملتی ہے تب زکریا u ہیکل میں خداوند کے مقدس میں خوشبو جلانے کی ذمہ داری ادا کر رہے تھے ۔
لوقا (باب 1آیت نمبر 5تا 13)میں یوں لکھا ہے:
’’یہودیہ کے بادشاہ ہیرو دیس کے زمانہ میں ابیاہ کے فریق میں سے زکریا نام کا ایک کاہن تھا اور اس کی بیوی ہارون کی اولاد میں سے تھی او ر اس کا نام الیشبع تھا اور وہ دونوں خدا کے حضور راستباز اور خداوند کے سب احکام و قوانین پر بے عیب چلنے والے تھے اور انکے اولاد نہ تھی کیونکہ الیشبع بانجھ تھی اور دونوں عمر رسیدہ تھے۔ جب خدا کے حضور اپنے فریق کی باری پر کہانت کا کام انجام دیتا تھا تو ایسا ہواکہ کہانت کے دستور کے موافق اس کے نام کا قُرعہ نکلا کہ خداوند کے مقدس میں جا کر خوشبو جلائے اور لوگوں کی ساری جماعت خوشبو جلاتے وقت باہر دعا کر رہی تھی کہ خداوند کا فرشتہ خوشبو کے مذبح کی داہنی طرف کھڑا ہوا اسکو دکھائی دیا۔ زکریا دیکھ کر گھبرایا اور اس پر دہشت چھا گئی مگر فرشتہ نے اس سے کہا اے زکریا ! خوف نہ کر کیونکہ تیری دعا سن لی گئی اور تیرے لئے تیری بیوی الیشبع کے بیٹا ہوگا تو اس کا نام یوحنا رکھنا ‘‘
لہٰذا مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوا کہ زکریا اور اس کی بیوی الیشبع کا تعلق ابیاہ کے قبیلے سے تھا جو کہ ہارون کاہن کی نسل میں سے تھا۔ تواریخ ایک باب نمبر 24آیت نمبر 1تا 11کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ خاندان ابیاہ کو خداوند کے گھر میں جس مہینے خدمت کاموقع ملتا تھا وہ یہودی کیلنڈر کے مطابق چوتھا مہینہ تھا یعنی جب زکریا u کو یوحنا کی بشارت ملی تو وہ سال کا چوتھا مہینہ تھا ’’تموُّز‘‘جو کہ Gregorian Calenda کے مطابق جون میں آتا ہے یعنی الیشبع کو جون میں حمل ٹھہرتا ہے‘ جون سے جولائی ایک اگست دو ستمبر تین اکتوبر چار نومبر پانچ اور دسمبر چھ، پیچھے ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب مریم [ کو بشارت مسیح u ہوئی ساتھ فرشتہ نے یہ بھی بتایا کہ دیکھ تیری رشتہ دار الیشبع کے بیٹا ہونے والا ہے اور اب اسکو چھٹا مہینہ ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ مسیحu کی پیدائش دسمبر میں نہیں بلکہ قدرت خداوندی سے مریم [ کے پردہ رحم میں حمل دسمبر میں ٹھہرتا ہے‘ اب اگر دسمبر سے بھی نو ماہ کی گنتی پوری کریں تو مسیح u کی پیدائش اگست یا ستمبر میں بنتی ہے نا کہ دسمبر میں۔
4صدیوں تک 25دسمبر تاریخ ولادت مسیحu نہیں سمجھی جاتی تھی۔ 530ء میں سیتھیا کا ڈایونیس اکسیگز نامی ایک راہب جو ایک منجم(Astrologer)بھی تھا، تاریخ ولادت مسیحu کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت 25دسمبر مقرر کی کیونکہ مسیحu سے پانچ صدیاں قبل 25دسمبر مقدس تاریخ سمجھی جاتی تھی ۔ بہت سے دیوتائوں کا اس تاریخ پر یا اس سے ایک دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیا جا چکا تھا، چنانچہ راہب نے آفتاب پرست اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ ولادت 25دسمبر مقرر کر دی۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس قوم نے ہفتے میں سورج کی عبادت کے لیے ایک دن مختص کیا ہوا تھا اور اس دن کو وہ مقدس سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس کوSunday holiday کہا جاتا ہوگا جو کہ آج عیسائیوں کے یہاں بھی مقدس اور عبادت کا دن ہے جبکہ بائبل کی تعلیمات کے مطابق پورے سات دنوں میں جو مقام ومرتبہ ہفتہ یعنی سبت کے دن کو حاصل ہے وہ کسی اور دن کونہیں۔ (واللہ اعلم )۔
قرآن مجید کی سورت مریم پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے:
{فَاَجَآئَ ھَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَة قَالَتْ ٰیلَیْتَنِیْ مِتُّ   قَبْلَ ھٰذَا وَكنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا فَنَادٰئها مِنْ تَحْتِهآ اَلَّا تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّك تَحْتَك سَرِیًّا وَھُزِّیْٓ اِلَیْك بِجِذْعِ النَّخْلَة  تُسٰقِطْ عَلَیْك رُطَبًا جَنِیًّا} (سوره مریم)   
’’پھر دردِ زہ اسے (مریم u کو )کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔ وہ کہنے لگی: اے کاش! میں اس سے پہلے مر جاتی اور بھولی بسری ہوتی۔ پھر اس (فرشتے)نے اس کے نیچے سے آواز دی کہ غم نہ کر، یقینا تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گاتو کھائو اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔‘‘      
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مسیحu کی جائے پیدائش ریاست یہودیہ کے شہر بیت اللحم میں ہوئی جیسا کہ حدیث میں آتا ہے بَیتُ اللَّحَم حَیثُ وُلِدَ عَیسٰی۔ اور اس علاقے میں موسم گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کے ذریعے اللہ نے یہ امر واضح کیا کہ حضرت مسیح u کی ولادت کھجوریں پکنے کے مہینے ٗجولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی نہ کہ 25دسمبر کو، جو کہ یہودیہ (موجودہ فلسطین) میں سخت سردی اور بارشوں کا مہینہ ہوتا تھا ۔
جہاں تک یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سرد موسم میں کھجوروںکا پکنا ایک معجزہ یا کوئی کرامت بھی ہو سکتا ہے تو اس پر بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ آیت کے ظاہری سیاق و سبا ق سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس درخت پر پہلے ہی سے پھل موجود تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے صرف تنے کو ہلانے کا حکم دیاوگرنہ جو اللہ مریم کے حجرہ میں بے موسم کے پھل مہیا کر سکتا ہے وہ درخت کے نیجے کھجوریں کیوں نہیں گرا سکتا۔
  کرسمس ٹری: 
’’کرسمس ٹری ‘‘کا تصور بھی جرمنوں ہی کا پیدا کردہ ہے۔ کرسمس ٹری کی بدعت ایک عرصہ تک جرمنی تک محدود تھی۔1847ء میں برطانوی ملکہ وکٹوریہ کا خاوند جرمنی گیا اور اسے کرسمس کا تہوار جرمنی میں منانا پڑا تو اس نے پہلی مرتبہ لوگوں کو کرسمس ٹری بناتے اور سجاتے دیکھا۔ اسے یہ حرکت بہت بھلی لگی، لہٰذا وہ واپسی پر ایک ٹری ساتھ لے آئے۔ 1848ء میں پہلی مرتبہ لندن میں کرسمس ٹری بنوایا گیا۔ اسے یہ ایک دیوہیکل کرسمس ٹری تھا جو شاہی محل کے باہر آویزاں کیا گیا ۔ 25دسمبر 1848ء کو لاکھوں لوگ یہ درخت دیکھنے لندن آئے اور اُسے دیکھ کر گھنٹوں تالیاں بجاتے رہے۔ (ایوری مینز انسائیکلو پیڈیا، نیو ایڈیشن 1958ء)
ایک رپورٹ کے مطابق آج کل صرف برطانیہ میں 70لاکھ کرسمس ٹری بنائے جاتے ہیں جن پر 150بلین پائونڈ خرچ آتے ہیں۔ اس پرستم ظریفی یہ کہ 200بلین پائونڈ کے بلب اور چھوٹی ٹیوب لائٹس بھی نصب کی جاتی ہیں۔ کرسمس ٹری پر جلائی جانے والی لائٹس تقریباً پورا مہینہ جلائی جاتی ہیں۔ یوں صرف ایک ٹری پر ہزار پائونڈ یعنی ایک لاکھ ستر ہزار روپے تک کی بجلی جلتی ہے۔ کرسمس کا آغاز ہوا تو اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں میں مذہبی رجحان پیدا کیا جائے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابتدا میں یہ ایک ایسی بدعت تھی جس کی واحد فضول خرچی موم بتیاں تھیں لیکن پھر کرسمس ٹری آیا،پھر موسیقی، پھر ڈانس اور آخر میں شراب بھی اس میں شامل ہو گئی ۔ شراب کے داخل ہونے کی دیر تھی کہ یہ تہوار عیاشی کی شکل اختیار کر گیا۔ صرف برطانیہ کا یہ حال ہے کہ ہر سال کرسمس پر 7 ارب 30 کروڑ پائونڈ کی شراب پی جاتی ہے۔  25 دسمبر 2005ء کو برطانیہ میں جھگڑوں ،لڑائی ، مار کٹائی کے دس لاکھ واقعات سامنے آئے۔ شراب نوشی کی بنا پر 25دسمبر 2002ء کو آبرو ریزی اور زیادتی کے 19زار کیس درج ہوئے۔ ایک سروے کے مطابق برطانیہ کے ہر 7 میں سے ایک نوجوان نے کرسمس پر شراب نوشی کے بعد بدکاری کا ارتکاب کیا۔ امریکہ کی حالت اس سے بھی گئی گزری ہے ۔ امریکہ میں ٹریفک کے قوانین کی اتنی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں کہ پورا سال نہیں ہوتیں۔ 25دسمبر کو ہر شہری کے منہ سے شراب کی بُو آتی ہے ۔ شراب کے اخراجات چودہ ارب ڈالر تک پہنچ جاتے ہیں ۔ صرف اٹلانٹک سٹی کے جوا خانوں میں اس روز 10ارب روپے کا جوا ہوتا ہے۔ لڑائی مار کٹائی کے واقعات کی چھ لاکھ رپورٹس درج ہوتی ہیں۔ 25دسمبر 2005ء کو کرسمس کے روزکثرت شراب نوشی کی وجہ سے حادثوں کے دوران میں اڑھائی ہزار امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ پانچ لاکھ خواتین اپنے بوائے فرینڈز اور خاوندوں سے پٹیں ۔ اب تو یورپ میں بھی ایسے قوانین بن رہے ہیں جن کے ذریعے شہریوں کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ کرسمس کی عبادت کے لیے اپنے قریب ترین چرچ میں جائیں، شراب نوشی کے بعد اپنی گلی سے باہر نہ نکلیں ۔ خواتین بھی اس خراب حالت میں اپنے بوائے فرینڈز اور خاوندوں سے دور رہیں۔ (مذکورہ بالا اعداد و شمار 2004ء اور  2005ء کے ہیں۔)
ہم مسلمان بھی اپنی عیدوں پر قانون قدرت کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں اور طرح طرح کی بدعتوں کے شکار ہو چکے ہیں لیکن عیسائی دنیا اس معاملے میں مسلمانوں کے مقابلے میں بہت آگے ہے۔
بائبل میں تقریبا ً 38مقامات سے یہ دلیل دی جاتی ہے کہ عیسائیت میں شراب نوشی حرام ہے جبکہ اس روز شراب نوشی اہتمام کے ساتھ کی جاتی ہے۔
مسلمان اور کرسمس   
اسلام کی روشنی میں ایسے موقع پر ایک مسلمان کو مسیحیوں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے؟
دنیا میں بے شمار لوگ ایسے پائے جاتے ہیں جو محض نمود و نمائش کے لیے اپنی تاریخ پیدائش کچھ ایسے دنوں سے منسوب کر لیتے ہیں جو قومی یا عالمی سطح پر معروف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے یوم ولادت پر مبارک باد دینا بھی خلاف واقعہ ہے جبکہ کسی ایسی شخصیت اور دن کو ماننا اور اس کے بارے میں مبارک باد پیش کرنا کہ جن کے متعلق اول تو یہ بات واضح ہے کہ ماضی میں ان تاریخوں میں سورج دیوتا ، سیّارے (Jupiter, Satum)یا دیگر بتوں کی پیدائش کا جشن منایا جاتا تھا۔ دوم مسیح علیہ السلام کی پیدائش کا دن تو درکنار سن پیدائش بھی معلوم نہیں۔ سوم یہ کہ عیسائیوں کا جس دن کے بارے میں عقیدہ یہ ہو کہ آج کے دن یعنی 25دسمبر کو اللہ کا بیٹا پیدا ہوا تھا (معاذ اللہ) ایک مسلمان کسی کو اس پر کیسے مبارک دے سکتا ہے ؟ یاد رکھیں یہ وہ بات ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
{وَقَالُوا اتَّخَذَ  الرَّحْمٰنُ  وَلَدًا لَقَدْ  جِئْتُمْ  شَیْئًا  اِدًّا تَكادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْه وَتَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَالُ ھَدًّا ٭ اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًا} (سوره مریم)
’’اور انہوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنالی ہے، بلاشبہ تم ایک بہت بھاری بات (گناہ) تک آپہنچے ہو۔ قریب ہے کہ اس بات سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گِر پڑیں کہ انہوں نے رحمان کے لیے کسی بیٹے کا دعویٰ کیا۔‘‘
لہٰذا مسیحی حضرات کو مبارک باد دینا  یا اس ضمن میں کسی بھی تقریب میں شرکت کرنا اسلامی نظریے کے مطابق درست نہیں۔
مگر افسوس کہ ہمارے کچھ نام نہاد علمائے کرام اور آج کا ماڈریٹ مسلمان خواہ مخواہ غیروں کی تہذیب و تمدن سے مرعوب نظر آتا ہے اور بے علمی و جہالت اور نام نہاد روشن خیالی کے سبب نہ صرف مبارک باد اور خوشی کا اظہار کرتاہے بلکہ مسلمان بھی اس موقع پر برپا کی جانے والی شراب و شباب کی محافل میں شریک ہو کر اظہار یکجہتی کا عملی نمونہ بھی پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسلام قبول کرنے سے قبل میری زندگی میں ایک کرسمس ایسا بھی آیا جس کو میں نے نیکی کا کام سمجھ کے خوب دھوم دھام سے منایا جس میں 80 فیصدمیرے ایسے دوستوں نے شرکت کی جو مسلمان تھے اور صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ ثواب سمجھ کر کرسمس پارٹی کے اخراجات میں میری معاونت بھی کی۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اب جبکہ میں مسلمان ہو چکا ہوں اور گھر میں یا دیگر مقامات پر درس قرآن کی مجالس میں شرکت کی دعوت دیتا ہوں تو وہی لوگ جو رات ۳ بجے تک میرے ساتھ کرسمس مناتے تھے ، عذر تراشتے ہیں۔
ابھی کل ہی کی بات ہے کہ میں جس مادر پدر آزاد تہذیب کو ٹھوکر مار کر آیا تھا، آج کے کچھ مادہ پرست، حواس باختہ سیکولر قسم کے مسلمان اُسی تہذیب پر رال ٹپکا رہے ہیں۔ جس بے مثال فلسفۂ توحید ، لاجواب نظریۂ حیات اور آخرت کی لازوال کامیابی مجھے اور میرے جیسے کروڑوں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لائی، وہیں اس دین کی تعلیمات سے بے بہرہ، اپنے اسلاف سے کٹے ہوئے، بے یقینی اور نااُمیدی کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے کچھ مسلمان اُن تعلیماتِ الٰہی سے نظریں چرا رہے ہیں جس کا بدل پوری کائنات میں نہیں۔
رسالہ سہ ماہی ’’ایقاظ ‘‘نے اسی سلسلے میں فتاویٰ جمع و شائع کیے تھے جو ذیل میںپیش کیے جا رہے ہیں:
فقہاء نے اس مسئلہ (غیر مسلموں کے تہواروں میں شرکت نہ کرنے اور مبارک باد نہ دینے ) پر اجماع نقل کیا ہے۔ امیر المومنین عمر بن الخطاب t نے شام کے عیسائیوں کو باقاعدہ پابند فرمایا تھا کہ دارالاسلام میں وہ اپنے تہواروں کو کھلے عام نہیں منائیں گے؛ اور اسی پر سب صحابہؓ اور فقہا کا عمل رہا ہے، چنانچہ جس ناگوار چیز کو مسلمانوں کے سامنے آنے سے ہی روکا گیا ہو ، مسلمان کا وہیں پہنچ جانا اور شریک ہونا کیونکر روا ہونے لگا؟ اس کے علاوہ کئی روایات سے حضرت عمر ؓ کا یہ حکم نامہ بھی منقول ہے: ’’عجمیوں کے اسلوب اور لہجے مت سیکھو۔ مشرکین کے ہاں اُن کے گرجوں میں ان کی عید کے روز مت جائو، کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔‘‘ (اقتضاء الصراط المستقیم از شیخ الاسلام ابن تیمیہ a)
علاوہ ازیں کافروں کے تہوار میں شرکت اور مبارکباد کی ممانعت پر حنفیہ ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ سب متفق ہیں۔
 فقہائے مالکیہ تو اس حد تک گئے ہیں کہ جو آدمی کفر کے تہوار پر ایک تربوز کاٹ دے وہ ایسا ہی ہے گویا اُس نے خنزیر ذبح کر دیا۔ (اقتضاء الصراط المستقیم ص ۳۵۴)
تعلیماتِ اسلام سے پتہ چلتا ہے کہ انبیاء و رُسُل اس کائنات میں سب سے برگزیدہ تھے، لہٰذا وہ لوگ ہمیں ان انبیاء و رسلu سے محبت و عقیدت کی کیا تعلیم دیں گے جن کی اپنی کتابیں ان پر ایسے گندے اور گھنائونے الزام لگاتی ہیں کہ پڑھنے والے کی آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں ۔ یہ مقدس معصوم عن الخطا لوگ تو قیامت تک پوری انسانیت اور زندگی کے لیے رول ماڈل ہیں۔ ایک شام مسیح علیہ السلام کے نام والا فلسفہ غلط اور ناقص ہے۔ ہر صبح و شام اللہ اور اس کے دین کے نام ہونی چاہیے ۔ یہ لوگ محسنوں کی قدر اور رشتوں کا مقام ہمیں کیا بتائیں گے جو اپنے کتوں کو تو اپنے ساتھ سلاتے ہیں مگر اپنے بوڑھے والدین کوOld Home چھوڑ آتے ہیں۔ ان کے نزدیک تو تہذیب و تمدن کا مطلب ہی مذہب سے آزادی ، ناچ گانا ، مصوری ، بت تراشی و بت پرستی، مردوزن کا اختلاط، کثرت شراب نوشی، جنسی آوارگی ، بے راہ روی، ہم جنس پرستی ، سود اور لوٹ کھسوٹ ہے یعنی ہر طرح کی مادرپدر آزادی جس کے بارے میں اقبال نے کہا تھا:
اُٹھا  کر  پھینک  دو  باہر گلی  میں
نئی  تہذیب  کے  انڈے  ہیں  گندے
جبکہ اسلام کے نزدیک لفظ تہذیب کا معنی ہی سجانا ، آراستہ کرنا، حسِین بناناہے ۔ ہمارے یہاں ہر وہ عمل جزوتہذیب ہے جو ہماری شخصیت کو حسِین بنائے اور ہمارے کردار کو عظیم بنائے، نیز ہماری دنیا و آخرت کو سنوارے ۔یہ ہماری تہذیب ہے ۔ علم ، اخلاص، خدمت اور محبت ہماری تہذیب کے بنیادی اجزا ہیں۔ یہ ہے وہ تہذیب اور اسلام کی بے مثال تعلیم جو نہ صرف انبیاء i کی عصمت ، عزت اور مقام و مرتبہ کی حفاظت کاحکم دیتی ہے بلکہ ان کی اطاعت و اتباع اور ان سے ہر وقت محبت اور ہر لمحہ ان کی اطاعت کرنے کا درس دیتی ہے۔
اسلامی تہذیب وقتی طور پر جمود کا شکار ضرور ہے مگر یہ جمود اسلام کا مستقل مقدر نہیں ۔ اسلامی تہذیب کا مستقبل بھی اپنے ماضی کی طرح روشن ہے ۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats