امیر محترم کا ’’درس معوذتین‘‘ 49-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 29, 2019

امیر محترم کا ’’درس معوذتین‘‘ 49-2019


امیر محترم کا ’’درس معوذتین‘‘

رپورٹ: جناب مولانا محمد ابرار ظہیر
راقم الحروف گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد قدس اہلحدیث محلہ اسلام آباد میں کچھ کم دو دہائیوں سے خدمت دین میں مصروف عمل ہے۔گزشتہ کم و بیش ۱۶ سال سے بعد نماز فجر روزانہ کے درس میں ایک ترتیب سے قرآن مجید کی چند آیات پڑھتے ہوئے گزشتہ دنوںتکمیل قرآن کی منزل تک پہنچے۔ الحمدللہ علی ذلک۔تکمیل قرآن کے اس پر مسرت موقع پر آخری دو سورتوں کی تشریح وتفسیر کیلئے امیر محترم حضرت سینیٹر پروفیسر ساجد میرd سے درخواست کی۔ جو انہوں نے کمال شفقت سے منظور کرتے ہوئے ۱۵ دسمبر کو پروگرام میں آنے کی نوید سنائی۔ آپ کی طرف سے تشریف آوری کے وعدے نے روح تک کو سرشار کر دیا۔
امیر محترم نے خطبہ مسنونہ کے بعد معوذتین کی تشریح وتفسیر کرتے ہوئے جو علمی نکات بیان فرمائے۔ قرآن مجید کی اولین سورۃ الفاتحہ اور آخری دو سورتوں کے درمیان مطابقت‘ اللہ تعالی کی صفات کا بیان‘ معتزلہ کے عقائد کا رد‘ موجودہ بزعم خود دانشوران کی علمی حیثیت کی حقیقت واضح فرمائی تو ہر سامع حضرت الامیر کے علمی تبحر سے انگشت بدنداں رہ گیا‘ علمی ثقاہت‘ موضوع پر گرفت‘ بحر تفیسر کی غواصی‘ استحضار علم‘ قرآنی علوم پر دسترس حضرت الامیر کے درس کے ایک ایک لفظ سے آشکار ہورہی تھی۔عوام الناس کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ ساتھ شہر بھر سے دو سوسے زائد علما‘ خطبا‘ شیوخ الحدیث اور اساتذہ‘ مجلس درس میں موجود اور حضرت الامیر کے خطاب سے مستفید ہو رہے تھے۔امیر محترم نے اپنے خطاب میں اپنی طبعی عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے ایک خوبصورت مثال بھی دی کہ’’گوجرانوالہ اہل علم کا شہر ہے یہاں بڑے بڑے اساطین علم کی موجودگی کے باوجود مجھے بلانا ایسے ہی ہے کہ گوجرانوالہ میں پانی کی وافر موجودگی کے باوجود تیمم کیلئے سیالکوٹ سے مٹی منگوائی جائے‘‘امیر محترم کے اس جملے نے، ان کی عاجزی کے اظہار نے کئی آنکھوں کو نمناک کر دیا۔ امیر محترم نے معتزلہ کے عقائد کارد کرتے ہوئے جب ان کی علمی ثقاہت کا ذکر فرمایا اور ساتھ ہی موجودہ دور کے معتزلہ کے علمی جانشینوں کا ذکر کیا تو فرمایا کہ’’یہ بھی خود کو دانشور سمجھتے ہیں حالانکہ ان کو’’دان شُو ر‘‘کہنا چاہئے‘‘۔ اس جملے میں موجود کاٹ کو سمجھنے والے مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔امیر محترم نے سورۃ الناس میں بار بار لفظ’’الناس‘‘کے تذکرے میں جب یہ فرمایا کہ’’بار بار انسانوں کاذکر دراصل انسان کے شرف کا اعلان ہے۔ جو اللہ نے بذات خود انسان کو عطا کیاہے‘‘۔تو حاضرین مجلس تڑپ اٹھے۔ محبت الٰہی کا ایک زمزمہ تھا جو بہہ پڑا۔ حضرت کے الفاظ تو کمال کے تھے ہی انداز بیان بھی بہت دلربا تھا۔اسی طرح جادو کے اثرات اور نبی مکرم e پر لبید بن اعصم کے جادو کے اثرات کا اس خوبصورت علمی انداز میں تذکرہ فرمایا کہ بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے ۔ سورۃ الفلق میں ایک صفت الٰہی ’’رب الفلق‘‘ کے ساتھ تین چیزوں سے پناہ مانگنے کا ذکر اور سورۃ الناس میں تین صفات رب الناس‘ ملک الناس‘ الہ الناس کے ساتھ وسواس الخناس سے اللہ کی پناہ مانگنے کا خوبصورت احساس لاشعور سے شعور میں لائے تو کئی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔امیر محترم نے مجلس میں موجود ہر طبقہ زندگی کو سیراب کیا۔ عامۃ الناس کیلئے بہت سی دعائیں جن میں تعوذ کا ذکر ہے بیان فرمائیں تو علما کیلئے آخری دو سورتوں کے معانی کے اسرار ورموز کا ذکر فرمایا۔ دوران درس ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ علم کی ایک ندی ہے جو بہہ رہی ہے اور ہر سامع اس ندی سے اپنے اپنے ظرف کے مطابق قلب وذہن کو سیراب کر رہا ہے۔ امیر محترم کے درس کے بعد ہر شخص اور ہر شخصیت کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ’’امیر محترم نے اعلیٰ پائے کا لاجواب بے مثال علمی خطاب کیا ہے جو ان کے تبحر علمی کا آئینہ دار ہے۔
اختتام پروگرام سے قبل مرکزی جمعیت اہلحدیث سٹی کی طرف سے امیر محترم کی خدمت میں چند تحائف پیش کئے گئے جبکہ حلقہ الشیخ ابو البرکات احمدؒ کے ذمہ داران مولانا قاری محمد شفیق بٹ، مولانا امتیاز محمدی، مولانا عباس راشد، مولانایحیٰ گرجاکھی، حاجی محمد ایوب، حاجی شیخ محمد نعیم حفظھم اللہ کی طرف سے راقم الحروف کو تکمیل قرآن پر گرانقدر تحائف سے نوازا گیا، جس پر راقم نے تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام کے آخر میں استاد العلما شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد عباس انجم حفظہ اللہ نے مختصر مگر انتہائی جامع دعا کروائی۔ یوں ایک شاندار‘ تاریخ ساز اور یادگار پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔پروگرام کے اختتام پر انتظامیہ مسجد کی طرف سے تمام سامعین کے اعزاز میں پر تکلف عشائیہ کا اہتمام تھا۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats