ارضِ پاک کے غداروں سے قدرت کا انتقام 49-2019 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, December 29, 2019

ارضِ پاک کے غداروں سے قدرت کا انتقام 49-2019


ارضِ پاک کے غداروں سے قدرت کا انتقام

تحریر: جناب پروفیسر محمد عاصم حفیظ
سقوط ڈھاکہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے عالم اسلام کو ایک غم دے گیا ۔ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت خداداد دولخت ہوگئی۔ لیکن یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ جو کردار اس گھناؤنی سازش میں ملوث رہے قدرت نے ان سے انتقام ضرور لیا۔
بنگلہ دیش میں تعینات رہنے والے سابق پاکستانی سفیر جناب افراسیاب کی تحقیق کے مطابق شیخ مجیب الرحمان سقوط ڈھاکہ کا سب سے بڑا کردار تھا‘ وہ بنگلہ دیش بننے کے بعد حکمران بنا لیکن صرف چار سال کے اندر اس کی اپنی فوج نے خاندان سمیت اسے انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا ۔ شیخ مجیب کے خاندان پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اکھٹے تھے‘ ۱۸ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ دس سالہ بیٹے کو بھی نہ چھوڑا گیا ۔ اس کی صرف دو بیٹیاں بچیں شیخ حسینہ واجد اور شیخ ریحانہ جو کہ اس وقت ملک سے باہر تھیں ۔
شیخ مجیب رحمان کو ناصرف قتل کیا گیا بلکہ ان کی لاش پر بے دریغ فائر کیے گئے‘ تضحیک کی گئی ۔ شیخ مجیب الرحمن کو ۱۵ اگست یعنی بھارت کے یوم آزادی کے دن قتل کرکے ایک پیغام دیا گیا۔
قدرت کا انجام دیکھیں کہ شیخ مجیب الرحمن کے کچھ قاتل بھارت فرار ہوگئے اور بنگلہ دیش کی بار بار درخواست کے باوجود بھارت نے ابھی تک شیخ مجیب کے قاتلوں کو حوالے نہیں کیا۔ جی ہاں! وہی بھارت جس کی خاطر اس نے پاکستان کے ساتھ غداری کی تھی ۔ شیخ مجیب کے اکلوتے پوتے شیخ سجیب نے ایک یہودی عورت کے ساتھ شادی کرلی‘ وہ امریکہ میں رہتا ہے اور کبھی کبھی بنگلہ دیش آتا ہے ۔ اسے اپنے خاندان سے کچھ لینا دینا نہیں۔
بنگلہ دیش کے پہلے وزیر تاجدین احمد کو شیخ مجیب الرحمٰن کے واقعے کے بعد تین ماہ کے اندر اندر قتل کر دیا گیا ۔ شیخ مجیب کی حکومت میں شامل اہم ترین افراد منصور علی جوکہ وزیراعظم رہے ۔ سید نذر الاسلام جو نائب صدر رہے اور قمر الزمان جو کہ انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے ان سب کو چند ماہ کے اندر ہی قتل کیا گیا ۔ ان رہنماؤں کو پہلے گرفتار کیا گیا اور جیل میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کر کے اڑا دیا گیا۔
شیخ مجیب الرحمن کے بعد بنگلہ دیش کے صدر بننے والے جنرل ضیاء الرحمن بھی قدرت کے انتقام کا نشانہ بنے۔ انہیں ۱۹۸۱ء میں اسی چٹاگانگ شہر میں قتل کیا گیا جہاں انہوں نے پاک فوج کے میجر کے طور پر بغاوت کرتے ہوئے بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ چٹاگانگ کے سرکٹ ہاؤس میں ہی انہوں نے بغاوت کا اعلان کیا تھا اور وہیں انہیں قتل کر کے انتقام لیا گیا۔
ان کی لاش کئی گھنٹے فرش پر پڑی رہی لیکن نفرت کے باعث کسی نے اٹھائی تک نہیں۔ شاید بہت کم لوگوں کو یہ علم ہو کہ چٹاگانگ کا پہلا نام اسلام آباد تھا ۔
جنرل ضیاء الرحمن کا بیٹا عرفات الرحمن کو جوان عمری میں پرسرار طور پر ہلاک ہو گیا جبکہ دوسرا بیٹا طارق رحمن اب بھی لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے۔
سقوط ڈھاکہ کی بڑی بھارتی کردار اندرا گاندھی کو سکھوں کی جانب سے بم دھماکے میں اڑا دیا گیا ۔ اندرا گاندھی کا بیٹا سنجے گاندھی جواں عمری میں ایک طیارہ حادثے میں مارا گیا۔سنجے گاندھی مسلمانوں کا سخت مخالف سمجھا جاتا تھا اور اس نے بارہا مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کے حوالے سے مطالبات بھی کیے تھے۔ اندرا گاندھی کا دوسرا بیٹا راجیوگاندھی بھی ایک خودکش حملے میں مارا گیا۔
ایک بھارتی جنرل شابیگ سنگھ جس نے مکتی باہنی کے غنڈوں کو ٹریننگ دی اور انہیں پاک فوج کے خلاف مسلح کیا وہ کئی سالوں بعد سکھ مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی افواج کے حملے میں بے دردی سے مارا گیا۔ جنرل اروڑہ سنگھ اور جنرل شبد سنگھ سکھ تھے اور وہ دونوں گولڈن ٹیمپل پر بھارتی جارحیت کے خلاف تھے ۔ ایک اور سکھ جنرل کلدیپ سنگھ جو کہ بنگلہ دیش پر حملے میں پیش پیش تھا بعدازاں بھارتی افواج نے اسے گولڈن ٹیمپل پر حملے کے لئے کمانڈ دی‘ ایک سکھ جنرل کو مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے مذہبی مقام پر حملہ کرے‘ یہ ایک طرح سے سزا تھی‘ اس پر سکھوں کی جانب سے کئی قاتلانہ حملے ہو چکے ہیں ۔ ایک اور بھارتی جنرل جو کہ سقوط ڈھاکہ کے اہم کرداروں میں تھا جنرل ارون شیرندر اسے پونا شہر میں اپنے گھر کے اندر قتل کر دیا گیا ۔
مغربی پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داران میں سب سے بڑا نام ذوالفقار علی بھٹو کا تھا ۔ کئی بنگہ دیشی تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ہمارا بابائے قوم شیخ مجیب الرحمان نہیں بلکہ ذوالفقارعلی بھٹو ہے کیونکہ انہیی کی وجہ سے بنگلہ دیش بنا۔ سیاسی کشمکش نے شیخ مجیب کو الگ ملک کا راستہ دکھایا۔ ورنہ شاید وہ آخری حد تک نہ جاتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو جنرل ضیاء الحق نے پھانسی لگایا ۔ ان کے بیٹے مرتضی علی بھٹو اپنی بہن کی وزارت عظمی کے دور میں کراچی کی سڑک پر قتل ہوئے ۔ دوسرے بیٹے شاہنواز بھٹو کو زہر دیکر مار دیا گیا جبکہ بیٹی بے نظیر بھٹو بم دھماکے میں جان سے گئیں ۔
جنرل یحییٰ خان کو ریٹائر کرکے ایک طرح سے گھر پر نظربند رکھا گیا اور وہ گمنامی میں ہی فالج زدہ ہو کر دنیا سے چلتے بنے ۔ ان کے قریبی دوست بریگیڈیئر عبدالرحمن صدیقی کے مطابق زندگی کے آخری ایام میں وہ مکمل فالج زدہ تھے‘ کسی قسم کی حرکت نہیں کر سکتے تھے‘ صرف آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے‘ کسی کو پہچان نہیں سکتے تھے۔ جب کبھی وہ اپنے گھر کی چھت پر اکیلے کھڑے ہوتے تو لوگ ان پر آوازیں کستے۔ جنرل امیر عبداللہ خان نیازی جنہوں نے ہتھیار پھینکے تھے۔ بھارتی قید سے واپسی پر کسی نے ان کا واہگہ پر استقبال تک نہ کیا اور جب کبھی وہ کسی آرمی تقریب میں جاتے تو افیسر ان کیساتھ بات تک کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔ وہ بھی گمنامی کی زندگی کا شکار بنے ۔
اس وقت کے ائیر مارشل رحیم خان نے اپنی زندگی کے آخری ایام امریکہ میں تنہا گزارے‘ وہ فوت ہوئے تو انہیں پاکستانی زمین تک نصیب نہ ہوئی‘ انکی آخری رسومات میں صرف بیٹی شامل ہوئی ۔ کوئی سرکاری اہلکار اور آفیسر نہ گیا۔
۱۹۷۱ء میں آرمی چیف کے عہدے پر تعینات جنرل حامد بھی لاہور میں گمنامی کی زندگی گزارتے فوت ہوئے کسی کو یاد تک نہ رہے ۔ جنرل گل حسن جنہیں یحییٰ خان کے بعد کمانڈر انچیف بنایا گیا صرف تین ماہ بعد ہی جبری ریٹائرڈ کر دئیے گئے‘ وہ کینسر سے لڑتے لڑتے موت کے منہ میں چلے گئے۔ انہوں نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایک چھوٹی سی باربر شاپ چلانے والی آسڑیلوی خاتون سے شادی کی اور لواحقین میں کوئی بھی نہ تھا ۔
ان حقائق کو دیکھیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قدرت نے ارض پاکستان کو توڑنے والے ہر کردار سے انتقام ضرور لیا۔
سقوط ڈھاکہ کا سبق یہی ہے کہ ہم اپنے باہمی اختلافات بھلا کر اس مملکت خداداد کی حفاظت اور تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats