میت کو نفع دینے والے اعمال 01-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 05, 2020

میت کو نفع دینے والے اعمال 01-20


میت کو نفع دینے والے اعمال

تحریر: جناب مولانا منظور احمد جمالی
قارئین کرام! بعض ایسے اعمال ہیں جن کا ایک مومن کو اس کے انتقال کے بعد بھی ثواب پہنچتا رہتا ہے ۔ ہم یہاں بعض ایسے اعمال بیان کرتے ہیں جو مرنے کہ بعد بھی نفع بخش ہیں۔جناب عبداللہ بن ابی بکر رحمہ اللّہ نے کہا: میں نے سیدنا انس بن مالکt کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ فَیَرْجِعُ اثْنَانِ وَیَبْقَی وَاحِدٌ یَتْبَعُہُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ فَیَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقَی عَمَلُہُ۔] (مسلم: ۷۴۲۴)
’’میت کے پیچھے تین چیزیں ہوتی ہیں‘ ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے۔ اس کے پیچھے اس کے گھر والے‘ اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہے‘ اس کے گھر والے اور مال لوٹ آتے ہیں اور عمل ساتھ رہ جاتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہِ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَہُ۔] (مسلم: ۴۲۲۳)
’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے) صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘
نیک صالح اولاد کی دعا و استغفار اور والدین کے وفات کے بعد ان کے عہد و پیمان کو پورا کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا بھی ان کے لئے باعث نجات ہیں۔ جیسا کہ سیدنا ابواسید مالک بن ربیعہt فرماتے ہیں کہ
[بَیْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِیِّﷺ إِذْ جَائَہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ اَبَقِیَ مِنْ بِرِّ اَبَوَیَّ شَیْئٌ اَبَرُّہُمَا بِہِ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِمَا قَالَ: نَعَمْ الصَّلَاۃُ عَلَیْہِمَا وَالِاسْتِغْفَارُ لَہُمَا وَإِیفَائٌ بِعُہُودِہِمَا مِنْ بَعْدِ مَوْتِہِمَا وَإِکْرَامُ صَدِیقِہِمَا وَصِلَۃُ الرَّحِمِ الَّتِی لَا تُوصَلُ إِلَّا بِہِمَا۔] (ابن ماجہ: ۳۶۶۴)
’’ہم نبی اکرمe کے پاس موجود تھے اتنے میں قبیلہ بنی سلیم کا ایک شخص حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میرے والدین کی نیکیوں میں سے کوئی نیکی ایسی باقی ہے کہ ان کی وفات کے بعد میں ان کے لیے کر سکوں؟ تو آپe نے فرمایا: ہاں ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا اور ان کے انتقال کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرنا اور ان کے دوستوں کی عزت و تکریم کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جن کا تعلق انہی کی وجہ سے ہے۔‘‘
اسی طرح نیک صالح اولاد کی دعاوں کی برکات سے اللہ تعالیٰ والدین کی درجات بلند فرماتا ہے۔ جیسا کہ سیدناابوہریرہt فرماتے ہیں کہ نبی اکرمe نے فرمایا:
[إِنَّ الرَّجُلَ لَتُرْفَعُ دَرَجَتُہُ فِی الْجَنَّۃِ فَیَقُولُ: اَنَّی ہَذَا فَیُقَالُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِکَ لَکَ۔]
’’آدمی کا درجہ جنت میں بلند کیا جائے گا پھر وہ کہتا ہے کہ میرا درجہ کیسے بلند ہوا ؟ اس کو جواب دیا جائے گا: تیرے لیے تیری اولاد کے دعا و استغفار کرنے کے سبب سے۔‘‘ (ابن ماجہ: ۳۶۶۰)
اپنے فوت شدہ کے نام پر صدقات و خیرات کرنا‘ کنواں تالاب وغیرہ کھودوانا‘ نل وغیرہ لگوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے اور باعث اجر ہے۔ سیدنا سعد بن عبادہt فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ کے رسول!
[إِنَّ اُمِّی مَاتَتْ اَفَاَتَصَدَّقُ عَنْہَا قَالَ: نَعَمْ قُلْتُ: فَاَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: سَقْیُ الْمَائِ۔]
’’میری ماں مر گئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپe نے فرمایا: ہاں میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: (پیاسوں کو) پانی پلانا۔ (سنن نسائی: ۳۶۹۴)
اسی طرح سیدہ عائشہr سے روایت ہے کہ
[اَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِیِّﷺ: إِنَّ اُمِّی افْتُلِتَتْ نَفْسُہَا وَاَظُنُّہَا لَوْ تَکَلَّمَتْ تَصَدَّقَتْ فَہَلْ لَہَا اَجْرٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْہَا قَالَ: نَعَمْ۔]
’’ایک شخص نے نبی کریمe سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں‘ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپe نے فرمایا: ہاں ملے گا۔‘‘ (بخاری: ۱۳۸۸)
ایک روایت میں سیدنا عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں کہ
[اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! إِنَّ اُمِّی تُوُفِّیَتْ اَفَیَنْفَعُہَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْہَا ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَإِنَّ لِی مَخْرَفًا فَاُشْہِدُکَ اَنِّی قَدْ تَصَدَّقْتُ بِہِ عَنْہَا۔] (ترمذی: ۶۶۹)
’’ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری والدہ فوت ہو چکی ہیں اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا یہ ان کے لیے مفید ہوگا؟ آپ نے فرمایا: ہاں‘ اس نے عرض کیا: میرا ایک باغ ہے آپ گواہ رہیے کہ میں نے اسے والدہ کی طرف سے صدقہ میں دے دیا۔‘‘
اسی طرح سیّدنا ابوہریرہt سے روایت ہے:
[اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِلنَّبِیِّﷺ: إِنَّ اَبِی مَاتَ وَتَرَکَ مَالاً وَلَمْ یُوْصِ فَہَلْ یُکَفِّرُ عَنْہُ اَنْ اَتَصَدَّقَ عَنْہُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔] (مسند احمد: ۳۲۹۴)
’’ایک آدمی نے نبی کریمe سے کہا: میرے والد فوت ہو گئے ہیں اور انھوں نے مال تو چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی تو کیا ان کی طرف سے میرا صدقہ کرناان کے گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہے؟ آپe نے فرمایا: جی ہاں۔‘‘
اسی طرح اولاد اپنے والدین کی طرف سے حج یا جو اسکے ذمہ روزے واجب ہوں یا نذر ہو تو ورثا ادا کر لیں تو اس کی طرف سے ادا ہو جاتے ہیں اور میت کو نفع دیتے ہیں ۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسw فرماتے ہیں کہ
[اَنَّ امْرَاَۃً سَاَلَتِ النَّبِیَّﷺ عَنْ اَبِیہَا مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ قَالَ: حُجِّی عَنْ اَبِیکِ۔]
’’ایک عورت نے نبی اکرمe سے اپنے والد کے بارے میں سوال کیا جن کا انتقال ہو گیا تھا اور حج نہیں کیا تھا پوچھا آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔‘‘ (النسائی: ۲۶۳۵)
اسی طرح اگر کسی کے ذمہ روزے ہوں تو اس کے ولی اسکے طرف سے روزہ رکھیں۔ جیسا کہ سیدہ عائشہr سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[مَنْ مَاتَ وَعَلَیْہِ صِیَامٌ صَامَ عَنْہُ وَلِیُّہُ۔]
’’اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کاولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۱۹۵۲)
سیدنا ابن عباسw نے فرمایا:
[اَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَفْتَی رَسُولَ اللَّہِﷺ فَقَالَ: إِنَّ اُمِّی مَاتَتْ وَعَلَیْہَا نَذْرٌ فَقَالَ: اقْضِہِ عَنْہَا۔] (البخاری: ۲۷۶۱)
سعد بن عبادہt نے رسول اللہe سے مسئلہ پوچھا انہوں نے عرض کیا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے اور اس کے ذمہ ایک نذر تھی‘ آپe نے فرمایا کہ ان کی طرف سے نذر پوری کر دے۔‘‘
وضاحت: جس نے نذر مانی ہو کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کرے گا تو اس کی نذر پوری کی جائے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ نذر پوری نہیں کرنی چاہیے۔
جو سرحد کی محافظت اور نگہبانی کرے گا اس کا عمل روز محشر تک بڑھتا رہے گا۔ جیسا کہ سیدنا فضالہ بن عبیدt کہتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[کُلُّ الْمَیِّتِ یُخْتَمُ عَلَی عَمَلِہِ إِلَّا الْمُرَابِطَ فَإِنَّہُ یَنْمُو لَہُ عَمَلُہُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَیُوَمَّنُ مِنْ فَتَّانِ الْقَبْرِ۔]  (ابوداؤد: ۲۵۰۰)
’’ہر میت کا عمل مرنے کے بعد ختم کر دیا جاتا ہے سوائے سرحد کی پاسبانی اور حفاظت کرنے والے کے‘ اس کا عمل اس کے لیے قیامت تک بڑھتا رہے گا اور قبر کے فتنہ سے وہ مامون کر دیا جائے گا۔‘‘
میت کے لئے خلوص دل سے دعا کرنا بھی بخشش کا ایک ذریعہ ہے۔ جیسا کہ اللّہ تعالیٰ کا فرمان:
{وَالَّذِیْنَ جَآئُوْ مِنْ بَعْدِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَلَاتَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّکَ رَئُوْفٌ رَّحِیْمٌ} (الحشر: ۱۰)
’’اور (ان کے لئے)جو ان کے بعد آئیں گے جو کہیں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمانداروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (اور دشمنی) نہ ڈال‘ اے ہمارے رب! بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘
سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہe کو فرماتے سنا:
[إِذَا صَلَّیْتُمْ عَلَی الْمَیِّتِ فَاَخْلِصُوا لَہُ الدُّعَائَ۔]
’’جب تم میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خلوص دل سے اس کے لیے دعا کرو۔‘‘ (سنن ابوداؤد: ۳۱۹۹)
جب بھی رسول اللہ کسی کی نماز جنازہ پڑھتے تو خلوص دل سے پڑھتے۔ جیسا کہ سیدنا عوف بن مالکt فرماتے ہیں کہ
[سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِﷺ صَلَّی عَلَی جَنَازَۃٍ یَقُولُ: اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ وَاعْفُ عَنْہُ وَعَافِہِ وَاَکْرِمْ نُزُلَہُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ وَاغْسِلْہُ بِمَاء ٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ وَاَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ وَاَہْلًا خَیْرًا مِنْ اَہْلِہِ وَزَوْجًا خَیْرًا مِنْ زَوْجِہِ وَقِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ وَعَذَابَ النَّارِ قَالَ عَوْفٌ: فَتَمَنَّیْتُ اَنْ لَوْ کُنْتُ الْمَیِّتَ لِدُعَاء ِ رَسُولِ اللَّہِﷺ لِذَلِکَ الْمَیِّتِ۔]
میں نے رسول اللہe کو سنا کہ آپ ایک جنازے کی نماز میں کہہ رہے تھے:
[اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ، وَاعْفُ عَنْہُ وَعَافِہِ، وَاَکْرِمْ نُزُلَہُ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَہُ، وَاغْسِلْہُ بِمَائٍ وَثَلْجٍ وَبَرَدٍ، وَنَقِّہِ مِنَ الْخَطَایَا کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَاَبْدِلْہُ دَارًا خَیْرًا مِنْ دَارِہِ، وَاَہْلًا خَیْرًا مِنْ اَہْلِہِ، وَزَوْجًا خَیْرًا مِنْ زَوْجِہِ، وَقِہِ عَذَابَ الْقَبْرِ، وَعَذَابَ النَّارِ۔] (سنن نسائی: ۱۹۸۵)
’’اے اللہ! اس کی مغفرت فرما اس پر رحم کر اسے معاف کر دے اسے عافیت دے اس کی (بہترین) مہمان نوازی فرما اس کی(قبر) کشادہ کر دے اسے پانی برف اور اولے سے دھو دے اسے گناہوں سے اس طرح صاف کر دے جیسے سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔ اس کو بدلے میں اس کے گھر سے اچھا گھر‘ اس کے گھر والوں سے بہتر گھر والے اور اس کی بیوی سے اچھی بیوی عطا کر اور اسے عذاب قبر اور عذاب جہنم سے بچا۔ عوفt کہتے ہیں کہ اس میت کے لیے رسول اللہe کی یہ دعا (سن کر) میں نے آرزو کی: کاش! اس کی جگہ میں ہوتا۔
جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے جن کی تعداد سو تک پہنچتی ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے پاس سفارش کریں میت کے حق میں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش قبول کی جاتی ہے۔ جیسا کہ سیدہ ام المومنین عائشہr کہتی ہیں کہ نبی اکرمe نے فرمایا:
[مَا مِنْ مَیِّتٍ یُصَلِّی عَلَیْہِ اُمَّۃٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ یَبْلُغُونَ اَنْ یَکُونُوا مِائَۃً یَشْفَعُونَ إِلَّا شُفِّعُوا فِیہِ قَالَ سَلَّامٌ: فَحَدَّثْتُ بِہِ شُعَیْبَ بْنَ الْحَبْحَابِ فَقَالَ: حَدَّثَنِی بِہِ اَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ۔]
’’جس میت پر بھی مسلمانوں کی ایک جماعت نماز جنازہ پڑھے (جن کی تعداد) سو تک پہنچتی ہو (اور) وہ (اللہ کے پاس) شفاعت (سفارش) کریں تو اس کے حق میں (ان کی) شفاعت قبول کی جائے گی۔ سلام کہتے ہیں: میں نے اس حدیث کو شعیب بن حبحاب سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے اسے انس بن مالکt نے بیان کیا ہے وہ اسے نبی اکرمe سے روایت کر رہے تھے۔‘‘ (سنن نسائی: ۱۹۹۳)
رسول اللہe کے زمانے میں جب صحابہ کرام] میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو رسول اللہe فرماتے: اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو۔ جیسا کہ سیدنا عثمان بن عفانt فرماتے ہیں کہ
[کَانَ النَّبِیُّﷺ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَیِّتِ وَقَفَ عَلَیْہِ فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِاَخِیکُمْ وَسَلُوا لَہُ بِالتَّثْبِیتِ فَإِنَّہُ الْآنَ یُسْاَلُ۔]
’’نبی اکرمe جب میت کے دفن سے فارغ ہوتے تو وہاں کچھ دیر رکتے اور فرماتے: اپنے بھائی کی مغفرت کی دعا مانگو اور اس کے لیے ثابت قدم رہنے کی دعا کرو کیونکہ ابھی اس سے سوال کیا جائے گا۔ (سنن ابوداؤد: ۳۲۲۱)
جب مومنین میں سے کوئی میت کی نماز جنازہ پڑھ کر اس کی تعریف کرے تو یہ بھی نجات کا زریعہ ہے۔ جیسا کہ سیدنا ربیع بن معوذt سے مروی ہے کہ نبی کریمe نے فرمایا:
[إِذَا صَلَّوا عَلی جَنَازَۃٍ وَاَثْنَوا خَیراً یَّقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَل: اَجَزْتُ شَہَادَتَہُم فِیْمَا یَعْلَمُونَ وَاَغْفِرُ لَہ مَا لَا یَعْلَمُونَ۔] (سلسلۃ الاحادیث صحیحہ: ۵۱۷)
’’جب لوگ کسی میت کی نمازِ جنازہ پڑھیں اور اس کی تعریف کریں تو اللہ رب العزت فرماتا ہے: جو یہ لوگ جانتے ہیں اس بارے میں ان کی گواہی کافی ہوگئی اور جو یہ لوگ نہیں جانتے میں اسے بخشتا ہوں۔‘‘
اسی طرح سیدنا انسt نے فرمایا کہ
[مُرَّ عَلَی النَّبِیِّﷺ بِجَنَازَۃٍ فَاَثْنَوْا عَلَیْہَا خَیْرًا فَقَالَ: وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِاُخْرَی فَاَثْنَوْا عَلَیْہَا شَرًّا اَوْ قَالَ غَیْرَ ذَلِکَ فَقَالَ: وَجَبَتْ فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ، قُلْتَ لِہَذَا وَجَبَتْ وَلِہَذَا وَجَبَتْ قَالَ: شَہَادَۃُ الْقَوْمِ الْمُوْمِنُونَ شُہَدَائُ اللَّہِ فِی الْاَرْضِ۔]
رسول اللہe کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس میت کی تعریف کی‘ آپe نے فرمایا واجب ہو گئی۔ پھر دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی یا اس کے سوا اور الفاظ (اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے)کہے (راوی کو شبہ ہے)آپe نے اس پر بھی فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! آپ نے اس جنازہ کے متعلق بھی فرمایا کہ واجب ہو گئی اور پہلے جنازہ پر بھی یہی فرمایا۔ آپe نے فرمایا کہ ایمان والی قوم کی گواہی (بارگاہ الٰہی میں مقبول ہے) یہ لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہیں۔ (صحیح بخاری: ۲۶۴۲)
قرآن و حدیث اور تمام ترنیکی اور اتباع سنت کی طرف بلانے اور اسے پھیلانے کا اجر و ثواب اتنا ہے کہ اسے اس کے اس عمل کا ثواب تو ملے گا ہی ساتھ ہی قیامت تک اس پر عمل کرنے والوں کے ثواب کے برابر مزید اسے ثواب سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ سیدنا جریر بن عبداللہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا
[مَنْ سَنَّ سُنَّۃَ خَیْرٍ فَاتُّبِعَ عَلَیْہَا فَلَہُ اَجْرُہُ وَمِثْلُ اُجُورِ مَنِ اتَّبَعَہُ غَیْرَ مَنْقُوصٍ مِنْ اُجُورِہِمْ شَیْئًا وَمَنْ سَنَّ سُنَّۃَ شَرٍّ فَاتُّبِعَ عَلَیْہَا کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہُ وَمِثْلُ اَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَہُ غَیْرَ مَنْقُوصٍ مِنْ اَوْزَارِہِمْ شَیْئًا۔]
’’جس نے کوئی اچھا طریقہ جاری کیا (کوئی اچھی سنت قائم کی) اور اس اچھے طریقہ کی پیروی کی گئی تو اسے (ایک تو) اسے اپنے عمل کا اجر ملے گا اور (دوسرے) جو اس کی پیروی کریں گے ان کے اجر و ثواب میں کسی طرح کی کمی کیے بغیر ان کے اجر و ثواب کے برابر بھی اسے ثواب ملے گا۔ جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس برے طریقے کی پیروی کی گئی تو ایک تو اس پر اپنے عمل کا بوجھ (گناہ) ہو گا اور (دوسرے) جو لوگ اس کی پیروی کریں گے ان کے گناہوں کے برابر بھی اسی پر گناہ ہو گا بغیر اس کے کہ اس کی پیروی کرنے والوں کے گناہوں میں کوئی کمی کی گئی ہو۔ (جامع ترمذی: ۲۶۷۵)
اگر انسان اپنی وفات سے قبل سایہ دار درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان اور چرند پرند کھاتے ہیں تو یہ ان کے لئے باعث اجر ہے۔ جیسا کہ سیدنا انسt سے روایت ہے کہ نبی اکرمe نے فرمایا:
[مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَغْرِسُ غَرْسًا اَوْ یَزْرَعُ زَرْعًا فَیَاْکُلُ مِنْہُ إِنْسَانٌ اَوْ طَیْرٌ اَوْ بَہِیمَۃٌ إِلَّا کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃٌ۔] (ترمذی: ۱۳۸۲)
’’جو بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا فصل بوتا ہے اور اس میں سے انسان یا پرند یا چرند کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔‘‘


No comments:

Post a Comment

View My Stats