یومِ آخرت پر ایمان 01-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 05, 2020

یومِ آخرت پر ایمان 01-20


یومِ آخرت پر ایمان

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ماہر المعقیلی d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اے مؤمنو! میں اپنے آپ کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔
’’اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو‘ اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا‘ جو شخص اللہ اور اس کے رسولe کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔‘‘ (الاحزاب: ۷۰-۷۱)
اے امت اسلام! یوم آخرت پر ایمان لانا وہ اہم مسئلہ ہے جس کی طرف رسولوں نے بلایا ہے، جس کا حکم الٰہی کتابوں میں آیا ہے۔ کوئی نبی ایسا نہیں ہے، جس نے اپنی امت کو اس کی یاد دہانی نہ کرائی ہو۔ یہ ایمان کے چھے ارکان میں سے ایک ہے۔ حدیث جبریل میں ہے کہ جبریلu نے کہا:
مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے! آپe نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، روز قیامت پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان رکھے۔ (مسلم)
چونکہ یہ دن بڑا ہولناک ہو گا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر بار بار کیا، اس کے احوال اور ہولناکیاں بیان فرمائیں۔ اسے بھول جانے اور اس سے غافل ہونے سے خبردار کیا۔ اپنے بندوں کو اس کے لیے تیاری کرنے کا حکم دیا۔
’’لوگو! اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے جس روز تم اسے دیکھو گے، حال یہ ہو گا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچّے سے غافل ہو جائے گی، ہر حاملہ کا حمل گر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔‘‘ (الحج: ۱-۲)
قرآن کریم میں اس کے بہت سے نام آئے ہیں۔ کہیں اسے حاقہ کہا گیا، کہیں قارعہ کہا گیا، کہیں قیامہ کہا گیا، کہیں یوم الدین کہا گیا، کہیں یوم الفصل کہا گیا اور کہیں یوم التغابن کہا گیا۔ یہ وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ اگلوں اور پچھلوں کو جمع کرلے گا، جس دن آسمان والے اور زمین والے اکٹھے ہو جائیں گے۔
’’وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گنی چنی مدت اس کے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔‘‘ (ہود: ۱۰۳-۱۰۵)
اے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھنے والو! جب قیامت کا وقت ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور میں پھونکنے کا حکم دے گا۔ پھر آسمان ڈگمگا جائے گا، پہاڑ چلنے لگیں گے، زمین وآسمان میں ہر جاندار مر جائے گا۔ بس  صاحب جلال اللہ ہی بچے گا جو واحد اور یکتا ہے، جو بادشاہ اور بے نیاز ہے۔
’’ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے۔ صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (الرحمن: ۲۶-۲۷)
پھر اللہ تعالیٰ آسمان کو برسنے کا حکم دے گا تو لوگ یوں قبروں سے نکلیں گے جیسے ترکاری اگ رہی ہو۔ اسرافیل صور میں پھر پھونکے گے اور یہ پھونک قبروں سے نکلنے اور میدان حشر میں اکٹھے ہونے کے لیے ہو گی۔ لوگوں کی روحیں جسموں میں لوٹا دی جائیں گی، قبریں کھل جائیں گی اور قبروں والے باہر آ جائیں گے۔
’’اُس روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مر کر گر جائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے۔‘‘ (الزمر: ۶۸)
لوگ قبروں سے نکل کر یوں پھیل جائیں گے جیسے ٹڈیاں پھیلی ہوں۔ پھر انہیں میدان حشر کی طرف ہانکا جائے گا۔ یہ میدان سرخی کی طرف مائل سفید رنگ کا ہو گا۔
’’اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۰۷)
اس میں کسی کی کوئی علامت نہیں ہو گی۔ اس میں لوگ ننگے پاؤں‘ ننگے بدن اور ختنوں کے بغیر ہوں گے۔ سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد اور عورتیں اکٹھے ہوں گے اور سب ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟ رسول اللہe نے فرمایا: اے عائشہ! معاملہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے تو کہیں زیادہ ہولناک ہو گا۔ (بخاری ومسلم)
اے مؤمنو! میدان حشر میں ساری مخلوق اکٹھی ہو جائے گی۔ سورج اتنا قریب ہو جائے گا کہ صرف ایک میل دور رہ جائے گا۔ لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہو گا۔ کسی کا پسینہ ٹخنوں تک ہو گا۔ کسی کا گھٹنوں تک ہو گا۔ کسی کا کمر تک ہو گا اور کسی کا منہ تک ہو گا اور وہ اسی میں ڈوب رہے ہوں گے۔ یہ معاملہ قیامت کے دن کا ہے جس کی مقدار پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی۔ لوگ بھاگے بھاگے انبیاءo کا رخ کریں گے، تاکہ وہ اللہ کے یہاں حساب کتاب کے آغاز کی سفارش کریں، تاکہ فیصلے شروع ہو جائیں۔ مگر جب بھی وہ کسی اولو العزم نبی کے پاس پہنچیں گے تو وہ معذرت کر لیں گے اور دوسرے نبی کی طرف بھیج دیں گے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہe کے پاس پہنچیں گے، تو آپe فرمائیں گے: یہ کام میرا ہی ہے۔ رسول اللہe کا فرمان ہے: جیسا کہ صحیح بخاری میں روایت ہے: پھر میں اپنے پروردگار کے پاس جانے کی اجازت مانگوں گا تو مجھے اجازت مل جائے گی، پھر اللہ مجھے اپنی حمد وثنا کے ایسے الفاظ سجھائے گا جن کا اس وقت مجھے کوئی علم نہیں۔ میں ان الفاظ سے اس کی حمد وثنا بیان کروں گا اور سجدے میں گر جاؤں گا۔ پھر وہ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھائیے۔ کہیے! آپ کی بات سنی جائے گی۔ مانگیے‘ آپ کو عطا کیا جائے گا۔ سفارش کیجیے‘ آپ کی سفارش قبول ہو گی۔ میں کہوں گا: اے پروردگار! میری امت! میری امت! اُس وقت اللہ تعالیٰ حساب کتاب کے آغاز کی اجازت دے گا۔ پھر وہ بادلوں سے مجموعے کے ساتھ آئے گا، معزز فرشتے بھی ساتھ آئیں گے۔ سب صفیں بنا کر کھڑے ہوں گے۔ صفوں کی صفیں سب جاننے والے بادشاہ کے سامنے انکساری اور عاجزی کے اظہار میں کھڑی ہوں گی۔ میدان حشر میں جہنم کو بھی لایا جائے گا، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گے، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لا رہے ہوں گے۔
’’ہرگز نہیں! جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے اور جہنم اُس روز سامنے لائی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا فائدہ؟ وہ کہے گا کہ کاش! میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔‘‘ (الفجر: ۲۱-۲۴)
’’جب رب ذو الجلال آئے گا تو آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۰۸)
’’زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی، انبیاء اور تمام گواہ حاضر کر دیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اُن پر کوئی ظلم نہ ہو گا اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔‘‘ (الزمر: ۶۹-۷۰)
اللہ کے بندو! اس دن سب کے حقوق محفوظ ہوں گے:
’’آج ہر متنفس کو اُس کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی‘ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔‘‘ (غافر: ۱۷)
سب سے پہلے خونوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جس نے دوسروں پر ظلم کیا ہو گا، وہ ظلم کے برابر اس کی نیکیاں لے لے گا۔ اگر اس کی کوئی نیکی نہ ہوئی تو دوسروں کے گناہ اس کے سر پر ڈال دیے جائیں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ   بیان کرتے ہیں: رسول اللہe نے فرمایا: جس نے کسی پر ظلم کیا ہے، چاہیے اس کی عزت پر حملہ کیا ہے یا کوئی اور کام کیا ہے، تو آج ہی اس کا ازالہ کر لے، اس سے پہلے کہ دینار اور درہم کا وقت ختم ہو جائے، کیونکہ پھر طریقہ یہ ہو گا کہ اگر نیکیاں ہوئیں تو ظلم کے حساب سے مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو مظلوم کے گناہ اس کے سر پر ڈال دیے جائیں گے۔ (بخاری)
اے امت اسلام! جب میدانِ حشر میں لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے تو اس سے کوئی چیز چھپی نہ رہے گی۔ ہر انسان کو کہا جائے گا:
’’پڑھ اپنا نامہ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔‘‘ (الاسراء: ۱۴)
’’ہر انسان اپنی سخت کمزوری کے باوجود اکیلا ہی صاحب جلال بادشاہ کے سامنے اپنا دفاع کرے گا جس کے نام بھی انتہائی پاکیزہ ہیں۔ (اِن سب کا فیصلہ اُس دن ہوگا)جب کہ ہر متنفس اپنے ہی بچاؤ کی فکر میں لگا ہوا ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا۔‘‘ (النحل: ۱۱۱)
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے رسول اللہe نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اللہ تعالیٰ مخاطب ہو گا، بیچ میں کوئی ترجمان بھی نہیں ہو گا۔ وہ دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے کاموں کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا، بائیں جانب دیکھے گا تو بھی اپنے کاموں کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا، آگے دیکھے گا تو منہ کے سامنے آگ ہی نظر آئے گی۔ تو آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے سے ہی بچو، چاہے اچھی بات کے ذریعے ہی بچو۔ جہاں تک مؤمن کی بات ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے چند گناہوں کا اقرار کرائے گا، جتنی کوتاہیوں سے چاہے گا درگزر کر جائے گا، یہاں تک کہ وہ اللہ کے فضل اور احسان کا معترف ہو جائے گا، کہ دنیا میں بھی اسے پردے میں رکھا اور آخرت میں بھی اسے معاف فرما دیا۔ سیدنا ابن عمرt بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہe کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ مؤمن کو اپنے قریب کر کے اسے پردے میں چھپا لے گا، پھر کہے گا: وہ والا گناہ یاد ہے؟ وہ والا گناہ یاد ہے؟ بندہ کہے گا: جی! اے پروردگار! یہاں تک کہ اس کے سارے گناہوں کا اعتراف کرا لے گا اور وہ سمجھے گا کہ وہ ہلاک ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دنیا میں بھی میں نے تیرے گناہوں کو پردے میں رکھا تھا اور آج میں انہیں معاف کرتا ہوں۔ پھر اسے نیکیوں کا صحیفہ دے دیا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)
کچھ لوگ فرشتے کے لکھے ہوئے صحیفے کا انکار کر دیں گے اور صرف اپنے جسم کی گواہی پر راضی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی زبانیں بند کر دے گا اور ان کے اعضاء کو بولنے کا حکم دے گا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ سیدنا انس بن مالکt بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہe کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک آپe ہنسنے لگے: پھر فرمایا: پتا ہے میں کیوں ہنس رہا ہوں؟ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپe نے فرمایا: بندے اور پروردگار کی گفتگو پر۔ بندہ کہتا ہے: اے پروردگار! کیا تو نے مجھے ظلم سے محفوظ نہیں کیا؟ فرمایا: اللہ فرماتا ہے: کیا ہے۔ فرمایا: پھر وہ کہتا ہے: مجھے صرف یہ منظور ہے کہ میرے جسم کا کوئی حصہ میرے خلاف گواہی دے۔ فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تیرے نفس کی گواہی ہی تیرے لیے کافی ہے، کرامًا کاتبین کی گواہی ہی تیرے لیے کافی ہے۔ فرمایا: پھر اس کی زبان بند کر دی جائے گی۔ اس کے اعضاء کو کہا جائے گا: بولو! فرمایا: پھر وہ اس کی کرتوتوں کے بارے میں بتانے لگیں گے۔ فرمایا: پھر اسے دوبارہ بولنے کی اجازت دی جائے گی۔ فرمایا: پھر وہ اپنے اعضاء کو کہے گا: دور ہو جاؤ، ہلاک ہو جاؤ۔ میں تو آپ ہی کو بچا رہا تھا۔ میں تو آپ ہی کو بچا رہا تھا۔
’’پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں‘ وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ جواب دیں گی: ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے‘ اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو‘ تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی‘ بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں۔‘‘ (فصلت: ۲۰-۲۲)
اللہ کے بندو! سوال کے لیے جواب تیار کرو۔ اس وقت کے لیے نیک اعمال تیار کرو۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندے! یہ تمہارے اعمال ہی ہیں، جنہیں میں گن کر رکھ رہا ہوں، پھر میں تمہیں انہی کا بدلہ دوں گا۔ جسے اچھی چیز ملے، وہ اللہ کی حمد وثنا بیان کرے اور جسے کچھ اور ملے وہ اپنے نفس کے سوا کسی کو ملامت نہ کرے۔
’’پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔‘‘ (الکہف: ۱۱۰)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اے مؤمنو! پروردگار سے ملاقات کا بہترین سامان  توحید اور صرف اسی کی عبادت ہے۔
’’حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔‘‘ (الانعام: ۸۲)
حدیث قدسی میں ہے کہ ہمارا پروردگار فرماتا ہے: جو زمین کے برابر گناہ لے کر میرے پاس اس حال میں آئے گا کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو گا تو میں اسی کے برابر معافی کے ساتھ اسے ملوں گا۔ (مسلم)
میدانِ حشر میں لوگ اللہ کے سامنے اسی حالت میں جائیں گے جس حال میں انہوں نے دنیا چھوڑی تھی۔ جو جس حالت میں مرا ہو گا، اسی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ اگر اچھی حالت میں مرا ہو گا تو اسی پر، اور اگر بری حالت میں مرا ہو گا تو بھی اسی پر اٹھایا جائے گا۔ کچھ لوگ تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے جائیں گے، کیونکہ وہ احرام کی حالت میں فوت ہوئے ہوں گے۔ شہیدوں کے زخم بالکل تازہ ہوں گے، ابھی خون بھی بہہ رہا ہو گا۔ اس خون کا رنگ تو خون جیسا ہو گا مگر خوشبو مشک کی ہو گی۔ روز قیامت جب تک فیصلہ نہیں ہو جائے گا، ہر شخص اپنے صدقے کے سائے میں ہو گا۔ مگر سات لوگ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا، جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔ عدل کرنے والا حکمران، ایسا نوجوان جو اللہ کی عبادت پر ہی پلا ہو، ایسا شخص جس کا دل مسجد سے لگا رہتا ہو، دو ایسے لوگ جو اللہ کے لیے آپس میں محبت کرتے ہوں، اسی کے لیے جمع ہوتے اور اسی کے لیے الگ ہوتے ہوں، ایسا شخص جسے کوئی عہدیدار اور خوبصورت عورت گناہ کے لیے بلائے اور وہ یہ کہہ دے کہ مجھے اللہ کا ڈر ہے! ایسا شخص جو صدقہ دے تو بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا ہے؟ اور ایسا شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جائیں۔
اللہ کی تعظیم وجلال اور اطاعت کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں کا مقام روز قیامت انتہائی بلند ہو گا۔ رحمٰن انہیں پکارے گا: میری جلالت کے لیے آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں اپنے سائے میں جگہ دوں گا، آج میرے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں۔ (مسلم)
علامہ ابن قیمa فرماتے ہیں: فرمایا: میری جلالت کے لیے آپس میں محبت کرنے والے کہاں ہیں؟  اس میں اشارہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ کا اجلال اور تعظیم انتہائی زیادہ ہے۔ وہ اسی کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اس کے احکام کا بھی خیال کرتے ہیں۔ ان کاحال اُن لوگوں سے یکسر مختلف ہوتا ہے جو ایمان کی کمزوری کی وجہ سے اس کے احکام کا پاس نہیں رکھتے۔
اس میدان میں اللہ تعالیٰ نبی اکرمe کو ایک عظیم حوض سے نوازے گا۔ جس کا پانی دودھ سے بھی زیادہ سفید اور شہد سے بھی زیادہ میٹھا ہو گا۔ جس کی ہمک مشک سے بھی زیادہ اچھی ہو گی۔ تم اس میں سونے اور چاندے کے اتنے برتن دیکھو گے جتنے آسمان میں ستارے ہیں۔ جو وہاں سے ایک گھونٹ پی لے گا، اسے پھر کبھی پیاس نہیں لگے گی۔ اس عظیم دن میں قرآن کریم اپنوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔ آگے آگے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ہوں گی۔ یہ اپنوں کو سائے میں رکھیں گے اور ان کا دفاع کریں گی۔
صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو، روز قیامت یہ اپنوں کے لیے سفارش کرے گا۔ زہراوین کی تلاوت کیا کرو، یعنی بقرہ اور آل عمران کی۔ یہ دونوں سورتیں قیامت کے دن دو بادل بن کرآئیں گی، یا سائبان بن کر آئیں گی، یا سیدھ میں اڑتے پرندے کے دو کھلے پروں کی طرح آئیں گی، اپنوں کا دفاع کریں گی۔ صاحبِ قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتا جا، چڑھتا جا، ویسے تلاوت کر جیسے تو دنیا میں کرتا تھا۔ تیرا مقام وہ ہو گا، جہاں تو آخری آیت کی تلاوت کرے گا۔
رہی بات ذکر اللہ سے منہ پھیرنے والے کی، تو وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا۔
’’وہ کہے گا: پروردگار! دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے۔‘‘ (طٰہٰ: ۱۲۵-۱۲۶)
اس دن اللہ تعالیٰ تین لوگوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف توجہ کرے گا اور نہ انہیں پاکیزہ کرے گا۔ بلکہ ان کے لیے سخت سزا ہو گی۔ لمبے کپڑے پہننے والا، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنا سامان بیچنے والا۔ رہی بات متکبروں کی تو روز قیامت انہیں اتنا چھوٹا کر دیا جائے گا جتنے ذرے ہوتے ہیں۔ لوگ انہیں انتہائی حقیر سمجھیں گے اور انہیں پاؤں تلے روند چھوڑیں گے۔ ہر غدار کا ایک جھنڈا ہو گا۔ کہا جائے گا: یہ فلاں کی غداری ہے۔ سود خور میدانِ حشر میں پاگل بن کر آئے گا۔
’’جو لوگ سود کھاتے ہیں، اُ ن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کر دیا ہو اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی۔‘‘ (البقرۃ: ۲۷۵)
جہاں تک کافروں اور منکروں کی بات ہے تو یہ لوگ منہ کے بل چلتے، اندھے، گونگے اور بہرے میدان حشر میں لائے جائیں گے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کافر قیامت کے دن منہ کے بل کس طرح ہو گا؟ آپe نے فرمایا: جس نے دنیا میں اسے پاؤں پر چلایا ہے، کیا وہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل نہیں چلا سکتا؟
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو!
’’ڈرو اُس دن سے جبکہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ فی الواقع اللہ کا وعدہ سچا ہے پس یہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے۔‘‘ (لقمان: ۳۳)
اے اللہ! رحمتیں نازل فرما محمدe پر، آپ کی بیویوں اور آپ کی اولاد پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمتیں نازل فرمائی تھیں۔ برکتیں نازل فرما، محمدe پر، آپe کی بیویوں اور آپe کی نسل پر، جس طرح تو نے ابراہیم اور ابراہیم پر برکتیں نازل فرمائی تھیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats