مدارس ومساجد کے اساتذہ اور منتظمین 01-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 05, 2020

مدارس ومساجد کے اساتذہ اور منتظمین 01-20


مدارس ومساجد کے اساتذہ اور منتظمین

تحریر: جناب پروفیسر عاصم حفیظ
معاشی مسائل کا حل کیسے ہو:
سوشل میڈیا پر مدارس و مساجد کے اساتذہ کرام‘ دینی سرگرمیوں سے متعلقہ کارکنان‘ کتب کے مصنف‘ دینی رسائل سے منسلک لکھاری اور دیگر کی معاشی حالت زار‘ رویوں اور منتظمین کے کردار کے حوالے سے ایک بحث زور و شور سے جاری ہے ۔
دراصل حقیقت یہی ہے کہ بدلتے معاشرتی حالات‘ سوشل میڈیا اور معیار زندگی کے تصورات کی وجہ سے انتظامی ذمہ داران اور کارکنان کے طبقات میں غلط فہمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ شاید وہ وقت رخصت ہو چکا کہ جب دینی خدمت کو بغیر کسی بھی مفاد اور غیر مشروط طور پر اپنا لیا جاتا اور ساری زندگی گزار دی جاتی تھی۔
ایسے واقعات بے شمار ہیں کہ کسی استاد محترم کے حکم پر ساری زندگی کسی دور دراز مقام پر خدمت دین میں گزار دی‘ اب وقت نے سماجی طور پر بہت کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ یقین مانیں معاشرے کی دینی ضروریات بھی بدل گئی ہیں۔ معاشرہ یہ چاہتا ہے کہ دینی تعلیم و تبلیغ سے منسلک افراد بہت زیادہ سادہ نہ ہوں ۔ آپ اسے جو مرضی کہہ لیں لیکن اب علمائے کرام کو سننے‘ ان کا درس رکھنے یا گھر پر مدعو کرنے سے پہلے اپنا معیار بھی دیکھا جاتا ہے ۔
اس میں شاید کوئی اتنی برائی بھی نہیں‘ آپ اسے یوں سمجھ لیں کہ کسی گاؤں کے ماحول یا ایک ہی مدرسے میں ایک سی کتب پڑھانے یا تبلیغ و تعلیم سے منسلک کئی سالہ تجربہ رکھنے والا کوئی عالم دین لمز جیسے جدید ادارے یا کسی ایلیٹ کلاس علاقے میں تبلیغ کے لیے جائے تو محفل کچھ زیادہ مفید نہیں رہے گی ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ عالم دین بھی وہی ہو جو کہ اس کلاس کے اطوار اور مزاج کو سمجھتا ہو ۔ جی ہاں! وہ بھی مالی طور پر مستحکم ہو اور ایلیٹ کلاس کے متعلق مطالعہ و آداب کا علم رکھتا ہو ۔
یہ معاشرے کی دینی رہنمائی کے لیے ضروری ہے۔ کچھ علمائے کرام اور سکالرز ان چیزوں کا خیال رکھتے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اب مسئلہ تب ہوتا ہے کہ جب علمائے کرام و دینی طبقے کی صلاحیتوں‘ ضرورت اور خاص طبقے میں محنت کو غلط فہمی کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے کہ خود تو بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں لیکن اپنے مدرسے کے استادوں کو محروم رکھا ہے ۔ اس پر جذباتی تحریر باآسانی لکھی جا سکتی ہے اور بہت سے واقعات بھی مل ہی جاتے ہیں لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ۔ چند علماء و منتظمین مدارس کی اچھی مالی حالت کو لیکر جذباتی ماحول بنانا اور تنقید وغلط فہمیاں پیدا کرنے کی کاوش کوئی بڑی خدمت نہیں۔ اس سے مدارس و مساجد کے اساتذہ کرام کی معاشی حالت بہتر نہیں ہو سکتی ۔
دوسری جانب دینی تعلیم و تبلیغ سے منسلک اساتذہ کرام‘ قراء کرام اور دیگر کی مالی حالت کے مسائل بھی حقیقت ہیں ۔ میں نے شروع میں کہا کہ بدلتے معاشرتی حالات اور سوشل میڈیا کے باعث مالی حالات کے احساس محرومی کو تقویت ملی ہے۔ یہ خیال بڑھ رہا ہے کہ دینی تعلیم و تبلیغ سے منسلک طبقہ زبردست معاشی استحصال کا شکار ہے۔ اس میں کچھ حقیقت ہے‘ بہت سی غلط فہمی ہے اور اس سے بھی کہیں زیادہ معاشرتی رویے اور دینی ضروریات کو نظر انداز کرنے کی روش ہے ۔
اس کا حل کیا ہے؟ میرے خیال میں دینی استاد وقراء کرام کی مالی حالت میں بہتری کے حوالے سے منتظمیں مدارس و مساجد اور مہتمم حضرات صرف ایک فریق ہیں ۔ ان پر تنقید سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا یہ معاملہ کچھ اونچے لیول کا ہے ۔ اس میں معاشرے‘ حکومت اور اداروں کو شامل ہونا پڑے گا ۔
اس مسئلے کے حل کا یہ بہترین موقعہ بھی ہے کیونکہ اس وقت حکومت اور سرکاری ادارے مدارس کی رجسٹریشن وغیرہ کے لئے خوب سرگرم ہیں ۔
ہمارے ملک میں اس کی بہترین مثال موجود ہے ۔ دینی جماعتوں اور وفاق المدارس کے ذمہ داران نے بس ایک پلاننگ کرنی ہے ۔ حکومت سے پرزور مطالبہ کیا جائے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ انہیں گورنمنٹ کے سوشل سکیورٹی نظام کا بھی حصہ بنایا جائے ۔
ملک میں پرائیویٹ کارخانے اور فیکٹریاں بھی اپنے ملازمین کو صحت‘ رہائش‘ تعلیم‘ بچوں کی شادی اخراجات‘ حادثات و فوتگی کے اخراجات خود برداشت نہیں کرتے بلکہ سوشل سکیورٹی کا ڈپارٹمنٹ یہ سب کرتا ہے ۔ اس ڈپارٹمنٹ کے تحت ملک بھر میں بہترین ڈسپنسریاں‘ ہسپتال‘ سکولز ہاؤسنگ سکیمز‘ فلیٹس موجود ہیں جو کہ فیکٹری و کارخانے کے ملازمین کو دئیے جاتے ہیں ۔
دینی جماعتیں اور وفاق المدارس کے ذمہ داران حکومت سے مطالبہ کرکے مدرسین‘ قراء کرام اور مبلغین کے سوشل سکیورٹی کارڈ بنوائیں ۔ اس سلسلے میں حکومت کو اس بات کا قائل کیا جائے کہ ماہانہ کٹوتی کی بجائے حکومت یہ رقم ادا کرے کیونکہ مدارس کوئی کمرشل ادارے نہیں ۔ لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو سکے تو بھی بیس ہزار تنخواہ لینے والے کو تین سے چار سو روپے ماہانہ ادا کرنے ہوں گے لیکن اس کے عوض انہیں صحت‘ تعلیم‘ بچوں کی سکالرشپ‘ ہاؤسنگ منصوبوں میں گھر‘ فوتگی وحادثات کی صورت میں بڑی رقوم‘ معذوری کی صورت میں معاوضہ اور سب سے بڑھ کر ساٹھ سال کی عمر کے بعد پینشن بھی مل سکے گی ۔
یقین مانیں ان سہولیات کی فراہمی جو کہ اس سے پہلے بھی پرائیویٹ اداروں کو دی جا رہی ہیں ان سے مدارس و مساجد کے اساتذہ کی زندگیوں میں ایک پرسکون و اطمینان بخش اضافہ ہو گا ۔
مدارس کے اساتذہ جنہیں مزدور بھی نہیں مانا جاتا:
ارض پاک میں کچھ محنت کش ایسے بھی ہیں جنہیں ایک مزدور کے برابر اجرت بھی نہیں ملتی۔ان کی ڈیوٹی کے اوقات کسی مزدور سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ ایک مزدور تو اپنی ذمہ داری پوری کرکے اجرت وصول کر پاتا ہے لیکن انہیں اپنے ’’مالکوں‘‘ کی بہت سی باتیں بھی سننا پڑتی ہیں۔ یوم مزدور پر کوئی بھی ان کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ میرا موضوع وہ قراء کرام اور مدارس کے اساتذہ کرام ہیں جن کے معاوضے مزدور کی کم سے کم تنخواہ سے بھی کہیں کم ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں ایک قاری صاحب کو کئی سال ایک ادارے میں پڑھانے کے بعد اس وجہ سے نکال دیا گیا کہ انہوں نے اپنی ۸ ہزار تنخواہ میں کچھ اضافہ کی بات کی تھی۔یہ صرف ایک کہانی نہیں۔ آپ کو رمضان المبارک میں کئی مدارس کے اشتہار ملیں گے جن میں اساتذہ کرام کی تنخواہیں ادا کرنے کی اپیل کی گئی ہوگی۔ لاہور کے پوش ترین علاقے کے ایک دینی مدرسے میں استاد کو بارہ سے تیرہ ہزار معاوضہ دیا جاتا ہے۔جی ہاں اسی تنخواہ میں اسے نہ صرف اپنے خاندان کو پالنا ہوتا ہے بلکہ صحت تعلیم رہائش اور دیگر ضرورتوں کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے۔ انہیں مزدور تسلیم نہیں کیا جاتا اور اسی لیے انہیں سوشل سکیورٹی اور کسی بھی قسم کی سرکاری سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں۔ مدارس اور مساجد میں حفظ القران اور درس نظامی کے اساتذہ کرام کی تنخواہیں سرکاری طور پر مزدور کی کم سے کم تنخواہ کے برابر بھی نہیں ہوتیں۔یقین مانیں کے بعض جگہوں پر صرف آٹھ سے دس ہزار میں انہیں ۲۴ گھنٹے کے لیے ملازم بنایا جاتا ہے۔حتیٰ کہ بعض ’’مالک حضرات‘‘ تو صفائی اور دیگر ذمہ داریاں بھی انہی سے پوری کراتے ہیں۔ معاشرہ انہیں صرف ’’مستحق‘‘ کا مقام دیتا ہے اور کوئی بھی مالدار شخصیت یا انتظامیہ کے سیٹھ صاحب تنخواہ دیتے یا کوئی بھی چھوٹی سی بھی رقم عنایت کرتے وقت صدقہ و خیرات کی نیت ضرور کرلیتے ہیں۔ لاکھوں کے اخراجات اور پرشکوہ عمارتوں پر مشتمل مساجد و مدارس کے اساتذہ کرام زندگی کی گھڑیاں سسک سسک کر گزار رہے ہیں۔ انہیں معاشرے کے متوسط ترین بلکہ پست ترین طبقے کے طور پر زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ دوسروں کے بچوں کو قرآن و حدیث پڑھا کر ان کی زندگیاں سنوارنے والے خود اپنے بچوں کے لئے مناسب تعلیم کا بندوبست نہیں کر پاتے۔ کئی اداروں میں رہائش کا احسان کیا جاتا ہے لیکن وہ ایک کمرے یا یہ حجرے سے بڑھ کر نہیں ہوتی جس میں انہیں پوری فیملی سمیت گزارا کرنا ہوتا ہے۔ حکومت مزدوروں کے لئے مراعات کا اعلان کرتی ہے لیکن یہ سب ان تک نہیں پہنچ پاتا۔ شائد ہی کوئی مدرسہ مسجد یا دینی ادارہ ایسا ہو کہ جس نے حکومتی سوشل سکیورٹی کے اداروں میں اپنے اساتذہ کرام کی رجسٹریشن کرائی ہو۔ کوئی بھی رجسٹرڈ ادارہ سوشل سکیورٹی کے حکومتی اداروں کے ساتھ منسلک ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے اگر کوئی مشکلات بھی ہیں تو وفاق المدارس اور دینی جماعتوں کو اپناکرداراداکرناچاہئے تاکہ دین کی اشاعت و تبلیغ سے منسلک یہ لوگ معاشرے میں چند بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ ان کو بڑھاپے میں پینشن اور صحت رہائش و تعلیم سے متعلق دیگر سرکاری سہولیات مل سکیں۔ دوسری طرف حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دینی اداروں سے منسلک ان اساتذہ کرام کو بھی دیگر پرائیویٹ اداروں کی طرح سوشل ویلفیئر کی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے۔ تعلیم القرآن والحدیث سے منسلک ان عظیم لوگوں کو کم سے کم مزدور ہی تسلیم کر لیا جائے تاکہ وہ بھی سرکاری سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats