احکام ومسائل 01-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 05, 2020

احکام ومسائل 01-20


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

دوران سجدہ بازوؤں کی حالت
O جب نمازی‘ دوران نماز ہوتا ہے تو سجدہ کرتے وقت دونوں بازوؤں کی کیا کیفیت ہو؟ کیا انہیں کھلا رکھے یا کسی عذر کی وجہ سے انہیں اپنی رانوں کے ساتھ ملا دینے کی اجازت ہے؟ قرآن وحدیث میں اس کے متعلق کیا تفصیلات ہیں۔ وضاحت سے لکھیں۔
P حدیث میں ہے کہ سجدہ کرتے وقت نمازی کے سات اعضاء زمین پر ہونے چاہئیں، یعنی دونوں ہاتھ، دونوں پاؤں، دونوں گھٹنے اور چہرہ جس میں پیشانی اور ناک کا بطور خاص ذکر ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباس w کا بیان ہے: ’’تمہارے نبی e کو حکم دیا گیا ہے کہ سات اعضاء پر سجدہ کریں۔‘‘ (ابوداؤد‘ الصلوٰۃ: ۸۸۹) … ایک روایت میں ان اعضاء کی مذکورہ بالا تفصیل بھی بیان ہوئی ہے۔ (بخاری‘ الاذان: ۸۱۲)
اس سلسلہ میں امام بخاریa نے دوران سجدہ بازوؤں کی حالت بیان کرتے ہوئے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’دوران سجدہ دونوں بازو کشادہ اور انہیں رانوں سے دور رکھا جائے۔‘‘ (بخاری‘ الاذان: باب نمبر ۱۳۰)
پھر آپe نے ایک حدیث سے اس مسئلہ کو ثابت کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’رسول اللہe جب نماز پڑھتے تو اپنے دونوں بازوؤں کے درمیان اس قدر کشادگی کرتے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نمایاں ہو جاتی تھی۔‘‘ (بخاری‘ الاذان: ۸۰۷)
اس عنوان اور پیش کردہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سجدے کے وقت نمازی اپنے بازوؤں کو پہلو سے جدا رکھے تا کہ وہ آزادی سے مستقلاً سجدہ کریں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ بازو کشادہ کر کے سجدہ کرنا ضروری ہے اور انہیں اپنی رانوں سے الگ اور دور رکھنا چاہیے۔ لیکن امام ابوداؤد نے ایک حدیث بیان کی ہے جس کے مطابق ایسا کرنا مستحب ہے ضروری نہیں‘ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ’’رسول اللہe کے صحابہ کرام] نے آپ سے شکایت کی کہ جب وہ دوران سجدہ اپنے بازوؤں کو کھلا رکھتے ہیں تو انہیں اس سے بہت تکلیف ہوتی ہے تو رسول اللہe نے فرمایا: اپنے گھٹنوں سے مدد لے لیا کرو۔‘‘ (ابوداؤد‘ الصلوٰۃ: ۹۰۲)
امام ابوداؤدa نے اس حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’ضرورت کے پیش نظر اس میں رخصت کا بیان۔‘‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ دوران سجدہ اگر بازوؤں کو گھٹنوں سے دور رکھنے میں مشقت ہو تو رانوں پر اپنی کہنیاں ٹیک لینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عجلان‘ مدلس ہے اور کسی مقام پر اس کی تصریح سماع ثابت نہیں تا ہم بیمار اور ناتواں حضرات کے لیے سجدوں میں رانوں کا سہارا لینا جائز اور مباح ہے۔ البتہ عام حالات میں بازوؤں کو رانوں سے دور رکھا جائے جیسا کہ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے تھے حتی کہ آپ کی مشقت کو دیکھتے ہوئے ہمیں آپ پر ترس آتا تھا۔ (ابوداؤد‘ الصلوٰۃ: ۹۰۰)
اگر بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکتا ہو تو ایسے حالات میں رخصت ہے کہ یہ لوگ جس طرح سجدہ کر سکتے ہیں کر لیں۔ حافظ ابن حجرa اس مقام پر لکھتے ہیں: ’’امام ترمذیa نے گھٹنوں سے مدد لینے کا حکم سجدے سے فراغت کے بعد قیام کے لیے اٹھنے کے وقت مراد لیا ہے۔ چنانچہ امام ترمذیa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: جب سجدے سے فراغت کے بعد اٹھے تو رانوں کا سہارا لینے کا بیان۔‘‘ (فتح الباری: ج۲‘ ص ۳۸۱)
لیکن ترمذی کے متداول نسخہ میں عنوان کے مذکورہ الفاظ نہیں ہیں بلکہ عنوان بایں الفاظ ہے: ’’سجدوں میں سہارا لینا۔‘‘ (ترمذی‘ ابواب الصلوٰۃ باب نمبر ۹۶)
عین ممکن ہے کہ حافظ ابن حجرa کے پاس ترمذی کا جو نسخہ ہو اس میں عنوان اسی طرح ہو۔ بہرحال یہ تین صورتیں الگ الگ ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
\              امام بخاریa نے سجدے کی صحیح صورت عام حالات کے لیے بیان کی ہے۔
\              امام ابوداؤدa نے بوقت عذر رانوں پر کہنیاں ٹیکنے کی اجازت کو بیان کیا ہے۔
\              بقول حافظ ابن حجرa امام ترمذیa نے سجدے سے فراغت کے بعد اٹھتے وقت گھٹنوں کی مدد لینا بیان کیا ہے۔
حدیث کے مطابق پیشانی پر سجدے کی تکمیل تب ہو گی جب اس کے ساتھ ناک کو بھی زمین پر رکھا جائے‘ لیکن ہمارے فقہاء نے اس مقام پر ایک عجیب چیز بیان کی ہے کہ اگر سجدے میں دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے زمین پر نہ رکھے جائیں تو اجماع ہے کہ نماز صحیح ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری (عربی) ج۱‘ ص ۷۰)
یہ موقف حدیث کے بھی خلاف ہے اور عقل بھی اسے تسلیم نہیں کرتی کیونکہ دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے زمین پر رکھے بغیر سجدہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے۔
ہمارے رجحان کے مطابق صورت مسئولہ میں دوران سجدہ عام حالات میں اپنے بازوؤں کو رانوں سے دور رکھا جائے البتہ مجبوری کے وقت بازوؤں کو رانوں کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ واللہ اعلم!
دوران خطبہ دو رکعت پڑھنا
O جب جمعہ کے دن خطیب خطبہ دے رہا ہو تو کیا باہر سے آنے والے کو دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے؟ یا آتے ہی خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جائے؟ ہمارے ہاں خطیب صاحب کہتے ہیں کہ دوران خطبہ‘ نماز پڑھنے کی اجازت نہیں‘ باہر سے آنے والے کو چاہیے کہ وہ نماز پڑھنے کی بجائے بیٹھ کر خطبہ سنے۔ وضاحت کر دیں۔
P رسول اللہe نے خطبہ جمعہ کے آداب سے ہمیں آگاہ فرمایا ہے‘ ان میں سے ایک یہ ادب ہے کہ جب انسان خطبہ کے دوران باہر سے آئے تو اسے دو رکعت پڑھ کر بیٹھنا چاہیے۔ چنانچہ امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’اگر کوئی دوران خطبہ آئے تو اسے چاہیے کہ ہلکی پھلکی دو رکعت پڑھ لے۔‘‘ (بخاری‘ الجمعہ‘ باب نمبر ۳۳)
پھر آپa نے سیدنا جابرt سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ جمعہ کے دن ایک شخص اس وقت آیا جب رسول اللہe خطبہ دے رہے تھے‘ رسول اللہe نے اس سے پوچھا: ’’کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟‘‘ اس نے عرض کیا اللہ کے رسول! نہیں‘ تو آپe نے فرمایا: ’’کھڑے ہو کر دو رکعت پڑھو۔‘‘ (بخاری الجمعہ: ۹۳۱)
اس حدیث سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ کے دن اگر کوئی شخص دوران خطبہ آئے تو اسے تحیۃ المسجد پڑھ کر بیٹھنا چاہیے لیکن فقہائے کوفہ نے بعض ضعیف روایات کا سہارا لے کر اس موقف کی تردید کی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ رسول اللہe نے اپنا خطبہ بند کر دیا تھا جب تک وہ نماز پڑھتا رہا آپe نے خطبہ نہیں دیا۔ حافظ ابن حجرa نے ان کے تمام حیلوں بہانوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جن کے سہارے یہ حضرات اس سنت کا انکار کرتے ہیں پھر دلائل وبراہین نے محدثین کے موقف کو بیان کیا ہے۔ ہم اس سلسلہ میں حجۃ الہند حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویa کا فیصلہ نقل کرتے ہیں جو انہوں نے اس سلسلہ میں دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ’’جب کوئی نمازی ایسے حالات میں آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے چاہیے کہ ہلکی پھلکی دو رکعت پڑھ کر بیٹھے، تا کہ سنت راتبہ اور ادب خطبہ ہر دو کی رعایت ہو سکے اور اس مسئلے کے متعلق تمہارے شہر کے لوگ جو شور وغوغا کرتے ہیں ان کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ اس مسئلے کے متعلق صحیح احادیث ہیں جن کا اتباع ضروری ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ: ج۲‘ ص ۲۹)
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کی مناسبت سے سیدنا ابوسعید خدریt کا واقعہ نقل کر دیا جائے۔ سیدنا ابوسعید خدریt ایک دن مسجد میں تشریف لائے جبکہ مروان بن حکم خطبہ دینے میں مصروف تھے۔ سیدنا ابوسعید خدریt نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو مروان کے سپاہی آئے اور زبردستی آپ کو نماز سے باز رکھنا چاہا‘ مگر سیدنا ابوسعید خدریt نے نماز توڑنے سے انکار کر دیا اور اسے مکمل کر کے سلام پھیرا۔ نماز کے بعد آپt نے فرمایا: میں یہ دو رکعات کسی صورت میں چھوڑنے والا نہیں تھا خواہ سپاہی کچھ بھی کر گذرتے کیونکہ میں نے خود رسول اللہe کو دیکھا ہے کہ آپ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے‘ ایک پراگندہ حال آدمی آیا اور مسجد میں داخل ہوا‘ رسول اللہe نے اسے اسی حالت میں دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا۔ وہ نماز پڑھتا رہا جبکہ رسول اللہe خطبہ دینے میں مصروف تھے۔ (ترمذی‘ الجمعہ: ۵۱۱)
بہرحال دوران خطبہ آنے والے کو چاہیے کہ وہ دو رکعت پڑھ کر بیٹھے اور خطبہ سنے۔ واللہ اعلم!
سورج گرہن اور ہمارے توہمات
O ہمارے ہاں عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ سورج یا چاند گرہن کے اثرات حاملہ عورت اور اس کے بچے پر پڑتے ہیں‘ اس خیال کی کیا حقیقت ہے؟ کیا قرآن وحدیث میں اس کا کوئی ثبوت ہے؟
P سورج یا چاند کو جب گرہن لگتا ہے تو اس کا مقصد صرف لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں بے نور کر کے اپنے بندوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ قادر مطلق ہے۔ چاہے انہیں بے نور کر دے باوجود اس کے وہ اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اور اس سے سرمو انحراف نہیں کرتے۔ لیکن جو بندے دن رات اللہ تعالیٰ کی سرتابی میں مصروف ہیں، انہیں خبردار ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے باز آجائیں اور اس کی اطاعت میں لگ جائیں۔ رسول اللہe کی حیات طیبہ میں جنگ تبوک سے واپسی کے وقت سورج کو گرہن لگا تھا تو لوگوں میں یہ بات مشہور ہوئی کہ آپ کا لخت جگر فوت ہوا ہے اس لیے سورج کو گرہن ہو گیا ہے۔ رسول اللہe نے فورا اس عقیدہ بد کی اصلاح فرمائی اور حکم دیا کہ اس وقت صدقہ وخیرات دیا جائے اور نماز پڑھی جائے‘ سوال میں جو عقیدہ بیان ہوا ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

View My Stats