محسن جامعہ چوہدری عبدالسلام جوارِ رحمت میں 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

محسن جامعہ چوہدری عبدالسلام جوارِ رحمت میں 02-20


محسن جامعہ چوہدری عبدالسلام جوارِ رحمت میں

تحریر: جناب پروفیسر محمد یٰسین ظفر
اللہ تعالیٰ کی یہ دھرتی اچھے لوگوں سے خالی نہیں۔ لاتعداد ایسے لوگ ہیں جو اپنے حسن عمل اور اچھے رویے کی بدولت لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ اچھے برے حالات میں بھی ان کا رویہ ایک جیسا رہتا ہے۔ خیر خواہی وہمدردی ان کا شعار ہوتا ہے۔ نیکی اور اچھائی کے فروغ میں پڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اپنے وسائل اور خداد داد صلاحیتوں کو مخلوق کی بھلائی اور خدمت میں بروئے کار لاتے ہیں۔ ان کے قلب واذہان حقیقی معنوں میں پاکیزہ ہوتے ہیں۔ ان شخصیات میں محترم جناب چوھدری عبدالسلام صاحب بھی شامل ہیں۔
چوہدری صاحب سے میراطالب علمی کے عہد سے تعلق قائم ہوا۔ جامعہ سلفیہ کی انتظامیہ میں شامل تھے۔ بہت سے مواقع پر جامعہ میں تشریف لاتے‘ اپنی کاروباری مصروفیات کے باوجود جامعہ کی تعمیر وترقی میں بھر پور شرکت کرتے۔ میاں فضل حق مرحوم کے ساتھ خاص تعلق تھا۔ ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے۔ دکھ سکھ اور خوشیوں میں شریک ہوتے۔ بارہا چوھدری صاحب کے ہاں اجلاس رکھا جاتا جس میں تمام ممبران جامعہ سلفیہ کمیٹی شریک ہوتے۔
چوہدری صاحب طلبہ کے ساتھ بہت مانوس تھے۔ ان کی ضرورتوں کا خاص خیال کرتے۔ غالباً ۱۹۷۵ء میں طلبہ جامعہ نے سیرت النبیe پر آئینہ نبوت کے نام سے کتاب شائع کی جس کے جملہ اخراجات چوہدری صاحب نے ادا کیے۔ اس کتاب کی نقاب کشائی کی تقریب جامعہ میں منعقد ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی خطیب پاکستان مولانا محمد حسین شیخوپوریa تھے جبکہ میاں فضل حق نے صدارت فرمائی۔ یہ دور طالب علمی کی یادگار تقریب تھی ۔ آئینہ نبوت شاہکار کتاب تھی۔
جامعہ سلفیہ میں مالدیپ سے تعلق رکھنے والے بیسوں طلبہ زیر تعلیم تھے۔ جن کی کفالت اگرچہ جامعہ سلفیہ کررہا تھا لیکن ناگزیر ضرورتیں آڑے آجاتیں۔ جن کے لیے چوہدری صاحب بھر پور تعاون کرتے ۔ بعض طلبہ کے لیے علاج کے مصارف برداشت کرتے اور بعض کے سفری اخراجات بھی اٹھاتے۔ ایسا وقت بھی آیا جب بعض طلبہ کے مدینہ یونیورسٹی داخلے ہوئے۔ لیکن ویزہ کے حصول میں انہیں اخراجات کی ضرورت ہوئی تو چوہدری صاحب نے آگے بڑھ کر ان کی مدد کی۔ چوہدری صاحب کی یہ خوبی تھی کہ وہ یہ تمام خدمات انجام دیتے لیکن کسی کو کان وکان خبر نہ ہوتی اور نہ ہی آپ شہرت چاہتے تھے۔
چوہدری صاحب کو اللہ تعالیٰ نے کاروباری سوجھ بوجھ عطا کی۔ آپ کی فیکٹری اعلیٰ سائزنگ کے نام سے مقبول روڈ ستیانہ روڈ پرواقع تھی۔ آپ میں قائدانہ صلاحیت موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو پاور لومز ایسوسی ایشن کا صدر بنایا گیا اور پاور لومز سے متعلق مسائل کو حل کرنے میں پیش پیش ہوئے۔ بار ہا ریکھا گیا کہ وہ جلوس کی قیادت کر رہے ہوتے۔ چوک گھنٹہ گھر جلسہ سے خطاب کرتے اور پاور لومز کے وفد کو لیکر سرکاری اہلکاروں سے مذاکرات کرنے اسلام آباد جاتے تھے۔
میرے ساتھ بہت محبت کرتے تھے۔ اکثر ملاقات رہتی تھی۔ جب مدینہ یونیورسٹی داخلہ ہوا اور پہلی مرتبہ ماہ محرم میں مدینہ منورہ پہنچے تو اتفاق سے چوہدری صاحب بھی حج کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے ہوئے تھے۔ وہ ہمیں مکہ مکرمہ لے کر گئے اور پہلا عمرہ کرایا۔ اس سفر میں میرے علاوہ مولانا نجیب اللہ طارق، مولانا عطاء اللہ جدانی، مولانا رحمت اللہ فقیرصاحبان بھی شامل تھے۔ اس سفر میں ہم بدر کے مقام پر رکے۔ کھانا کھایا اور پاسپورٹ والا بیگ وہاں بھول گئے۔ رابغ کے مقام پر جب چیگنگ ہوئی تو معلوم ہوا کہ بیگ تو ہوٹل میں بھول آئے۔ پھر واپس آئے اور بحمد اللہ تمام چیزیں بحفاظت مل گئی۔
چوہدری صاحب آرائیں برادری کے چیئرمین رہے۔ بعض تقریبات میں مجھے بھی دعوت دیتے۔ بہت منظم اور مرتب پروگرام کرتے اور برادری کی فلاح وبہبود کے لیے سوچ وبچار کرتے۔
یہ کریم النفس آدمی ۲۳ دسمبر ۲۰۱۹ء کو دنیا سے رخصت ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی نمازجنازہ میں ہر مکتب فکر کے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ خصوصاً جامعہ سلفیہ کے اساتذہ اور طلبہ بھی شریک ہوئے۔ نمازجنازہ شیخ الحدیث حافظ عبدالعزیز علوی نے پڑھائی۔
اللہ تعالی مرحوم کو اپنی جوار رحمت میں جگہ اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ آمین۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats