خُلَع ... احکام ومسائل 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

خُلَع ... احکام ومسائل 02-20


خُلَع ... احکام ومسائل

تحریر: جناب مولانا سعید الرحمن
بلاشبہ رشتہ ازدواج ایک بابرکت رشتہ ہے۔ اسلامی شریعت میں ازدواجی زندگی کی بنیاد ہی اس بات پر رکھی گئی ہے کہ عورت اور مرد کا ازدواجی تعلق باہمی اعتماد‘ الفت ومحبت اور آپسی ہمدردی وغمگساری کے ساتھ قائم رہے اور میاں وبیوی دونوں ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ بن کر زندگی گذاریں۔ رشتہ ازدواج سے منسلک ہو جانے کے بعد یہ رشتہ اس قدر محترم اور قابل قدر ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے اندر زوجین میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لیے لباس قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا:
{ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ٭}
یعنی ’’تمہاری بیویاں تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔‘‘
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ازدواجی زندگی میں کچھ وجوہات کی بناء پر بسا اوقات ایسے ناخوشگوار حالات پیدا ہوتے ہیں کہ مبارک اور پاکیزہ رشتہ میں دراڑ آنے لگتی ہے۔ باہمی اعتماد والفت کا خاتمہ ہونے لگتا ہے اور بسیار کوششوں کے بعد بھی گھر میں سکون واطمینان نصیب نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں اس رشتہ کو توڑ کر زوجین کا الگ ہو جانا ضروری ہو جاتا ہے اور اس رشتہ کو باقی رکھنا اغراض شریعت کے خلاف ہوتا ہے۔
اس رشتہ ازدواج کو کیوں کر ختم کیا جا سکتا ہے؟ اس کے ضمن میں شریعت اسلامیہ نے معاملۂ نکاح کے دونوں فریقوں کو ایک ایک قانونی آلہ ایسا دیا ہے کہ وہ عقد نکاح کے ناقابل برداشت ہو جانے کی صورت میں حل وعقد کا کام دے سکتا ہے۔
مرد کے قانونی آلہ کا نام طلاق ہے جس کے استعمال کا اس کو آزادانہ اختیار دیا گیا۔ اس کے مقابلے میں عورت کے قانونی آلہ کا نام خلع ہے جس کے استعمال کی یہ صورت رکھی گئی ہے کہ جب وہ عقد نکاح کو توڑنا چاہے تو پہلے مرد سے اس کا مطالبہ کرے اور اگر مرد اس کا مطالبہ پورا کرنے سے منع کرے تو پھر قاضی کی مدد لے۔ زیر نظر سطور میں اسی خلع کے تعلق سے چند باتیں قارئین کی خدمت میں پیش ہیں۔
آپ خلع کے احکام ومسائل کو پڑھ کر اس امر کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں کہ مذہب اسلام نے خواتین کو کس طرح سے اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کیا ہے۔ بروقت ہمارے ملک میں طلاق ثلاثہ اور دوسرے مسائل کو لے کر میڈیا میں خوب ہلا گلا کیا جاتا ہے کہ اسلامی قوانین عورتوں کے ساتھ نا انصافی پر مبنی ہیں جو سراسر بہتان اور شرعی تعلیمات سے ناواقفیت کی دلیل ہے‘ کیونکہ شریعت اسلامیہ کے قوانین نہایت واضح اور عدل وانصاف پر مبنی ہیں۔ مذہب اسلام نے خواتین کو نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ مردوں کو جہاں درجۂ قوامیت پر فائز کیا ہے وہیں خواتین کو مردوں کے ہاتھ میں کھلونا اور آلۂ کار بننے سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے شریعت اسلامیہ نے عورت اور مرد کے حقوق کے درمیان عمدہ اور مناسب توازن قائم کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے سماج ومعاشرہ میں عورتوں کے خلع کے حق کو عملاً سلب کر لیا گیا ہے اور شرعی تعلیمات کے بر خلاف خلع دینے یا نہ دینے کو بالکل مردوں کی خواہش پر منحصر کر دیا ہے۔
 خلع کا معنی ومفہوم:
خلع خاء کے ضمہ کے ساتھ خَلَعَ سے مأخوذ ہے جس کے معنیٰ اتارنے کے ہیں۔ قرآن کریم میں ہے: {فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ} مناسبت یہ ہے کہ قرآن کریم میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ٭}
خلع کے ذریعہ ایک د وسرے سے علیحدگی لباس اتار دینے کے مترادف ہے۔
خلع کہتے ہیں کہ اگر عورت اپنے شوہر کو ناپسند کرتی ہو اور کسی بھی طرح سے اس کے ساتھ گذر بسر نہ کر سکتی ہو تو اس سے علیحدہ ہونے کے لیے شوہر سے کہہ سکتی ہے۔ اس صورت میں بیوی شوہر کا دیا ہوا مال‘ مہر یا اس سے تھوڑا کم یا زیادہ دے گی اور اپنے شوہر کی اجازت کے بعد شوہر سے جدا ہو جائے گی۔ اس جدائی کا نام ہی خلع ہے۔ اس میں پہل بیوی کی طرف سے ہوتی ہے اور شوہر اپنی اہلیہ کو خلع کی اجازت دیتا ہے لیکن اگر شوہر بیوی کو خلع کی اجازت نہ دے تو بیوی کو قاضی یا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا حق حاصل ہے اور پھر عدالت شوہر سے بیوی کو علیحدہ کرائے گی۔
 خلع کی مشروعیت:
خلع کے تعلق سے قرآن پاک میں وارد ہے:
{وَ لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْـئًا اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ۱ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ۱  فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ…} (البقرہ: ۲۲۹)
یعنی ’’تمہارے لیے حلال نہیں کہ جو کچھ تم اپنی بیویوں کو دے چکے ہو اس میں سے کچھ واپس لو‘ الا یہ کہ میاں بیوی کو یہ خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ایسی صورت میں کچھ مضائقہ نہیں اگر عورت کچھ معاوضہ دے کر عقد نکاح سے آزاد ہو جائے۔‘‘
اس آیت کریمہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ خلع گرچہ ایک بری چیز ہے جس طرح سے طلاق بری چیز ہے لیکن جب یہ خوف ہو کہ حدود اللہ ٹوٹ جائیں گی تو خلع لینے میں کوئی برائی اور مضائقہ نہیں۔
احادیث سے بھی خلع کی مشروعیت کا پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن عباسw بیان کرتے ہیں کہ
ثابت بن قیس t کی اہلیہ رسول اکرمe کے پاس تشریف لائیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ثابت پر کوئی دینی یا اخلاقی عیب نہیں لگاتی لیکن میں اسلام میں کفر (شوہر کی نافرمانی) کو ناپسند کرتی ہوں۔ یہ سن کر رسول اکرمe نے فرمایا: ’’کیا تم اس کا باغیچہ واپس کر سکتی ہو؟‘‘ وہ کہنے لگیں: جی ہاں! اس پر نبی اکرمe نے فرمایا: ’’اپنا باغ قبول کر لو اور اسے چھوڑ دو۔‘‘ (بخاری: ۵۲۷۳)
علامہ ابن عبدالبرa نے اس روایت کو الاستیعاب ۳/۷۳۲ میں روایت کیا ہے جس کی رو سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ثابت t کی اہلیہ کا نام جمیلہ بنت ابی سلول تھا۔ انہوں نے سیدنا ثابتt سے خلع لیا تھا اور وجہ بتاتے ہوئے ان کی بد صورتی اور پستہ قد ہونے کا حوالہ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کے رسول e نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔
فقہاء امت کا خلع کی مشروعیت پر اجماع ہے۔ بکر بن عبداللہ مزنیa نے صرف اس اجماع کی مخالفت کی ہے لیکن علمائے امت نے ان کی بات کو قرآن وحدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے رد کر دیا ہے۔ (عمدۃ القاری للعینی: ۲۰/۲۶۰۔ المغنی لابن قدامہ المقدسی: ۷/۵۲۔ فتح الباری لابن حجر العسقلانی: ۱۱/۳۱۳۔ تفسیر قرطبی: ۳/۱۴۰)
 طلاق کی طرح، خلع بھی ایک مبغوض عمل ہے:
کتاب وسنت کی ورق گردانی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خلع طلاق ہی کی طرح ایک محظور اور ممنوع عمل ہے اور بوقت ضرورت ہی اس کی اجازت موجود ہے۔ اگر کوئی خاتون بلاوجہ خلع طلب کرتی ہے تو اس کا عمل غیر شرعی قرار پائے گا اور وہ آثم اور گنہگار ٹھہرے گی۔ ثوبان مولی رسول اللہe سے مروی ہے کہ رسول اکرمe نے ارشاد فرمایا:
[ایما امرأۃ سألت زوجہا طلاقا فی غیر ما بأس فحرام علیہا رائحۃ الجنۃ]
یعنی ’’اگر کوئی خاتون بلاوجہ اپنے شوہر سے طلاق طلب کرتی ہے تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘‘ (مسند احمد: ۲۲۴۴۰‘ سنن ابوداؤد: ۲۲۲۶‘ سنن ترمذی: ۱۱۸۷‘ سنن ابن ماجہ: ۲۰۵۵‘ شیخ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔)
ایک دوسری حدیث میں سیدنا عقبہ بن عامرt سے مروی ہے کہ نبی اکرمe نے فرمایا:
[ان المختلعات والمنتزعات ہن المنافقات]
یعنی ’’خلع کو کھیل بنانے والی اور شوہر کی اجازت کی بناء پر شوہر کی عصمت سے اپنے آپ کو نکالنے والی عورتیں منافق ہیں۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۷/۳۳۹‘ الجامع الصحیح للالبانی: ۱۹۳۴)
نیز مزید ایک حدیث میں وارد ہے:
[ایما امرأۃ اختلعت من زوجہا بغیر نشوز فعلیہا لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین]
یعنی ’’اگر کوئی خاتون شوہر سے اختلاف کے بناء پر خلع طلب کرتی ہے تو اس پر اللہ‘ فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت اور پھٹکار ہوتی ہے۔‘‘
سابقہ نصوص سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ خلع دراصل ایک مکروہ عمل ہے لیکن جب رشتہ ازدواج میں زوجین (میاں بیوی) کے لیے رہنا دوبھر ہو جائے اور صلح وصفائی کی ساری امیدیں معدوم ہو جائیں تو ایسی صورت میں شریعت اسلامیہ نے اسے مشروع قرار دیا ہے۔ لہٰذا اسے بوقت ضرورت ہی مشروع کیا گیا ہے۔ چنانچہ مختلف فقہائے کرام بالخصوص ائمہ اربعہ نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے۔ پیش خدمت ہے خلع کے تعلق سے بعض فقہائے امت کے اقوال:
1          امام ابن ہمامa کہتے ہیں: [والاصح حظرہ إلا لحاجۃ] یعنی صحیح ترین قول کے مطابق خلع ممنوع ہے۔ ہاں ضرورت کے پیش نظر مشروع ہے۔ (فتح القدیر لابن الہمام: ۴/۲۱۲)
2          امام شربینی الخطیبa نے کہا ہے: [الخلع مکروہ لما فیہ من قطع النکاح الذی ہو مطلوب الشرع] یعنی خلع مکروہ عمل ہے کیونکہ اس سے شادی جو شرعی ناحیہ سے مطلوب ہے‘ ٹوٹ جاتی ہے۔ (مغنی المحتاج: ۳/۲۶۲)
3          حافظ ابن حجر عسقلانیa کہتے ہیں: [وہو -الخلع- مکروہ الا فی حالۃ مخافۃ ألا یقیما حدود اللہ…] یعنی خلع ایک مکروہ عمل ہے ہاں جب اللہ کی حدود کی پامالی کا اندیشہ ہو تو پھر اس کی اجازت ہے۔ (فتح الباری: ۹/۳۴۶)
4          [قال ابن قدامۃ: اذا خالعت المرأۃ زوجہا، والحال عامرۃ والأخلاق ملتئمۃ فإنہ یکرہ لہ ذلک] یعنی ’’جب عورت اپنے شوہر سے خلع طلب کرتی ہے حالانکہ حالت مناسب ہو اور اخلاق بھی خوش کن ہوں تو یہ مکروہ عمل ہے۔‘‘ (المغنی: ۷/۵۴)
خلع چاہنے والی عورت پر مہر واپس کرنا ضروری ہے:
عورت جب اپنے شوہر سے جدائی چاہتی ہے تو اس پر ضروری ہے کہ وہ مہر کے ذریعہ دی گئی رقم یا اشیاء واپس کرے۔ اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس طرح سے شوہر جب اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس سے جدا ہوتا ہے تو اس پر متعدد قیود عائد کر دی جاتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ مہر جو اس نے اپنی بیوی کو دیا تھا اس کا نقصان گوارا کرے۔ زمانہ حیض میں طلاق نہ دے۔ تین طہروں میں رجوع کر کے ایک طلاق دے۔ عورت کو زمانہ عدت میں اپنے ساتھ رکھے۔اسی طرح عورت کو بھی خلع کا حق دینے کے ساتھ چند قیود عائد کر دی گئی ہیں جن کو قرآن مجید کی اس مختصر آیت کریمہ میں بتمام وکمال بیان کر دیا گیا ہے:
{فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ۱ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ…} (البقرۃ: ۲۲۹)
یعنی ’’اگر میاں بیوی کو اس بات کا خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ایسی صورت میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر عورت کچھ معاوضہ دے کر عقد نکاح سے آزاد ہو جائے۔‘‘
اسی طرح سے جب جمیلہؓ بنت ابی سلول نے ثابت بن قیس بن شماسt سے خلع کا مطالبہ کیا اور معاملہ رسول اکرمe کے دربار میں پہنچا تو آپe نے جمیلہ سے ثابتt کے ذریعے دیئے گئے باغ کو واپس کرنے کی شرط رکھی جسے جمیلہ r نے لوٹا کر خلع لے لیا۔ (بخاری: ۹/۳۳۰)
مرد کے لیے جائز نہیں کہ مہر سے زیادہ حصہ عورت سے خلع کے وقت مطالبہ کرے کیونکہ خلع کے موقع پر ثابت بن قیسt کی اہلیہ جمیلہ r نے مہر سے زیادہ دینے کی خواہش کی تو رسول اکرمe نے اس سے منع کر دیا اور کہا [أما الزیادۃ فلا، ولکن حدیقتہ] یعنی زیادہ تو نہیں مگر اس کا باغ واپس کر دے۔‘‘ (سنن دارقطنی: ۳۹) امام دار قطنی نے اس حدیث کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے اور امام شوکانیa نے ان کی موافقت کی ہے۔ (ملاحظہ ہو: الدرر المضیۃ: ۲/۱۵)
یہی قول سعید بن مسیب‘ عطاء‘ عمرو بن شعیب‘ امام زہری‘ طاؤس‘ حسن بصری‘ امام شعبی‘ حماد بن ابی سلیمان اور ربیع بن انس کا ہے کہ شوہر اپنے مہر سے زیادہ خلع طلب کرنے والی عورت سے مال نہیں لے سکتا۔ (ملاحظہ ہو: بدائع الصنائع: ۳/۳۲۷‘ تفسیر ابن کثیر: ۱/۲۷۵‘ تفسیر قرطبی: ۳/۱۴۱‘ المغنی: ۷/۵۳)
بعض علمائے کرام نے تفریق کی ہے کہ اگر نشوز اور ناپسندیدگی بیوی کی طرف سے ہو تو وہ شوہر کے دیئے ہوئے مہر سے زیادہ دے سکتی ہے لیکن اگر شوہر کی ناپسندیدگی کی وجہ سے وہ خلع طلب کر رہی ہو تو نہیں۔ جمہور کا موقف ہے کہ یہ زوجین یعنی میاں بیوی پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر عوض پر اتفاق کر کے خلع کے لیے راضی ہو جاتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو: بدایۃ المجتہد لابن رشد المالکی: ۳/۱۳۲‘ المنہاج للنوی: ص: ۲۲۶)
لیکن صحیح دلائل کی وجہ سے یہ مرجوح قول ہے۔
جہاں تک مرد کا مہر میں دیئے ہوئے مقدار سے کم مال لے کر عورت کو خلع کی اجازت د ینے کی بات ہے تو اس تعلق سے سیدنا ثابت t کی ایک دوسری اہلیہ حبیبہؓ بنت سہیل انصاریہ سے خلع کے ضمن میں وارد ہے کہ رسول اکرمe نے سیدنا ثابت t سے کہا: [خذ بعض مالہا وفارقہا] یعنی ’’اس کے مال کا ایک حصہ لے لے اور اسے جدا کر دے۔‘‘ (ابوداؤد: ۲۲۲۸)
نیز اس صورت میں مرد اپنے دیئے ہوئے مال کا ایک حصہ چھوڑنے پر راضی ہوتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن پہلی صورت میں وہ بیوی کو دیئے ہوئے مال سے زیادہ دینے پر مجبور کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ حرام ہے۔
 خلع کے اسباب:
مندرجہ ذیل صورتوں میں عورت خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے:
1          عورت خاوند کو ناپسند کرتی ہے‘ اس کی بدخلقی کی وجہ سے یا بدشکل ہونے کی وجہ سے۔ اسے خدشہ ہو کہ اس صورت میں وہ خاوند کے شرعی حقوق اچھے ڈھنگ سے انجام نہیں دے پائے گی۔
2          شوہر کوئی حرام کام کرتا ہو اور اپنی بیوی کو اس کے لیے مجبور کرتا ہو تو اس صورت میں بیوی اپنے شوہر سے خلع کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
3          خاوند بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرنے سے عملاً قاصر ہو یا اس سے کوئی دلچسپی نہ رکھتا ہو۔
4          بے وجہ بیوی کو تنگ کرتا رہتا ہو یا اس کے ساس سسر وغیرہ جہیز وغیرہ نہ لانے کی وجہ سے تنگ کرتے رہتے ہوں۔
خلع کے لیے کوئی مناسب عذر ہونا چاہیے۔ بغیر کسی معقول عذر کے خلع کا مطالبہ ٹھیک نہیں۔
 خلع کا طریقہ:
خلع دو طریقے سے ہو سکتا ہے۔ ایک بذریعہ فسخ اور دوسرا بذریعہ طلاق‘ جیسا کہ ثابت بن قیسt نے کیا۔ انہوں نے مہر میں دیا باغ واپس لے کر اپنی بیوی کو ایک طلاق دے دی۔
خلع کے ذریعہ جدائی پر صحیح قول کے مطابق فسخ لازم آتا ہے۔ یہی قول عبداللہ بن عباس‘ عبداللہ بن عمر‘ طاؤس‘ ابوثور ] ہیں۔ دو اقوال میں سے ایک قول امام شافعی کا‘ ایک روایت کے مطابق امام احمد اور امام شوکانی کا ہے کہ خلع کے ذریعہ جدائی پر فسخ لازم آتا ہے۔ (المحلی: ۱۰/۲۳۸‘ المغنی: ۷/۵۷‘ شرح منتہی الارادات: ۲/۲۳۸)
اس قول کی بنیاد پر اگر وہ دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو پھر نئے سرے سے نکاح اور مہر دینے کے بعد رہ سکتے ہیں۔
 خلع لینے والی خاتون کی عدت:
خلع لینے والی عورت کی عدت کتنی ہو گی؟ اس تعلق سے علمائے کرام کا شدید اختلاف ہے۔ راجح ترین قول کے مطابق خلع حاصل کرنے والی خاتون کی عدت ایک حیض ہو گی۔ یہی قول عبداللہ بن عباسw کے آخری قول کے مطابق عبداللہ بن عمرw‘ امام ابن تیمیہa‘ امام ابن قیم الجوزیہa اور امام احمد کا ہے۔ (فتاویٰ ابن تیمیہ: ۳۲/۲۹۱‘ زاد المعاد: ۴/۴۱۵)
اس کی دلیل سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مروی وہ مشہور حدیث ہے جس میں وارد ہے کہ سیدنا ثابت بن قیسt کی بیوی نے ان سے خلع طلب کیا تو اللہ کے نبیe نے انہیں ایک حیض عدت گذارنے کا حکم دیا۔ (ابوداؤد: ۲۲۲۹‘ ترمذی: ۱۱۸۵)
بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مختلعہ (خلع حاصل کرنے والی خاتون) مطلقہ کی طرح تین حیض عدت گذارے گی۔ یہ قول امام ابوحنیفہ‘ امام مالک‘ امام شافعی‘ ایک روایت کے مطابق امام احمد‘ ابن حزم ظاہری وغیرہ سے منقول ہے لیکن یہ مرجوح قول ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
 خلع میں شوہر کی اجازت ضروری ہے:
اگر کوئی خاتون اپنے شوہر سے جدائی چاہتی ہو تو اس پر ضروری ہے کہ وہ اپنے شوہر سے اجازت طلب کرے اور شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کو خلع اس شرط پر دے کہ وہ اس سے حد درجہ نفرت کرتی ہو اور ان کے درمیان رشتہ بے حد خراب ہو گیا ہو تو اسے خلع کی اجازت دے دے۔ لیکن اگر کوئی شوہر خلع کی اجازت نہیں دیتا تو پھر اس صورت میں بیوی معاملہ کو قاضی اور امام (عدالت) تک لے جائے گی اور پھر عدالت شوہر کو کہہ کر دونوں کے ما بین خلع کرا دے گی۔
سیدنا ثابت بن قیسt کی دونوں بیویوں کے ساتھ خلع والی حدیثوں میں یہی ہوا کہ معاملہ رسول اکرمe کی خدمت میں پہنچا اور آپe نے ثابت اور ان کی دونوں بیویوں کے درمیان خلع کرا دیا۔
موجودہ معاشرہ میں خلع کو شوہر کی اجازت پر موقوف مان کر ایک طرح سے ختم کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے بعد کا مرحلہ بھی موجود ہے کہ اگر شوہر عورت کے خلع طلب کرنے کی بات کو تسلیم کر کے اسے خلع نہیں دیتا تو بیوی اس صورت میں قاضی کے پاس جا کر اس بات کو رکھ سکتی ہے اور پھر قاضی شوہر کو طلاق کے لیے یا پھر خلع پر راضی ہونے کے لیے کہہ سکتا ہے۔ قاضی بیوی کو بھی شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے راضی کرنے کی کوشش کر سکتا ہے مگر اس کی خواہش کے خلاف اسے مجبور نہیں کر سکتا۔ کیونکہ خلع اس کا حق ہے جو اللہ نے اسے دیا ہے اور اگر وہ اس امر کا اندیشہ ظاہر کرتی ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے میں وہ حدود اللہ پر قائم نہ رہ سکے گی تو کسی کو اس سے یہ کہنے کا حق نہیں کہ تو چاہے حدود اللہ کو توڑ دے مگر اس خاص مرد کے ساتھ بہرحال تجھ کو رہنا پڑے گا۔
یہ رہے خلع کے مختصر احکام ومسائل۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمانوں کی ازدواجی زندگی میں سکون واطمینان پیدا فرما دے اور مسلمانوں کو صحیح دین اسلام کی پیروی کی توفیق دے۔ تا کہ ہر شخص کا اسلام سے رشتہ بحال رہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی گذار سکیں اور دین ودنیا ہر دو جگہ میں کامیابی ہمارے قدم چومے۔ آمین یا رب العالمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats