اسلام ... اُبھرتا ہوا بڑا دین 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

اسلام ... اُبھرتا ہوا بڑا دین 02-20


اسلام ... اُبھرتا ہوا بڑا دین!

تحریر: جناب مولانا عبدالمالک مجاہد
اس وقت دنیا میں بلا شک وشبہ سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا دین اسلام ہے۔یورپی ممالک میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب سیکڑوں لوگ دین اسلام میں داخل نہ ہوتے ہوں۔ اگر چہ ہم بحیثیت امت دعوت دین کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کر پا رہے‘ مگر پھر بھی یہ دین اسلام کا حسن‘اس کی ابدی صداقت اور بے پناہ کشش ہے کہ لوگ از خود اسلام کا مطالعہ کرکے اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ دین اسلام ہی ان کے لیے اور پوری انسانیت کے لیے بہترین دین ہے جو انسان کے دنیوی معاملات کو بھی درست کردیتا ہے اور آخرت میں اس کی نجات کاسامان فراہم کرتا ہے۔ اسلام جس تیز ی سے دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہا ہے اس سے متعلق ایک خوبصورت واقعہ پڑھتے ہیں۔
سعودی عرب کے ایک معروف عالم دین کا کہنا ہے کہ وہ جرمنی کے ایک شہرمیں رمضان المبارک کے مہینہ میںافطار سے پہلے تقریر کررہے تھے۔سامعین میں مسلمان اور عیسائی شامل تھے۔مغرب کا وقت قریب تھا‘میں نے افطارسے کوئی دس منٹ پہلے ہی اپنی تقریر کو سمیٹااور حاضرین سے کہا کہ اب وہ اپنے گھروں میں افطاری کے لیے روانہ ہوسکتے ہیں۔دوران تقریرایک نوجوان جس کی شکل وصورت کوئی اچھی نظر نہیں آرہی تھی‘لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہواآگے بڑھا۔ہمیں اچھا تو نہ لگا‘بہرحال وہ میرے قریب آکراگلی صف میں بیٹھ گیا۔میںتقریر ختم کرنے لگا تو اس نے ہاتھ اٹھایا کہ مولانا ! میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔مترجم نے میرے اشارے پر اسے بتایا کہ اب وقت ختم ہوچکا ہے‘لوگوں نے افطاری کرنا ہے۔اب سوال وجواب نماز مغرب کے بعد ہو سکیں گے‘مگر اس نوجوان نے کہا کہ میں آپ سے کوئی سوال وجواب نہیں کرنا چاہتا‘ میری تمنا نہایت مختصر ہے۔ میں عیسائی ہوںاور اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔میں نے اسے مرحبا اھلاًوسھلاًکہا‘ترحیبی کلمات کہتے ہوئے میں نے کہا : بھئی! چونکہ تم اسلام قبول کرنا چاہتے ہو‘اس لیے میرے دل ودماغ کے دروازے ہر وقت تمہارے لیے کھلے ہیں۔میں تمہارے لیے وقت نکال سکتا ہوں۔اس کو ساتھ بٹھایا۔ ایک طرف مترجم بیٹھ گیا۔اب اس نوجوان سے گفتگو شروع ہوتی ہے۔آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔سوال ہوا۔میراتعلق اٹلی سے ہے‘ مگر میں جرمنی میں مقیم ہوں اور یہاں کام کرتا ہوں۔میں مذہبا عیسائی ہوں۔اس سے سوال کیا گیا: تم اسلام کیوں قبول کرنا چاہتے ہو؟اس نے بڑے ہی حسرت بھرے لہجے میں کہا: میں نے عیسائیت کو بہت قریب سے دیکھا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ عیسائی لوگ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔میں جب بھی چرچ جاتا ہوںتودیواروں پر تصویریں اور مجسمے لگے ہوتے ہیں۔ ہم لوگ انہی کی پوجا پاٹ کرکے ‘انہی کو دیکھ کر واپس آجاتے ہیں۔میں محسوس کرتا ہوں کہ عیسائی بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ اپنے مالک حقیقی کی پوجا نہیں کرتے۔اس لیے میں ان کی اس پوجاپاٹ سے متنفر ہوچکا ہوں۔ میںنے خالی الذہن ہو کر بالکل غیر جانبداری سے  اسلام کا مطالعہ کیا تو یہی دین مجھے اچھا اور عمدہ نظر آیا۔
سعودی سکالر کا بیان ہے: میں نے ا س نوجوان کو کلمہ شہادت پڑھانا شرو ع کیا‘ وہ کچھ دشواری محسوس کرنے اور اٹکنے کے بعد بالآخر کلمہ پڑھنے میں کامیاب ہو گیا۔
قارئین کرام!یہ بات بالکل درست ہے۔ اگر آپ کو چرچ میں داخل ہونے کا موقع ملے تو آپ کو ہر طرف مجسمے اور تصاویر نظر آئیں گی۔ مجھے دو یا تین مرتبہ روم میں ویٹکن سٹی کو دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ویٹکن سٹی عیسائیوں کے لیے سب سے زیادہ معتبرمقام ہے۔ان کا پوپ یہیں رہتا ہے اور ہر اتوار کولوگوں سے خطاب کرتا ہے۔اس چرچ کا نام جتنا بڑا اور مشہور ہے اندر سے اتنا بڑا نہیں۔ البتہ اس کے چاروںطرف بڑی بڑی عمارات اور ریسٹورنٹ ہیں۔سامنے کافی کھلا میدان ہے۔جس میں ہزاروں کرسیاں پڑی ہوئی ہیںجو مٹی اور پرندوں کی غلاظت سے اٹی رہتی ہیں۔مجھے اس مصری گائیڈ کے الفاظ نہیں بھولتے کہ ان کے پاس ان کرسیوں کو بھرنے کے لیے افراد نہیں۔یہ لوگوں کی منت سماجت کرکے اتوار کے روز انہیں یہاں لاتے ہیں‘پھر بھی اکثر کرسیاں خالی رہ جاتی ہیں؛ ہاں البتہ کرسمس کے دن سال میں ایک مرتبہ یہ کرسیاں بھرتی ہیں۔یعنی عیسائیوں کو اپنے دین سے اور اپنے مذہبی پیشواؤں سے اتنی بھی عقیدت نہیں کہ ہفتے میں ایک روز جو ان کی عبادت کا دن ہے‘ اسی دن میں چرچ میں آ کر مذہبی رسومات ادا کر لیا کریں۔ اس کے برعکس جمعہ المبارک کے روز مسلمانوں کی مساجد کے مناظر دیکھیے‘ کس طرح مسجدیں کھچا کھچ بھری ہوتی ہیں۔
قارئین کرام!ان سطور کا راقم  یہ کہہ سکتا ہے کہ دونوں یا تینوں مرتبہ جب مجھے ویٹکن سٹی جانے کا اتفاق ہوا‘ میں نے ان افراد کو گناجو وہاں چرچ کے  اندر موجود تھے تو ان کی تعداد قریبا دوہزار ہوگی‘کہہ لیجیے تین ہزار ہوگی ۔ان میں ہمارے جیسے مسلمان بھی تھے۔کوئی پندرہ بیس منٹ یا آدھ گھنٹہ لوگ اس چرچ میں رہتے ہیں۔اس عمارت کی تعمیر پر بلاشبہ بہت زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے۔چرچ کے اندر دیواروں پر بہانے بہانے سے سونا تھوپا گیا ہے‘جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان کے پاس بے پناہ دولت ہے ۔یہ جو مجسموں اور تصاویر والی بات ہے تو اگر کسی نے تصدیق کرنا ہوتو کسی بھی چرچ میں جاکر دیکھ لے۔
سبحان اللہ !اس کے برعکس حرمین شریفین کے کیا کہنے ‘سال کے 365دن‘ہردن پانچوں نمازوں کے وقت لاکھوں نمازی مکہ اور مدینہ شریف میں ‘حرم مکی یا حرم مدنی میں نمازیں ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ نماز کی ادائیگی کے لیے جا رہے ہوتے ہیں تو فکر ہوتی ہے کہ ہمیں جگہ ملے گی یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ان کی حکومت کو جزائے خیر عطا فرمائے ہر چند کہ انہوں نے حرمین شریفین میں بہت بڑی توسیع کردی ہے‘مگر اس کے باوجوددونوں مساجد تنگی داماں کا اظہار کررہی ہوتی ہیں۔یہ منظرتو بڑاہی خوبصورت اور دیکھنے والا ہوتا ہے کہ کس طرح لوگ نماز کی ادائیگی سے قبل صفیں بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔اہل اسلام کا اپنے دینی مراکز مکہ اور مدینہ سے وابستگی اور محبت کا یہ عالم ہے کہ رمضان المبارک میں جمعہ کے دن حرمین کی انتظامیہ کو موبائل فونز پر یہ پیغام جاری کرنا پڑتا ہے کہ برادران اسلام! حرم پوری طرح بھر چکا ہے اب آپ جمعہ کی نماز اپنی کسی قریبی مسجد میں ادا کر لیجیے۔
ہم ذرا آگے بڑھتے ہیں۔نوجوان کہنے لگا: میرے عیسائیت کو چھوڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پادری دین کے نام پر پیسے جمع کرتے ہیں‘لوگوں سے کہتے ہیں کہ ہم نے چرچ بنوانے ہیں یا ان کی توسیع کرنی ہے یا ان کی تعمیر ومرمت کرنی ہے۔ یا ہمارے پاس بائبل چھپوانے کا منصوبہ ہے ۔ ہم نے فلاں فلاں کتاب شائع کرنی ہے ۔ ہمیں ان مقاصد کے لیے اتنی رقم درکار ہے۔ اب یہ لوگ عطیات توجمع کرلیتے ہیں۔لوگ انہیں بڑے ذوق وشوق اور مذہبی جذبے سے عطیات دے بھی دیتے ہیں‘مگر یہ نئے چرچ بنانے‘یا لٹریچر چھپوانے پر خرچ کرنے کی بجائے اپنی ذاتی اغراض پر خرچ کرلیتے ہیں۔آپ ان کے بڑے بڑے گھر وں کو دیکھ لیں‘ان کا رہن سہن دیکھ لیں‘ یہ بڑے ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ رہتے ہیں۔عموما ان کی گاڑیاں نئے ماڈل کی ہوتی ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ ہمارے دیے ہوئے مال کو اپنی ذاتی عیش وعشرت پر خرچ کرتے ہیں۔
قارئین کرام!ہمارے ہاں بھی دینی طبقات میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہیں جو دین کے نام پر لوگوں کی جیبیں صاف کرتے ہیں‘ مگر یہ ذہن میں رہے کہ ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔بعض لوگ مسلمان علماء پرایسے الزامات عائد کرتے ہیں‘مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ عیسائیوں کے پادری اور چرچ کے ساتھ منسلک لوگ ان حرکات سے بری الذمہ نہیں ہیں۔یہ لوگ کس طرح لوگوں کو لوٹتے اور بیوقوف بناتے ہیں ‘اس پر آئیے ایک خوبصورت واقعہ پڑھتے ہیں۔
ایک مرتبہ کسی شہر میں ایک چرچ کے پادری اکٹھے ہوئے۔آپس میں باتیں کررہے ہیں کہ بھائی! آج کل لوگوں نے فنڈزدینے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔اولاً تو کوئی فنڈز دیتا ہی نہیں اور اگر کوئی دیتا بھی ہے تو اتنا کم دیتا ہے کہ اس سے ہمارے گھر وں کے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ ایک پادری کہنے لگا: میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مال کیسے اکٹھا کیا جاسکتا ہے؟دوسروں نے اشتیاق بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا‘ہاں بھئی! کیسے؟کہنے لگا: تمہاری کیا رائے ہے اگر ہم جنت کی زمین فروخت کرنا شروع کردیں۔کہنے لگے: وہ کیسے ؟!کیا کہا تم نے؟کہنے لگا: ہاں! جنت کی زمین لوگوں میں فروخت کرنا شروع کرتے ہیں۔کہنے لگے: کیا لوگ اس بات کو تسلیم کرلیں گے کہ جنت کی زمین فروخت ہورہی ہے۔کہنے لگا: تم اعلانات تو شائع کروکہ جو شخص جہنم کی آگ سے بچنا چاہتا ہے وہ ہمارے پاس آئے اور آ کرجنت میں زمین خرید لے۔اگر آپ جہنم میں داخل نہ ہونا چاہتے ہوں تو آپ کے لیے ضرور ی ہے کہ جنت میں کچھ نہ کچھ زمین خرید لیں۔
جب انہوں نے اعلانات شایع کیے تو بعض کمزور عقیدہ لوگ دھڑادھڑ جنت میں زمین خریدنے کے لیے ان کے پاس آنے لگے۔غریب لوگ جس کے پاس جو کچھ تھا‘کسی کے پاس مال ومویشی ‘کوئی گھر کا زیور‘ ہر کوئی پائی پیسہ لیے ہوئے چرچ میں آگیا۔وہاں پر تو میلہ سا لگ گیا۔ایسی خبریں بڑی جلدی پھیل جاتی ہیں۔بھولے بھالے لوگ قطار اندر قطار بکنگ کروا رہے ہیں۔
ایک دن صبح سویرے شہر کا معروف اور امیر ترین تاجر وہاں سے گزرا۔اس نے دیکھا کہ لوگ بڑی تعداد میں چرچ کے باہر جمع ہیں۔اسے تجسس ہواکہ یہ لوگ یہاں کیا کر رہے ہیں۔چرچ میں تو اتوار کے دن بھی کوئی فرد بشر نظر نہیں آتااور یہ لوگ کام کے دنوں میں صبح سویرے یہاں کس لیے جمع ہیں۔خیر! اس نے لوگوں سے پوچھا: بھئی! تم یہاں کیا کررہے ہو؟کہنے لگے: ہم جنت میں اراضی خریدنے کے لیے آئے ہیں تاکہ ہم جہنم میں جانے سے بچ سکیں۔تاجر نے بڑے تعجب سے پوچھا:تم لوگ اس مقصد کے لیے جنت میں زمین خرید رہے ہو؟کہنے لگے: ہاں۔تاجر چرچ میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ چرچ تو رئیل اسٹیٹ کے دفتر میں تبدیل ہوچکا ہے۔نقشہ جات‘رجسٹریاں دیگر دستاویزات موجود ہیں۔مختلف بروکر بیٹھے ہیں۔ تاجر معروف شخص تھا۔پادریوں نے آگے بڑھ کر استقبال کیاکہ بڑا تاجر ہے ہمیں خاصا فائدہ دے سکتا ہے۔چند بروکر آگے بڑھے اور اسے نقشے دکھانے لگے کہ یہ فلاں نبی کا گھر ہے‘یہ فلاں کاہے‘یہ علاقہ بڑا مہنگا ہے‘وغیر وغیرہ۔اسے سمجھ آگئی کہ یہ لوگ فراڈ کررہے ہیں۔اس نے نقشے دیکھے اور کہنے لگا: جناب میں تو جنت میں زمین نہیں خریدنا چاہتا۔انہوں نے سوال کیا‘پھر آپ کیا خریدنا چاہتے ہیں؟کہنے لگا میں جنت کی بجائے جہنم خریدنا چاہتا ہوں۔
ہائیں! یہ کیا؟تم نار یعنی آگ خریدنا چاہتے ہو؟ایک گویا ہوا۔ہاں میں جہنم کی آگ خریدنا چاہتا ہوں۔ اگر تمہارے پاس ہے تو میں اس کا خریدار ہوں۔ایک پادری نے دوسرے کو اشارہ کیا کہ موٹی اسامی ہے۔چلو ہمارا کیا ہے اگر ہم جنت کی زمین فروخت کرسکتے ہیں تو پھر جہنم کی آگ فروخت کرنے میں کیا مشکل ہے‘ اگر چہ اونے پونے داموں ہی میں ہو۔ کہنے لگے: ہاں! ہم جہنم کی نار بھی فروخت کرتے ہیں۔الغرض جنت کی زمین تو خاصی مہنگی بک رہی تھی‘ مگر پادریوں نے سوچا جاتے چور کی لنگوٹی ہی سہی… چلو کچھ دے ہی رہا ہے ۔ لگے ہاتھوں جہنم بھی اس کے ہاتھ بیچ ہی دو۔ اس نے سودا کرلیا انہیں چیک دے دیا۔رجسٹری کروائی کہ جہنم اب اپنی تمام لمبائی ‘ چوڑائی اور گہرائی کے ساتھ اس کی ملکیت ہے اور اس  نے جہنم کی ساری آگ خرید لی ہے۔رجسٹری ہاتھ میں پکڑے ہوئے وہ چرچ سے باہر آیا تو اس نے دیکھاکہ لوگوں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔وہ انتظار میں ہیں کہ کب ہماری باری آئے اور ہم جنت میں زمین خریدیں۔تاجر نے ان سادہ لوح لوگوں کی طرف دیکھا اور کہنے لگا : ارے میاں! تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟کہنے لگے: ہمیں جہنم کی آگ سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہمیں آگ میں نہ ڈال دیا جائے‘اس لیے ہم جنت میں زمین خریدنے آئے ہیں۔تاجر نے جہنم کی آگ کی رجسٹری انہیں دکھائی اور کہنے لگا: لوگو! اب کسی کو جنت میں زمین خریدنے کی ضرورت نہیں۔ یہ دیکھو میں نے جہنم اس کی ساری آگ سمیت خرید لی ہے۔میرا تمہارے ساتھ وعدہ ہے کہ میں کسی کوجہنم میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔
نوجوان کہہ رہا تھا کہ ہمارے پادری دین کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اِنَّ کَثِیرًا مِّنَ الاَحْبَارِ وَالرُّھْبَانِ لَیَاْکُلُونَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ} (التوبۃ: 34)
’’ایمان والو! کتنے ہی علماء اور پادری لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھا جاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔‘‘
اسی مجلس میں اس نوجوان کو کلمہ شہادت پڑھایا گیا۔اس نے اسلام قبول کرلیا۔ہے نہ یہ بڑی مزیدار اور خوبصورت بات کہ کہاں وہ جہنم کا راہی تھا‘اب ان شاء اللہ جنت میں جائے گا۔کسی شخص کو اسلام میں داخل کرنا‘ اسے کلمہ شہادت پڑھانا‘اس کی لذت کو وہی محسوس کرسکتا ہے جو اس تجربہ سے گزر چکاہو۔کلمہ پڑھنے والا بھی اورپڑھانے والا بھی عجیب سرور میں ہوتے ہیں۔اللہ کی رحمتوں کا نزول ہورہا ہوتا ہے۔یہ منظر قابل دید ہوتا ہے جب ایک شخص اپنے سابقہ دین کو چھوڑ کر دین اسلام میں داخل ہورہا ہوتا ہے۔
اسلامی تاریخ کا وہ دن بڑاہی روشن تھا جب مکہ مکرمہ سے تین بڑے گھرانوں کے مشہورترین افراد اسلام قبول کرنے کے لیے مدینہ طیبہ روانہ ہوئے۔یہ سات ہجری کی بات ہے کہ خالد بن ولید‘عثمان بن طلحہ اور عمروبن عاص مکہ سے باہر اکٹھے ہوتے ہیں۔آپس میں گفتگو ہوتی ہے ۔تینوں ہی اسلام لانے کا ارادہ کر چکے تھے۔یہ تینوں ہی بڑے باپوں کے بیٹے تھے۔ ان تینوں نے اسلام کے خلاف بڑی ہولناک کاروائیاں کی تھیں۔ انہیں اپنے سابقہ گناہوں پر ندامت بھی بہت تھی۔جب اللہ کے رسولeکے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے تو عمروبن عاص نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔آپ eنے فرمایا: عمرو! یہ کیا؟کہنے لگے: یا رسول اللہ! میں نے بے شمار بڑے بڑے گناہ کیے ہیں۔اسلام کے خلاف لڑتا رہا ‘بڑی بڑی مجرمانہ کاروائیاں کرتا رہا۔اب میں گارنٹی چاہتا ہوں کہ میرے گزشتہ گناہوں کو معاف کردیا جائے گا۔آپe نے ارشاد فرمایا: عمرو! کیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسلام تمام سابقہ گناہوں کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔جب ان تینوں نے اسلام قبول کرلیاتو ارشاد ہوا:’’مکہ مکرمہ نے اپنے جگر گوشے یعنی نہایت قیمتی فرزند تمہارے حوالے کردیے ہیں۔‘‘
لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کا سلسلہ آپe کے مبارک دور سے شروع ہوا اور آج تک جاری وساری ہے۔لوگ دین کے پیاسے ہیں۔جس جگہ بھی جائیں وہاں پر تقریر وتبلیغ کریں تو کوئی نہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرلیتا ہے۔ جرمنی کی جس مسجد کی بات ہو رہی ہے‘وہاں بھی ایک شخص کے بعد دوسرے نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا۔اوپر گیلری میں سسٹرزبیٹھی تقریر سن رہی تھیں۔ان میں سے چند ایک نے اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ان کے کچھ سوالات تھے۔مترجم کی مدد سے ان سے بات ہوئی ان میں سے چار نے اسی وقت اسلام قبول کرلیا ‘یہ بڑی حوصلہ افزا بات تھی۔اس مسئلہ پر تفصیلی گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ صرف جرمنی میں کم وبیش ہرسال چار ہزار سے زائد لوگ اسلام قبول کرتے ہیں۔ گویا ماہانہ 328 اور 11 ۱فراد روزانہ اسلام کی نعمت سے بہرہ ور ہو رہے ہیں۔یہ سلسلہ صرف جرمنی ہی میں نہیں‘بلکہ پورے یورپ اور امریکہ میں لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔جرمنی میں اس وقت کم وبیش چار ملین سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ان میں بڑی تعداد ترکی النسل کی ہے۔جو یہاں پر اپنی روزی روٹی کے سلسلہ میں آتے ہیں اور پھر یہاں کے ہی ہو کر رہ جاتے ہیں۔میرے سامنے بعض بڑے بڑے ممالک میں مسلمانوں کی تعداد کے اعداد وشمار ہیں۔آئیے ذرا دیکھتے ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد مختلف ممالک میں کیا ہے:
ارجنٹائن میں 784000 مسلمان بستے ہیں‘ جبکہ آسٹریلیا میں 4 لاکھ مسلمان ہیں۔برازیل میں دو لاکھ سے زائد مسلمان ہیں۔کینیڈا میں ایک ملین ‘چین میں کوئی ڈھائی کروڑ مسلمان بستے ہیں۔ ڈنمارک میں 226000‘ اٹلی میں 16 لاکھ‘ فرانس میں 5 ملین‘ جرمنی میں پانچ ملین‘ یونان میں 6 لاکھ‘ فلپائن میں 5 ملین‘ سنگاپور میں 8 لاکھ‘ جنوبی افریقہ میں 8 لاکھ مسلمان بستے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ میں 5 لاکھ‘ انگلینڈ میں تین ملین اور امریکا میں 5 ملین بستے ہیں۔
میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ:
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہانِ لا إلہ إلا اللہ


No comments:

Post a Comment

View My Stats