موسم سرما اور مومن کے اعمال 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

موسم سرما اور مومن کے اعمال 02-20


موسم سرما اور مومن کے اعمال

تحریر: جناب مولانا مقبول احمد سلفی (سعودیہ)
اللہ تعالی کا بے پایاں احسان وکرم ہے کہ اس نے ہمیں مختلف قسم کے موسم سے لطف اندوز ہونے کا موقع میسر فرمایا۔ مختلف قسم کے یہ مواسم انسانی زندگی میں حسن ولطافت کا اضافہ کرتے ہیں۔انسانی فطرت میں جلدبازی اور ظاہری تکلیف پر جزع فزع کرنا شامل ہے ۔بلاشبہ سردی میں تکلیف اور پریشانی ہے اور کبھی یہ پریشانی مرض اور کبھی جانی ومالی نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے ۔اس موسم میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوگ بیمار پڑتے ہیں، اکثر وبیشتر بچے سردی کھانسی ، نزلہ وزکام میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، کسی کے لئے یہ موسم جانی نقصان کا سبب بھی بن جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ انسان سردی کی ان ظاہری پریشانیوں کو دیکھتا ہے اور اس موسم کو کوستا ہے، سردی کو برابھلا کہتا ہے اور بجائے صبر کرنے کے تکلیف کا اظہار کرتا ہے ۔
ایک مومن کا ایمان ہونا چاہیے کہ زمین وآسمان ، سورج وچاند، دن ورات ، صبح وشام اور سردی وگرمی کا خالق تن تنہا اللہ تعالی ہے ، اللہ نے بہترین کاریگری کے ساتھ حکمت وبصیرت کے تحت ان کو پیدا فرمایا ہے ، اس کی بنائی ہوئی کوئی چیز بے فائدہ اور لغو نہیں،فرمان الٰہی ہے:
{رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہَٰذَا بَاطِلًا}(آل عمران: ۱۹۱)
’’اے ہمارے رب! تونے یہ بے فائدہ نہیں بنایا۔‘‘
قرآن نے ذکر کیا کہ یہ بات وہ کہتے ہیں جو ہرحال میں کھڑے ہوتے،بیٹھتے اور کروٹ بدلتے ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں یعنی جن کی زندگی مومنانہ کردار کا پرتو ہوتی ہے۔زمین وآسمان کا اپنی جگہ پر قائم رہنا اللہ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے ، رب کا فرمان ہے:
{وَمِنْ اٰیَاتِہٖٓ اَن تَقُومَ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ}
’’اس کی ایک نشانی یہ ہے کہ آسمان وزمین اسی کے حکم سے قائم ہیں ۔‘‘ (الروم: ۲۵)
مومن اللہ کے کلام پر پختہ اعتقاد کے ساتھ یہ بات بھی کہتا ہے کہ اللہ تعالی ہی رات ودن اور موسم وسال کو لانے والا ہے ، اللہ کا فرمان ہے ۔
{یُقَلِّبُ اللّٰہُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ  اِنَّ فِی ذَٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ} (النور: ۴۴)
’’اللہ تعالی ہی رات ودن کو ردوبدل کرتا رہتا ہے، آنکھ والوں کے لئے تو اس میں یقینا بڑی بڑی عبرتیں ہیں۔‘‘
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مومنانہ کردار کے حامل افراد اللہ کی نشانیوں سے عبرت پکڑتے ہیں ،رات ودن کی آمد ہو،سردی وگرمی کا موسم ہو، بہار وخزاں کا وقت ہو ، بارش وقحط سالی ہو ان سب میں اللہ کی قدرت ومصلحت پر یقین رکھتے ہوئے ہمیشہ نصیحتیں پکڑتے ہیں ۔
یہاں ایک بڑی بات جسے علامہ ابن کثیرa نے ذکر کیا ہے بتانا مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی مخلوقات کے متعلق کہا ہے کہ جو ان اشیاء کا خالق ہے دراصل وہی عبادت کا مستحق ہے ۔ اس قول سے یہ نصیحت ملتی ہے کہ مومن لوگ اللہ کی مخلوقات اور اس کی نشانیوں میں غوروفکرکرکے رب کی خالص بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے جیساکہ اللہ نے تخلیق انسانی کی وجہ ہی عبادت ذکر کیا ہے ، فرمان الٰہی ہے :
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُونِ}
’’اور بے شک میں نے جن وانس کو محض اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔‘‘ (الذاریات: ۵۶)
صحیحین میں سیدنا ابن مسعودt سے مروی ہے وہ نبیe سے پوچھتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے تو آپ فرماتے ہیں :
[أنْ تَجْعَلَ لِلَّہِ نِدًّا، وہو خَلَقَکَ]
’’تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔‘‘ (البخاری: ۷۵۲۰)
ان تمہیدی باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک بات یہ ذہن میں رکھنے کی ہے کہ سردی وگرمی کا سبب جہنم کا سانس لینا ہے ، سیدنا ابوہریرہt سے مروی ہے کہ نبیe نے ارشاد فرمایا :
[اشْتَکَتِ النَّارُ إلی رَبِّہَا فَقالَتْ: رَبِّ أکَلَ بَعْضِی بَعْضًا، فأذِنَ لَہَا بنَفَسَیْنِ: نَفَسٍ فی الشِّتَائِ ونَفَسٍ فی الصَّیْفِ، فأشَدُّ ما تَجِدُونَ مِنَ الحَرِّ، وأَشَدُّ ما تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْہَرِیرِ۔] (البخاری: ۳۲۶۰)
’’جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے کوکھا لیا، لہٰذا اللہ تعالی نے اسے دوسانس کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسرا سانس گرمی کے موسم میں ، اسطرح تمہیں جو سخت گرمی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کی گرمی کی وجہ سے ہے اور جو سخت سردی محسوس ہوتی ہے وہ جہنم کے زمہریر کی وجہ سے ہے ۔‘‘
سردی اور گرمی کی وجہ جان لینے کے بعد دوسری بات یہ دھیان دینے کی ہے کہ اس موسم میں مومن کا کردار یہ ہو کہ اس موسم کی تکلیف سے بچنے کا سامان کریں اور جوکچھ تکلیف اس موسم میں پہنچ جائے اس پر صبر کریں ، موسم کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کا بنانے والا اللہ ہے ، موسم کو برابھلا کہنا اللہ کوتکلیف دینے اور برابھلا کہنے کے مترادف ہے ۔ حدیث قدسی ہے ، اللہ فرماتا ہے :
[یُؤْذِینِی ابنُ آدَمَ یَسُبُّ الدَّہْرَ، وأنا الدَّہْرُ، بیَدِی الأمْرُ، اُقَلِّبُ اللَّیْلَ والنَّہارَ۔] (البخاری: ۷۴۹۱)
’’آدم کابیٹا مجھ کو دکھ دیتا ہے ، اسطرح کہ وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں ،میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں جس طرح چاہتا ہوں رات ودن کو پھیر تا رہتاہوں۔‘‘
جب یہ بات صحیح ہے کہ سردی کے موسم میں خصوصا شدت کی سردیوں میں گھر سے نکلنابھی دشوار ہوجاتا ہے ایسے میں وضو کرنا، طہارت کے لئے غسل کرنااور مسجد آکر پانچ وقتوں کی عبادت بجالانا بظاہرمشکل کام ہے مگرحقیقی مومنوں اور نفس پہ قابو رکھنے والوں کے لئے اس میں کوئی مشقت نہیں بلکہ لذت وچاشنی ہے ۔ دراصل انسان کو اس کا نفس ہی آسانی میں بھی مشقت کا احساس دلاتا ہے جبکہ کوئی شیطانی کام میں اگر بھاری سے بھاری مشقت ہوپھربھی اس کا نفس ہلکے پن کا احساس دلاتا ہے ۔ ذرا غور کریں کہ انسان کو انتہائی سردی میں کسی بھاری کام کا معاوضہ بڑھاکردیا جائے تو اپنے کام میں کوئی مشقت نہیں محسوس کرتا جبکہ عبادت اس پر گراں گزرتی ہے وہ کیوں؟ اس کی وجہ مومنانہ کردار میں نقص اوراس پر نفس کا غلبہ ہے۔
مومن اس کام سے خوش ہوتا ہے جس میں اللہ کی رضا اور زیادہ مقدار میں اجر ہوتا ہے اور ٹھنڈی میں اللہ کی بندگی بھی زیادہ اجر کا باعث ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعودt نے بیان کیا:
قال ابنُ مسعودٍ: إنَّ اللَّہَ لیضحَکَ إلی رجُلَینِ: رجلٌ قامَ فی لیلۃٍ بارِدَۃٍ مِن فِراشِہِ ولِحافِہِ ودِثارِہِ فتوضَّأَ ، ثمَّ قامَ إلی الصَّلاۃِ ، فیقولُ اللَّہُ عزَّ وجلَّ لملائکتِہِ: ما حمل عبدی ہذا علی ما صنَعَ؟ فیقولون : ربَّنا! رجائَ ما عِندَکَ، وشفقَۃً مِمَّا عندَکَ ۔ فیقولُ : فإنِّی قد أعطیتُہُ ما رجا، وأمَّنتُہُ مِمَّا یخافُ، وذکر بقیَّتَہُ۔] (صحیح الترغیب: ۶۳۰)
’’دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالی خوش ہوتا ہے۔ ایک وہ شخص جو سرد رات میں اپنے بستر اور لحاف سے اٹھ کر وضو کرتا ہے ، پھر جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے پوچھتا ہے: میرے بندے کو یہ تکلیف برداشت کرنے پر کس چیز نے ابھارا ہے؟ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ وہ آپ کی رحمت کا امید وار ہے اور آپ کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے کہ تم لوگ گواہ رہو میں نے اس کی امیدیں پوری کردی اور جس چیز سے خوف کھا رہا ہے اس سے امن دیدیا۔‘‘
سردی میں وضو کی تکلیف پر اللہ گناہوں کو معاف فرماتااوردرجات بلند کرتا ہے ، سیدنا ابوہریرہt سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: کیا میں تم کو نہ بتاؤں وہ باتیں جن کی وجہ سے اللہ گناہ معاف کردیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے۔ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! بتلائیے، آپe نے فرمایا:
[إسْباغُ الوُضُوئِ علَی المَکارِہِ، وکَثْرَۃُ الخُطا إلی المَساجِدِ، وانْتِظارُ الصَّلاۃِ بَعْدَ الصَّلاۃِ، فَذَلِکُمُ الرِّباطُ۔] (مسلم: ۲۵۱)
’’تکلیف اور سختی کے باوجود مکمل وضو کرنا(مثلا بیماری یا سردی کی وجہ سے) اور قدموں کامسجد کی طرف زیادہ آنا اور ایک نمازکے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط یعنی نفس کو عبادت کے لئے روکنا ہے ۔‘‘
صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ جس عبادت میں جتنی مشقت ہوگی اس قدر اجروثواب ملے گا،سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں:
[أنَّ رسولَ اللہِﷺ قال لہا فی عُمرتِہا إنَّ لک من الأجرِ علی قدرِ نَصَبِک ونفقتِک۔] (صحیح الترغیب: ۱۱۱۶)
’’رسول اللہe نے مجھ سے میرے عمرہ کے بارے میں فرمایا کہ تمہیں اجر تمہاری مشقت اور خرچ کے بقدر ملے گا۔‘‘
یہاں یہ بات واضح رہے کہ جان بوجھ کر اپنے نفس کو مشقت میں ڈالنے والا اجر کا مستحق نہیں بلکہ وہ خود کو ہلاک کرنے والا ہے ، مشقت والے عمل کا مطلب ہے کہ خود اس کام میں مشقت ہو مثلا ٹھنڈے پانی سے وضو کی تکلیف اجر کا باعث ہے کیونکہ یہ خود کی مشقت نہیں ہے لیکن آگ میں کود کرعبادت کرنا یا پانی میں ڈوب کر اور زبان کاٹ کر ذکر کرنا بناوٹی مشقت ہے‘ اس سے انسان ہلاک ہوگا، یہ اجر والا کام نہیں۔ بعض صوفیا نے عبادت کے واسطے آنکھوں میں نمک لگائے، بعض نے ذکر کاٹے ، بعض نے ایک ٹانگ پر قرآن ختم کیا ، یہ سب بلااجر ہلاک کرنے والا عمل ہے۔
سردی میں مشقت والے عمل پر اللہ کی طرف سے زیادہ اجر ملتا ہے‘ اس وجہ سے مومنانہ کردار یہ ہونا چاہئے کہ زیادہ شوق سے کثرت سجود بجالائے ، جنت بھی تکلیف برداشت کرنے پر ہی ملے گی ، سیدنا انس بن مالکt سے روایت ہے، رسول اللہe نے فرمایا:
[حُفَّتِ الجَنَّۃُ بالمَکارِہِ، وحُفَّتِ النَّارُ بالشَّہَواتِ۔] (مسلم: ۲۸۲۲)
’’جنت گھیری گئی ہے ان باتوں سے جو نفس کو ناگوار ہیں اور جہنم گھیری گئی ہے نفس کی خواہشوں سے۔‘‘
آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ سرد موسم میں ذاتی ہر کام کرتے ہیں، مادی مفاد سے جڑے مشقت سے پر کام انجام دینے میں بھی گریز نہیں کرتے حتی کہ بہت سارے لوگ اس مہینے میں مختلف قسم کے کھیلوں میں وقت گزارتے ہیں تاہم عبادت وبندگی حددرجہ ان پر گراں گزرتی ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ عام دنوں کے بہت سارے نمازی اس موسم میں سست پڑجاتے اور نمازو ں سے غافل ہوجاتے ہیں ۔ایسے میں ہمارے ایمان کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ عارضی زندگی کے لئے کیا کچھ نہیں کرتے اور مستقل زندگی کے متعلق بے پروا ہ ہوجاتے ہیں۔
سردی مومنوں کے لئے موسم بہار ہے کیونکہ اس موسم میں ان کے لئے دوعظیم عبادتوں میں اللہ کی طرف سے آسانی پیدا کردی گئی ہیں ، ایک روزے کی عبادت ، اس کی آسانی دن کا چھوٹا ہونا ہے دوسری قیام اللیل کی عبادت ،اس کی آسانی رات کا لمبی ہونا ہے۔ نبیe کا فرمان ہے :
[الشتاءُ ربیعُ المؤمنِ طال لیلُہ فقامہ وقصُر نہارُہ فصامہ۔] (مسند احمد)
’’سردی کا موسم مومن کے لئے بہار کا موسم ہے کہ اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں جن میں وہ قیام کرلیتا ہے اور دن چھوٹے ہوتے ہیں جن میں وہ روزے رکھ لیتا ہے۔‘‘
اگرچہ اس حدیث پر محدثین نے کلام کیا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ سردی میں دن چھوٹا ہے اور رات لمبی ہوتی ہے اور اس حدیث کے آخری حصے کی تائید صحیح حدیث سے ہوتی ہے۔ نبیe کا فرمان ہے :
[الغَنیمۃُ الباردۃُ، الصَّومُ فی الشِّتائِ]
’’ٹھنڈا ٹھنڈا بغیر محنت کے مال غنیمت یہ ہے کہ روزہ سردی میں ہو۔‘‘ (الترمذی: ۷۹۷)
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام اور ہمارے اسلاف اس موسم کی آمد پر خوش ہوتے اور ان دونوں آسانی والی عبادت کا اہتمام کرتے تھے ۔
آج اللہ کی توفیق سے سردیوں سے بچنے کیلئے سیکڑوں اسباب ووسائل ظہور پذیر ہوئے ہیں ، وضو وغسل کے لئے ہمہ وقت گرم پانی کی سہولت، جسم کی حفاظت کے گرم ملبوسات اور جگہوں کو گرم کرنے والے نئے نئے آلات موجود ہیں، لہٰذا عبادتوں کی انجام دہی میں گرمی پہنچانے والے اسباب اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔ ساتھ ہی شریعت نے بھی پہلے سے ہماری لئے آسانیاں رکھی ہیں۔ موزے اور جراب پر مسح کرنا اور ضرر لاحق کی صورت میں یا پانی کی عدم دستیابی پر تیمم کرنا جائز ہے۔
آخر میں سردی کے موسم میں مومن بھائیوں کو میرا ایک پیغام ہے کہ اگر اللہ نے آپ کو مالدار بنایا ہے اور آپ کو ضرورت سے زیادہ دولت سے نوازا ہے تو اس موسم میں یتیم ومسکین اور محتاج وفقیر کا بھی خیال کریں ،آپ کے پاس سردی سے بچنے کے لئے مختلف قسم کے جیکٹ، سویٹر، لحاف، ہیٹراور عمدہ عمدہ گرم ملبوسات موجود ہیں مگر کتنے ایسے لوگ ہوں گے جو سردی سے ٹھٹھر رہے ہوں گے ، ان کے پاس بچاؤ کے لئے معمولی سامان بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا اپنے بچت مال سے محتاجوں کی ضرورت پوری کریں، چند افراد یا ایک فیملی یا اپنے ہی مفلس رشتہ دار کی اعانت کریں خواہ پیسے دے کر یا ملبوسات تقسیم کرکے، مستعمل کپڑے بھی دیئے جاسکتے ہیں۔کتنے غریب اس ماہ میں سخت بیمار ہوجاتے ہیں اور علاج کے لئے پیسہ نہیں پاتے تلاش کر کے ایسے لوگوں کی بھی مدد کریں۔ نبیe کا فرمان ہے :
[مَن فَرَّجَ عن مُسْلِمٍ کُرْبَۃً، فَرَّجَ اللَّہُ عنْہ بہا کُرْبَۃً مِن کُرَبِ یَومِ القِیامَۃِ۔]
’’جو شخص کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت دور کرے گا۔‘‘ (مسلم: ۲۵۸۰)


No comments:

Post a Comment

View My Stats