نمازِ کسوف 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

نمازِ کسوف 02-20


نمازِ کسوف

تحریر: جناب مولانا محمد اجمل بھٹی
سورج گرھن کا سبب:
زمانہ جاہلیت میں عربوں کا عقیدہ تھا کہ سورج یا چاند کو اسی وقت گرہن لگتا ہے جب کوئی اہم شخصیت پیدا ہو یا وفات پائے یا دنیا میں کوئی اہم واقعہ رونما ہو۔نبی اکرمe کے عہد مبارک میں سورج گرہن لگا اور اتفاق سے اسی دن آپ کا جگر گوشہ سیدنا ابراہیمu بھی وفات پا گیا تو لوگ کہنے لگے: ابراہیمu کی وفات کی وجہ سے سورج کو گرہن لگا ہے تو نبی کریمe نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور خطبہ ارشاد فرمایا ۔ آپ نے اس موقع پر ان کے اس غلط اور باطل عقیدے کی نفی فرمائی۔ یعنی سورج یا چاند کو گرہن لگنے کا تعلق کائنات کے واقعات سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت سے ہے۔ اللہ کی بڑی سے بڑی مخلوق بھی اس کے حکم سیروگردانی نہیں کرتی ۔ گویا اللہ اپنی قدرت وطاقت کے اظہار سے لوگوں کو ڈراتا ہے ۔ اے کمزور و ناتواں انسان! تو اللہ سے ڈر جا اور اپنی بخشش کا بہانہ ڈھونڈ !
رسول اللہe نے فرمایا :
چاند اور سورج کا گرہن اللہ کی قدرت کی نشانیاں  ہیں۔ کسی کے مرنے، جینے (یا کسی اور وجہ) سے نمودار نہیں ہوتیں۔ بلکہ اللہ (اپنے) بندوں کو  ڈرانے اور عبرت دلانے کے لیے ظاہر فرماتا ہے۔ اگر تم ایسی نشانیاں دیکھو تو جلد از جلد دعا، استغفار اور یاد الٰہی کی طرف رجوع کرو۔ (صحیح بخاری، حدیث ۱۰۴۷، وصحیح مسلم: ۲۱۵۶)
لہٰذا سورج گرہن کی وجہ سے کسی حاملہ کے حمل یادودھ پلانیوالی ماں کی صحت پر کچھ اثر نہیں پڑتا ۔ یہ سب غیر اسلامی نظریات اور عقائد ہیں ۔ ایک مسلمان کو اس سے بچنا چاہیے۔
 نماز کا حکم:
1          سورج گرہن کے وقت نماز کسوف ادا کرنا سنت مؤکدہ ہے
2          اسے مسجد میں باجماعت ادا کرنا مسنون ہے۔
3          خواتین بھی اس میں شامل ہوسکتی ہیں۔
4          امام جہری قراء ت کے ساتھ دو طویل رکعتیں پڑھائے گا
رسول اللہe نے فرمایا:
سورج گرہن اور چاند گرہن کسی کے مرنے یا پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتے۔ بلکہ یہ تو قدرت الٰہی کی دو نشانیاں ہیں، جب انہیں گرہن ہوتے دیکھو تو نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو حتیٰ کہ گرہن ختم ہو جائے۔ (بخاری: ۱۰۶۰)
 نماز کا اعلان:
سورج یا چاند گرہن کے وقت نماز کا اعلان کرنا مسنون ہے۔ البتہ اس کے لیے اذان یا اقامت نہیں ہے۔
سیّدنا عبد اللہ بن عمروt سے روایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو آپe نے ایک شخص کو یہ اعلان کرنے کا حکم فرمایا: [الصَّلاَۃَ جَامِعَۃٌ] نماز جمع کرنے والی ہے،تمہیں بلا رہی ہے ، جمع ہوجاؤ۔ (صحیح بخاری: ۱۰۴۵)
 نماز کا وقت:
1          اس نماز کا وقت سورج یا چاند کو گرہن لگنے سے شروع ہوتا ہے او ر گرہن ختم ہونے تک رہتاہے۔
2          اگر گرہن لگنے کی خبر کچھ تاخیر سے ملے تو خبر ملنے کے بعد نما ز شروع کی جاسکتی ہے۔
3          اگر گرہن ختم ہو جائے تو اس کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور اس نما ز کی قضا نہیں دی جاتی۔
4          اگر نماز کے دوران گرہن ختم ہو جائے تو نماز کو مختصر کر کے ختم کر سکتے ہیں اور اگر گرہن طویل ہو تو نماز کو لمبی قراء ت ، طویل سجدو ں اور لمبے رکوع کے ساتھ طویل کیا جاسکتا ہے۔
5          نبی کریمe نے گرہن کی طوالت کی وجہ سے ایک رکعت میں ۲ یا ۳ یا ۵ رکوع بھی کیے ہیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۱۱۸۴)
6          جو امام کے ساتھ دوسری رکعت میں ملے تو وہ مبینہ طریقے کے مطابق دوسری رکعت مکمل کرکے سلام پھیرے۔
 سورج گرہن کی نماز کا طریقہ:
1          نماز کسوف دو رکعت ہے۔ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد دعائے استفتاح پڑھنے کے بعد سورت فاتحہ اور کوئی لمبی سورت تلاوت کی جائے گی۔ پھرلمبے رکوع کے بعد دوبارہ اٹھ کر قراء ت کی جائے گی۔ پھر دو طویل سجدے کیے جائے گے ۔
2          اگلی رکعت بھی اسی طرح مکمل کی جائے گی۔ ایک رکعت میں دو یاتین رکوع کیے جاسکتے ہیں۔
3          رکوع کے بعد قومہ کرنے کی بجائے دوبارہ قراء ت شروع کر دینا ایک ہی رکعت کا تسلسل ہے لہٰذا اس موقع پر نئے سرے سے فاتحہ دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر پڑھ لیں تو کوئی حرج بھی نہیں۔
سیّدنا عبد اللہ بن عباسw سے روایت ہے کہ نبی رحمتe کے زمانے میں سورج گرہن ہوا۔ آپ نے باجماعت دو رکعات نماز پڑھائی۔ آپ نے سورت بقرۃ  جتنی لمبی تلاوت کے ساتھ لمبا قیام کیا پھر لمبا رکوع کیا۔ پھررکوع سے سر اٹھا کردوبارہ طویل تلاوت کی اور لمبا قیام کیا جو پہلے قیام سے مختصر تھا ۔پھر پہلے رکوع سے کم لمبا رکوع کیا۔ پھر (قومہ کر کے) دو طویل سجدے کئے۔ پھر کھڑے ہو کر لمبا قیام کیا، پھر دو رکوع کئے پھر دو سجدے  کیے جو پہلی رکعت کے سجدوں سے مختصر تھے۔ پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیرا۔ (بخاری: ۳۲۰۳)
 آپؐ کی نماز کی کیفیت:
1          سورج اور چاند گرہن کے موقع پر آپe پریشان ہو جاتے اور گھبرا اٹھتے اور نماز پڑھتے۔سیدہ اسماءr بیان کرتی ہیں کہ آپ کے زمانے میں (ایک دفعہ) سورج گرہن ہوا تو آپ گھبرا گئے اور گھبراہٹ میں اہل خانہ میں سے کسی کا کرتہ لے لیا۔ بعد میں چادر مبارک آپ کو پہنچائی گئی۔ سیدہ اسماءr بھی مسجد میں گئیں اور عورتوں کی صف میں کھڑی ہو گئیں۔ آپe نے اتنا طویل قیام کیا کہ ان کی نیت بیٹھنے کی ہو گئی لیکن انہوں نے ادھر ادھر اپنے سے کمزور عورتوں کو کھڑے دیکھا تو وہ بھی کھڑی رہیں۔ (صحیح مسلم: ۲۱۴۶)
2          سیّدنا جابرt کہتے ہیں کہ نبی رحمتe کے زمانے میں ایک سخت گرمی کے دن سورج گرہن ہوا، آپ نے صحابہ کرام] کو ساتھ لے کر نماز پڑھی۔ آپ نے اتنا طویل قیام کیا کہ لوگ گرنے لگے۔ (صحیح مسلم: ۱۱۸۱)
3          آپ کا گھبرانا اللہ کے ڈر کی وجہ سے تھا۔ جب آپ اللہ کے پیارے نبی ہو کر گھبرا اٹھتے تھے تو افسوس ہے ان امتیوں پر جو گنا ہوں کے بوجھ تلے دبے ہونے کے باوجود ایسے مواقع پر اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے۔ بلکہ کافروں کے دیکھا دیکھی اس منظر کو دور بینوں سے دیکھنے کا اہتمام کرتے اور پکنک کا ماحول بنا لیتے ہیں۔
4          سیدہ اسماءr کہتی ہیں کہ آپ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ مجھے (عورتوں کی صف میں کھڑے کھڑے) غش آ گیا۔ میں نے برابر میں اپنی مشک سے پانی لے کر سر پر ڈالا۔ (صحیح بخاری: ۸۶)
قارئین کرام غور فرمائیں ! نبی رحمتe کس قدر انہماک اور اہتمام سے سورج گرہن کی نماز پڑھتے تھے، ہمیں بھی اس نماز کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ رسول اللہe کے پیچھے عورتیں بھی سورج گرہن کی نماز پڑھتی تھیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم مسجد میں سورج گرہن کی نماز باجماعت کا اہتمام کریں اور ہماری عورتیں بھی ضرور مساجد میں جا کر نماز میں شامل ہوں۔
  خطبہ : 
دو طویل رکعات ادا کرنے کے بعد آپ نے صحابہ کرام] کو  خطبہ دیا جس میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا:
سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ کسی کے مرنے یا پیدا ہونے سے ان کو گرہن نہیں لگتا۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو۔ (دوران نماز) میں نے جنت دیکھی، اگر میں اس میں سے ایک انگور کا خوشہ لے لیتا تو تم رہتی دنیا تک اس میں سے کھاتے رہتے اور وہ ختم نہ ہوتا۔ میں نے دوزخ (بھی) دیکھی، اس سے بڑھ کر ہولناک منظر میں نے (کبھی) نہیں دیکھا۔ (اور) میں نے جہنم میں زیادہ تعداد عورتوں کی دیکھی عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے (عورتیں زیادہ جہنم میں کیوں ہیں) آپe نے فرمایا: وہ کفر کرتی ہیں۔ عرض کیا گیا کیا: اللہ کا کفر کرتی ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ خاوند کی ناشکری کرتی ہیں، اگر تم ایک طویل مدت تک ان میں سے کسی کے ساتھ اچھائی کرتے رہو پھر وہ اپنی مرضی کے خلاف کوئی کام دیکھے تو کہہ دیتی ہے کہ میں نے تجھ سے کبھی بھلائی نہیں دیکھی۔ (صحیح بخاری: ۱۰۵۲)
 عبرت ودروس:
1          اس سے معلوم ہوا کہ کسی محسن کی احسان فراموشی گناہ کبیرہ ہے۔ خواتین کو اپنے خاوند کے احسانات کا شکر گزار ہونا چاہیے اور اس کی فرمانبرداری کے ذر یعے اللہ رب العزت کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نیز جب کسی بندے کی احسان فراموشی کبیرہ گناہ ہے تو خالق حقیقی کی احسان فراموشی کس قدر عظیم گناہ اور خطرناک جرم ہو گا؟ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔ آمین۔
2          نماز کے بعد کثرت سے استغفار کرنا چاہیے، دعا مانگنی چاہیے، تسبیح و تکبیر پڑھنی چاہیے اور صدقہ کر کے اپنے رب سے گناہوں کی بخشش اور اس کی خوشنودی طلب کرنی چاہیے۔
3          دعا میں ہاتھ اٹھانا بھی مشروع ہے۔ (مسلم: ۲۱۵۷)
4          نبی رحمتe نے نماز کسوف کے دوران جہنم میں اس عورت کو جلتے ہوئے دیکھا جس نے بلی کو بھوکے پیاسے مار دیا تھا اور اسے نہ کھانے پینے کو دیا نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ اللہ کی زمین سے اپنا پیٹ بھر لیتی۔ معلوم ہوا کہ ظلم کی سزا بھی بہت بھیانک ہے۔ خواہ وہ جانوروں کیساتھ ہی کیوں نہ ہو۔
5          نبی کریمe نے دوران نماز عمر بن لحی کو بھی دیکھا کہ اس کی انتڑیاں پیٹ سے باہر نکلی ہوئی تھیں اور وہ سخت عذاب سے دو چار تھا ۔ یہ وہ بدنصیب شخص ہے جس نے عربوں میں بتوں کی پوجا شروع کرائی۔ لہٰذا شرک کا انجام بھی نہایت مہلک ہے۔
6          آپ نے اس چور کو بھی آگ میں جلتے دیکھا جو اپنی کھونٹی سے حاجیوں کا سامان چراتا تھا۔ اگر حاجی دیکھ لیتاتو معذرت کرلیتا کہ غلطی سے میری کھونٹی سے مال چپک گیا تھا اور حاجی غافل رہتا تو اس کاسامان لے اڑتا۔ چوری بھی کبیرہ گنا ہے اور بغیر توبہ کیے معاف نہیں ہوتا۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats