سیدنا سلمان فارسی کا قبولِ اسلام 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

سیدنا سلمان فارسی کا قبولِ اسلام 03-20


سیدنا سلمان فارسی﷜ کا قبولِ اسلام

تحریر: جناب مولانا عبدالسلام
قارئین! سیدنا عبداللہ بن عباسw سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے سیدناسلمان فارسیt نے اپنی آپ بیتی خود سنائی کہنے لگے:
میں اصبہان کی ایک بستی میں جسے جئی کہا جاتا تھا کا رہنے والا ایک فارسی شخص تھا، میرے والد اپنی بستی کے کسان تھے ، میں انہیں سب سے زیادہ محبوب تھا، وہ مجھ سے اسی طرح محبت کرتے رہے حتی کہ انہوں نے مجھے اس طرح اپنے گھر میں روک لیا یعنی آگ کا رکھوالا بنا کر جس طرح لڑکی کو روکا جاتا ہے۔ میں نے مجوسیت میں بہت محنت کی حتی کہ میں آگ کا مستقل نگران بن گیا جو آگ کو ایک گھڑی بجھنے نہیں دیتا تھا۔ میرے والدکی بہت بڑی جاگیر تھی‘ ایک دن وہ گھر کے کام کاج میں مصروف تھے، مجھ سے کہنے لگے بیٹے! آج میں گھر کے کام میں مصروف ہوں آپ جاگیر کا چکر لگا آؤ اور کچھ باتوں کا کہا، میں ان کے کام سے نکلا، میں عیسائیوں کے ایک کلیسے کے پاس سے گزرا‘ میں نے ان کی آواز سنی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں لوگوں کے معاملات کو نہیں جانتا تھا کیونکہ میرے والد نے مجھے گھر تک محدود رکھا تھا۔جب میں ان کے پاس سے گذرا اور ان کی آوازیں سنیں تو ان کے پاس چلا گیا، تاکہ دیکھوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھے ان کی نماز اچھی لگی اور ان کے معاملے میں دلچسپی ہونے لگی۔ میں کہنے لگا واللہ! یہ اس دین سے بہتر ہے جس پر ہم ہیں، واللہ! میں نے غروب آفتاب تک انہیں نہیں چھوڑا اور والد کے کہنے کے مطابق جاگیر پر بھی نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا: اس دین کی اصل کہاں ہے؟ وہ کہنے لگے شام میں ،پھر میں اپنے والد کے پاس آنے لگا جو میری تلاش میں چند لوگ بھیج چکے تھے۔ میں نے ان کو ان کے کام سے بھی مصروف کردیا تھا۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا بیٹے! کہاں تھے؟ کیا میں نے تمہیں کام سے نہیں بھیجا تھا ؟ میں نے کہا: ابا جان! میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جو اپنے کلیسے میں نماز پڑھ رہے تھے، میں نے ان کا طریقہ دیکھا تو مجھے بہت اچھا لگا ،میں سورج غروب ہونے تک انکے پاس ہی تھا۔ انہوں نے کہا: بیٹے! اس دین میں کوئی خیر نہیں ،تمہارا اور تمہارے آباء کا دین اس سے بہتر ہے ، میں نے کہا: ہر گز نہیں‘ اللہ کی قسم! وہ ہمارے دین سے بہتر ہے۔ وہ میرے بارے میں خوف زدہ ہو گیا (کہ کہیں میں ان کا دین نہ قبول کرلوں) اور میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈال دیں پھر مجھے اپنے گھر میں قید کر دیا۔ عیسائیوں نے میرے پاس پیغام بھیجا تو میں نے کہا کہ جب تمہارے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آئے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب ان کے پاس شام کے عیسائی تاجروں کا قافلہ آیا تو انہوں نے مجھے اطلاع دی ،میں نے کہا جب وہ اپنے کام سے فارغ ہو کر جانے لگیں تب مجھے خبر دینا۔ پھر جب وہ واپس جانے لگے تو انہوں نے مجھے بتایا‘ میں نے اپنے پاؤں سے بیڑیاں نکالیں اور ان کے ساتھ شام آگیا۔
جب میں شام پہنچا تو میں نے کہا: اس دین کے ماننے والوں میں سب سے بہترین شخص کون ہے؟ لوگوں نے کہا کنیسا کا پادری۔ میں اس کے پاس آیا اور کہا: مجھے اس دین کا شوق ہوا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کنیسا میں آپ کے ساتھ رہوں‘ کنیسا میں آپ کی خدمت کروں۔ آپ سے تعلیم حاصل کروں اور آپ کے ساتھ نماز پڑھو ں۔ اس نے کہا: آجاو، میں اس کے ساتھ اندر چلاگیا ، وہ ایک برا آدمی تھا۔ لوگوں کو صدقے کی ترغیب دیتا تھا‘ جب لوگ صدقے کی چیزیں جمع کر کے اس کے پاس لاتے تو اپنے پاس محفوظ کر لیتا اور مسکینوں کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ حتی کہ اس نے سونے چاندی کے سات مٹکے بھر لئے ۔ اسے ایسا کرتے دیکھ کر مجھے اس پر سخت غصہ آیا۔ پھر وہ مرگیا ، عیسائی اسے دفنانے کے لئے جمع ہو ئے میں نے ان سے کہا: یہ ایک برا آدمی تھا، یہ تمہیں صدقے کا حکم اور ترغیب دیتا تھا جب تم صدقہ اس کے پاس لاتے تو اپنے لئے رکھ لیتا اور مساکین کو اس میں سے کوئی چیز نہ دیتا۔ لوگوں نے کہا: یہ بات تمہیں کس نے بتائی؟ میں نے کہا: میں تمہیں اس کے خزانے تک لے چلتا ہوں۔ لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے تم اس کا خزانہ ہمیں دکھاؤ، میں نے اس کے خزانے کی جگہ انہیں دکھائی‘ انہوں نے وہاں سے سونے چاندی کے بھرے ہوئے سات مٹکے نکالے۔ جب انہوں نے وہ مٹکے دیکھے تو کہا: واللہ! ہم تو اسے کبھی بھی دفن نہیں کریں گے۔ لوگوں نے اسے سولی پرچڑھا دیا۔ پھر اسے پتھروں سے رجم کر دیا۔
پھر ایک دوسرے آدمی کو لا کر اس کی جگہ مقرر کر دیا۔ میں نے پانچ نمازیں نہ پڑھنے والوں میں سے (یعنی مسلمانوں کے علاوہ) ایسا کوئی آدمی نہیں دیکھا، دنیا میں انتہائی بے رغبت ،آخرت کی طرف رغبت رکھنے والا، دن اوررات عبادت میں انتہائی محنت کرنے والا۔میں اس سے اتنی محبت کرنے لگا کہ اس سے پہلے کسی سے نہ کی تھی، میں کافی عرصہ اس کے ساتھ رہا، جب وہ فوت ہونے لگا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! میں تمہارے ساتھ رہا اور تم سے اتنی محبت کی جتنی پہلے کسی سے نہ کی تھی اور اب آپ کے لئے اللہ کا حکم آپہنچا ہے۔ آپ کس شخص کی طرف جانے کا مجھے حکم دیتے ہیں؟ اور میرے لئے اب کیا حکم ہے؟ اس نے کہا: بیٹے! واللہ آج کے دن میں کسی کو اس دین پر نہیں دیکھتا جس پر میں ہوں، لوگ ہلاک ہوگئے اور انہوں نے دین میں تبدیلیاں کرلیں اور انہوں نے اکثر چیزوں کو چھوڑ دیا جن پر اسلاف تھے، سوائے ایک شخص کے جو (موصل) میں ہے۔ اس کا خاص نام بتایا، وہ اسی دین پر ہے جس پر میں ہوں‘ اس سے جا کر ملو۔
جب وہ مر گیا اوراسے دفنا دیا گیا تو میں (موصل) والے شخص کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے اپنی موت کے وقت مجھے وصیت کی تھی کہ میں تم سے ملوں اور اس نے مجھے بتایا تھا کہ تم اس کے دین پر ہو۔ اس نے مجھے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس قیام کرو، میں اس کے پاس ٹھہرا رہا‘ میں نے اسے بھی اپنے ساتھی کے دین پر عمل کرنے والا بہترین آدمی پایا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت آگیا۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے تمہاری طرف بھیجا تھا اور اب تمہارے پاس بھی اللہ کا حکم آگیا ہے، آپ مجھے کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہیں اور مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے کہا: بیٹے! واللہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس دین پر ہو جس پر ہم تھے سوائے ایک شخص کے جو(نصیبین) میں ہے۔ فلاں نام ہے اس سے جا ملو۔
جب وہ مرگیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں(نصیبین ) والے سے جا ملا۔ میں اس کے پاس آیا اور اپنا واقعہ بتایا اور میرے ساتھی نے مجھے جو حکم دیا تھا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے میرے پاس ٹھہرو ۔ میں نے اس کے پاس قیام کیا اور اسے بھی اپنے دونوں ساتھیوں کے دین پر پایا۔ میں نے ایک بہتر شخص کے ساتھ قیام کیا‘ واللہ! ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس کی موت کا وقت بھی آگیا ۔جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! فلاں شخص نے مجھے فلاں کی طرف وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف وصیت کی تم کس شخص کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: بیٹے! واللہ میرے علم میں نہیں کہ ہمارے دین پر کوئی شخص باقی ہے جس کے بارے میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ سوائے ایک آدمی کے جو عموریہ میں ہے، وہ شخص ہمارے دین پر ہے۔ اگر تمہیں پسند ہو تو اس کے پاس چلے جاو، کیونکہ وہ ہمارے دین پر ہے۔
اس کو پڑھیں:  سیدنا امیر معاویہ﷜
جب وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا تو میں عموریہ والے کے پاس چلا گیا اور اپنا واقعہ بتلایا۔ اس نے کہا: میرے پاس قیام کر لو، میں اس شخص کے پاس ٹھہرا رہا جو اپنے ساتھیوں کے دین اور طریقے پر تھا۔ میں نے کمائی بھی کی حتی کہ میری کچھ گائیں اور مال ہو گیا۔ پھر اس پر بھی اللہ کا حکم نازل ہو گیا، جب اس کی موت کا وقت آگیا تو میں نے اس سے کہا: اے فلاں! میں فلاں کے پاس تھا ،اس نے مجھے فلاں کے پاس جانے کی وصیت کی ،اس نے مجھے کسی اور کے پاس جانے کی وصیت کی، پھر اس نے مجھے تمہاری طرف جانے کی وصیت کی۔ تم مجھے کس کی طرف جانے کی وصیت کرتے ہو؟ اور مجھے کیا حکم دیتے ہو؟ اس نے کہا: بیٹے! اب ایسا وقت آگیا ہے کہ میرے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو ہمارے دین پر ہو جس کے بارے میں میں تمہیں کہوں کہ تم اس کے پاس جاؤ، لیکن اب ایک نبی کے مبعوث ہونے کا وقت قریب ہے، جو دین ابراہیم کے ساتھ مبعوث ہوگا، عرب کی سر زمین میں اس کا ظہور ہوگا، دو پہاڑوں کے درمیان والی جگہ کی طرف ہجرت کرے گا، جس میں کھجوریں ہیں، اس میں ایسی علامات ہیں جو مخفی نہیں،تحفہ قبول کرے گا، صدقہ نہیں کھائے گا، اس کے کاندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اگر تم میں اتنی طاقت ہے کہ اس سے جا ملو تو ایسا کر گزرو۔ پھر وہ مر گیا اور اسے دفنا دیا گیا جب تک اللہ نے چاہا میں (عموریہ) میں ٹھہرا رہا۔
پھر بنو کلب کا ایک تجارتی قافلہ میرے پاس سے گزراتو میں نے ان سے کہا: تم مجھے سر زمین عرب تک لے چلو ، میں اپنی ساری گائیں اور بکریاں تمہیں دے دوں گا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں نے انہیں ساری گائیں اور بکریاں دے دیں اور انہوں نے مجھے سوار کر لیا ،حتی کہ جب وادی قریٰ میں پہنچے تو مجھ پر ظلم کرتے ہوئے ایک یہودی شخص کے ہاتھ غلام بنا کر بیچ دیا ،میں اس کے پاس ٹھہرا رہا ، میں نے کھجوریں دیکھیں، مجھے امید تھی کہ یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں مجھے میرے ساتھی نے بتایا تھا ، لیکن ابھی مجھے پختہ یقین نہیں تھا، میں اس یہودی کے پاس ہی تھا کہ بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والا اس کے چچا کا بیٹا مدینے سے اس کے پاس آیا اور اس سے مجھے خرید لیا ، اور مدینے لے آیا ۔ واللہ جب میں نے وہ علاقہ دیکھا تو اپنے ساتھی کے بتائے ہوئے وصف کی بنا پر اسے پہچان لیا۔ میں وہیں ٹھہرا رہا ، اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ میں مبعوث کر دیا ، اور وہ مکہ میں قیام پذیر رہا جب تک اللہ نے چاہا میں غلامی کی مصیبت میں ہونے کی وجہ سے اس کا تذکرہ نہیں سن سکا۔ پھر اس نے مدینے کی طرف ہجرت کی۔ واللہ! میں ایک کھجور کی چوٹی پر چڑھا اور کوئی کام کر رہا تھا، میرا مالک نیچے بیٹھا ہوا تھا، اچانک اس کے چچا کا بیٹا اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا: اللہ بنی قیلہ کو برباد کرے! وہ اس وقت(قباء) میں اس شخص کے پاس جمع ہو رہے ہیں جو آج مکہ سے آیا ہے، ان کا خیال ہے کہ وہ نبی ہے۔جب میں نے یہ بات سنی تو مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ،حتی کہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر جاؤں گا۔ میں نیچے اترا اور اس کے چچا کے بیٹے سے پوچھنے لگا: تم کیا کہہ رہے تھے؟ تم کیا کہہ رہے تھے؟ میرا مالک غصے ہوگیا اورایک شدید قسم کا گھونسہ رسید کردیا پھر کہنے لگا: تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اپنے کا م پر توجہ دو، میں نے کہا: کچھ نہیں میں تو ویسے ہی یہ بات پوچھ رہا تھا۔ میرے پاس کچھ سامان تھا جو میں نے جمع کیا تھا ، شام ہوئی تو میں وہ سامان لے کر رسول اللہe کے پاس پہنچا‘ آپ قباء میں تھے ، میں آپ کے پاس آیا تو کہا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نیک آدمی ہیں اور آپ کے ساتھ آپ کے غریب حاجتمند ساتھی ہیں، میرے پاس یہ کچھ سامان صدقہ کے لئے ہے، تو میرے خیال میں آپ اس کے زیادہ حقدار ہیں؟ میں نے وہ سامان آپ کی طرف بڑھا دیا۔ رسول اللہe نے اپنے صحابہ سے کہا: کھاؤ اور اپنا ہاتھ روک لیا، آپ نے اس میں سے نہیں کھایا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: یہ پہلی نشانی ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور کچھ چیزیں جمع کیں‘ رسول اللہe مدینے آگئے تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ صدقہ نہیں کھاتے ، یہ آپ کے لئے تحفہ ہے، رسول اللہe نے اس میں سے کھا لیا اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تو انہوں نے بھی اس میں سے کھا لیا، میں نے اپنے دل میں کہا: یہ دوسری نشانی ہے۔ پھر میں رسول اللہe کے پاس آیا تو آپ بقیع الغرقد میں تھے اور اپنے کسی صحابی کے جنازے میں شریک تھے ۔آپ کے اوپر دو چادریں تھیں اورآپ صحابہ میں بیٹھے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا، پھر میں گھوما، آپ کی پشت کی طرف آکر دیکھا کہ کیا میں وہ مہر نبوت دیکھ سکتا ہوں جو میرے ساتھی نے مجھے بتائی تھی۔ جب رسول اللہe نے مجھے اس طرح گھومتے دیکھا تو جان گئے کہ میں ایسی چیز کا ثبوت تلاش کر رہا ہوں جو مجھے بیان کی گئی ہے۔ آپ نے اپنی کمر سے چادر گرادی‘ میں نے اس مہر کی طرف دیکھا تو پہچان گیا، میں ان سے چمٹ گیا اسے بوسہ دینے لگا اور ساتھ ساتھ رونے لگا۔ رسول اللہe نے مجھ سے کہا کہ پیچھے ہو جاؤ۔ میں ان سے ہٹ گیا اور آپ کو اپنی داستان سنائی جس طرح اے ابن عباسw میں نے آپ کو سنائی ہے‘ رسول اللہe کو یہ بات پسند آئی کہ میں اپنی داستان آپ کے صحابہ کو سناؤں، اس کے بعد سلمان غلام ہی رہے ،غلامی کی وجہ سے غزوہ بدر و احد میں شریک نہ ہو سکے ۔
پھر رسول اللہe نے مجھ سے کہا: سلمان! مکاتبت کر لو۔ میں نے اپنے مالک سے پانی کے راستے پر تین سو کھجور کے درخت لگانے اور چالیس اوقیہ چاندی پر مکاتبت کر لی۔ رسول اللہe نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، لوگوں نے کھجور کے درختوں کے پنیری کے ساتھ میری مدد کی، کوئی آدمی تیس کھجوریں ، کوئی آدمی بیس، کوئی پندرہ ، کوئی دس لے آیا یعنی جس آدمی کی جتنی استطاعت تھی اس نے میری مدد کی ، حتی کہ میرے لئے تین سو کھجور کی پنیری جمع ہوگئیں۔ رسول اللہe نے مجھ سے کہا: سلمان جاؤ ان کے لئے گڑھے کھودو، جب گڑھے کھود کر فارغ ہو جاؤ تو میرے پاس آجانا ،میں انہیں اپنے ہاتھ سے رکھوں گا۔ میں نے ان کے لئے گڑھے کھودے، میرے ساتھیوں نے میری مدد کی ،جب میں ان سے فارغ ہو گیا تو آپ کے پاس آیا اور آپ کو بتایا تو رسول اللہe میرے ساتھ نکل پڑے۔ ہم کھجور کے پودے آپ کے قریب کرنے لگے اور رسول اللہe انہیں اپنے ہاتھ سے رکھنے لگے‘ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے! ان میں سے ایک پودا بھی نہیں مرجھایا، میں نے وہ کھجوریں اسے دے دیں باقی مال میرے ذمے رہا۔
رسول اللہe کے پاس مرغی کے انڈے کے برابر سونے کی ڈلی کسی معرکے میں سے آئی تو آپ نے فرمایا: فارسی کا کیا حال ہے؟ مجھے بلایا گیا، آپ نے فرمایا: یہ پکڑو اور تم پر جو ہے اسے ادا کردو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر جو رقم ہے یہ اس کے برابر کہاں پہنچ سکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے لے لو اللہ عزوجل اس کے ذریعے تمہاری رقم ادا کردے گا۔ میں نے وہ ڈلی لے لی اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، اس ڈلی سے میں نے ان کو چالیس اوقیے وزن کرکے دئیے۔ میں نے ان کا حق انہیں ادا کیا، مجھے آزاد کر دیا گیا پھر میں رسول اللہe کے ساتھ خندق میں حاضر ہوا‘ اس کے بعد پھر کسی معرکہ میں بھی پیچھے نہیں رہا۔ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ للالبانی: ۲۶۳)


No comments:

Post a Comment

View My Stats