قرآن کریم میں اعراب 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

قرآن کریم میں اعراب 03-20


قرآن کریم میں اعراب

تحریر: جناب مولانا ابوفوزان
اہل بدعت کی طرف سے بارباریہ بات اٹھائی جاتی ہے کہ قرآن کریم میں پہلے زبرزیرنہیں تھا بعدمیں داخل کیا گیا، کیونکہ یہ اچھی چیز ہے‘ اس سے ثابت ہوا کہ دین میں بدعت حسنہ کی گنجائش ہے۔
لیکن یہ سوچ غلط ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی خوفناک بھی ہے کہ قرآن میں پہلے زیرزبرنہیں تھا، سچ یہ ہے کہ قرآن میں زبرزیر تب سے ہے جب سے قرآن ہے، البتہ اسے لکھا بعدمیں گیا، اوربعدمیں لکھنے کے لئے دلیل موجودہے،لکھنے کی دلیل ہم آگے پیش کریں گے پہلے اس بات کے دلائل سامنے رکھ دیں کہ قرآن مجید میں زیرزبرنیانہیں، ملاحظہ ہو:
پہلی دلیل:
قرآن مجید ہم تک تلاوت ہوکرپہنچاہے،سب سے پہلے اللہ کریم نے اس کی تلاوت کی، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿تِلْك آیَاتُ اللَّه نَتْلُوها عَلَیْك بِالْحَقِّ﴾
’’یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم تم پرحق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں (یعنی پڑھتے ہیں)۔‘‘ (الجاثیۃ: ۶)
اللہ تعالیٰ کے بعد جبریلu نے اس قرآن کو اللہ کے نبیe تک پہنچایا:
﴿وَإِنَّه لَتَنْزِیلُ رَبِّ الْعَالَمِینَ٭ نَزَلَ بِه الرُّوحُ الْأَمِینُ٭ عَلَی قَلْبِك لِتَكونَ مِنَ الْمُنْذِرِینَ٭ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُبِینٍ﴾ (الشعراء: ۱۹۲)
’’اور بیشک یہ (قرآن) رب العالمین کا نازل فرمایا ہوا ہے۔اسے امانت دار فرشتہ لے کر آیا ہے، آپ کے دل پر اترا ہے کہ آپ آگاہ کر دینے والوں میں سے ہوجائیں، صاف عربی زبان میں ہے۔‘‘
اس کے بعد جبریلu نے بھی قرآن مجید کو پڑھ کراورتلاوت کرکے رسول اللہe کو سکھا یا۔ بخاری میں ہے:
[وَكانَ یَلْقَاه فِی كلِّ لَیْلَة مِنْ رَمَضَانَ فَیُدَارِسُه القُرْآنَ۔] (البخاری: ۶)
یعنی جبریلu رمضان کی ہررات رسول اکرمe سے ملتے اورآپ کوقران پڑھاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے نبیe نے قرآن پڑھ کر ہی صحابہ کرام] کوبتلایا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا بغیرزبرزیرکے قرآن کی تلاوت یا اسے پڑھنا ممکن ہے؟ ہرگزنہیں!
مثال کے طورپر آپ کسی بھی شخص سے کہیں کہ سورہ فاتحہ کی آیت ﴿الْحَمْدُ لِلَّه رَبِّ الْعَالَمِینَ﴾ پڑھے، پھراس سے سوال کریں کہ
’’تم نے ’’الحمد‘‘ کے ’’ح‘‘ پرکیا پڑھا ؟‘‘
وہ جواب دے گا زبرپڑھا ، اب سوال کیجئے کہ رسول اکرمe نے جب اسی ’’الحمد‘‘ کو پڑھا تھا توکیا پڑھا تھا؟
یقینا آپe نے زبرہی پڑھا تھا، اسی طرح جبریلu نے تلاوت کی اوراس سے پہلے اللہ کریم نے تلاوت کی۔
 دوسری دلیل:
زیرزبرلکھنے سے پہلے قرآن کا جوتلفظ تھا وہی تلفظ آج بھی ہے، اس پرپوری امت کا اجماع ہے کسی کا اختلاف نہیں ،یہ اس بات کی دلیل ہے کہ زیرزبرپہلے ہی سے تھا،البتہ لکھا ہوا نہیں تھابعد میں لکھا گیا۔
 تیسری دلیل:
زبرزیرلکھنے سے پہلے قرآنی آیات کے جومعانی تھے وہی معانی اب بھی ہیں، اگرزبرزیرنیا ہوتاتومعانی بدل جاتے،یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں زبرزیرپہلے ہی سے موجودتھا البتہ اسے لکھا بعدمیں گیا۔
 چوتھی دلیل:
زبرزیرلکھنے سے پہلے ہرحرف پردس نیکیوں کا ثواب تھا اورزبرزیرلکھنے کے بعد بھی ثواب اتنا ہی ہے،اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی،یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ زبرزیرنیانہیں بلکہ پہلے ہی سے ہے البتہ اس کی کتابت بعدمیں ہوئی۔
 پانچویں دلیل:
قرآن نے پوری دنیا کوچیلنج کیا ہے کہ کوئی بھی قرآن جیسی کوئی سورۃ نہیں بنا سکتا،اگرپوری دنیا قرآن جیسی سورۃ پیش کرنے سے عاجز ہے توخودمسلمانوں میں یہ طاقت کہاں سے آگئی کہ وہ قرآن میں قرآن ہی جیسی کوئی چیز داخل کریں اوروہ بھی ’’الحمد‘‘ سے لیکر ’’الناس‘‘ تک؟
اس سے بھی ثابت ہواکہ زبرزیرکوبعدمیں داخل نہیں کیا گیا بلکہ یہ قرآن میں پہلے ہی سے موجودتھا۔
 چھٹی دلیل:
صحابہ کرام] وازواج مطہرات باقائدہ زبر زیر سے استدلال کرتے تھے، ملاحظہ ہو:
[حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُكیْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّیْثُ، عَنْ عُقَیْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهابٍ، قَالَ: اَخْبَرَنِی عُرْوَة: أَنَّه سَاَلَ عَائِشَة رَضِیَ اللَّه عَنْها، زَوْجَ النَّبِیِّﷺ اَرَأَیْتِ قَوْلَه: ’حَتَّی إِذَا اسْتَیْأَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا اَنَّهمْ قَدْ كذِّبُوا‘ اَوْ كذِبُوا؟ قَالَتْ: بَلْ كذَّبَهمْ قَوْمُهمْ، فَقُلْتُ: وَاللَّه لَقَدِ اسْتَیْقَنُوا اَنَّ قَوْمَهمْ كذَّبُوهمْ، وَمَا هوَ بِالظَّنِّ، فَقَالَتْ: یَا عُرَیَّة لَقَدِ اسْتَیْقَنُوا بِذَلِك، قُلْتُ: فَلَعَلَّها اَوْ كذِبُوا، قَالَتْ: ’مَعَاذَ اللَّه! لَمْ تَكنِ الرُّسُلُ تَظُنُّ ذَلِك بِرَبِّها، وَأَمَّا هذِه الآیَة‘، قَالَتْ: همْ اَتْبَاعُ الرُّسُلِ، الَّذِینَ آمَنُوا بِرَبِّهمْ وَصَدَّقُوهمْ، وَطَالَ عَلَیْهمُ البَلاَئُ، وَاسْتَأْخَرَ عَنْهمُ النَّصْرُ، حَتَّی إِذَا اسْتَیْاَسَتْ مِمَّنْ كذَّبَهمْ مِنْ قَوْمِهمْ، وَظَنُّوا اَنَّ اَتْبَاعَهمْ كذَّبُوهمْ، جَائَهمْ نَصْرُ اللَّه (صحیح البخاری: ۴/۱۵۰، رقم: ۳۳۸۹)
یحییٰ بن بکیر لیث عقیل ابن شہاب عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے زوجہ رسول اللہe سیدہ عائشہr سے دریافت کیا کہ بتائے (فرمان خداوند ی) جب رسول مایوس ہو گئے اور انہیں یہ گمان ہوا کہ انکی قوم انہیں جھٹلا دے گی میں ’’کذبوا‘‘ کے ذال پر تشدید ہے یا نہیں؟ یعنی کذبوا ہے یا تو انہوں نے فرمایا (کذبوا ہے) کیونکہ انکی قوم تکذیب کرتی تھی میں نے عرض کیا بخدا رسولوں کو تو اپنی قوم کی تکذیب کا یقین تھا (پھر ظنوا کیونکر صادق آئے گا) تو عائشہr نے فرمایا: اے عریہ! (تصغیر عروہ) بیشک انہیں اس بات کا یقین تھا‘ میں نے عرض کیا شاید یہ کذبوا ہے۔ سیدہ عائشہr نے فرمایا: معاذ اللہ! انبیاء اللہ کے ساتھ ایسا گمان نہیں کر سکتے (کیونکہ اس طرح معنی یہ ہوں گے کہ انہیں یہ گمان ہوا کہ ان سے جھوٹ بولا گیا یعنی معاذ اللہ! خدا نے فتح کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ لیکن مندرجہ بالا آیت میں ان رسولوں کے وہ متبعین مراد ہیں جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئے تھے اور پیغمبروں کی تصدیق کی تھی پھر ان کی آزمائش ذرا طویل ہوگئی اور مدد آنے میں تاخیر ہوئی حتیٰ کہ جب پیغمبر اپنی قوم سے جھٹلانے والوں کے ایمان سے مایوس ہو گئے اور انہیں یہ گمان ہونے لگا کہ ان کے متبعین بھی ان کی تکذیب کر دیں گے تو اللہ کی مدد آ گئی ۔
اس حدیث میں غورفرمائیں کہ سیدہ عائشہr نے یہاں اعراب پربحث کی ہے‘ اس سے ثابت ہو اکہ اعراب اور زبر زیر قرآن میں پہلے ہی سے ہے۔
 ساتویں دلیل:
اللہ تعالیٰ نے نبیe سے اس بات کی نفی کی ہے کہ وہ اس قرآن میں اپنی طرف سے کچھ داخل نہیں کرسکتے اوربالفرض وہ اگرایسا کرنے کو کوشش کریں گے تو ہم ان کی شہ رگ کاٹ دیں گے، ارشاد ہے:
﴿تَنْزِیلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ٭ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیلِ٭ لَاَخَذْنَا مِنْه بِالْیَمِینِ٭ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْه الْوَتِینَ٭ فَمَا مِنْكمْ مِنْ اَحَدٍ عَنْه حَاجِزِینَ﴾ (الحاقة: ۴۳-۴۷)
’’یہ تو (رب العالمین کا) اتارا ہوا ہے۔ اگر یہ ہم پر کوئی بات بنا لیتا ،تو البتہ ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑ لیتے،پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے ،پھر تم سے کوئی بھی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا ۔‘‘
غورکریں کہ جب اللہ تعالیٰ کے نبیe کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ قرآن میں اپنی طرف سے کچھ داخل کرسکیں ، بالفرض ایسا کرنے پرانہیں سخت وعید سنائی گئی ہے ،تو ایک معمولی انسان کواتنی جرأت کیسے ہوگئی کہ وہ پورے قرآن میں اپنی طرف سے زبرزیرداخل کردے ۔
 آٹھویں دلیل:
اہل سنت والجماعت اور محدثین کرام کا عقیدہ ہے کہ قرآن مخلوق نہیں، اب بتائیے کہ جوچیز غیرمخلوق ہے اس میں مخلوق اضافہ کیسے کرسکتی ہے؟؟؟
 نویں دلیل:
اللہ تعالیٰ نے اس بات کی ذمہ داری لی ہے کہ وہ قرآن مجید کواپنی اصلی شکل میں محفوظ رکھے گا،ارشادہے:
﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَإِنَّا لَه لَحَافِظُونَ﴾
’’قرآن کو ہم نے ناز ل کیا ہے اورہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ (الحجر: ۹)
غورکریں کہ جس چیز کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالی نے لے رکھی ہے ،اس میں کوئی چیز گھٹانے یا بڑھانے کی جرأت کسے ہوسکتی ہے؟؟؟معلوم ہوا کہ قرآن اب بھی اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہے‘ اس میں کسی بھی چیز کا اضافہ نہیں ہوا۔
لہٰذا زبرزیرلازمی طور پر قرآن مجید میں پہلے ہی سے موجودہے البتہ شروع میں اسے لکھا نہیں گیا تھااوربعدمیں اسے لکھ دیا گیا۔
 دسویں دلیل:
اگرلکھنے سے کوئی چیز نئی ہو جاتی تو لازم آئے گا کہ پورا قرآن بھی بعدمیں بنایا گیا ہے۔
اس لئے کہ جبریلu نے نبیe کو جو قرآن پیش کیا وہ لکھا ہوا نہیں تھا ،پھراللہ کے نبیe نے جو قرآن صحابہ] کو پڑھ کرسنایا وہ بھی لکھا ہوانہیں تھا، البتہ نبیe سے سننے کے بعدصحابہ کرام] نے اسے لکھ لیا، تو کیا یہ کہہ دیاجائے کہ پورا قرآن بھی اسلام میں منجانب اللہ پہلے ہی سے نہیں تھا اسے صحابہ کرام] نے اپنی طرف سے بنایاہے؟
لہٰذا جس طرح قرآن کوبعدمیں لکھنے سے وہ نیا نہیں ہوجاتااسی طرح زبرزیرکوبھی بعدمیں لکھنے سے وہ نیا نہیں ہوجائے گا۔ … تلک عشرۃ کاملہ۔
اب اگرکوئی کہے کہ ٹھیک ہے کہ زبرزیرپہلے سے موجودتھا اوراس کے لکھنے سے قرآن میں اضافہ بھی نہیں ہوتا لیکن فی نفسہ یہ لکھنا توایک نیا عمل ہے ، لہٰذا بدعت ہوا۔
توعرض ہے کہ زبرزیرلکھنا بدعت ہر گز نہیں کیونکہ اس کے لکھنے کی دلیل موجودہے ملاحظہ ہو:
[عَنْ عَبْدِ اللَّه بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كنْتُ اَكتُبُ كلَّ شَیْئٍ اَسْمَعُه مِنْ رَسُولِ اللَّهﷺ اُرِیدُ حِفْظَه، فَنَهتْنِی قُرَیْشٌ وَقَالُوا: اَتَكتُبُ كلَّ شَیْء ٍ تَسْمَعُه وَرَسُولُ اللَّهﷺ بَشَرٌ یَتَكلَّمُ فِی الْغَضَبِ، وَالرِّضَا، فَاَمْسَكتُ عَنِ الْكتَابِ، فَذَكرْتُ ذَلِك لِرَسُولِ اللَّهﷺ، فَاَوْمَاَ بِاُصْبُعِه إِلَی فِیه، فَقَالَ: اكتُبْ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِه مَا یَخْرُجُ مِنْه إِلَّا حَقٌّ۔] (سنن أبی داؤد: ۳۱۸، رقم: ۳۶۴۶)
صحابی رسول عبداللہ بن عمروw فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرمe سے جو باتیں سنا کرتا تھا انہیں لکھا کرتا تھا یاد کرنے کے لیے۔ لیکن مجھے قریش نے منع کیا اور کہنے لگے کہ تم رسولe کی ہر بات کو جو سنتے ہو لکھ لیا کرتے ہو حالانکہ رسول اکرمe بشر ہیں (اور بشری تقاضا کی وجہ سے آپ کو غصہ بھی آتا ہے، خوشی کی حالت بھی ہوتی ہے) اور آپ کبھی غصہ میں اور کبھی خوشی کی حالت میں گفتگو کرتے ہیں لہٰذا میں نے کتابت سے ہاتھ روک لیا اور اس کا تذکرہ رسول اکرمe سے کیا، آپe نے اپنی انگلیوں سے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ لکھا کرو‘ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس منہ سے سوائے حق بات کے اور چیز نہیں نکلتی۔‘‘
اس حدیث میں آپe نے اپنے منہ سے نکلی ہوئی ہرچیز کو لکھنے کی اجازت دی اور قرآن بھی آپe کے منہ سے تلاوت ہوکرامت کو ملاہے،اورپہلے واضح کیا جاچکا ہے کہ تلاوت زبرزیرکے ساتھ ہی ہوتی ہے، گویا کہ زبر زیر بھی آپe کے منہ سے ہی نکلا ہے،لہٰذامذکورہ حدیث میں اس کے لکھنے کا بھی جواز موجودہے۔ لہٰذا قران مجید میں اعراب لگانے پراس حدیث سے دلیل موجودہے۔
اللہ کے نبیe کے دورمیں زبرزیرنہیں لکھا گیا کیونکہ اس وقت کسی نے اس کی ضرورت محسوس نہ کی گرچہ اس کا جواز موجود تھا، لیکن ہمیں اس کی ضرورت ہے‘ اس لئے اس جواز پرعمل کرتے ہوئے ہمارے لئے اعراب دیا گیا۔ خلاصہ کلام یہ کہ زبرزیرلکھنے پردلیل موجودہے لہٰذا یہ بدعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ حق بات کو سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats