درس قرآن وحدیث 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

درس قرآن وحدیث 03-20


درسِ قرآن
صبر ... شیوۂ پیغمبری (2)
ارشادِ باری ہے:
﴿فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِؕ۰۰۱۵ وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِۚ۰۰۱۶﴾
’’اس انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا خدا امتحان کرتا ہے پھر اسے عزت و نعمت بخشتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی۔ اور جب وہ اسے جانچتا ہے پھر (اس غرض سے) رزق میں تنگی کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر ڈالا۔‘‘ (الفجر)
لیکن ایسے حالات اور پریشانی کے اوقات میں ایک مسلمان کا رد عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ ثابت قدمی سے صبر کا دامن تھامے رہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا رہے۔قرآن مجید کے مطابق سب سے بڑا صلہ جس چیز کا ملنا ہے، وہ صبر ہی ہے۔
اسی طرح قوموں کی زندگی میں عروج پانے اور دوسری اقوام کے مقابلے میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے بھی صبر ہی اسلحہ و جہاد کی حیثیت رکھتا ہے۔
انفرادی زندگی میں فرد مصائب وآلام کے باوجود اگر حق پر صبر کرتے ہوئے قائم رہے گا تو اللہ اسے جنت میں اعلیٰ مقامات عطا فرمائے گا۔ اگر کوئی قوم اپنے اجتماعی وجود میں آزمائشوں کے آنے پر حق پر قائم رہتی ہے تو وہ دنیا میں فائزالمرامی پائے گی۔ قرآن مجید نے فرمایا:
﴿اِنِّيْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠۰۰۱۱۱﴾
’’آج میں نے ان کوان کے صبر کا بدلہ دیا ہے اور آج یہ فائزالمرام (کامیاب وکامران ) ہیں ۔‘‘
اگر شدائد شدید تر ہوں تو صبر کا یہ صلہ دوہرے اجر سے بڑھ کر بے حساب صبر کی شکل بھی اختیار کر جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۰۰۱۰﴾
’’جو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے، ان کا صلہ بے حساب پورا کیا جائے گا۔‘‘
جذبات کو قابومیں رکھنے اور صبر و تحمل کی فضیلت اور ثواب کی کثرت اس بنیاد پر بھی ہے کہ اس میں ایک شخص کو امتحان کی مختلف راہ سے گزرنا پڑتا ہے۔ کہیں ملتے ہوئے فائدوں سے محرومی کو گوارا کرنا پڑتا ہے، کبھی خارجی مجبوری کے بغیر خود سے اپنے آپ کو کسی چیز کا پابند کرلینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی بے عزتی کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ کہیں زیادہ کو چھوڑ کر کم پر قانع ہونا پڑتا ہے، کہیں قدرت رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ پاوٴں کو روک لینا پڑتا ہے۔ کہیں اپنی مقبولیت کو دفن کرنے پر راضی ہونا پڑتا ہے، کہیں شہرت اور استقبال کے راستے کو چھوڑ کر گمنامی کے طریقے کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔

درسِ حدیث
حقیقی مسلمان کون؟!
فرمان نبویﷺ ہے:
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصw سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔‘‘ (بخاری)
مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کچھ حقوق بھی ہیں‘ ان حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اس کی جان اور مال کی حفاظت کی جائے۔
مذکور بالا حدیث میں رسول اللہe نے تعلیم دی ہے کہ حقیقی مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں۔ زبان سے محفوظ ہونے کا مطلب ہے کہ وہ کسی کی غیبت نہ کرے‘ گالی نہ دے‘ طعنہ نہ دے اور ہاتھ سے تکلیف دینے کا مطلب زدوکوب بھی ہے اور اپنے قلم سے کسی کے خلاف لکھنا یا کسی کی برائی تحریر کرنا ہے۔ زبان اور ہاتھ جسم کے ایسے اعضاء ہیں جن کے ذریعے انسان کسی کو فائدہ بھی پہنچا سکتا ہے اور نقصان بھی دے سکتا ہے۔ لہٰذا رسول اکرمe نے دونوں اعضاء سے دوسروں کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا۔ زبان کے لگائے ہوئے زخم کبھی مندمل نہیں ہوتے جبکہ تیر اور تلوار کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا اپنی زبان اور ہاتھوں کی حفاظت پر بھر پور توجہ دینی چاہیے‘ زبان سے نکلے ہوئے کلمات کبھی واپس نہیں ہوتے لہٰذا پہلے سوچو پھر بولو کی پالیسی پر عمل کرنا چاہیے۔
اس کو پڑھیں:  حُجیت حدیث
حدیث مبارک کے دوسرے حصے میں آپe نے اصلی مہاجر کی تعریف فرمائی کہ نقل مکانی کرنے والا مہاجر نہیں ہے‘ اصل مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ ہجرت‘ یعنی نقل مکانی بہت بڑا اور مشکل کام ہے اور ہجرت کرنے سے اللہ تعالیٰ پہلے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے مگر جو اللہ کی طرف سے منع کردہ کاموں کو چھوڑ دے اسے رسول اللہe نے اصلی مہاجر قرار دیا ہے۔ گناہوں کو چھوڑنا بہت مشکل کام ہے لیکن جو شخص اللہ کے خوف سے گناہ چھوڑ دے اور اپنی بد عادت کو ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے اور بعض اوقات اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں خود غرضی کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی اپنی ذات کی فکر میں ہے نہ کسی کی جان محفوظ ہے اور نہ ہی عزت ومال محفوظ ہے۔ مسلمان آپس میں دست وگریباں ہیں جس کے نتیجے میں ہر کوئی پریشان ہے۔ ہر جگہ فساد ہی فساد ہے۔ ان تمام پریشانیوں کا حل اسی بات میں ہے کہ ہر شخص اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کی حفاظت کرے‘ اللہ کے خوف سے گناہ چھوڑ دے اور دنیا میں امن قائم کرنے میں معاونت کرے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats