مرزا قادیانی .. اپنی تالیفات کے آئینہ میں 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

مرزا قادیانی .. اپنی تالیفات کے آئینہ میں 03-20


مرزا قادیانی .. اپنی تالیفات کے آئینہ میں

تحریر: جناب ڈاکٹر سعید احمد چنیوٹی
کتب اپنے مؤلف کے فکری اور علمی معیار کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔ اگر کسی شخص کو کتاب کے مؤلف سے ملنے کا موقعہ نہ بھی ملا ہو تو عظیم اور شاندار کتاب اپنے موقف کے بارے میں اچھے خیالات اور عقیدت ومحبت کو جنم دیتی ہے۔ بعض مرتبہ کتاب کی چند عبارتیں اور اقتباسات اس قدر مسحور کن اور جاذب ہوتے ہیں جن سے قارئین کے لیے ان کا مطالعہ محبوبیت اور دلنوازی کا باعث بنتا ہے۔ بعض دفعہ یہ کیفیت گرویدگی‘ عقیدت سے بڑھ کر عشق ومحبت تک پہنچ جاتی ہے۔
اس مختصر تمہید کا مقصد صرف یہ ہے کہ نبوت بھی ایک حسن ہے اور حسن کی پہچان کے جہاں اور بہت سے پیمانے ہیں وہاں ایک پیمانہ حسن بیان‘ الفاظ کا درست انتخاب اور موزوں استعمال ہے‘ وہ تقریر کی صورت میں ہو یا تحریر کی۔
آئیے مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کو اس کی اپنی تالیفات کی روشنی میں جانچتے ہیں کہ اس بلند بانگ دعویٰ کرنے والے شخص کے لٹریچر میں کیا کوئی سلجھا ہوا پروگرام‘ علمی انکشافات یا دعوت وارشاد قسم کی کوئی چیز ملتی ہے؟ یا اس نے علوم اسلامیہ کے مختلف شعبوں‘ تفسیر وحدیث‘ تاریخ وجغرافیہ‘ بلاغت وادب کے کسی فن میں کمالات کے جوہر دکھائے ہوں جو عام لوگوں کی سطح فکری سے بلند ہوں۔ یا اس دور کے قومی امراض کا جائزہ لیا ہو کہ امت مسلمہ اس وقت انگریزی عہد اقتدار میں مرعوبیت کا شکار ہے اور غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے اور ہر شخص احساس کمتری میں مبتلا ہے اور قوم مذہب سے لے کر سیاست تک معذرت خواہانہ انداز اپنانے پر مجبور ہے۔ تو اس شخص نے حریت فکر اور آزادی کا پیام دیا ہو جس سے قوم میں تازہ افکار نے جنم لیا ہو۔ سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لیے انقلاب اور تحریک کا صور پھونکا ہو۔ اس مرض کے علاج کے لیے کوئی نسخہ تجویز کیا ہو جس سے روح کی بالیدگی اور قلب کی بشاشت واپس آ جائے اور قوم عہد رفتہ کے شاندار ماضی کو واپس لانے میں کامیاب ہو جائے۔ اس کے برعکس انہوں نے اس صورت حال کو اپنی دجالانہ فریب کاریوں کے لیے انتہائی موزوں سمجھا اور اس مرض غلامی میں مزید اضافہ کیا۔
اس نے انگریز کی غلامی کو عبادت اور قومی فریضہ قرار دیا اور سوئی ہوئی قوم کے لیے ترک جہاد کا ’’نسخہ افیون‘‘ تجویز کر کے ابدی موت سلانے کا پروگرام بنایا جس سے حس وحرکت اور احساس کے جذبات معدوم ہو جائیں اور دائمی موت ان کا مقدر ہو۔ بقول اقبال  ؎
گفت دیں را رونق از محکومی است
زندگانی از خودی محرومی است
کیا ناقد ادب کی حیثیت سے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ مرزا قادیانی کی تالیفات پر تبصرہ کرے‘ جس نے پوری امت کو چیلنج کیا‘ قوم کا سرمایہ اور قیمتی وقت باہمی تنازعات‘ جدل ومناظرہ میں ضائع کیا‘ پیشگوئیوں اور اس کے رد عمل میں توانائیاں صرف کر دیں۔ مرزا کا سب سے بڑا تحفہ جو اس وقت انہوں نے مرحمت فرمایا وہ بحث وتمحیص اور جدل ومناظرہ تھا۔
پوری قوم یہ لال کتاب ہاتھ میں لیے ایک دنیا سے دست وگریباں ہے۔ حوالہ سے حوالہ اور ورق سے ورق ٹکرا رہا ہے۔ اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی عبارتوں پر بحث وتمحیص کا بازار گرم ہے۔ اس دور کی نابغہ روزگار شخصیتوں کو ان فضولیات میں الجھا کر ان کی توجہ قومی امور سے ہٹا کر امت مسلمہ کو ان کی فکری وعلمی صلاحیتوں سے محروم کر دیا۔ وقت کے تقاضوں کے مطابق کما حقہ ملک وقوم اور مذہب کی خدمات انجام نہ دے سکے۔ دور حاضر کے ایک عظیم مفکر نے اس پر شاندار تبصرہ کیا ہے:
’’بتائیے مرزا قادیانی کے اس ادعائے نبوت سے وقت کے کن تقاضوں کا جواب ملا اور وقت کے کون کون سے سوال حل ہوئے اور انگریزی حکومت ان کی دعوت سے کس حد تک متاثر ہوئی؟ گورنمنٹ ہاؤس میں کیا غلغلہ ہوا؟ بکنگھم پیلس میں کہاں کہاں شگافوں نے منہ کھولا‘ جواب میں اتنی مایوسی اور قنوط ہے کہ اسے جواب سے تعبیر کرنا ہی غلط ہے۔ مرزا قادیانی کے سارے لٹریچر کو کھنگال ڈالنے کے بعد بھی دعوت یا پیغام قسم کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ وقت کے وہ سوالات جن پر ان کے معاصرین نے نہایت خوبی اور بلاغت سے بحثیں کی ہیں ان کی تصنیفات اور کتابیں ان سے بالکل تہی ہیں۔ ان کی کتابوں سے بالکل مترشح نہیں ہوتا کہ یہ کوئی سلجھا ہوا پروگرام لائے ہیں یا ان کی کوئی دعوت ہے یا موجودہ عصر کے تہذیبی وثقافتی رجحانات کے خلاف یہ اپنے مستقل بالذات خیالات رکھتے ہیں۔ یا اسلام ہی کی کوئی ایسی تعبیر پیش کرنا چاہتے ہیں جن میں وقت کے شکوک وشبہات کا ازالہ ہو اور اسلامی موقف کو موجودہ نظریات کی روشنی میں زیادہ وضاحت سے بیان کر سکے۔ ان میں سے کسی چیز کو مرزا نے چھوا تک نہیں۔ تمام تصنیفات گھٹیا قسم کی مناظرانہ بحثوں سے معمور ہیں جن میں نہ تنقید کا کوئی اصول مد نظر ہے‘ نہ صحت مند طرز نگارش کی کوئی جھلک۔ حکومت کے سامنے تو انہوں نے یوں پوٹا ٹیک دیا ہے جس پر آج پرانا یونینسٹ بھی شرما جائے۔ اب اگر یہ نبوت ہے تو ڈھونگ کسے کہتے ہیں؟‘‘ (مرزائیت نئے زاویوں سے ۱۶۱‘ مولانا محمد حنیف ندویa)
 تالیفات مرزا کا تجزیہ:
مرزا قادیانی کی تالیفات کے سلسلہ میں مایوس کن پہلو یہ ہے کہ برصغیر کی کسی نامور شخصیت نے ان کی تالیفات کو ادبی‘ تاریخی یا کسی پہلو سے مفید قرار نہیں دیا۔ ہمارے علم میں نہیں کہ کسی غیر جانبدار سکالر یا غیر مسلم نے مرزا قادیانی کے لٹریچر کو قابل تحسین قرار دیا ہو۔ علماء اور مولوی حضرات سے تو آپ کو نفرت ہے۔ بتائیے شعبہ ادب سے تعلق رکھنے والے کسی ادیب یا شاعر نے ان کے مذہبی حیثیت کے علاوہ انہیں ایک عظیم مؤلف اور اچھے شاعر کی حیثیت سے یاد کیا ہو؟ کسی ملکی یا غیر ملکی رسائل واخبارات کے تبصرہ میں ان کی علمی‘ ادبی‘ شاعرانہ خدمات کو سراہا گیا ہو؟ بلکہ اس کے برعکس ان کی کتابوں میں اتنا الجھاؤ‘ تکرار اور روایتی تضاد کا مظاہرہ ہے کہ خود ان کے متبعین اور ماننے والے شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں۔ قادیانیت سے تائب ہونے والے زیادہ تر لوگ وہی ہیں جنہوں نے مرزا کو پڑھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے خود جس قدر اپنی تردید کی ہے اتنی کوئی اور نہیں کر سکا۔ اسی وجہ سے امت مرزائیہ مرزا قادیانی کی تالیفات عام نہیں کرتی۔ مرزا کے چھوٹے چھوٹے کتابچوں کو روحانی خزائن کی ۲۳ جلدوں میں شائع کیا ہے‘ نہ کوئی ۲۳ جلدیں خریدے اور نہ کوئی پڑھے اور چھوٹے چھوٹے مطبوعہ رسائل ناپید ہوتے جا رہے ہیں اور روحانی خزائن کو کسی دوسری زبان میں شائع کرنے کی زحمت نہیں کی۔
 تالیفات مرزا کا نمونہ:
کیا وجہ ہے کہ دور حاضر کے قادیانی اپنے قائد کا لٹریچر تبلیغ کے لیے پیش کرنے سے شرماتے ہیں؟ ان کی تالیفات کو لوگوں کے سامنے رکھو‘ لوگ اس کی عبارات کو پڑھ کر فیصلہ کریں کہ وہ کس سطح کا آدمی ہے۔ لوگوں کو ’’درثمین‘‘ مرزا کی منظوم کتاب دکھاؤ جسے پڑھ کر لوگ لطف اندوز ہوں۔ مرزا قادیانی اپنی ذات کے بارے لکھتے ہیں   ؎
کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار ہوں
اس کی صحیح ترجمانی تو قادیانی کر سکتے ہیں کہ انسان کی جائے نفرت سے کیا مراد ہے؟ ایک مرتبہ ربوہ (چناب نگر) میں مرزائی مبلغ سے اس شعر سے متعلق میری گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ یہ کس قدر گھٹیا پن اور عامیانہ سوچ ہے۔ اس نے جواب میں کہا کہ یہ مرزا صاحب کا عجز وانکسار ہے۔ میں نے بھرے مجمع کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ بھی عجز وانکسار کا کوئی درجہ ہے کہ آدمی کہے میں اپنے باپ کا نہیں ہوں اور آدم کی اولاد ہونے سے انکار کر دے۔ طبیعت کا یہ اتار چڑھاؤ ان کی پوری تحریرات میں چھایا ہوا ہے۔ کبھی وہ نبوت کے تمام فرازوں کو آن کی آن میں طے کر لیتے ہیں‘ کبھی عجز وانکسار کا یہ عالم کہ ایک ادنی وحقیر انسان کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں اور کبھی کبھی مخالفت اور دشمنی میں اخلاقیات کی تمام حدود پھاند جاتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیے:
مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ’’نور الحق‘‘ میں عیسائی پادری عماد الدین کے خرافات کا جواب لکھا۔ دوران تحریر جوش وجذبات میں آکر اسے ملعون قرار دینا چاہا تو آپ نے لعنت لعنت کی جو گردان شروع کی تو ان کا نمبر پورے ایک ہزار تک جا پہنچا۔ یعنی کتاب میں ایک ہزار مرتبہ گن کر اور اس پر باقاعدہ نمبر ڈال کر لعنت کا لفظ زیب قرطاس کیا۔ موقع کی مجبوری سے انسان کسی کو کہے کہ اس پر ہزار لعنت تو یہ اور بات ہے۔ بقول کسے:
’’مرزا صاحب کی اس حرکت سے دشمن کو تکلیف تو کیا پہنچے گی البتہ وہ ان کی اس خفیف الحرکتی پر الٹا ہنسے گا کہ عجب مسخرے سے واسطہ پڑا ہے کہ جس کو گالی دینا بھی نہیں آتا۔‘‘
اسی طرح ہندوؤں کے ایک اوتار کے بارے میں مرزا قادیانی لکھتا ہے:
’’پرمیشر ناف سے دس انگلی نیچے ہے۔‘‘ (چشمہ معرفت : ص ۱۰۶‘ روحانی خزائن: ۲۳/۱۱۷)
اس قسم کی عبارتوں سے پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ لکھنے والے کی طبیعت میں گھٹیا پن ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ظرف عالی نہیں اور اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شخص دماغی توازن کھو بیٹھا ہے۔
 مقدس ہستیوں کے متعلق جسارت:
اسی طرح اسلام کی مقدس ہستیوں‘ صحابہ کرام]‘ امہات المؤمنینg اور بنات الرسول g کے متعلق نازیبا کلمات کا استعمال‘ مرزا کے لٹریچر میں عام ہے جس کی تفصیل کے لیے کئی صفحات درکار ہیں اور یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ اس قسم کی عبارتوں سے وہ کیا حاصل کرنا چاہتا تھا۔
برصغیر کے ہر مکتب فکر کے اکابر علماء محدثین اور شیوخ کے خلاف محاذ آرائی‘ پیشگوئیاں‘ اتہامات‘ بیان بازی اور معرکہ آرائی‘ مناظرہ ومباحثہ چیلنج بلکہ نوبت بہ مباہلہ ان کا محبوب ترین مشغلہ تھا۔ اہل حدیث مکتب فکر کے مولانا محمد حسین بٹالویa‘ شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویa اور فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسریa ۔ دیوبند مکتب فکر کے مولانا محمد قاسم نانوتویa‘ مولانا عبدالحقa اور مکتب فکر بریلویت کے پیر مہر علیa آف گولڑہ شریف مرزا کی ہٹ لسٹ پر رہے۔
حضرت مولانا محمد حسین بٹالویa اور فاتح قادیان حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریa کے خلاف تو مرزا کی تالیفات کا بہت سا حصہ صرف ہوا۔ مرزا کی زندگی کے آخری مباہلہ کا چیلنج بھی مولانا ثناء اللہ امرتسریa کے خلاف تھا۔
 تالیفات شخصی تعارف کا ذریعہ:
کسی شخص کے معیار عظمت کے تعارف کے لیے لٹریچر بہترین آئینہ دار ہے۔ اگر کسی نے مولانا ابوالکلام کو نہیں دیکھا اور ان کی شخصیت پر لکھی جانے والی حیات وخدمات کی کسی کتاب کا مطالعہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ اس نے صرف تذکرہ‘ غبار خاطر یا الہلال کی کسی فائل کا مطالعہ کیا تو کیا ان تالیفات کے ذریعے وہ مولانا ابوالکلام کی عظمت ورفعت‘ وسعت مطالعہ اور ان کے علمی اور تاریخی مقام کا تعین نہیں کر سکے گا کہ ہندوستان کی سیاست میں ان کا مرتبہ کیا تھا۔ علمی طور پر وہ کس اعلیٰ مقام پر فائز تھے۔ بیک وقت انہیں فارسی‘ عربی اور اردو پر مضبوط گرفت تھی۔ برصغیر کی نامور علمی شخصیت مولانا ثناء اللہ امرتسریa کی تفسیری خدمات‘ الفرقان بکلام الرحمن‘ تفسیر ثنائی‘ قرآن مجید پر ان کی گہری نظر کے عکاس ہیں۔ تقابل ادیان کے موضوع پر عیسائیت‘ آریہ سماج‘ قادیانیت پر ان کی لا تعداد تالیفات مولانا کے مذاہب عالم پر وسعت نظر اور گہرے مطالعہ کی آئینہ دار ہیں۔ اسی طرح دور حاضر کے مؤلفین مولانا سید سلیمان ندوی‘ مولانا ابوالحسن علی ندوی‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر‘ سید مودودی‘ مولانا امین احسن اصلاحی s کے لٹریچر سے ان کے رجحانات‘ فکر ونظر‘ انقلاب‘ حریت اور ان کے اصلاح کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بعد میں آنے والی نسلیں محض ان کی تالیفات کے ذریعے ان کی عظمت ومرتبت کا تعین کر سکیں گی۔ اسی طرح برصغیر کے دیگر مؤلفین‘ مفکرین‘ سیاستدان‘ علماء‘ شیوخ الحدیث جن کے تعارف وعظمت کے لیے ان کی تالیفات شروحات‘ تراجم‘ ان کی عظمت ورفعت کے گواہ ہیں۔
اس معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہم مرزا قادیانی کی تالیفات اور لٹریچر سے کوئی مثبت نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟ یا ان کی علمیت‘ وسعت مطالعہ‘ گہرائی‘ سنجیدگی کا قائل ہو سکتا ہے یا انہیں صاحب قلم اور شاہکار ادب کا لقب دے سکے؟
 کتب اور تالیفات مؤلف کی عظمت کا باعث:
ہندوستان میں بعض ایسے گمنام افراد ہیں جن کا تعارف محض ان کی تالیفات ہیں‘ ان کے نام ونسب سے قوم نا آشنا ہے مگر ان کی تالیفات کی وجہ سے ان کی عظمت دلوں میں جاگزیں ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی کے تعارف کے لیے ان کی مسدس ہی کافی ہے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان کی محکوم قوم اپنی عظمت رفتہ سے آگاہ ہوئی اور جس نے خواب غفلت میں پڑی ہوئی سست قوم کو بیدار کرنے میں عظیم کردار ادا کیا۔
شیخ اکرام لکھتے ہیں:
’’حالی نے اپنا مسیحائی صور پھونکا تھا جس کی آواز سے قوم میں نئی زندگی کی لہر دوڑ گئی۔‘‘
سر سید کہا کرتے تھے کہ
’’مسدس میرے ایماء پر لکھی گئی‘ میں اس کا محرک ہوا ہوں اور اس کو اپنے اعمال حسنہ میں سے سمجھتا ہوں کہ جب خدا پوچھے گا تو دنیا سے کیا لایا؟ میں کہوں گا کہ میں حالی سے مسدس لکھوا لایا ہوں اور کچھ نہیں۔‘‘ (موج کوثر: ۱۲۴)
اسی طرح علامہ اقبالa نے اپنی شاعری اور کلام کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے عظیم خدمات انجام دیں۔ ان کے خطبہ الٰہ آباد نے الگ وطن اور اسلامی ریاست کے قیام کے لیے ایک بنیاد فراہم کی جس کی بناء پر عظیم وطن کی تعمیر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مسلم قوم کے نونہالوں کی تربیت اور نوجوانوں کو میدان عمل میں کودنے کے لیے مواد فراہم کیا تو آج علامہ اقبال‘ ضرب کلیم‘ اسرار خودی کی بنا پر زندہ ہے اور رہے گا۔
ملاں عبدالحکیم سیالکوٹی‘ ہندوستان کے ان علمی ستونوں میں سے ہیں جن پر ملک ناز کرتا ہے‘ ان کی گراں قدر تصانیف کی وجہ سے‘ شاہجہان نے دو مرتبہ چاندی میں تلوایا اور چاندی بھی ان کو عطا کر دی۔ (تذکرہ: ۴۵۷)
پھر بھی ان خاکساروں نے نہ مجدد ہونے کا دعویٰ کیا نہ مصلح اور مسیح موعود کا۔ اگر میں اس دور کے ہم عصروں میں مولانا ابوالکلام آزاد‘ شبلی نعمانی‘ قاضی سلیمان منصور پوری‘ مولانا محمد حسین بٹالوی‘ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہم اللہ علیہم کی ملی‘ قومی‘ دینی‘ دعوتی اور اخلاقی خدمات کا ذکر کروں تو شاید انہیں احساس ندامت ہو
’’اے روسیاہ تجھ سے تو یہ بھی نہ ہو سکا‘‘
مولانا ندویa نے اس صورت حال پر خوب لکھا:
’’اس صدی میں جب ایک شخص ادعائے نبوت کے ساتھ ہمارے سامنے آئے گا اور قرآن کے اس معیار کے بعد آئے گا تو لا محالہ ہم سب سے پہلے اسی پیمانے سے جانچیں گے۔ ہماری کم سے کم توقعات اس سے جو ہوں گی کہ اس نے اگرچہ قوم کے سامنے کوئی لائحہ عمل نہیں رکھا‘ زمانے کے مسائل کو نہیں سمجھا‘ موجودہ تقاضوں پر نظر نہیں ڈالی‘ سیرت وعمل کے اعتبار سے کوئی بلند ترین نمونہ نہیں چھوڑا‘ کم از کم اتنا تو کیا ہوتا کہ ابوالکلام کا ’’الہلال‘‘ اس کے جمال ادبی کے سامنے گہنا جاتا‘ حالی کا وہ مسدس جو نصف صدی سے گونج رہا ہے خاموش ہو جاتا۔ حکیم الامت ڈاکٹر اقبال کی شاعری اس کی چاکری کرتی۔ یہ کیا بد مذاقی ہے کہ براہین احمدیہ یہ شب ہجراں سے بھی زیادہ طویل ہونے کے باوجود ایک پیرا اور جملہ اپنے اندر ایسا نہیں رکھتی کہ جس سے ذوق کی تسکین ہو سکے۔ کیا یہی نبوت ہے؟ (مرزائیت نئے زاویوں سے: ۱۶۸)


No comments:

Post a Comment

View My Stats