طب وصحت ... موسم سرما کی سوغات .. خشک میوے 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

طب وصحت ... موسم سرما کی سوغات .. خشک میوے 03-20


طب وصحت ... موسم سرما کی سوغات .. خشک میوے

تحریر: جناب حکیم راحت نسیم سوہدروی
موسم سرما میں جب شدت کی سردی پڑتی ہے تو جسم کو زیادہ حرارت درکار ہوتی ہے تا کہ سردی کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ موسم سرما میں نظام ہضم بیدار ہو جاتا ہے اور اس موسم میں معمول سے زیادہ کام کیا جا سکتا ہے‘ کیونکہ نظام ہضم ہمیں بھر پور توانائی فراہم کرتا ہے۔ موسم سرما میں موسم گرما کے مقابلے میں زیادہ مستعدی سے کام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اس موسم میں ورزش کے اثرات پورا سال جسم کو صحت مند رکھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جب کہ موسم گرما میں جسم ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور شدید گرمی کے باعث کام کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔ جسمانی حرارت کو قائم رکھنے کے لیے موسم سرما میں قدرتی نظام کے تحت خوب بھوک لگتی ہے اور خوب کھایا جاتا ہے۔ قدرت جس موسم میں جو پھل‘ سبزیاں اور دیگر غذائی اشیاء پیدا کرتی ہے وہ اپنے موسمی تقاضوں کو خوب پورا کرتے ہیں۔ اس موسم کی سبزیوں اور پھلوں‘ نیز خشک میووں میں گلوکوز‘ لحمیات (پروٹینز) اور حیاتین (وٹامن ای) بڑی مقدار میں ہوتے ہیں۔ گلوکوز ہمارے جسم میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک گاڑی کے انجن کے لیے پٹرول رکھتا ہے۔ گلوکوز اس موسم کی سبزیوں اور پھلوں میں موجود ہوتا ہے جب کہ سبزیوں‘ دالوں‘ گوشت اور انڈوں سے حیاتین اور نمکیات مل جاتے ہیں۔ انڈا اور مچھلی کھا کر لحمیات حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ موسم گرما کی نسبت موسم سرما میں ہر چیز کے کھانے کا اپنا ہی ایک لطف ہے۔ گوشت‘ مچھلی اور انڈوں کے علاوہ موسم سرما کی خاص سوغاتوں میں صحت وتوانائی بخش غذاؤں کی وافر مقدار ہوتی ہے۔ اُبلے ہوئے انڈے‘ چکن سوپ اور گاجر کا حلوہ بھی اس موسم کی خاص سوغات ہیں‘ لیکن ان کے ساتھ ساتھ جسم کو اضافی حرارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے قدرت نے خشک میووں کا بھی اہتمام کیا ہے‘ جن میں غذائی افادیت کے ساتھ چکنائی بھی وافر مقدار میں ہوتی ہے۔ یہ چکنائی چربی پیدا نہیں کرتی‘ بلکہ جسم کو ٹھوس رکھتی ہے۔ ان خشک میووں میں ریشہ بھی کافی مقدار میں ہوتا ہے جو آنتوں کو تحریک دیتا اور قبض سے محفوظ رکھتا ہے۔ میووں سے نظام تولید کی صلاحیت بڑھتی ہے اور حیاتین کی کمی دور ہوتی ہے۔
اس کو پڑھیں:  طب وصحت .. جوڑوں کا درد
  بادام 
بادام خشک میووں کا بادشاہ کہلاتا ہے اور موسم سرما میں بڑی رغبت سے کھایا جاتا ہے۔ یہ دماغ اور بصارت کے لیے بہت مفید ہے۔ بادام ہر عمر کے افراد کے لیے مفید ہیں۔ یہ اعصاب کو طاقت دیتے اور جسم کی نشو ونما کرتے ہیں۔ بادام کے استعمال سے چربی نہیں بڑھتی۔ بادام دماغی کام کرنے والوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔
  اخروٹ 
اخروٹ اپنی غذائی افادیت کے باعث موسم سرما کے خشک میووں میں بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ برفانی اور میدانی علاقوں کے لوگ شدید سردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کو بکثرت کھاتے ہیں۔ اخروٹ‘ دماغ اور اعصاب کو طاقت دیتا ہے‘ کھانسی اور گلے کے امراض دور کرنے میں مفید ہے۔
  چلغوزے 
چلغوزے گردے‘ مثانے اور جگر کو تقویت بخشتے ہیں‘ موسم سرما میں ان کا کھانا پیشاب کی زیادتی کو روکتا ہے۔ چلغوزہ موسم سرما کے اثرات کو کم کرتا اور جسم کو حرارت عطا کرتا ہے۔ چلغوزے کھانے سے پہلے نہ کھائیں‘ کیونکہ اس طرح بھوک ختم ہو جاتی ہے اور کھانا نہیں کھایا جاتا۔ اس لیے انہیں ہمیشہ کھانے کے بعد کھائیں۔
  تِل 
تل موسم سرما کی سوغات ہے۔ تل کھانے سے سردی اثر نہیں کرتی۔ موسم سرما میں کمزور اور بوڑھے افراد کو پیشاب بار بار آتا ہے۔ اس طرح بعض بچے بھی رات کو سوتے ہوئے بستر پر پیشاب کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تل کے لڈو کھانا بہت مفید ہیں۔ روزانہ تل کا ایک چمچہ کھا لینا صحت کے لیے مفید ہے۔
  مونگ پھلی 
مونگ پھلی ایک لذیذ میوہ ہے۔ یہ موسم سرما میں کھائی جاتی ہے۔ یہ سستا میوہ ہے‘ غریب آدمی بھی آسانی سے خرید سکتا ہے۔ سردیوں کے موسم میں لحاف میں بیٹھ کر اس کا کھانا بہت لطف دیتا ہے۔ مونگ پھلی آپ جتنی بھی کھا لیں‘ اس کی چکنائی سے کولیسٹرول نہیں بڑھے گا۔ اسے خالی پیٹ نہ کھائیں‘ کیونکہ یہ بھوک کو ختم کر دیتی ہے‘ اس لیے ہمیشہ کھانے کے بعد کھائیں۔
  پستہ 
موسم سرما میں پستہ نمک لگے کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ اگرچہ پستہ کا استعمال منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کی غرض سے کیا جاتا ہے‘ تا ہم اس کی غذائی ودوائی افادیت بہت زیادہ ہے۔ حرارت غریزی پیدا کرتا ہے۔ دل‘ دماغ‘ معدہ اور اعضائے رئیسہ کے لیے مفید ہے۔ جسم کو فربہ کرتا اور توانائی دیتا ہے۔ کھانسی میں فائدہ رہتا اور بلغم کے فساد کو دور کرتا ہے۔ ۱۰۰ گرام پستے میں ۵۹۴ حرارے ہوتے ہیں۔ یہ جسم میں کولیسٹرول کی سطح کم کرتا اور قلب شرائین میں خون کے تھکے ختم کرتا ہے۔ قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ جگر کے سدوں کو کھولتا اور خون صاف کرتا ہے۔ پستے کا استعمال موسم سرما میں ضرور کریں مگر حد اعتدال میں۔
لوگ اپنی روزانہ کی خوراک میں بلا خطر خشک میوے کی گریوں کو شامل کر سکتے ہیں بلکہ اگر چاہیں تو محض خشک میوہ کھا کر ہی اپنی بھوک مٹا سکتے ہیں۔ خشک میوے میں غیر سیر شدہ چکنائی (Unsaturated Fat) اور اعلیٰ ریشہ (High Fiber) ہوتا ہے جو وزن بڑھائے بغیر جسم کو توانائی مہیا کرتا ہے۔ پوری دنیا میں ہونے والے پچھلی ۳۱ معیاری اور تحقیقی مطالعوں کا نئے انداز سے جائزہ لینے کے بعد محققین نے یہ انکشاف کیا ہے۔ یونیورسٹی آف میڈیسن اینڈ ڈینٹسٹری آف نیو جرسی‘ امریکہ کے ڈپارٹمنٹ آف اینڈ ورکرائنالوجی‘ ڈائی بیٹس اینڈ میٹا بولزم (Department of Endocrinology, Diabetes and Motabollsm) کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ بلیخ (Prof. Dr. David Bleich) کے مطابق تمام تحقیقی مطالعوں سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ خشک میوے کی گریوں کے استعمال سے جسمانی وزن بالکل نہیں بڑھتا اور اگر کوئی ایسا سوچتا ہے تو وہ غلط ہے۔ یونیورسٹی آف تراگونا‘ اسپین کے محقق گیما فلورس ماٹیو (Gemma Flores Meteo from University of Tarragona, Spain) اور ان کے ساتھی محققین کہتے ہیں کہ پچھلے مطالعوں میں بھی گریوں (Nuts) کے استعمال کو ذیابطیس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مفید بتایا گیا تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ بلیخ


No comments:

Post a Comment

View My Stats