پبلک پراپرٹی کی حُرمت 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

پبلک پراپرٹی کی حُرمت 03-20


پبلک پراپرٹی کی حُرمت

امام الحرم المدنی فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر حسین آل الشیخ d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اے مسلمانو! میں خود کو اور آپ سب کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوں۔ اسی میں عظیم سعادت ، بڑی کامیابی اور دنیا وآخرت کی لذت ہے۔
اللہ کے بندو! ہمارے دین کے بنیادی اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ حرام کمائی کے تمام ذرائع حرام ہیں حرام کمائی میں بھی بد ترین یہ ہے کہ کوئی اپنے عہدے اور نوکری کا فائدہ اٹھا کر پبلک پراپرٹی چوری کرنے لگے، یا کسی صورت میں بھی اس پر ہاتھ ڈالے، یا کوئی بھی طریقہ استعمال کرے۔ جلالت اور بلندی والا فرماتا ہے:
﴿یٰٓاَیُّها الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَاْكلُوٓا اَمْوَالَكمْ بَیْنَكمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَكونَ تِجَارَة عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكمْ﴾ (النِّسَاءِ: ۲۹)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے۔‘‘
ریاست کا مال بنیادی طور پر ناجائز طریقے سے حاصل کرنا حرام ہے، کیونکہ یہ ساری قوم کی ملکیت ہے، اسے ان کاموں میں استعمال ہونا چاہیے جس کا فائدہ سب کو پہنچے، اس کے ذریعے لوگوں کو مشترکہ فوائد حاصل کرنے چاہئیں۔ جو کسی عہدے پر ہوتا ہے، چاہے وہ عہدہ کسی طرح کا بھی ہو، وہ اللہ کے سامنے ان ساری چیزوں کا جواب دہ ہے جو اسے دی گئی ہیں، کسی چھوٹی، بڑی، اہم یا غیر اہم چیز میں اس کے لیے احکام شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ کرنا جائز نہیں، اُن قوانین کی خلاف ورزی بھی نا جائز ہے جو امت کی بہتری کے لیے بنائے گئے ہیں، اور مختلف مفادات کی یقین دہانی کے لیے وضع کیے گئے ہیں۔ ادارے کا جو مال کسی ذمہ دار کے زیر تصرف ہو، اس میں کوتاہی کرنا، شریعت کی نگاہ میں ایک جرم ہے۔ اسی طرح اس مال کے استعمال میں اقرباء پروری کرنا، دوستیاں نبھانا یا ذاتی مفادات پورے کرنا بھی کوتاہی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ سب صورتیں پبلک پراپرٹی میں سے چوری کی ہیں۔ زمین میں فساد برپا کرنے کی شکلیں ہیں۔ حکمران کے ساتھ خیانت بلکہ سارے معاشرے سے خیانت میں آتے ہیں۔ اس خیانت کے ایسے نتائج سامنے آتے ہیں جو معاشرے کے امن، معاش، ترقی، خوش حالی اور سکون وچین کے لیے بہت بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔ جلالت اور بلندی والا فرماتا ہے:
﴿وَمَنْ یَغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَة ثُمَّ تُوَفّٰی كلُّ نَفْسٍ مَّا كسَبَتْ وَهمْ لَا یُظْلَمُونَ﴾
’’اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔‘‘ (آلِ عِمْرَانَ: ذ۱۶)
کہا جاتا ’’غَلّ الرجل‘‘ یعنی فلاں نے خیانت کی۔ اغلال ذمہ داری میں مختلف قسم کی خیانت ہے۔ بطورِ خاص پبلک پراپرٹی میں سے مختلف قسم کی چوری اس میں آتی ہے۔ فرمایا:
﴿وَلَا تُفْسِدُوا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِها﴾
’’زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے۔‘‘ (الْاَعْرَافِ: ۵۶)
معاشرہ معاشی لحاظ سے ٹھیک تب ہی ہو سکتا ہے جب اس کا ہر فرد امانت کو ٹھیک طرح ادا کرے، سب مل کر پبلک پراپرٹی کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں اور ہر ممکنہ ذریعہ استعمال کریں۔ جلالت اور بلندی والا اپنے نبی یوسف کے بارے میں فرماتا ہے:
﴿اجْعَلْنِی عَلَی خَزَآئِنِ الْاَرْضِ اِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ﴾ (یُوسُفَ: ۵۵)
’’ملک کے خزانے میرے سپرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔‘‘
سیدنا شعیبu کی ایک بیٹی کے بارے میں فرمایا، وہ کہتی ہے:
﴿یَا اَبَتِ اسْتَاْجِرْه اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْأَمِینُ﴾ (الْقَصَصِ: ۲۶)
’’ابّا جان! اس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبُوط اور امانت دار ہو۔‘‘
نوکری یا عہدے کو ذریعہ بنا کر پبلک پراپرٹی میں سے ناجائز طور پر کچھ لے لینا بڑے گناہوں اور بد ترین کاموں میں سے ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
[إن رجالًا یتخوَّضُون فی مال الله بغیر حق، فلهم النار یوم القیامة۔] (البخاری)
’’کچھ لوگ بغیر کسی حق کے اللہ کے مال میں تصرف کرتے ہیں، قیامت کے دن ان کے لیے آگ ہو گی۔‘‘
حافظ ابن حجرa فرماتے ہیں:
’’یعنی باطل طریقوں سے مسلمانوں کے مال میں تصرف کرتے ہیں مسلمان فقہاء نے یہ بات طے کی ہے کہ پبلک پراپرٹی کی حیثیت بھی وہی ہے جو مالِ یتیم کی ہے، اس کی حفاظت بھی ضروری ہے، اس میں سے کچھ لینا سختی سے منع ہے، اسے اسی مد میں خرچ کرنا چاہیے جس میں خرچ کرنا مصلحت کا تقاضا ہو، اسے خرچ کرنے میں کسی صورت میں بھی لاپروائی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
اسلامی بھائیو! ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بعض ذمہ داران حکمران کی طرف سے ملنے والے اختیارات کی بنیاد پر ترقی کے لیے کسی ایک ملازم کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ اختیارات کو اپنا ذاتی مال سمجھتے ہوئے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور غیر مستحق کو مستحق پر مقدم کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بعض ذمہ داران کسی کام کی اجرت یا کسی چیز کی قیمت طے کرتے وقت اپنے ذاتی مفاد کی بنیاد پر تساہل کا مظاہرہ کرتے ہیں، یا پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے اتنی قیمتوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں جن پر وہ اپنے ذاتی کام کے لیے کبھی بھی تیار نہ ہوتے۔ اسی طرح بعض ذمہ داران پبلک پراپرٹی کی حفاظت میں بھی کوتاہی کر لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر باغات، ہسپتال اور تفریحی مقامات وغیرہ۔
اسی طرح بعض ذمہ داران پبلک پراپرٹی کی کچھ چیزیں ذاتی استعمال میں لے آتے ہیں، وہ بھی حکمران سے کسی اجازت نامے کے بغیر۔ مثال کے طور پر ریاست کی ملکیت میں رہنے والی دوائیں وغیرہ۔ اسی طرح اپنی ملازمت کو کمائی کا ذریعہ بنانا، ملازمت کا وقت ضائع کرنا، کسی وجہ کے بغیر ذمہ داریاں ادا کرنے میں تاخیر کرنا۔ یہ سب چیزیں اور ان سے ملتی جلتی چیزیں کرپشن اور حکمران کے ساتھ خیانت کے زمرے میں آتی ہیں بلکہ سارے مسلمانوں کے ساتھ خیانت کے زمرے میں آتی ہیں۔ کیونکہ ان سے بہت بڑا فساد برپا ہوتا ہے اور بہت برائی پھیلتی ہے۔ اس طرح ملک کی تعمیر وترقی اور خوشحالی کا پہیہ جام ہو جاتا ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
[وَرُبَّ متخوِّضٍ فیما شاء ت به نفسُه من مال الله ورسوله، لیس له یوم القیامة إلا النار۔] (حدیث صحَّ، رواه ابن حبان فی صحیحه، ورواه الترمذی، وقال: حسن صحیح)
’’عین ممکن ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بغیر حق کے تصرف کرتا ہے، اسے روز قیامت آگ کے سوا کچھ بھی نہ ملے۔‘‘
اللہ کے بندو! فرض تو یہ ہے کہ جو اپنے نفس کی چال میں آ گیا ہو، اور پبلک پراپرٹی کا کوئی حصہ کسی بھی طریقے سے کھا گیا ہو، وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹ آئے، موت سے پہلے اپنے خالق سے توبہ کر لے، اور اس حرام مال سے جان چھڑا لے، اسے حکومتی خزانے میں لوٹا دے۔ رسول اللہe نے فرمایا:
[علی الیدِ ما أخَذَتْ حتی تؤدیه۔] (رواه أحمد، وأبو داود والترمذی وقال: حدیث حسن صحیح)
’’جو چیز کوئی ہاتھ لے لیتا ہے، وہ اسی کے ذمے رہتا ہے جب تک وہ اسے لوٹا نہیں دیتا۔‘‘
فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ جو پبلک پراپرٹی میں سے کسی چیز کو تلف کر دیتا ہے، یا کسی چیز کا نقصان کر دیتا ہے تو اس کی اصلاح اس کے ذمے ہے۔ جو اس میں سے کوئی چیز بغیر حق کے لے لے تو اسے حکومتی خزانے یعنی بیت المال میں دوبارہ جمع کرانا ہو گا۔ نبی اکرمe کی وہ نصیحت جسے ہمارے دلوں میں راسخ ہو جانا چاہیے:
[كلُّ لحمٍ نبَت من سُحْتٍ فالنارُ أَوْلَی به۔]
’’جو گوشت حرام مال سے پرورش پاتا ہے ، وہ جہنم میں جلنے کے زیادہ لائق ہے۔‘‘
اس کو پڑھیں:  ولیمہ کی شرعی حیثیت
تو اے مسلمان! اس زوال پزیر دنیا کو ہمیشہ رہنے والی آخرت پر مقدم نہ کر۔ خود کو اور اپنے گھر والوں کو صرف حلال، پاکیزہ اور بہترین مال ہی دو۔
غزوہ خیبر میں ایک شخص کو تیر لگا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ مسلمانوں نے کہا: اسے جنت کی مبارک ہو۔ آپe نے فرمایا:
[كلَّا، والذی نفسی بیده إن الشَّمْلَة التی أخذها یوم خیبر لم تُصِبْها المقاسمُ لتشتَعِلُ علیه نارًا۔]  (متفق علیه)
ہر گز نہیں! اس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے تقسیم سے پہلے مال غنیمت سے جو چادر چرائی تھی، وہ اسے آگ میں جلا رہی ہے۔‘‘
اسی طرح سیدنا ابو بکر صدیقt سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:
[مَنِ اكتسب المال من الحرام فقَد البركة، فلا تری أثرا صالحا لماله، وأن أنفق ماله فی غذاء نفسه فهی ستلقی عقابَها فی الآخرة، وإن غذَّی به عیاله فقد غشَّهم، وما نصَح لهم، فلا عجبَ أن عقَّه ولدُه، وفسَدَت أخلاقُ مَنْ یعینهم نحوه، ونال عقابَ ما فعل فی حیاته، ولعذاب الآخرة أشد۔]
’’جو کمائی کے حرام ذرائع چنے گا، وہ برکت سے محروم ہو جائے گا، اس کے مال کا کوئی اچھا نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ اگر وہ اس مال سے خود کھائے گا تو آخرت میں عذاب کا سامنا کرے گا، اگر اپنے بچوں کو کھلائے گا تو یہ ان کے ساتھ دھوکہ ہو گا، ان کے ساتھ خلوص نہیں ہو گا۔ بعید نہیں کہ اس کی اولاد نافرمان ہو، اس کے ماتحتوں کے اخلاق تباہ ہو جائیں اور اسے دنیا میں ہی سزا مل جائے۔ آخرت کا عذاب تو بڑا سخت ہے۔‘‘
اے مسلمانو! جس شخص کے ہاتھ میں کوئی ذمہ داری آتی ہے، اس کے لیے رسول اللہe نے ایک جامع قاعدہ بیان کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اپنے حکومتی عہدے یا ملازمت وغیرہ کو ذاتی مفادات میں استعمال نہ کیا جائے۔ اسے آج کی زبان میں کہا جاتا ہے: پبلک پراپرٹی کی حفاظت کے اصول وضوابط جس شخص نے زکوٰۃ کا مال اکٹھا کرنے کے بعد واپس آکر رسول اللہe سے کہا:
[هذا لكم، وهذا اُهدِیَ إلیَّ۔]
’’یہ آپ کا ہے، اور یہ چیزیں مجھے ہدیے کے طور پر دی گئی ہیں۔‘‘
اسے آپ نے فرمایا:
[هلَّا جلَس فی بیت أبیه وأمه حتی ینظر أَیُهدَی إلیه أم لا؟ والذی نفسی بیده لا یأخذ أحدٌ منه شیئًا إلا جاء به یوم القیامة یحمله علی رقبته…] (متفق علیه)
’’اچھا! تم اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر بیٹھے رہو، پھر دیکھو کہ تمہیں کوئی ہدیہ دیتا ہے یا نہیں؟ اس ہستی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس مال میں سے اگر کسی نے کچھ لے لیا تو قیامت کے دن وہ اسے اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا‘ حدیث کے آخر تک۔‘‘
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! سب مل کر پبلک پراپرٹی کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں اور ہر ممکنہ ذریعہ استعمال کریں۔ اس معاملے میں کوتاہی سے بچیں۔ بلند وبرتر اللہ کا فرمان ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (الْمَائِدَة: ۲)
’’جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔‘‘
جس کا نفس اسے کسی بھی قسم کی کرپشن پر ابھارتا ہے، وہ جان لے کہ اگر وہ لوگوں کی آنکھوں سے چھپا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ تو اس کے راز بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو یاد رکھو:
﴿وَاعْلَمُوٓا اَنَّ اللّٰه یَعْلَمُ مَا فِیٓ اَنْفُسِكمْ فَاحْذَرُوه﴾
’’خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرو۔‘‘ (الْبَقَرَۃِ: ۲۳۵)
اسی طرح فرمان الٰہی ہے:
﴿یَعْلَمُ خَآپنَة الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ﴾
’’وہ نگاہوں کی چوری سے بھی واقف ہے اوردلوں کے راز بھی جانتا ہے۔‘‘ (غَافِرٍ: ۱۹)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
مسلمانو! صحیح روایت میں ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[لا تزول قدما عبد یوم القیامة حتی یسأل عن عمره فیما أفناه، وعن عِلْمه فیما عَمِلَ فیه، وعن ماله من أین اكتسبه وفیما أنفقه، وعن جسمه فیما أبلاه، وفی لفظ: وعن شبابه فیما أبلاه۔]
روز قیامت کسی شخص کے قدم اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اسے پوچھ نہ لیا جائے کہ اس نے اپنی عمر کس چیز میں لگائی، اپنے علم پر کتنا عمل کیا، مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟ جسم کس میں لگایا؟ دوسری روایت میں ہے: جوانی کس میں لگائی؟ تو اپنی کمائی کو پاک کر لو۔ آمدنی کے برے ذرائع سے بچو، اس طرح ہر خیر پا کر کامیاب ہو جاؤ گے، فلاح پا لو گے اور دنیا وآخرت کی سعادت حاصل کر لو گے۔
امام ابن تیمیہa فرماتے ہیں: کھانا بدن میں گھل جاتا ہے اور اس میں سرایت کر جاتا ہے، پھر وہ جسم ہی کا ایک حصہ بن جاتا ہے۔ کھانا برا ہوا تو جسم بھی برا ہو جاتا ہے، اور جہنم کا حقدار بن جاتا ہے۔ اسی لیے نبی اکرمe نے فرمایا: جو گوشت حرام مال سے بڑھا ہو، اسے جہنم ہی  میں جلنا چاہیے جنت تو پاکیزہ ہے، اس میں صرف پاکیزہ چیز ہی جاتی ہے کھانے میں وہ تمام چیزیں بھی شامل ہیں جو انسان اپنے فائدہ اور لذت کے لیے حاصل کرتا ہے، چاہے وہ کھانا یا پینا نہ بھی ہوں۔
اے اللہ! اے رب ذو الجلال! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہمارے گناہ معاف فرما! اے اللہ! ہمارے کھلے اور چھپے گناہ معاف فرما۔ اے اللہ! ہمارے تمام گناہ معاف فرما۔ چھوٹے اور بڑے گناہ، پہلے گنا اور آخری گناہ، اے اللہ! دنیا میں بھی ہمیں بھلائی دے اور آخرت میں بھی ہمیں بھلائی دے۔ اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا! اے اللہ! حلال دے کر ہمیں حرام سے بے نیاز فرما! اپنے فضل وکرم سے، اپنے سوا سب سے بے نیاز فرما دے۔ اے اللہ! ہمیں حلال اور پاکیزہ رزق عطا فرما! حرام کمائی سے بچنے کی توفیق عطا فرما!


No comments:

Post a Comment

View My Stats