ایک مخلص کارکن ... مولانا عبدالسمیع اوکاڑوی رحمہ اللہ 03-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 19, 2020

ایک مخلص کارکن ... مولانا عبدالسمیع اوکاڑوی رحمہ اللہ 03-20


ایک مخلص کارکن ... مولانا عبدالسمیع اوکاڑوی رحمہ اللہ

تحریر: جناب مولانا لیاقت علی باجوہ
موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو بھی مفر نہیں‘ عالم ہو یا غیر عالم‘ امیر ہو یا غریب‘ حاکم ہو کہ رعایا سب کو موت آنی ہے۔ لیکن بعض اموات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے دامن میں ایک دل خراش غم لے کر آتی ہیں جس کے درد کی ٹھیس کسی پل آرام نہیں کرنے دیتی۔ انہی میں سے جماعت کے بہت بڑے ورکر‘ مخلص ساتھی اور ضلع اوکاڑہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ضلعی امیر مولانا حافظ عبدالسمیع اوکاڑوی تھے۔ ایسی نابغہ روزشخصیات روز روز جنم نہیں لیتیں۔ سادہ مزاج‘ حلیم الطبع‘ علم دوست مگر خود نمائی وخود ثنائی‘ تکبر اور خود پسندی سے کوسوں دور تھے۔ آپ یکم جنوری ۲۰۲۰ء کو ہم سے جدا ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
حافظ عبدالسمیعa کی ذات گرامی میں ذہانت قابلیت‘ صالحیت اور صلاحیت کی تمام صفات اللہ تعالیٰ نے بڑی مقدار میں جمع کر دی تھیں۔ آپ قدرے لمبا قد‘ اکہرا سا جسم‘ سانولا گندمی رنگ‘ خوبصورت کالی ڈاڑھی‘ تیکھی ناک‘ آنکھوں پر عینک‘ سر پر پگڑی‘ نیچی‘ نظر‘ خوش نما لباس‘ یہ تھے مولانا عبدالسمیع اوکاڑوی کے اوصاف۔
آپ کے والد محترم مولانا عبدالعزیزa ولد اللہ بِخشa ولد جیونa ملکے کلاں سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ راجپوت بھٹی زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد محترم مولانا عبدالعزیزa بہت بڑے عالم دین تھے۔ جو سیالکوٹ کے جید عالم دین مولانا غلام حسنa کے شاگرد تھے۔ ایک سال ان سے علم حاصل کیا تو مولانا غلام حسنa فوت ہو گئے پھر آپ نے مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیa کی شاگردی اختیار کر لی۔ آپ تین چار کلومیٹر پیدل چل کر فجر کی نماز مولانا ابراہیم میرa کے پیچھے ادا کرتے۔ گھر جاکر کھیتی باڑی کا کام بھی والدین کے ساتھ کرنا ہوتا تھا۔ جب مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیa دارالحدیث رحمانیہ دہلی گئے تو حافظ عبدالسمیع کے والد محترم مولانا عبدالعزیزa بھی دہلی چلے گئے مگر وہ بیمار ہو گئے اور واپس آگئے۔ ۱۹۲۲ء میں آپ نے سکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ ۱۹۲۵ء میں آپ کا تبادلہ ایم سی ہائی سکول اوکاڑہ میں ہوگیا اور پھر اوکاڑہ کے ہی ہو کر رہ گئے۔
۱۹۵۴ء میں آپ ریٹائر ہوگئے۔ مولانا عبدالعزیزa ۳۰ سال تک دارالحدیث اوکاڑہ کے ناظم رہے۔ اسی طرح آپ نے قاضی محمد رمضان والی مسجد میں ۴۰ سال تک امامت وخطابت کی۔ حافظ عبدالسمیعa نے بھی اُسی مسجد میں ۱۰ سال تک امامت کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا عبدالعزیزa نے دو شادیاں کی تھیں۔ ایک بیوی سے دو بیٹے اور سات بیٹیاں تھیں اور دوسری بیوی سے پانچ بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں جن میں حافظ عبدالسمیعa سب سے چھوٹے تھے۔ مولانا عبدالسمیع کے بڑے بھائی کا نام مولانا عبداللہ یوسفa تھا جو کہ ۲۰۱۸ء میں فوت ہوئے اور آپ ۳۵ سال تک دارالحدیث اوکاڑہ کے ناظم رہے اور ضلع اوکاڑہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ضلعی امیر بھی۔ مولانا عبدالسمیع اوکاڑوی کے دوسرے بھائی کا نام عبداللہ یونس تھا۔ تیسرے کا نام مولانا عبدالمہیمن‘ چوتھے کا نام مولانا عبدالقدوس سلفی مہتمم جامع مسجد کوثر‘ پانچویں کا نام عبدالعلی‘ چھٹے کا نام عبدالصبور تھا جو جوانی میں فوت ہو گئے تھے اور ساتویں کا نام حافظ عبدالسمیعa ہے۔
آپ ۱۹۶۳ء کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم والد محترم اور اپنے بڑے بھائی سے حاصل کی۔ حفظ کی تعلیم استاد القاری حافظ محمد یحییٰ رسولنگریd سے حاصل کی۔ آپ بچپن سے ذہین وفطین تھے۔ آپ کا بچپن زیادہ تر سیالکوٹ میں ہی گذرا‘ آپ کی شادی بھی شہاب پورہ سیالکوٹ میں ہی ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو بیٹیاں اور چار بیٹوں سے نوازا ہے۔ ماشاء اللہ چاروں بیٹے اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔
آپ پہلے شہر اوکاڑہ اہل حدیث یوتھ فورس کے صدر‘ بعد میں ضلعی صدر اور بعد میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ضلع اوکاڑہ کے ضلعی امیر رہے۔
آپ کو گزشتہ ۱۲ سال سے ہیپاٹائٹس سی تھا۔ آپ نے بیماری کی پروا کئے بغیر دن رات جماعت کے لیے کام کیا اور کہتے تھے کہ جماعت کا کام کرتے کرتے موت آجائے تو سعادت ہو گی۔ آپ کا جگر بالکل ناکارہ ہو گیا تھا۔ کئی سالوں سے بیمار رہتے تھے۔ بالآخر یکم جنوری ۲۰۲۰ء کی صبح یہ خبر ملی کہ جناب مولانا عبدالسمیع اوکاڑوی آج رات اس دار فانی سے کوچ فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
مرحوم در حقیقت مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے عظیم و مستقیم اور سرگرم کارکن تھے۔ اوکاڑہ میں جماعت کے لیے خوب سرگرم رہے اور خوب محنت کر کے جماعتی نظم کو حقیقی معنوں میں ضلع اوکاڑہ کے گاؤں گاؤں تک پہنچایا اور گاؤں کی سطح تک یوتھ فورس کے یونٹس تشکیل دئیے۔
ایسے ہیرے جماعت کے لیے بے حد مفید ہوتے ہیںاور جماعت کو ان کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ایک بات تو سچ ہے کہ دین کا کام جاری وساری رہے گا لیکن شاید کہ ان کا یہ خلا پر نہ ہوسکے ۔
مولاناعبدالسمیع اوکاڑویa کی نماز جنازہ میں جناب ڈاکٹر عبدالغفور راشد صاحب ناظم ذیلی تنظیمات‘ جناب مولانا عبدالرشید حجازی صاحب ناظم اعلیٰ پنجاب‘ جناب حافظ بابرفاروق رحیمی‘ قاری عبدالحفیظ فیصل آبادی‘ قاری یعقوب فیصل آبادی‘ میاں جمیل ‘ جناب مفتی کفایت اللہ شاکر صاحب ناظم تبلیغ پنجاب اور علماء کرام ودیگر لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
نماز جنازہ، فضیلۃ الشیخ مولانا عبیدالرحمن محسنd آف راجووال نے پڑھائی۔ حافظ عبدالسمیعa کی خواہش تھی کہ میرا جنازہ امیر محترم پروفیسر ساجد میرd پڑھائیں لیکن اس دن امیر محترم اسلام آباد تھے یوں جنازہ میں شرکت نہ کر سکے۔ پانچ جنوری بروز اتوار امیر محترم تعزیت کے لیے ان کے بھائی مولانا عبدالودود سلفی اور ان کے بیٹے عبدالعزیز فہد کے گھر اوکاڑہ تشریف لائے‘ ان کے ہمراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالغفور راشد صاحب بھی تھے۔ جہاں پریس کانفرنس سے خطاب بھی کیا اور فرمایا کہ
’’حافظ عبدالسمیعؒ کی وفات جماعت کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے‘ میں ایک عظیم ورکر سے محروم ہو گیا ہوں۔‘‘
اکثرلوگوں نے اتنا بڑا جنازہ دیکھ کر کہا کہ واقعی حافظ عبدالسمیع اوکاڑویa جماعت کا عظیم ورکر تھا۔ نماز جنازہ میں سینکڑوں علماء‘ شیوخ‘ سیاست دان‘ تاجر‘ مذہبی وسیاسی لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔ حافظ عبدالسمیعa کی قبر پر دعا مفتی کفایت اللہ شاکر نے کروائی۔ اللہم اغفر لہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ!


No comments:

Post a Comment

View My Stats