اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اعتراضات؟! 04-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 26, 2020

اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اعتراضات؟! 04-20


اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر اعتراضات؟!

تحریر: جناب رانا محمد شفیق خاں پسروری﷾
گزشتہ روز، پاکستان کے آئینی ادارے، اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں کئی امور پر غور کیا گیا۔ نیب کے حوالے سے، کونسل کی ایک کمیٹی کی رپورٹ بھی زیر بحث آئی کہ جس میں نیب آرڈیننس ۱۹۹۹ء اور ترمیمی ۲۰۱۷ء پر غور کیا گیا تھا اور اس کی تین دفعات کو غیر شرعی قرار دے کر اصلاح کی سفارش کی گئی۔حالیہ اجلاس میں حکومت کے نئے نیب آرڈیننس اور سینیٹ میں موجود ’’مجوزہ بل‘‘ کے پیش ِ نظر طے ہوا کہ ’’کمیٹی ان تمام کو جمع کر کے نئے سرے سے سفارشات مرتب کر کے کونسل کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے‘‘۔
کونسل کے چیئرمین نے اجلاس کی کارروائی کو پریس بریفنگ کے طور پر بیان کیا تو جناب فؤاد حسین چودھری نے فوری ردعمل دیا اور کونسل کی رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر علمی و منطقی گفتگو کرنے کی بجائے ایک آئینی ادارے کے خلاف اپنے روایتی انداز میں بیان داغ دیا، جبکہ نظریاتی کونسل کو آئین کی دفعہ ۲۲۷ کے تحت ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنائے اور ایسا کوئی قانون وضع نہ کرے جو مذکورہ اچاہئے منافی ہو‘‘۔
اب نیب قوانین میں چند دفعات اگر خلافِ شرع نظر آئیں تو اس پر غور کرنا منصبی ذمہ داری کے عین مطابق ہے۔ باقی نیب آرڈیننس میں اصلاح کی ضرورت پر تو تمام پارٹیاں، وزیر قانون اور خود فؤاد چودھری صاحب، علیم خان کی گرفتاری کے وقت بیان دے چکے ہیں۔ اسی طرح سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی بعض مقدمات کے تحت بعض تحفظات کا ذکرکر چکے ہیں، موجودہ حکومت کا خود نیب آرڈیننس لے کر آنا، ایوانِ بالا(سینیٹ) میں قائمہ کمیٹی کا متفقہ بل پاس کر کے ہاؤس میں پیش کرنا، اصلاحات کی ضرورت کی عملی تائید ہی ہے۔
فؤاد چودھری صاحب ایک طرف کونسل کی افادیت سے انکار کر رہے ہیں اور دوسری طرف اپنا وضع کردہ قمری کیلنڈر بھی نظرثانی کے لئے نظریاتی کونسل کے پاس بھیجتے ہیں،اسی طرح کونسل کے حالیہ اجلاس کے دوسرے روز حکومتی وزیر جناب علی محمد خان تشریف لا کرواضح تر الفاظ میں کونسل کی تعریف و تحسین کرتے رہے ہیں۔
’’کونسل کے ۲۱۵ویں اجلاس منعقدہ ۳، ۴ اپریل ۲۰۱۹ء میں نیب آرڈیننس کا جائزہ لینے کے لئے درج ذیل افراد پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی:
جناب جسٹس(ر) محمد رضا خان (کنونیر)۔ ٭جناب ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن (رکن)۔ ٭جناب ڈاکٹر سید محمد انور(رکن)۔٭جناب خورشید احمد ندیم (رکن)۔٭جناب ڈاکٹر انعام اللہ۔٭ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) انعام اللہ (رکن بلحاظ عہدہ)۔٭ محترمہ فوزیہ جلال شاہ ڈائریکٹر لاء(کوآپٹڈ رکن)۔٭جناب شرف الدین (سیکرٹری کمیٹی)کمیٹی کے دو اجلاس منعقد ہوئے، جن میں تمام اراکین نے شرکت کی۔ پہلا اجلاس مورخہ یکم اکتوبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا۔ دوسرا اجلاس مورخہ ۲دسمبر ۲۰۱۹ء کو منعقد ہوا۔ کونسل کی کمیٹی نے اپنی جائزہ رپورٹ میں لکھا کہ ’’نیب آرڈیننس(ترمیمی ۲۰۱۷ء) کی مندرجہ ذیل دفعات آئین پاکستان کی دفعہ ۲۲۷(۱) کے منافی ہیں، جس میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ ’’تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اور سنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔‘‘
اس کو پڑھیں:   خلع .. احکام ومسائل
’’دفعہ ۱۴ (ڈی): ملزم اور مجرم میں عدم تفریق: کرپشن کا الزام لگنے کے بعد صفائی اور برأت پیش کرنے کی ذمہ داری ملزم پر ہو گی‘‘۔اس پر نظریاتی کونسل کی رائے ہے کہ ’’شریعت میں بارِ ثبوت الزام لگانے پر ہوتا ہے، جب تک الزام کو معتبر دلیل سے ثابت نہ کیا جائے تو ملزم بے گناہ اور بری تصور کیا جاتا ہے‘‘۔
دفعہ ۲۵ (اے):’’پلی بار گین: ملزم انکوائری کے دوران کسی مرحلے میں چیئرمین کی اجازت سے کچھ رقم واپس کر دے تو اسے مزید کسی قانون کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔بشرطیکہ یہی کیس کسی اور عدالت میں زیر سماعت نہ ہو‘‘۔ اس پر کمیٹی کی رائے ہے کہ ’’اگر بدعنوانی کسی شخص کے ذاتی مال میں کی گئی ہو تو اس کی معافی کا اختیار اسی کو ہے،اس کی رضا مندی کے بغیر اس کا مال کسی کو معاف نہیں کیا جا سکتا اور اگر بدعنوانی قومی خزانے میں کی گئی ہو تو اس کی معافی کی کوئی گنجائش شریعت میں معلوم نہیں ہوتی‘‘۔
دفعہ ۲۶: وعدہ معاف گواہ: ’’اگر کسی مقدمہ میں واضح اور قابل اعتماد شہادتیں موجود نہ ہوں تو شریک ملزموں میں سے کسی کو مقدمے کے اختتام پر رہائی دینے کے وعدہ پر اقبالی بیان دینے پر تیار کیا جائے گا، جس کو بطورِ گواہ جانچ کیا جائے گا‘‘۔ اس پر کمیٹی کی رائے ہے کہ ’’کسی شریک جرم شخص کی شہادت اپنے دوسرے شریک کے خلاف قابل ِ قبول نہیں،بلکہ یہ اس کی طرف سے اقرار و اعتراف ہے جو اس کے اپنے خلاف حجت کا ہو گا‘‘۔
عمومی ملاحظات: نظریاتی کونسل نے ملاحظہ پیش کیا کہ ’’عام حالات میں ملزم کو ہتھکڑی پہنانے سے اجتناب لازم ہے، البتہ اگر کسی ملزم کی طرف سے مزاحمت کرنے یا فرار ہونے کا اندیشہ ہو تو بوقت ِ ضرورت بقدرِ ضرورت ہتھکڑی پہنائی جا سکتی ہے‘‘۔
اسی طرح محض الزامات کی بنیاد پر کسی انسان کی اہانت، اس کو بدنام کرنا، لوگوں کے سامنے اس کی سبکی کرنا، اولاد اور خاندان کے سامنے بے وقعت کرنا، اس کے نتیجے میں دیگر لوگوں کا ملزم کی تضحیک اور اس کو برے القابات سے پکارنا از روئے شرع ممنوع ہے‘‘۔ ایسے ہی عام حالات میں ملزم کو قید میں رکھنا شرعی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، البتہ اگر الزام کی تنقیح کے لئے قید میں رکھنا ناگزیر ہو تو اس کو جسمانی یا ذہنی اذیت پہنچانے سے اجتناب کیا جائے اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ تفتیش کے دوران قید کی مدت کم سے کم ہو‘‘۔
قوانین حسب ِ ذیل حوالوں سے قابل اصلاح ہیں:
\          امتیازی سلوک کا تاثر۔
\          پلی بار گین۔
\          وعدہ معاف گواہ۔
\          ملزم اور مجرم میں عدم تفریق۔
\          ملزم کو ہتھکڑی پہنانا۔
\          ملزم کو بغیر مقدمہ کے لمبے عرصے تک قید میں رکھنا۔
\          ملزم کی تضحیک و تشہیر اور برے القابات سے پکارنا۔
\          کمیٹی نے سفارش کی کہ حسب ِ ذیل اصولی قواعد کی روشنی میں نیب قانون کو دوبارہ مرتب کرنا چاہیے۔
\          تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور قانون کے تحفظ کے مساوی حق دار ہیں۔
\          اس لئے قانون کے نفاذ میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
\          بدعنوانی کے مرتکب افراد کو پلی بار گین کے ذریعے معاف نہیں کیا جا سکتا۔
\          کسی شریک جرم کا اقرار دوسرے شریک جرم کے خلاف شرعی اعتبار سے بطور شہادت استعمال نہیں ہو سکتا۔
\          ملزم اور مجرم میں فرق ہے،اس لئے کسی شخص پر الزام لگنے کے بعد جب تک کسی معتبر دلیل سے اس جرم کو ثابت نہ کیا جائے، اس وقت تک اس کے ساتھ کسی مرحلہ پر بھی مجرموں والا سلوک کرنا شرعاً درست نہیں۔
\          ملزم کی تضحیک و تشہیر اور اس کو برے القابات سے پکارنا از روئے شرع ممنوع ہے۔
\          عام حالات میں ملزم کو ہتھکڑی پہنانے سے اجناب کیا جائے،البتہ اگر کسی ملزم کی طرف سے مزاحمت کرنے یا فرار ہونے کا اندیشہ ہو تو بوقت ضرورت بقدرِ ضرورت ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے۔
\          عام حالات میں ملزم کو قید رکھنے سے اجتناب کیا جائے، البتہ اگر الزام کی تنقیح کے لئے قید میں رکھنا ناگزیر ہو تو اس کو جسمانی یا ذہنی اذیت پہنچانے سے اجتناب کیا جائے اور اس بات کا خاص اہتمام کیا جائے کہ تفتیش کے دوران قید کی مدت کم سے کم ہو۔
قید کی سزا کا شریعت کے حسب ِ ذیل اصولوں کے مطابق ہونا لازمی ہے: ملزم کو ہتھکڑی نہ لگائی جائے۔
\          ملزم کو بیڑیاں نہ پہنائی جائیں۔
\          ملزم کو ننگا نہ کیا جائے اور نہ ہی ٹاٹ کا لباس پہنایا جائے۔
\          ملزم کو فاقہ کشی کی سزا نہیں دی جانی چاہیے۔
\          ملزم کو بنیادی ضروریات یا سہولیات سے محرومی کی سزا نہیں دینی چاہیے۔
\          ملزم کو ایسے حالات میں نہ رکھا جائے کہ شرعی فرائض مثلاً نماز پڑھنا، وضو کرنا اور قرآن کی تلاوت کرنا وغیرہ اس کے لئے ممکن نہ ہو سکے۔
\          ہر شادی شدہ فرد کو اِس امر کی اجازت دی جائے یا سہولت فراہم کی جائے کہ کم از کم ہر چار مہینے کے بعد وہ اپنے رفیق حیات (بیوی/ شوہر) کے ساتھ مل سکے۔
\          کسی شخص پر ظالمانہ تشدد نہ کیا جائے۔انسانی وقار کے منافی دباؤ یا مذہبی فرائض میں رکاوٹ ڈالنے والے افعال پر فوری پابندی لگائی جائے۔
\          قید تنہائی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
\          ایک جرم کی دو بار سزا کا سلسلہ بھی بند ہونا چاہیے۔
\          قانون و شریعت کی نظر میں تمام انسان برابر ہیں،اس لئے قانون کے نفاذ میں کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔
اسلامی نظریاتی کونسل پر اعتراض!
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چودھری نے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی بے کار ادارہ قرار دے کر معنوی اعتبار سے اسے ختم کرنے کی رائے دی ہے۔اگرچہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ادارے کو سکالرز اور اہل ترین حضرات کے سپرد کرنا چاہیے۔اس کے ساتھ ہی وہ یہ کہتے ہیں کہ اس ادارے نے اب تک مذہبی طور پر کوئی رہنمائی نہیں کی، اس پر کروڑوں روپے ضائع ہو رہے ہیں۔ فواد حسین چودھری ابھی دو روز قبل تک ’’ٹک ٹاک‘‘ میں اُلجھ کر میڈیا کے در پے تھے، ان کی ایک اینکر پرسن سے تازہ تازہ لڑائی ہوئی اور دونوں طرف سے اندراج مقدمہ کی درخواستیں بھی دی جا چکی ہیں۔اس سے قبل بھی وہ متنازعہ امور میں الجھتے رہے ہیں۔تاہم اب تو انہوں نے ایک ایسے ادارے پر سنگین نوعیت کا اعتراض کیا ہے جو قطعی طور پر غیر آئینی ہے۔ آئین میں مندرج ہے کہ ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنے گا،اسی لئے یہ کونسل بنائی گئی ہے،جس کی نمائندگی تمام مکاتب ِ فکر کے جیدّ علماء کرتے ہیں۔اس ادارے کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ نہ صرف مروجہ قوانین کو بتدریج اسلامی نظریئے کے مطابق ڈھالنے کی سفارش کرے،بلکہ حکومت کی طرف سے استفسارات کا بھی جواب دے۔اس سلسلے میں اس ادارے کی بہت زیادہ سفارشات ہیں جن پر عملدرآمد بھی نہیں ہوا۔ یہ مسئلہ اس وقت پیدا کیا گیا جب کونسل نے نیب آرڈیننس پر غور کیا اور یہ قرار دیا کہ کسی عدالت میں جرم ثابت کئے بغیر ہتھکڑی لگانا اور عدالت سے اجازت کے بغیر حراست میں رکھنا، وعدہ معاف گواہ اور پلی بارگین کی دفعات خلافِ اسلام ہیں۔ کونسل کے مطابق اس آرڈیننس کے مطابق استغاثہ کو جرم ثابت کرنے کی بجائے بے گناہی ثابت کرنا ملزم کی ذمہ داری قرار دینا بھی اسلامی نظریئے کے مطابق نہیں‘ اس کے بعد ہی فواد حسین چودھری نے اعتراض داغ دیا۔ نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے جواب میں تحمل ہی کا مظاہرہ کیا اور کہا کہ وزیر موصوف نے جلدی کی‘ وہ ہم سے بات کر لیتے تو مطمئن ہو جاتے۔ وزیر موصوف شاید ایسے اعتراض اپنی شہرت کے لئے کرتے ہیں،کیونکہ اب تک وہ جو بھی کہتے رہے اور جسے درست قرار دیتے رہے وہ صحیح کیا تو نہیں گیا البتہ ان کو شہرت مل جاتی ہے۔ یوں یہ کہا جائے تو بے جا نہیں ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا‘‘ ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ ایسے امور میں اُلجھنے اور ہر دم تنازعہ پیدا کرنے سے گریز کریں،وہ حکومت ِ وقت کے وزیر ہیں اگر ان کو اعتراض ہے تو وہ متعلقہ قوانین میں ترمیم کرا لیں۔نظریاتی کونسل بہرحال آئینی ادارہ ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats