معاشرے میں بڑھتا ہوا الحاد اور اس کا سد باب 04-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 26, 2020

معاشرے میں بڑھتا ہوا الحاد اور اس کا سد باب 04-20


معاشرے میں بڑھتا ہوا الحاد اور اس کا سد باب

تحریر: جناب الشیخ حافظ محمد شریف ﷾
الحاد کا مفہوم:
دین اسلام کی تعلیمات سے نفرت،قرآن وسنت کی تعلیمات سے بیزاری اور اس کے اندر قرآن وسنت کے لیے شکوک وشبہات پیدا ہوجائیں‘ اس کے اندر یہ چیزیں داخل ہونا شروع ہوجائیں کہ قرآن مجید تو اللہ کی کتاب اور وحی ہے لیکن جو حدیث وسنت کے نام سے ہمارے علماء نے اس کو اسلام میں داخل کرنے کی سعی کی ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ شاید کسی دور میں یہ لکھی ہوئی کتاب جس کا نام ’’دو اسلام‘‘ تھا۔ وہ اسی نظریے پر لکھی گئی تھی کہ ایک اسلام تو قرآن ہے تو اس اسلام کے مقابلے میں حدیث اور سنت کا اسلام کہاں سے آگیا؟!
محدثین کی عظیم محنتوں سے قائم کردہ اصولوں پر صحیح ثابت ہونے والی احادیث کو کوئی شخص محض یہ کہہ کر رد کردے کہ میری عقل اس کو نہیں مانتی، یہ حدیث قرآن مجید کے خلاف ہے‘ یہ تین سو سال بعد میں لکھی گئی ہے‘ اس کی کوئی حیثیت نہیں‘ اس شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے اندر الحاد پر زور طریقے سے آچکاہے۔
اسی طرح اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ قرآن نے صرف ہماری آخرت کی کامیابی کیلئے کچھ اصول بتائے ہیںلیکن دنیا کے اندر اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں قرآن کو چھوڑنا پڑے گا، قرآن کی تعلیمات سے ہمیں آزادی حاصل کرنا پڑے گی، قرآن ہمارے لیے ترقی کی راہ میںبندش اور رکاوٹ ہے،جس طرح  یورپ نے  اپنے مذہب کو چھوڑا تو انہوں نے ترقی کی جب تک ہمارے سامنے یہ قرآن اور اس کے حقوق اور پابندیاں رہیں گی، رسول اللہe کی سیرت اور احادیث کو ہم اپنے لیے بندش بنا کر رکھیں گے‘ اتنی دیر تک ہم دنیا میں ترقی نہیں کرسکتے۔
گویا قرآنی تعلیمات، سنت رسولe، دینی احکامات کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے وہ شخص بھی بری طرح الحاد کی بیماری کا شکار ہوچکا ہے۔
 الحاد کی یہ ایک بہت واضح صورت ہے کہ انسان کو اللہ کی ذات کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہو جائیں‘ اللہ کیا ہے؟ وہ کس سے پیدا ہوا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں؟کیا وہ بول سکتا ہے؟ جب اس کی ذات کے بارے سوچنا شروع ہوجائیں اور قرآنی انداز کو چھوڑ کر صرف اپنا عقلی انداز اختیار کیا جائے تو اتنا بڑا الحاد انسان کے اندر آتا ہے۔ پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھ بھی نہیں سکتا کیونکہ دیکھنے کے لیے آنکھ بمعہ بصارت چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سن بھی نہیں سکتا اس کے لیے کانوں کے اندر سماعت کے پردے ہونے چاہئیں جس کو اللہ کی ذات کے بارے میں یہ شک وشبہ شروع ہوجائے کہ اللہ ذو الجلال بول نہیں سکتا، بولنے کے لیے زبان اور دانت،حروف کے مخارج کی ضرورت ہے یہ سب صفات اللہ ذو الجلال کی نہیںہوسکتیںاس لیے اللہ تعالیٰ بول نہیں سکتے یہ الحاد کی ایسی شکل ہے کہ جس خالق نے ہمیں پیدا کیا تھا جس نے یہ ساری صفات ہمیں عطا فرمائیں تھی اور جس نے بولنے کی طاقت ہمیں عطا فرمائی اور ہم کمزور مخلوق اللہ کے بارہ میں فیصلہ کرنا شروع کر دیں کہ اللہ تعالیٰ بول سکتا ہے یا نہیں،کہ رحمان ہے رحمت کرتا ہے یا نہیں، اللہ تعالیٰ اعمال کو تول سکتاہے یا نہیں، دیکھ سکتا ہے یا نہیں،یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{اَوَلَمْ یَرَ الْإِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنَاه مِنْ نُطْفَة فَإِذَا هوَ خَصِیمٌ مُبِینٌ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَنَسِیَ خَلْقَه} (یس: ۷۷-۷۸)
اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ میں رحمان،رحیم، سمیع،بصیربھی ہوں، بولتا بھی ہوں اور عرش پر ہوں‘ اللہ کی صفات کا انکار اس سے بڑا الحاد اور کیا ہوسکتا ہے۔ بعض لوگ اس الحاد کا شکار ہوئے،عقل پرستی کی بنیاد پر یہ سوچ بیٹھے کہ ہر چیز ہی اللہ ہے۔ یہ جو صوفیہ کا عقیدہ ہے جو ہمارے معاشرے میں بڑی کثرت سے پھیلا۔ امام ذہبیa سیر اعلام النبلاء میں ابن عربی کے عقیدہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’اگر وحدۃ الوجود کا عقیدہ کفریہ اور الحادیہ عقیدہ نہیں تو میں نہیں جانتاکہ دنیا میں کوئی کفر یا الحاد ہو۔‘‘
اس کو پڑھیں:   نماز مومن کی معراج ہے
اسی طرح اللہ کے بارہ میں کلمہ پڑھنے والے یہ سوچنا شروع کر دیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی مرضی سے پیدا فرمایا اورہمارے اندر خواہشات،علم،سمع وبصرپیدا کیں اور ان سب پر پابندیاں لگا کرکے اپنا پابند بنانا چاہتے ہیں۔ الحاد صرف اللہ تعالیٰ کے بارہ میں ہی نہیں آیا بلکہ رسول اللہ e کے بارہ میں بھی ایسا ایسا الحاد کلمہ پڑھنے والوں کے اندرآیاکہ آپ کے نکاح اور شادیوں سے متعلق موضوع بحث بنایا جاتاہے۔ میں اس بات سے حیران ہوں کہ آج کل جتنے اعتراضات محمد e کی ناموس پرکلمہ پڑھنے والوں نے کیے اور کر رہے ہیں ایسے اعتراضات اس دور کے مشرکین نے بھی نہیں کیے۔ سیدہ عائشہr کے ساتھ نکاح اللہ کے حکم سے ہوا،خواب کے اندر ان کی شکل دکھائی گئی‘ جیسا کہ یہ واقعہ صحیح بخاری کے اندر ہے اب نکاح ہوا۔ کسی کافر،منافق، مشرک نے یہ اعتراض نہیں کیا تھاکہ ایک بڑی عمر، چھوٹی عمر ایسے نازیبا الفاظ اور اعتراضات جس کو ہماری زبان بیان کرنے سے قاصر ہے۔ آج ریسرچ کے نام پر کلمہ پڑھنے والے جن کی زندگی کا مشن یہ تھا کہ وہ آپ کے ہر حکم کے سامنے کہتے رہیں سمعنا واطعنا، اگر عمل کا وقت نہ بھی آیا ہو تو کہتے تھے کہ ہم نے سن بھی لیا اور مان بھی لیا۔ اللہ کے رسول e کی ذات گرامی کو علم کے نام پر تنقید کا نشانہ بنایا جاررہا ہے۔ علم کے نام پرصحابہ کرام اور آپ کی ازواج مطہرات پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ ان کے کردار اور سیرت کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے کیوں؟ اس لیے کہ یہودیوں کو یہ بغض و عداوت تھی کہ آخری پیغمبر بنو اسحاق سے آنا چاہیے اور یہ بنواسماعیل سے آیا۔ اب ان کی پوری کوشش ہے کہ ہم ان کی تعلیمات کو،کوششوں کو اور غلبہ اسلام کی اس تحریک کو ہرطریقے سے اس کو بدنام کرنے کی کوشش کریں۔ یہ دراصل وہ یہودی بغض ہے اسلام کے خلاف، رسول اللہe کے خلاف، اسلام کے گواہ آپ کے پہلے شاگرد اور جن کے ہاتھ پر اللہ ذو الجلال نے عدل فرمایا تھا ان پر طعن وتشنیع دراصل یہ اللہ کے رسول پہ طعن ہے کہ جو شخص اپنی پوری زندگی میں چار کے علاوہ کسی کو مسلمان نہ بنا سکا‘ جو مسلمان خواتین اپنے گھر نہ رکھ سکا۔ اور یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ e جن خواتین کے ساتھ رات بسر کرتے رہے جب تک آپ کی شرمگاہ کو جہنم کی آگ سے پاک نہیں کیا جائے گا اس وقت تک جنت میں داخلہ ممکن نہیں؟ (نعوذ باللہ من ذلک)
ہم پھر بھی بڑے پیار ومحبت سے ان کو اسلام کا سرٹیفکیٹ بھی دینا چاہتے ہیں، ہم ایسے ملحدین کے ساتھ شامل ہوکر شاید نظریہ پاکستان کا تحفظ بھی کرنا چاہتے ہیں۔الحاد، شکوک وشبہات سے بھی پیدا ہوتا ہے‘ اللہ کے بارے میں نازیبا گفتگو سے بھی پیدا ہوتا ہے‘ رسول اللہ کی ذات گرامی کو موضوع بحث بنانے سے بھی پیدا ہوتاہے اور ان کی احادیث سے انکار سے بھی پیدا ہوتاہے۔ الحاد کی بہت شکلیں ہیں‘ اس سے بڑا الحاد کیا ہوسکتاہے کہ قرآن کریم جوصرف ایک اللہ کی بندگی اور رسول اللہe کی اطاعت کا حکم دیتا ہے ہم اس سے بدعات، خرافات اور شرکیہ افعال اور غلط عقائد کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، پورے انبیاء کی تعلیم صرف لا الہ الا اللہ یعنی کلمہ توحید ہے۔
اخلاص للہ: لوگ اس کا معنی کرتے ہیںکہ اللہ کے سوا کو ئی معبود نہیں۔ اس لیے سلف صالحین نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ لا معبود بحق الا اللہ!
اس لیے معبود تو دنیا میں لوگوں نے بہت بنائے پتھر، شرمگاہ،عورت،ستارہ وآگ کو بھی معبود بنایا لیکن سچا معبود صرف ایک ہی ہے جو اللہ رب العزت کی ذات ہے۔
اس سے بڑا الحاد کیا ہوسکتاہے کہ ہم نے ہر ایک کو معبود بنادیا اور ہر باطل کو معبود حق بنالیا‘ انسان کو نماز سے نفرت ہوجائے اورکہے یہ وقت کا ضیاع ہے‘ اگر اتنا وقت ہم کاروبار میں لگائیں تو ہم اسے دگنا کماسکتے ہیں۔ داڑھی نہ رکھنا گناہِ کبیرہ ہے، اور اس سے نفرت کرنا، نیز حلال ذرائع کو عمداً چھوڑ کر جھوٹ کے سہارے کو اپنایا جائے۔ مجھے تو بڑے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ داڑھی تو سنت العادۃ ہے‘ جو صاحبان قرآن وسنت کی دعوت دینے والے ہیں آج وہی اس چیز کی دعوت دے رہے ہیں کہ آزادی چاہیے، پردہ خواتین کی ترقی میں رکاوٹ ہے تو آپ سمجھ لیں اس شخص کے اندر الحاد آیا ہے اور یہ الحاد درجہ بدرجہ بھی ہوسکتاہے۔ بعض صورتوں میں انسان مرتد ہوجاتا ہے،مسلمانوں کے اندرجو الحادی فکر آرہی ہے یعنی دین سے انحراف، دین سے بغاوت،  دین سے نفرت اس کے اسباب مختصراً ذیل میں مذکور ہیں:
ہم نے کلمہ پڑھا‘ اسلام قبول کیا لیکن بغیر شعور کے کہ اسلام کا معنی ومفہوم کیاہے؟ کلمہ توحید کے اقرار کرنے کے بعد مجھے اپنے عقائد ونظریات میں کیا تبدیلی کرنا ہے؟ آپ e کی گواہی کے بعد مجھے اپنے عمل اور دنیا کے تمام شعبوں میں کیا انقلاب پیدا کرنا ہے؟ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ارد گرد سارے مسلمان ہیں چلو میں بھی مسلمان ہوجاتا ہوں۔ پروفیسر حافظ عبد اللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے پاس کچھ دوستوںنے ایک عیسائی شخص کو پیش کیااور حافظ صاحب سے عرض کی کہ اس کو کلمہ پڑھاؤ‘ یہ مسلمان بننا چاہتا ہے۔ حافظ صاحب نے اس سے کچھ سوال پوچھے کہ آپ اپنا دین چھوڑ کر دوسرا دین کیوں اختیار کر رہے ہو‘ تمہارے دین میںکیا کمی ہے؟ اس نے جواباً عرض کیا کہ مجھے ان چیزوں کا پتا نہیں۔ حافظ صاحب نے کہا کہ اسے لے جاؤ اور سمجھاؤ کہ اسلام کیا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں؟ سمجھانے کے بعد اگلے جمعہ دوبارہ لے آئے‘ حافظ صاحب نے تغیر دین کا سبب دریافت کیا تو اس نے کہا مجھے نہیں پتا، تیسرے جمعہ میں لے آئے تو دریافت کرنے پر اس نے کہا: سیدھی سی بات ہے کہ ہمارے گاؤں میں سارے مسلمان ہیں، سارا دن محنت مزدوری کرتے ہیں اور شام کے بعد گاؤں کے بازاروں کے چوارہوں پر سارے ساتھی جاتے ہیں تازہ حقہ وہاں میسر ہوتا ہے سارے‘ مسلمان دن کی تھکاوٹ دور کرتے ہیں باتیں کرتے ہیںاور ہنسی مذاق کرتے اور حقہ پیتے ہیں۔ جب میں جاتا ہوں تو مجھے کہتے ہیں کہ یہ عیسائی ہے اسے حقہ نہیں پینے دینا تو میں چاہتا ہوں کہ مسلمان ہو کر ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں تاکہ مجھے حقہ پینے سے نہ روکیں۔ تو حافظ صاحب کہنے لگے کہ اسے لے جاؤ حقہ پینے والے مسلمان تو پہلے بھی کافی ہیں۔اس کی فکرفکرِ اسلامی بنا کر لاؤ۔ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اس کائنات میں کتنے فیصد مسلمان ہیں جو لا الہ الا اللہ کا مفہوم اور محمد رسول اللہ e کی گواہی کے تقاضے پورے کرتے ہیں۔
صحیح بخاری میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جب صلح حدیبیہ کا معاہدہ نامہ لکھا جا رہا تھا تو اس میں لکھا گیا کہ:
[ھذا ما تقاضا علیه محمد رسول الله]
سہیل بن عمرو اسی وقت چیخ اٹھا‘ اس نے کہا کہ محمد الرسول اللہ e نہیں لکھوبلکہ محمد بن عبد اللہ لکھو کیونکہ
[لو نقول أنك رسول الله لاتبعناك۔]
اس کو پڑھیں:   حجیت حدیث نبوی ﷺ
اگر آپ کے ساتھ جھگڑا ہے تو وہ ہے ہی محمد کے بعد رسول اللہ کا،اگر ہم کہیں کہ آپ محمد کے ساتھ رسول اللہe بھی ہیں تو پھر ہمیں آپ کے پیچھے چلنا پڑے گا۔آج ہم رسول اللہ eکے نام کی تسبیحیں بھی نکال رہے ہیں اور کہتے ہیں ٹھیک ہے رسول اللہ کی حدیث ہوگی لیکن میں پہلے اپنے آپ سے پوچھوں گا میں تو فلاں امام سے پوچھوں گا‘ سب سے پہلا جو سبب مسلمانوں کے اندر الحاد کا آیا،وہ یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو سمجھ کر نہیں پڑھا ہے۔
دوسرا سبب کہ کلمہ پڑھنے،اسلام میں داخل ہونے کے بعد ہم نے قرآن وسنت کی تعلیم کو باقاعدہ حاصل نہیں کیا‘ کتنے فیصد مسلمان ہیںجوکہتے ہیں ہم سنی ہیں اور سنی کا معنی سن سنا کر مسلمان ہونا۔ لفظ کا معنی ہی بگاڑ دیا۔ کتنے فیصد ایسے مسلمان ہیں جنہوں نے قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہے، ناظرہ پڑھا، صحیح بخاری پڑھی ہے۔
علامہ شبلی نعمانی رقمطراز ہیں:سیدنا عمر بن خطابt نے اپنے دور میں قراء اور اکابر صحابہ کو بڑے بڑے شہروں میں بھیجا کہ جو بھی اسلام قبول کرتا ہے اسے قرآن اور سنت رسولe کی تعلیم دو، ان کو قرآن کا ایک حصہ حفظ ہونا چاہیے جو کہ ان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو سارے شہروں، گاؤں میں ان کا امتحان لیتی تھی کہ اگر کسی کو قرآن یاد نہیں ہوتا تھا، رسول اللہ e کی حدیث یاد نہیں ہوتی تھی‘ نماز کا صحیح طریقہ نہیں آتا تھا تو وہ ان کوتعزیری سزا دیتے۔ ہمارے اس معاشرے میں الحاد بڑے زور وقوت سے پھیل رہا ہے کیونکہ علم وتربیت تو ہوتی نہیں، اب جہاں قرآن وسنت کا نور اورروح نہیں ہوگی اس کے اندر شکوک وشبہات، وسوسے ڈالنا اور اس کو گمراہ کرنا بہت آسان ہوگا۔
تیسرا سبب الحاد کا یہ ہے کہ ہمارا میزان تعلیم، پاکستان کا نظام تعلیم کالجوں اور یونیورسٹیوں میںجو رائج ہے معذرت کے ساتھ اگر یہ بات عرض کروں کہ ہمارے دینی مدارس جو کہ دین کے قلعے ہیں، ان میں ہم سال میں کتنے نوجوان سندِ فراغت دیکر معاشرے کے سپرد کرتے ہیں؟صرف ۵ فیصد، باقی ۹۵ فیصدنوجوان کہاں جاتے ہیں؟
فیصل آباد کے تمام دینی مدارس کے اندر میں نے ایک دفعہ تعداد کا اندازہ لگایا تو تعداد ۱۲۰۰ یا ۱۵۰۰ تھی‘ صرف ہمارے پورے مدارس میں تو باقی نوجوانوںکو کون پڑھا رہا ہے اور ان کو کیا پڑھایا جارہا ہے‘ ان کو مخلوط تعلیم کون دے رہا ہے؟ الحاد کا سبب دنیاوی شعبے بھی ہیںکہ ہم سب مال،شہرت، زندگی کا معیار اونچا کرنے کے لیے ان شعبوں میں مگن ہوجائیں اور دینی تعلیم ہی حاصل نہ کریں۔  کتنے ایسے لوگ دیکھے جنہوں نے صرف اس لیے رسول اللہ کے بارہ میں زبان کھولی کہ یورپ ان کو اقامہ دے دے گا اور باہر جاکر ان کو برطانیہ، امریکہ، یورپ کی شہریت مل جائے گی‘ انکا روزگار بلند ہوجائیگا۔
الحاد کا آج کے دور میں بہت بڑا سبب میڈیا ہے۔ یہودیوں کا نظریہ ہے کہ ہر چیز علم کے ذریعے اپنے عقل پر پرکھیں کہ وہ علم کی اساس پر اترتا ہے یا نہیں‘ قرآن وسنت کے مسلمہ عقائدکو بھی عقل کی کسوٹی پر پرکھا جارہا ہے۔
یہ جو اظہار رائے کی آزادی ہے در اصل عقل پرستی ہے‘ عقل کا غلبہ ہی رائے کا غلبہ ہے اپنے آپ کو وحی کے تابع نہ رکھنا اپنے عقل سے قرآن کو ٹھکرانا، حدیث رسول رد کرنا، اور اپنی عقل سے الحاد کے تمام دروازے کھولے۔
یہ نہ سمجھنا کہ عقل کمزور ہے، عقل خطرناک چیز ہے۔
یاد رکھو اللہ کی بغاوت اسی رائے کی وجہ سے ہے اسی عقل پرستی کی وجہ سے ہے جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو تو عقل نے کہا کہ میں اس کو کیسے سجدہ کروں‘ یہ تو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے اور میں تو آگ سے بنایا گیا ہوں۔ اللہ کے حکم کے سامنے قیاس، رائے اور عقل کو آگے کیا۔ عقل پرستی کی وجہ سے ہی ہمارے معاشرے میں الحاد آیا۔
الحاد کاایک بہت بڑا سبب علماء،مساجد اور دینی مدارس کو بدنام کرنا بھی ہے کہ ان لوگوں کا کام سوائے لوگوں پرکفر کے فتوے اور جہنمی قرار دینے اور کیا ہے پاکستان کو فتنوں کی آماجگاہ بنانے والے یہی علماء کرام ہیں۔اس قسم کی بدنامی کا ماحول بنا کر لوگوں کو دین اور علما سے متنفر کیا جائے۔ جب دین سے دور ہونگے، علماء سے دور ہونگے تو ان کے پاس الحاد اور ارتداد ہی واحد راستہ بچتا ہے۔
ہمارے ساتھی نے پچھلے دنوں سروے پیش کیا‘ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ ۹۸ فیصد پاکستان میں جو دھماکے کرنے والے پکڑے گئے ہیں ان کا تعلق کالجوں اور یونیورسٹیوں سے ہے۔لیکن یہ لوگ ذرائع اور میڈیا کو استعمال کرکے اسلام اور اہل اسلام کو بدنام کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
یہ بڑے بڑے اسباب ہیں جس کی وجہ سے اس معاشرے میں الحاد پھیلا۔
 الحاد کا سد باب:
کچھ لوگ الحاد، بے دینی،دین سے بغض ونفرت اختیار کرنیوالے منافقین ہیں‘ انہوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھا ہے لیکن اسلام کو بدنام کرنے کیلئے
[فِی قُلُوبِهمْ مَرَضٌ فَزَادَهمُ الله مَرَضًا۔]
لیکن جو عمومی مسلمان ہیں ان کو کیسے الحادی فکر سے بچائیں گے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ جب تک ہم اسلام، قرآن اور سنت کی تعلیم سے آراستہ نہیں کریں گے  اس وقت تک ہم الحاد اور بے دینی کا سدباب نہیں کرسکتے۔ الحاد یا تو بغض ونفاق کی وجہ سے آتاہے یا چاہت کی وجہ سے آتا ہے کہ انہیں حقیقت کا پتا نہیں ہوتا تو ہمیں چاہیے کہ ہم بھرپور طریقے سے تحریک چلائیں۔ صرف مدارس میں ہی نہیں بلکہ مساجد میں‘ دوران تعطیلات کالج اوریونیورسٹیوں کے طلبہ کو چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھائیں۔ کوئی مسجد اور فیکٹری ایسی نہیں ہونی چاہیے جس میں قرآن کا ترجمہ، صحیح بخاری کی ایک حدیث کا ترجمہ نہ پڑھایا جائے۔ اگرچہ ان کے پاس میڈیا کا پلیٹ فارم ہے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں بلکہ ہمارے ہاں مساجد کی صورت میں پلیٹ فارم موجود ہے اگر خطبۂ جمعہ کو صحیح تیاری کے ساتھ پڑھایا جائے تو ہم صرف ایک دن میں لاکھوں لوگوں کو دین کی دعوت پہنچا سکتے ہیں۔سلف صالحین کے دروس اور حلقات مساجد میں ہی ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم e کی تعلیم ودعوت کیا ہوا کرتی تھی فرمان باری تعالیٰ ہے:
[وَیُعَلِّمُهمُ الْكتٰبَ وَالْحِكمَة۔]
کوئی صحابی عقیدہ سے منحرف نہیں ہوا‘ کوئی جہمی ہوا ہو،قدریہ کا شکار ہوا ہو؟ کیوں ایسی بدعت کے شکنجے میں نہیں آئے کیونکہ انہیں خالص کتاب اللہ وسنت رسول اللہe کی تعلیم سے بہرہ ور کیا گیا تھا۔تو ہمیں ایسے اسکول اور مراکزتعمیر کرنے کی ضرورت ہے کہ جن میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن وحدیث وتوحید کے مضامین کی تعلیم دی جائے۔ کچھ ساتھیوں نے ایسے مراکز قائم کیے ہیں وہ الحمد للہ بصورت احسن ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔
ہم اپنے آپ کو اسوئہ بنا کرکے لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ نبی کریم e کا چالیس سالہ دورہ یہی تھاکہ
{فَقَدْ لَبِثْتُ فِیكمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِه اَفَلَا تَعْقِلُونَ}
اللہ رب العزت ہمیں خالص اسلام پر استقامت عطا فرمائے اور دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ اپنے آپ کو اسوئہ اور نمونہ بنائیں۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats