احکام ومسائل 04-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 26, 2020

احکام ومسائل 04-20


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

دوپٹے کی کناری پر سجدہ کرنا
O ہم طالبات نے دوپٹہ اوڑھا ہوتا ہے‘ جس سے پیشانی ڈھکی ہوتی ہے۔ اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے سجدہ کیا جاتا ہے۔ کیا اس انداز سے سجدہ کرنا جائز ہے؟ اور نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے۔
P دوران نماز کپڑے پر سجدہ کرنے کی دو صورتیں ہیں‘ پہلی صورت یہ ہے کہ کپڑا زمین پر بچھا ہوا ہے اس پر سجدہ کرنا‘ اس میں تو کوئی حرج والی بات نہیں۔ جیسا کہ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں متعدد عنوان قائم کیے ہیں تاکہ یہ خیال نہ آئے کہ شاید زمین پر نماز کی ادائیگی ضروری ہے۔ چنانچہ امام بخاریa کے حسب ذیل عنوانات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر ہی سجدہ کرنا ضروری نہیں۔ مثلاً
\          چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔                   \          چھوٹی چٹائی (الخمرہ) پر نماز پڑھنا                           \          بستر پر نماز پڑھنا۔
چنانچہ سیدہ میمونہr کا بیان ہے کہ رسول اللہe چھوٹی چٹائی پر نماز ادا کرتے تھے۔ (بخاری‘ الصلوٰۃ: ۳۸۱)
اگرچہ بعض اسلاف سے منقول ہے کہ وہ زمین پر سجدہ کرنے کو پسند کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیزa کے متعلق ہے کہ ان کے لیے مٹی لائی جاتی‘ اسے چٹائی پر رکھا جاتا پھر آپ اس پر سجدہ کرتے تھے۔ اگر اس قسم کی روایات صحیح ہیں تو یہ ان حضرات کے انتہائی عجز وانکسار اور تواضع پر محمول کی جائیں گی۔ بہرحال مسجد میں قالین یا گھر میں کسی چادر پر نماز پڑھنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ کپڑا زمین پر بچھا ہوا نہیں بلکہ نمازی نے پہن رکھا ہے یا اسے اوڑھ رکھا ہے اس کے کنارے پر سجدہ کرنا‘ ایسا کرنا بوقت مجبوری تو ہو سکتا ہے‘ عام حالات میں درست نہیں۔ جیسا کہ امام بخاریa نے اس سلسلہ میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’سخت گرمی کے باعث کپڑے پر سجدہ کرنا۔‘‘ (بخاری‘ الصلوٰۃ‘ باب نمبر ۲۳)
اس سلسلہ میں انہوں نے سیدنا انسt سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ ہم رسول اللہe کے ہمراہ نماز پڑھا کرتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص سخت گرمی کی وجہ سے سجدے کی جگہ پر اپنے کپڑے کا کنارہ بچھا لیتا تھا۔ (بخاری‘ الصلوٰۃ: ۳۸۵)
ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ جب ہم رسول اللہe کی اقتداء میں نماز ظہر ادا کرتے تو گرمی سے بچاؤ کے لیے اپنے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری‘ مواقیت الصلوٰۃ: ۵۴۲)
اس سلسلہ میں امام بخاریa نے ایک اور عنوان قائم کیا ہے‘ جس کے الفاظ یہ ہیں: ’’دوران نماز سجدہ کے لیے کپڑا بچھانا۔‘‘ (بخاری‘ العمل فی الصلوٰۃ‘ باب نمبر ۹)
پھر سیدنا انسt کا بیان نقل فرمایا ہے کہ ہم سخت گرمی میں رسول اللہe کے ہمراہ نماز پڑھتے تھے‘ جب ہم میں سے کسی کو زمین پر اپنا چہرہ رکھنے کی ہمت نہ ہوتی تو وہ اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا تھا۔‘‘ (بخاری‘ العمل فی الصلوٰۃ: ۱۲۰۸)
اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر زمین شدت گرمی کی وجہ سے تپ رہی ہو یا سخت سردی کی وجہ سے برف بن گئی ہو تو دونوں صورتوں میں زمین پر کپڑا ڈالنے کی اجازت ہے خواہ زمین پر کپڑا ڈال لیا جائے یا پیشانی پر کپڑا ڈال کر سجدہ کر لیا جائے۔ خواہ کپڑا الگ سے بچھایا جائے یا پہنے ہوئے کپڑے کا خاص حصہ زمین پر بچھا دیا جائے۔ خواہ وہ ٹوپی کا کنارہ ہو یا اوڑھے ہوئے دوپٹے کی کناری ہو۔ ایسے حالات میں سر پر باندھے ہوئے رومال پر سجدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ مجبوری کی حالت میں ہے۔ جب براہ راست پیشانی زمین پر ٹیکنے سے تکلیف ہوتی ہو‘ بصورت دیگر پیشانی سے دوپٹے اور رومال کو ہٹا کر سجدہ کرنا چاہیے۔ ہاں اگر کپڑا پہلے سے زمین پر بچھا ہوا ہے تو اس صورت میں تکلیف ہو یا نہ ہو کپڑے پر سجدہ کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔ اگر کوئی کپڑا پہنا ہوا ہے تو پھر تکلیف کے وقت اس پر سجدہ کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر پیشانی کو ننگا کرنا ہو گا۔ اگر ننگی پیشانی کو گرمی یا سردی کی وجہ سے زمین پر رکھنا مشکل ہو تو ملبوس کپڑے کے فالتو حصے کو اس پر لپیٹ کر یا نیچے رکھ کر سجدہ کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عباسw کا بیان ہے کہ رسول اللہe نے ایک ہی کپڑے کو بدن پر لپیٹ کر نماز پڑھی پھر اس کے فالتو حصے کے ذریعے زمین کی گرمی اور سردی سے بچا کرتے تھے۔ (مسند امام احمد: ج۱‘ ص ۳۰۳)
صورت مسئولہ میں سائلہ کو چاہیے کہ اگر کوئی تکلیف نہیں تو پیشانی کو ننگا کر کے سجدہ کرے بصورت دیگر دوپٹے کی کناری پر سجدہ کرنے میں چنداں حرج نہیں۔ واللہ اعلم!
اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرنا
O میں نے ایک عالم دین سے سنا کہ اونٹ کا گوشت کھانے سے وضوء کرنا پڑتا ہے۔ کیا اونٹ حلال جانور نہیں؟ اگر حلال ہے تو اس کا گوشت کھانے سے وضوء کیوں کرنا پڑتا ہے؟ آخر اس میں کیا حکمت ہے؟ وضاحت کر دیں۔
P بلاشبہ اونٹ‘ اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب وغریب مخلوق ہے‘ ہمیں اس کی معجزانہ پیدائش پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’تو کیا وہ اونٹ کی طرف غور سے نہیں دیکھتے کہ وہ کیسا عجیب پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ (الغاشیہ: ۱۷)
اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے لیے حلال کیا ہے‘ اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ ریتلے میدانوں میں یہی کام آتا ہے‘ اس بناء پر اسے ’’صحرائی جہاز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود یہ حیران کن بات ہے کہ شریعت نے اس کا گوشت کھانے کے بعد ہمیں وضوء کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ سیدنا جابر بن سمرہt کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہe سے سوال کیا کہ آیا ہم بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کریں؟ تو آپe نے فرمایا: ’’آپ کی مرضی ہے‘ اگر چاہے تو وضوء کر لے اور اگر چاہے تو نہ کر۔‘‘
پھر اس نے عرض کیا کہ ہم اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کریں؟ تو آپe نے فرمایا: ’’ہاں! اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرو۔‘‘ (مسلم‘ الطہارہ: ۳۶۰) … اسی طرح سیدنا براء بن عازبt کا بیان ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اونٹ کے گوشت پر وضوء کرو اور بکری کا گوشت کھانے سے وضوء کی ضرورت نہیں۔‘‘ (ابوداؤد‘ الطہارہ: ۱۸۴)
اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کی عقلی توجیہ کیا ہے؟ یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم نے تو اسے تسلیم کرنا ہے۔ خواہ اس کی حکمت کا ہمیں علم ہو یا وہ ہم سے پوشیدہ رہے۔ ہمارے لیے یہی حکمت کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور ہماری شریعت کا تقاضا ہے‘ صحابہ کرام] کا یہی معمول تھا کہ وہ ایسے معاملات میں کہہ دیتے تھے‘ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔ چنانچہ سیدہ عائشہr سے کسی خاتون نے سوال کیا‘ اس کی کیا وجہ ہے کہ ایام مخصوص میں عورت رہ جانے والے روزوں کی قضاء دیتی ہے لیکن اس دوران چھوٹ جانے والی نمازوں کو دوبارہ نہیں پڑھتی؟ تو سیدہ عائشہr نے جواب دیا: ’’ہمیں رسول اللہe نے اسی طرح حکم دیا ہے۔‘‘ ـ(مسلم‘ الحیض: ۳۳۵)
بہرحال ہمیں اس حکم کو بسر وچشم قبول کرنا ہے۔ کیونکہ ہمارے لیے فرمان الٰہی ہے: ’’رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔‘‘ (الحشر: ۷)
اگرچہ اونٹ کے گوشت کے بعد وضوء کرنے کے متعلق علمائے امت کا اختلاف ہے‘ امام احمد بن حنبلa‘ امام اسحاق بن راہویہa‘ امام یحییٰ بن منذرa اور امام ابن خزیمہa نقض وضوء کے قائل ہیں اور ان حضرات کا مستدل مذکورہ بالا احادیث ہیں۔ جبکہ جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ اس سے وضوء نہیں ٹوٹتا‘ وہ اسے استحباب پر محمول کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویa لکھتے ہیں: ’’اس کے متعلق نقض وضوء کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا۔فقہائے صحابہ اور تابعین میں سے کوئی بھی اس سے نقض وضوء کا قائل نہیں‘ لیکن محدثانہ نقطہ نظر سے اس کے منسوخ ہونے کا قطعی فیصلہ دشوار ہے‘ اس لیے احتیاط کا پہلو اختیار کرنا چاہیے۔‘‘ (حجۃ اللہ البالغہ: ج۱‘ ص ۵۴۷)
ہمارے رجحان کے مطابق اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرنا چاہیے۔ اس سے لغوی وضوء یعنی کلی کرنا مراد لینا یا اسے استحباب پر محمول کرنا انتہائی محل نظر ہے۔
وضوء کرنے میں کیا حکمت ہے؟ علمائے امت نے اس کے متعلق بھی بحث کی ہے۔ چنانچہ دیکھا گیا ہے کہ اونٹ‘ حلال ہونے کے باوجود بہت کینہ پرور اور سریع الغضب جانور ہے‘ اردو ادب میں ’’شتر کینہ‘‘ ایک مشہور ضرب المثل ہے جو اسی اونٹ سے متعلق ہے۔ اس کا گوشت کھانے کے بعد یہ شیطانی وصف‘ انسان میں منتقل ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ پٹھوں میں تناؤ کا آنا تو ہمارا بھی مشاہدہ ہے۔ اس بناء پر شریعت نے اس کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرنے کا حکم دیا ہے تا کہ غصہ کے شیطانی اثرات ختم ہو جائیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے‘ رسول اللہe نے فرمایا: ’’بلاشبہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے۔ سو جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وضوء کرے۔‘‘ (ابوداؤد‘ الادب: ۴۷۸۴)
اس حکمت کا ایک دوسری حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہe سے سوال ہوا‘ آیا ہم اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کریں؟ تو آپe نے فرمایا: ’’اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو‘ بلاشبہ یہ شیطانوں میں سے ہیں۔‘‘ (ابوداؤد‘ الطہارہ: ۱۸۴)
اس مقام پر ایک زبان زد حکایت کی تردید کرنا بھی ضروری ہے جو اس حکم نبویe میں استہزاء کا پہلو رکھتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہe خطبہ دے رہے تھے کہ حاضرین میں سے کسی کی ہوا خارج ہوئی اور اس کا وضوء ٹوٹ گیا۔ لیکن وہ شرم کے مارے مجلس سے نہ اٹھا۔ اتفاق سے اس نے اونٹ کا گوشت بھی کھا رکھا تھا۔ رسول اللہe نے اس کی پردہ پوشی کے لیے فرمایا: ’’جس نے اونٹ کا گوشت کھایا ہے وہ وضو کر لے۔‘‘ … اس کے بعد چند لوگ اُٹھے جنہوں نے اونٹ کا گوشت کھایا تھا۔ ان میں وہ بھی شامل تھا‘ چنانچہ ان سب نے وضوء کیا۔
یہ حکایت سند کے اعتبار سے انتہائی کمزور اور متن کے لحاظ سے خود ساختہ اور بے بنیاد ہے۔ چنانچہ علامہ البانیa نے اس کی بھر پور تردید کی ہے۔ (الاحادیث الضعیفہ: ج۳‘ ص ۲۶۸)
بہرحال اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضوء کرنا چاہیے۔ اس کی عقلی توجیہ بھی ہم نے بیان کی ہے۔ ویسے بھی اونٹ پالنے اور اس کے پاس رہنے سے انسان سخت دلی اور قساوت قلبی کا شکار ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث میں اس کی صراحت ہے: ’’سختی اور سنگ دلی ان کاشتکاروں میں ہے جو اونٹوں کے پیچھے آوازیں بلند کرنے والے ہیں۔‘‘ (بخاری‘ بدء الخلق: ۳۳۰۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں احادیث پر خوش دلی سے عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats