مرزا قادیانی کا فرار اور بے بسی 04-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 26, 2020

مرزا قادیانی کا فرار اور بے بسی 04-20


مرزا قادیانی کا فرار اور بے بسی

عقیدۂ ختم نبوت سے دین اسلام کی عظیم الشان عمارت وابستہ ہے۔ اسلام کا قلب وجگر‘ مرکزی اور بنیادی عقیدہ ہے۔ اسی عقیدہ میں معمولی سی لچک یا نرمی مسلمان کو بلندی سے اٹھا کر کفر کی پستی میں پھینک دیتی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں میں اس کا شعور وپختگی پیدا کرنے کے لیے قرآن مجید کی بے شمار تصریحات اور احادیث مبارکہ موجود ہیں۔ سیدنا ابوبکر صدیقt نے مسیلمہ کذاب سے یمامہ میں جنگ کی تھی جس میں مسیلمہ کے اٹھائیس ہزار آدمی مارے گئے اور باقی نے ہتھیار ڈال دیئے۔ مسیلمہ کذاب بھی اس معرکہ میں جہنم رسید ہوا۔ بارہ صد صحابہ کرام] جامِ شہادت نوش کر گئے۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے کہ جو کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ جھوٹا اور دجال ہے۔
برصغیر میں فتنہ قادیانیت اپنے دور اقتدار میں انگریز کا پیدا کردہ ہے۔ اسی نے اسے بال وپر دیئے۔ ضرورت تھی کہ اس فتنہ کی سرکوبی کی جائے۔ چنانچہ سب سے پہلے یہ سعادت علماء اہل حدیث کو حاصل ہوئی۔ آئیے ذرا اب تاریخ پر نظر ڈالیں۔ مرزا قادیانی نے ایک الہام کا اعلان کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ چالیس دن کے اندر محمد حسین بٹالوی کو ذلیل وخوار کرے گا کیونکہ اس نے میری اہانت کو شعار بنا لیا ہے۔‘‘ … لیکن مولانا محمد حسین بٹالویa پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم رہا۔ انہوں نے ۳۰ اپریل ۱۸۹۲ء کو اپنے رسالہ میں لکھا کہ وہ بفضلہ تعالیٰ زندہ ہیں اور مرزا قادیانی کے مقابلہ میں تندرست وتوانا اور خوش وخرم ہیں۔ مرزا قادیانی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔
مرزا قادیانی عجیب الخلقت انسان تھا۔ علماء کے تعاقب سے اس کا کاروبار مندا پڑ گیا۔ پھر ۱۵ دسمبر ۱۸۹۲ء کو میاں نذیر حسین محدث دہلوی‘ مولانا محمد حسین بٹالوی اور مولانا ثناء اللہ امرتسریS اور ان کے ساتھ تمام علماء کو دعوت مباہلہ دی جن کے نزدیک وہ اپنے دعاوی کے باعث خارج از اسلام ہو چکے تھے۔ مولانا بٹالوی نے فی الفور مباہلہ منظور کر لیا اور مرزا کو لکھا کہ وہ جہاں مباہلہ کرنا چاہیں انہیں آنے میں کوئی عذر نہیں ہو گا۔ لیکن مرزا صاحب حسب عادت فرار ہو گئے۔ پھر اگلے سال ۳۰ مارچ ۱۸۹۳ء کو مرزا قادیانی نے ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ محمد حسین بٹالوی میرے مقابلہ میں تفسیر قرآن عربی میں لکھیں۔ مولانا بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں مرزا کا چیلنج قبول کر لیا۔ مرزا قادیانی حسب معمول اس سے بھی بھاگ گیا۔ مولانا محمد حسین بٹالوی لاہور سے ریل گاڑی میں سوار ہو کر پورب کی طرف جا رہے تھے کہ ٹرین میں حکیم نور الدین سے ملاقات ہو گئی۔ ان سے مرزا قادیانی کے عقائد پر گفتگو ہوئی۔ حکیم صاحب گریز کرتے رہے بالآخر جان بچا کر نکل گئے۔ مولانا بٹالوی نے حکیم صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب کے الہامات وتحریرات دراصل آپ کے قلم سے ہیں۔ آپ ان کے دماغی پس منظر میں ہیں۔ مولوی صاحب وہاں سے یونہی چلے گئے۔ مرزا قادیانی نے ۴ مئی ۱۸۹۴ء کو اپنے ایک الہام میں اعلان کیا کہ محمد حسین بٹالوی نے ان سے بیعت کر لی ہے۔ اس پشین گوئی کو مرزا نے اپنی منظوم کتاب ’’اعجاز احمدی‘‘ مطبوعہ ۱۵ نومبر ۱۹۰۲ء میں دہرایا تو مولانا بٹالوی نے مرزائیت کا تعاقب تیز کر دیا۔ مرزا قادیانی زچ ہو گیااور اس کی یہ پشین گوئی باطل ثابت ہوئی۔ مرزا قادیانی کے ہاتھ گالیاں بکنے کے سوا اور کوئی نسخہ نہ تھا۔ سو اس نے علماء ومشائخ کے خلاف اپنی گندی زبان استعمال کی کہ عوام ششدر رہ گئے۔ مولانا بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں شدید محاسبہ کیا اور مرزا کی ہوا اکھڑ گئی۔ لوگ سوال کرنے لگے کہ ’’جو آپ کو مامور من اللہ کہتا ہے کیا اس قسم کی بازاری زبان بولتا اور لکھتا ہے؟‘‘ لیکن مرزا کے نزدیک ان کے الہامات کا یہی طرۂ امتیاز تھا۔
مولانا بٹالویa نے ۱۵ اپریل ۱۸۹۱ء کو حکیم نور الدین خلیفۂ اول سے مباحثہ کیا اور ان کو بھگا دیا۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے مولانا بٹالویa سے مناظرے کی طرح ڈالی لیکن مرزا ۲ مئی ۱۸۹۱ء تک بے سرو پا خط وکتابت کر کے فرار ہو گیا۔ ان دنوں مولانا بٹالوی چینیانوالی مسجد لاہور کے خطیب تھے۔ آپ نے مرزا کو ان کے دعاوی پر مناظرے کی دعوت دی لیکن مرزا قادیانی نے رسید ہی نہ دی۔ مولانا بٹالوی نے لدھیانہ پہنچ کر مرزا کے خسر مرزا ناصر نواب دہلوی کے مکان میں ۲۰ جولائی ۱۸۹۱ء کو تحریری مباحثے کا آغاز کیا۔ یہ مباحثہ ۱۲ روز جاری رہا۔ آخر مرزا جھوٹ بول کر فرار ہو گیا۔ مرزا نے یکم اگست ۱۸۹۱ء کو مولانا بٹالوی سے حیات وممات مسیح پر مباحثے کا اشتہار دیا اور لاہور میں مناظرہ کرنے کا اعلان کیا لیکن مرزا اس سے بھی بھاگ گیا۔ مولانا بٹالوی نے اوائل فروری ۱۸۸۲ء میں مرزا کی لاہور میں آمد پر ایک اور چیلنج کیا لیکن مرزا الہام کی آڑ لے کر سیالکوٹ چلا گیا۔ مولانا بٹالوی اس کے پیچھے سیالکوٹ چلے گئے۔ مرزا نے سیالکوٹ سے کوچ کرنے کی ٹھان لی تو کئی ایک معززین نے روکا کہ مولانا بٹالوی سے مناظرہ کیجیے۔ مرزا نے عذر کیا کہ وہ مجھے کافر کہتا ہے اور گالیاں دیتا ہے اس سے مناظرہ جائز نہیں۔ المختصر مرزا سیالکوٹ سے نکلا اور کپور تھلہ جا پہنچا۔ مولانا بٹالوی نے وہاں بھی اس کا تعاقب کیا۔ مقامی علماء نے مرزا کو گھیر لیا مگر وہاں سے جالندھر چلا گیا۔ مولانا بٹالوی نے جالندھر کے علماء کو لکھا لیکن مرزا ان کا نام سنتے ہی بھاگ نکلا۔ مولانا بٹالویa کے تعاقب سے تنگ آکر پشین گوئی کی کہ ’’جھوٹا سچے کی زندگی میں مر جائے گا۔‘‘ یہ بات بھی جھوٹ ثابت ہوئی۔ مرزا ان سے پہلے ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء کو مر گیا۔ مولانا بٹالوی نے بارہ سال بعد ۲۹ جنوری ۱۹۲۰ء کو وفات پائی۔
اس کو پڑھیں:   ضعیف اور موضوع احادیث
علماء اہل حدیث نے مرزا کے کفر پر سب سے پہلے فتویٰ دیا۔ ان کا فتویٰ فتاویٰ نذیریہ جلد اول کے صفحہ ۴ پر موجود ہے۔ مرزا اس فتویٰ سے تلملا اٹھا اور میاں نذیر حسین کو مناظرے کے لیے چیلنج دیا۔ میاں صاحب سو برس سے اوپر ہو چکے تھے اور انتہائی کمزور تھے۔ آپ نے مرزا کے چیلنج کو اپنے تلامذہ کے سپرد کر دیا۔ مرزا اپنی عادت کے مطابق فرار ہو گیا۔ جن اہل حدیث علماء نے مرزا اور ان کے بعد قادیانی گروہ کو زیر کیا ان میں مولانا محمد بشیر سہسوانی‘ قاضی محمد سلیمان منصور پوری اور مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سرفہرست تھے لیکن جس شخصیت کو علماء اہل حدیث میں ’’فاتح قادیان‘‘ کا لقب ملا وہ ابوالوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسریa تھے۔ انہوں نے مرزا اور ان کے گروہ کو لوہے کے چنے چبوا دیئے۔ اپنی زندگی ان کے تعاقب میں گذار دی۔ ان کی بدولت قادیانی جماعت کا پھیلاؤ رک گیا۔ مرزا نے تنگ آ کر انہیں خط لکھا کہ ’’میں نے بہت دکھ اٹھایا ہے اور صبر کرتا رہا ہوں‘ اگر میں کذاب ومفتری ہوں جیسا کہ آپ لکھتے ہیں تو آپ کی زندگی میں ہلاک ہو جاؤں گا۔ ورنہ آپ سنت اللہ کے مطابق مکذبین کی سزا سے نہیں بچ سکیں گے۔ خدا آپ کو نابود کر دے گا۔ خداوند تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مفسد مکذب کو صادق کی زندگی میں اٹھا لے۔‘‘ (خط ۱۵ اپریل ۱۹۰۶ء)
اس خط کے ایک سال ایک ماہ اور ۱۳ دن بعد مرزا لاہور میں اپنے میزبان کے بیت الخلاء میں دم توڑ گیا۔ مولانا امرتسریa نے ۱۵ مارچ ۱۹۴۸ء کو سرگودھا میں رحلت فرمائی۔ وہ مرزا کے بعد ۴۰ سال تک زندہ رہے۔ ان کے علاوہ مولانا عبداللہ معمار‘ مولانا محمد شریف گھڑیالوی‘ مولانا عبدالرحیم لکھوکے والے‘ مولانا عبداللہ روپڑی‘ مولانا حافظ محمد گوندلوی‘ مولانا محمد اسماعیل سلفی‘ مولانا محمد حنیف ندوی اور حافظ محمد ابراہیم کمیرپوری S ودیگر علماء نے قادیانی جماعت کو ہر دینی محاذ پر ذلیل وخوار کیا۔ اس سلسلہ میں دیگر علماء نے عظیم خدمات سرانجام دیں۔ مولانا سید محمد داؤد غزنویa امیر مرکزی  جمعیۃ اہل حدیث اور شہید اسلام علامہ احسان الٰہی ظہیرa نے اس محاذ پر بے نظیر کام کیا۔ فی الجملہ تحریک ختم نبوت کے اس آخری دور تک جب مرزائی غیر مسلم اقلیت قرار پا گئے۔ علماء اہل حدیث قادیانیت کے تعاقب میں پیش پیش رہے اور اس عنوان سے اتحاد بین المسلمین میں قابل قدر حصہ لیا۔ عقیدہ ختم نبوت اور مرزائیت کا محاسبہ کے عنوان پر اہل حدیث نے بے حد کام کیا ہے۔ اب برطانیہ میں مقیم محترم ڈاکٹر بہاؤالدین صاحب ختم نبوت پر ۷۵ جلدیں ترتیب دے چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
اس کو پڑھیں:   حُجیت حدیث نبویﷺ
قادیانیت کے دجل وفریب اور مرزا قادیانی کی جعلی اور خانہ ساز نبوت سے لوگوں کو آگاہ کرنا مسلمانوں کا اہم فریضہ ہے۔ علامہ اقبالa نے کہا تھا کہ قادیانیت‘ یہودیت کا چربہ ہے۔ قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں۔ اس لیے اس فتنہ کے خاتمہ کے لیے مسلمانوں کو متحد ہو کر کام کرنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats