رشتوں کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟! 04-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 26, 2020

رشتوں کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟! 04-20


رشتوں کی بنیاد کیا ہونی چاہیے؟!

تحریر: جناب الشیخ عبدالستار الحماد﷾
اللہ تعالی نے اس عالم رنگ وبو میں انسان کوخودمختاربناکرپیداکیاہے،لیکن اس کے باوجود وہ ایک دوسرے سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہے کیونکہ اس پر دنیا کا نظام قائم ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
{وَرَفَعْنَا بَعْضَهمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا} (الزخرف: ۳۲)
’’ہم نے کچھ لوگوں کودوسروں پرفوقیت بھی دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت بھی لے سکیں۔‘‘
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امیرکوغریب کی ضرورت ہے،وہ اس غریب کامحتاج ہے کہ اس کاکام کاج کرے اورغریب کوامیر کی ضرورت ہے کہ وہ اس کاکام کاج کرکے اپنے بچوں کے لیے روزی کمائے۔ اس طرح شاگرد کو استاد کی اور استاد کو شاگرد کی ضرورت ہوتی ہے، الغرض اختلافِ صفات کے باوجود ہر انسان دوسرے کا محتاج اوراس سے تعلقات رکھنے پر مجبور ہے، لیکن اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ ہمارے تعلقات کی بنیاداگر اللہ کی محبت، تقویٰ اوراخلاص ہے تو ایسے تعلقات آخرت میں بھی برقرار رہیں گے اور اگر ان تعلقات کی بنیاد دنیا اور اس کے مفادات ہیں توقیامت کے دن اس قسم کے تعلقات دشمنی میں بدل جائیں گے۔
اس کو پڑھیں:    اسلام .. اُبھرتا ہوا دین
ارشادباری تعالیٰ ہے: 
{اَلْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍ بَعْضُهمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ} (الزخرف: ۶۷)
’’اس دن پرہیزگاروں کے علاوہ سب دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔‘‘
اس کامطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن صرف وہی تعلقات برقراررہیں گے جن کی بنیاد تقویٰ پرہوگی اور جنہوں نے صرف اللہ کی خاطر اوراللہ کے دین کے لیے ایک دوسرے سے دوستی کی ہوگی،اس کے علاوہ باقی ہرقسم کے تعلقات اورتمام قسم کی دوستیاں دشمنی میں بدل جائیں گی۔ قیامت کے دن اس قسم کے رشتے اورتعلقات نہ صرف ختم ہوجائیں گے بلکہ سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اورسب ایک دوسرے پر یہ الزام دھریں گے کہ فلاں دوست میری گمراہی کاباعث بنا اورفلاں رشتہ دار اپنے ساتھ مجھے بھی لے ڈوبا۔ اس کے برعکس جس رشتے کی بنیاد تقویٰ اور اخلاص پر ہو گی دین کے رشتے کو تمام رشتوں سے مقدم سمجھا ہو گا ایسے لوگوں کے متعلق اعلان ہو گا:
{یٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْكمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ} (الزخرف:: ۶۹)
’’آج قیامت کے دن تمہیں کسی پریشانی کاخوف نہیں رکھناچاہیے،اورنہ آج تمہیں اپنی سابقہ زندگی پر کچھ ملال ہو گا۔‘‘
بلکہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے کہ ایسے لوگوں کواللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آواز دے گا: ’’میرے جاہ و جلال اورعظمت وتعظیم کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ میں آج انہیں اپنے سایہ میں جگہ دوں گا اس دن میرے سائے کے علاوہ اورکوئی سایہ نہیں ہو گا۔‘‘ (صحیح مسلم،کتاب البروالصلہ)
اس مبارک عمل کی اللہ کے ہاں بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میری جلالت وعزت کی خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے نورانی منبر ہیں، جن پر انبیاء اور شہداء رشک کریں گے۔ (سنن ترمذی،کتاب الزھد)
اس کو پڑھیں:  نماز کسوف
بہرحال جن لوگوں کے تعلقات کی بنیاد تقویٰ اوراخلاص پر ہوگی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا:
{اُدْخُلُوا الْجَنَّة اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُكمْ تُحْبَرُوْنَ} (الزخرف: ۷۰)
’’تم خود اور تمہاری طرح کے دوسرے ساتھی جنت میں داخل ہو جاؤ، تمہیں وہاں خوش رکھا جائے گا۔‘‘
جس طرح ہمارے تعلقات کی بنیاد للہیت، تقویٰ ہونا چاہیے اسی طرح ہمارے رشتوں کی اساس بھی دینداری کو ہونا چاہیے، چنانچہ رسول اللہe کا فرمان ہے:
’’عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پرنکاح کیا جاتا ہے: 1 اس کے مال واسباب، 2 اس کے حسب ونسب، 3 اس کے حسن وجمال اوراس کی 4 دینداری، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں! تم دینداری کی بنیادپہ نکاح کرکے کامیابی حاصل کرو۔‘‘ (صحیح بخاری،کتاب النکاح)
اس حدیث کی روشنی میں جب ہم رسول اللہe کے پیروکار صحابہ کرام] کو دیکھتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ انہوں نے نکاح کے لیے اسی کوبنیاد بنایا۔
چنانچہ رسول اللہe کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے کچھ عرصہ پہلے کا واقعہ ہے کہ سیدنا انسt کے والدجناب مالکt فوت ہو گئے، ان کی وفات کے بعد سیدہ ام سلیمr کو سیدنا ابوطلحہt نے جو اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے، پیغامِ نکاح بھیجا، سیدہ ام سلیمr نے جواب دیا:
’’تیرے جیسے شخص کاپیغامِ نکاح رد نہیں کیا جاتا، لیکن تو کافر ہے اور میں حلقہ بگوشِ اسلام ہوچکی ہوں، میرے لیے تجھ سے نکاح جائز نہیں، اگر تو مسلمان ہو جائے تو یہی میرا حق مہر ہوگا اورمیں تجھ سے اس کے علاوہ بطور مہرکسی چیزکامطالبہ نہیں کروں گی۔‘‘
چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور ان کا اسلام ہی سیدہ ام سلیمr کا حق مہر قرار پایا۔ (سنن نسائی:کتاب النکاح)
اس نکاح اور حق مہر کے متعلق سیدنا انسt کے شاگرد رشید سیدنا ثابت البنانیa بایں الفاظ تبصرہ کرتے ہیں:
’’میں نے کسی دوسری عورت کے متعلق نہیں سناکہ اس کا مہر سیدہ ام سلیمr کے مہر اسلام سے بہتر ہو، سیدنا ابوطلحہt نے ان کے ساتھ زندگی کے خوشگوار لمحات بسر کیے اوران سے ان کے بچے بھی پیدا ہوئے۔‘‘ (سنن نسائی:کتاب النکاح)
چونکہ یہ نکاح رنگ ونسل اوربرادری وخاندان سے بالاترہوکرصرف اسلام اوردینداری کی بنیاد پرہواتھا،اس لیے اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوطلحہt کوبہت خیروبرکت سے نوازا۔ سیدنا انسt کابیان ہے کہ سیدنا ابوطلحہt انصارمیں سب سے زیادہ مالدار تھے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کھجوروں کے باغات سے نوازا تھا، ان کا ایک باغ جو مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، رسول اللہe وہاں تشریف لے جاتے، وہاں تازہ کھجوریں تناول فرماتے، میٹھے چشموں کا ٹھنڈا پانی نوش کرتے اور درختوں کے گھنے سایہ میں محو استراحت ہوتے تھے۔ (صحیح بخاری:کتاب الزکاۃ)
اس سلسلے میں ایک دوسرا واقعہ پیش خدمت ہے کہ رسول اللہe اپنے ساتھیوں سے نہ صرف انتہائی محبت کرتے تھے بلکہ ان کی ضروریات کابھی خیال رکھتے تھے۔ چنانچہ سیدنا جلیبیبt ایک انصاری صحابی تھے جو مالدار تھے نہ خوبصورت، ان کاکسی بڑے قبیلے سے تعلق تھا نہ ہی کسی منصب پر فائز تھے، ان کی خوبی صرف یہ تھی کہ وہ رسول اللہe سے اوررسول اللہe ان سے محبت کرتے تھے، ایک دن رسول اللہe نے مسکراتے ہوئے ان سے فرمایا: ’’جلیبیب! تم شادی نہیں کرو گے؟ سیدنا جلیبیبt نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھ جیسے شخص سے اپنی بیٹی کی شادی کون کرے گا؟ میراحسن وجمال، مال ودولت اورکوئی جاہ ومنصب نہیں، بلکہ ایک فقیر بندہ ہوں۔ لیکن رسول اللہe کی نظراس کے دنیاوی معیار پر نہیں بلکہ اس کی دینداری اورتقویٰ شعاری پر تھی، آپe نے اس کی مایوسی کوخوشی میں تبدیل کرتے ہوئے فرمایا: جلیبیب! تم فکرنہ کرو، تمہاری شادی میں خود کروں گا، تم اللہ کے نزدیک بے قیمت نہیں ہو، تمہاری وہاں بڑی قدر ومنزلت ہے۔
چنانچہ رسول اللہe نے ایک دن ان سے فرمایا: جلیبیب! تم فلاں انصاری کے گھر جاؤ، اسے میرا سلام کہو اور میرا پیغام دوکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی تجھ سے کر دے، سیدنا جلیبیب خوشی خوشی اس انصاری کے گھر پہنچ جاتے ہیں، دروازے پہ دستک دی، اہل خانہ پوچھتے ہیں تم کون ہو؟ سیدنا جلیبیبt نے جوابا عرض کیا: رسول اللہe نے آپ لوگوں کو سلام بھیجاہے، یہ سن کر انصاری صحابی خوشی سے پھولانہیں سماتا کہ رسول اللہe نے مجھے سلام بھیجا ہے، یہ تو میرے لیے خوش قسمتی کی بات ہے، پورے گھرمیں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اس خوشی میں سیدنا جلیبیبt کواپنے گھر لے جاتے ہیں، سیدنا جلیبیبt نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا: ’’رسول اللہe تمہیں سلام کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کر دو۔‘‘ صاحبِ خانہ نے جب یہ بات سنی توسناٹے میں آگئے، کیا یہ شخص میراداماد بنے گا؟ اس کانہ مال ودولت نہ حسن وجمال، نہ قد کاٹھ، نہ حسب ونسب اور نہ منصب اور کاروبار! کہنے لگا میں اپنے گھر والوں سے مشورہ کر کے تمہیں جواب دیتا ہوں، انہوں نے اپنی اہلیہ کو بلایا اور رسول اللہe کاپیغام سنایاکہ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اپنی بیٹی کی شادی جلیبیب سے کردو۔‘‘
یہ حسنِ اتفاق تھاکہ ساتھ والے کمرے میں پسِ پردہ ان کی دخترِ نیک اختر اپنے والدین کی گفتگو سن رہی تھی، انصاری کی اہلیہ نے کہا کہ ہم اپنی بیٹی کی شاد ی جلیبیب سے کیسے کردیں جبکہ وہ خوبصورت بھی نہیں، مال ودولت کی ریل پیل بھی نہیں، بڑاخاندان بھی نہیں، اورکسی منصب پر فائز بھی نہیں، ہم نے فلاں فلاں خاندان کی طرف سے آنے والوں کو مسترد کر دیا ہے۔ میاں بیوی دونوں اس قسم کی گفتگو کررہے تھے، بیٹی بھی پردے کے پیچھے کھڑی گفتگو سن رہی تھی اوراس ماجرے کا مشاہدہ کر رہی تھی۔ جب سیدنا جلیبیبt مایوس ہو کر واپس جانے لگے تو لڑکی نے معاملے کی نزاکت کااحساس کرتے ہوئے اپنے والدین سے مخاطب ہو کر آہستہ کہا: ’’کیاتم رسول اللہe کاحکم ٹالنے کے لیے سوچ وبچار کر رہے ہو، آپ مجھے رسول اللہe کے سپرد کر دیں، وہ جہاں چاہیں اپنی مرضی سے میری شادی کر دیں، وہ مجھے ہر گز ضائع نہیں کریں گے۔‘‘
بیٹی کے پاکیزہ جذبات سن کروالدین نے بھی سر جھکا دیا، کچھ دیر پہلے تک ان کے ذہن میں نہ تھاکہ وہ اس رشتے کوقبول نہ کرنیکی صورت میں رسول اللہe کے حکم کو نظر انداز کرنے والے بن جائیں گے، وہ اپنی بیٹی کی فہم وفراست اوراس کے خوبصورت فیصلے پر راضی ہوگئے۔
سیدنا جلیبیبt رسول اللہe کا پیغام پہنچاکرواپس چلے گئے، کچھ دیر بعد ذہین وفطین بچی کا والدرسول اللہe کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: یارسول اللہ! مجھے آپ کا پیغام ملا، آپ کا حکم سر آنکھوں پر، میں میرے اہل خانہ حتی کہ میری بیٹی بھی آپe کے فیصلے پرراضی ہیں۔
ادھر رسول اللہe کوسیدنا جلیبیبt کے ذریعے بچی کے پاکیزہ جذبات اور سمع واطاعت پرمبنی جواب کا علم ہوچکاتھا،آپe نے اسے ایک عظیم تحفہ دیا، اپنے مبارک ہاتھوں کو بارگاہ الٰہی میں اٹھایا اور بایںالفاظ دعا فرمائی: ’’اے اللہ! ان دونوں پر خیر وبھلائی کے دروازے کھول دے، اور انہیں زندگی میں مشقت وپریشانی سے دور کردے‘‘۔ اس بچی کی شادی سیدنا جلیبیبt سے ہوگئی، مدینہ طیبہ میں ایک اور گھر کا اضافہ ہوا، وہ جلیبیب جو کبھی مفلس ونادار تھے، رسول اللہe کی دعاکے نتیجہ میں ان پررزق کے دروازے کھل گئے، یہ گھرانہ بڑاسعادت مند اوربابرکت ثابت ہوا،اس گھرانے کورسول اللہe کی اطاعت کاصلہ اس صورت میں ملا، اہل مدینہ اس کا اظہار ان الفاظ میں کرتے تھے: ’’انصاری گھرانوں کی عورتوں میں سب سے زیادہ خرچ کرنیوالا گھرانہ اسی لڑکی کا تھا۔‘‘ (مسندامام احمد: ۴/۴۲۲)
اس کو پڑھیں:  کرسمس کی حقیقت
قارئین کرام! رسول اللہe کی دعاکی برکت سے اس لڑکی کو دنیامیں بھی بھلائی نصیب ہوئی، اورآپ کی اطاعت کے نتیجہ میں جو کچھ آخرت میں ملنے والا ہے،اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں، لیکن افسوس کہ ہم رشتوں ناطوں کے سلسلہ میں مال ودولت، حسن وجمال، حسب ونسب اور خاندان وبرادری کے بتوں کو پوج رہے ہیں، ہماری بچیاں اس جعلی معیار کے انتظارمیں بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیتی ہیں، ہمیں ان بتوں کوپاش پاش کرنا ہوگا، اور خالص دینداری کے ماحول کواپنے رشتوں کا معیار قراردیناہوگا۔
آج بھی کچھ دیندار گھرانے اس معیار کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں، اس سلسلہ میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں، یہ واقعہ میرے ایک قریبی دوست کارقم کردہ ہے:
’’میری بہن کے لیے ایک اچھا رشتہ آیا، لڑکا برطانیہ میں ملازمت کرتا تھا، تعلیم یافتہ، خوبصورت برسر ِروزگار تھا، پاکستان میں رہنے والے اس کے والدین اپنے بیٹے کے لیے بہتر رشتہ کی خاطربھاگ دوڑ کر رہے تھے، تلاش کرتے کرتے نظرِانتخاب ہمارے گھرانے پر پڑی‘ چنانچہ یہ رشتہ منظور کرلیاگیا، برطانیہ میں ملازمت کی بنا پر لڑکا ایک محدود وقت کے لیے پاکستان آسکتا تھا، اس لیے یہ طے پایا کہ وہ نکاح سے ایک ہفتہ قبل پاکستان آئے گا اورنکاح کے چندروز بعد اپنے اہل خانہ کے ساتھ واپس برطانیہ چلا جائے گا، والدمحترم نے احتیاطا یہ شرط رکھ دی تھی کہ لڑکے سے ملاقات پر اگرکوئی بے اطمینانی والی بات سامنے آئی تو عین موقع پربھی معذرت کی جاسکتی ہے، اس شرط کو فریقِ ثانی نے بخوشی قبول کرلیا، آخر کار نکاح سے ایک ہفتہ قبل حسبِ پروگرام لڑکا برطانیہ سے پاکستان آیا اور والد محترم سے ملاقات ہوئی، حسنِ صورت، اندازِ گفتگو اور آدابِ معاشرت کے اعتبار سے وہ ہمارے تصورات سے بھی بالا تر تھا، اس پہلو سے اطمینان حاصل ہوا لیکن چادر اور چار دیواری کے لحاظ سے آزاد خیالی محسوس ہوئی، ہمارے ہاں دینی ماحول کی وجہ سے والد محترم کوبہت تشویش لاحق ہوئی، رشتہ داروں نے اطمینان دلایاکہ رشتہ ہونے کے بعد اس کمی کی تلافی ہوجائیگی‘ اس بنا پر ایک پڑھے لکھے برسر ِروزگار رشتے کوجواب دینامناسب نہیں ہے، لیکن ہمارے والدمحترم دینی معاملات میں بڑے حساس تھے، اس لیے ان کی تشویش میں مزید اضافہ ہوا فرمانے لگے کہ برطانیہ کے نیم عریاں ماحول میں اس کی آزاد خیالی کے بڑھنے کا اندیشہ ہے، آخرکارانہوںنے اپنی دینی غیرت کی وجہ سے نکاح سے ایک دن قبل اس رشتہ کو رد کر دیا اور انہیں صاف صاف جواب دیدیا، اگرچہ نکاح کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی تھیں، کھانے وغیرہ کے انتظامات بھی مکمل ہو چکے تھے لیکن والد محترم کی حمیتِ ایمانی نے ہرقسم کی قربانی دے کر اسے برداشت کیا۔ شایداس کی برکت تھی کہ اس قربانی کے چھ ماہ بعد مدینہ منورہ سے ہمارے خاندان کاایک رشتہ آیاجو قرآن کریم کاحافظ اورعالم دین تھا، والدمحترم نے استخارہ کرنے کے بعد وہ منظورکرلیا‘ اس طرح ہماری ہمشیرہ کاان سے نکاح ہوگیا، اب وہ صاحبِ اولاد اورمدینہ طیبہ میں اقامت گزین ہے‘‘۔
رشتوں کے متعلق ہمارایہی رجحان ہے کہ دولت، خاندان اور برادری کے چکرسے آزاد ہوکردین اور تقویٰ کوپیش نظررکھاجائے،اس سلسلہ میں حضرات صحابہ] کی مثالیں پیش خدمت ہیں، عرب معاشرہ میں جب کوئی غلام آزاد ہوجاتاتو اسے اور اس کی اولاد کوآزادافراد سے فروتر خیال کیاجاتاتھا،سیدنا اسامہt کے والدگرامی سیدنا زیدبن حارثہt اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ ام ایمنr پہلے غلام تھے، پھر انہیں آزادی ملی تھی،اس کے علاوہ سیدنا اسامہt رنگ کے بھی کچھ سانولے تھے، رسول اللہ e نے سیدہ فاطمہ بنت قیسt کوان سے نکاح کرنے کے متعلق مشورہ دیا، چونکہ ان کے خاوندپر غلامی کا ٹھپہ لگاہواتھا، اس لیے ابتدائی طور پرانہیں یہ رشتہ اچھانہ لگا اوراپنی ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے کہا، اسامہ، اسامہ اس سے میں نکاح کرلوں! اس پر رسول اللہe نے فرمایا: ’’اللہ کی اطاعت اور اس کے رسولe کی اطاعت تیرے لیے بہتر ہے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ:کتاب النکاح)
آخرکار انہوں نے رسول اللہe کی خواہش کااحترام کرتے ہوئے سیدنا اسامہt سے نکاح کرلیا، وہ خود اس نکاح کے متعلق فرماتی ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے اس نکاح میں بھلائی اور برکت ڈال دی حتیٰ کہ مجھ پر رشک کیاجانے لگا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ:کتاب النکاح)
اس کو پڑھیں:  سیدنا امیر معاویہ
سیدنا اسامہ بہت ہی ملنسار اورحسن خلق کے حامل تھے، اس لیے ذات پات کے اعتبارسے ہم پلہ نہ ہونے کے باوجود سیدہ فاطمہr ان پر فخرکیاکرتی تھیں کہ خاوند ہو تو ایسا ہو۔
اسی طرح سیدنا سالمt ایک انصاری عورت کے آزاد کردہ غلام تھے، سیدنا حذیفہ بن عتبہt نے انہیں اپنامنہ بولا بیٹا بنایا تھا، انہوں نے اپنی حقیقی بھتیجی ہند بنت ولید بن عتبہ سے ان کا نکاح کر دیا تھا۔ (صحیح بخاری: کتاب النکاح)
اس حدیث پرامام بخاری رحمہ اللہ نے بایں الفاظ عنوان قائم کیاہے ’’دین میں ہم پلہ ہونا۔‘‘ (صحیح بخاری: کتاب النکاح،باب نمبر۱۶)
اس طرح کی متعدد مثالیں کتب حدیث میں مروی ہیں،جن سے معلوم ہوتاہے کہ ان حضرات نے برادری، حسب ونسب،مال ودولت،حسن وجمال اوردنیاداری کے بتوں کوتوڑ کررشتوں کی بنیاد صرف تقویٰ اوردینداری کو قراردیا، کیونکہ اس کافائدہ یہ ہوتاہے کہ متقی انسان کواگر بیوی سے محبت ہوگی تواس کی عزت کرے گااور اگر نفرت ہوگی تو اس پر ظلم کرنے سے باز رہے گا۔
اب ہم نکاح کے دوسرے پہلو کاجائزہ لیتے ہیں کہ جو لوگ دین اورتقویٰ کے معیار کو نظر انداز کرکے محض دنیاوی مفادات اور برادری کارکھ رکھاؤ پیش نظر رکھتے ہیں، ایسے رشتوں کاکیاانجام ہوتاہے،اس سلسلہ میں رسول اللہe کاارشادگرامی ہے: ’’جب تمہارے پاس کسی ایسے شخص کاپیغامِ نکاح آئے جس کا دین اوراخلاق تمہیں پسندہو تو اسے اپنی لڑکی کارشتہ دیدو، اگر تم ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اوربڑافساد ہو گا۔‘‘ (سنن ترمذی:کتاب النکاح)
اس حدیث کامطلب یہ ہے کہ رشتہ کرتے وقت تقویٰ،اخلاق وکردار اوردینی اقدار کوپیش نظر رکھنا چاہیے، اگر دین کو نظر انداز کر کے حسب ونسب، خاندان، برادری، حسن وجمال اور مال ودولت کو معیار بنایا گیا تو یہ کئی ایک فتنوں اورآزمائشوں کا پیش خیمہ ہوگا۔ کئی لڑکیاں بے نکاح رہ جائیں گی جو ان کے لیے مصیبت اورفتنہ کاباعث ہو گا، نیز دینی لحاظ سے نیک نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑے پیدا ہوں گے‘ پھر یہی مال وجمال اور خاندانی تفوق گلے کا طوق اور پاؤں کی بیڑی بن جائے گاـ ہم آئے دن اس طرح کے بیسیوں واقعات کا مشاہدہ کرتے ہیں جو خاندانوں کے ٹکراؤ اورگھروں کی بے آبادی کاباعث ہوتے ہیں۔
ہم ذیل میں صرف ایک واقعہ ذکرکرتیہیں جودیدۂ عبرت کیلیے سرمۂ بصیرت کاباعث ہے،اس کی روشنی میں ہم نے اپنے کردار کابس جائزہ لیناہے،واللہ المستعان۔
میرے ایک انتہائی قریبی عزیز نے بیان کیاکہ ہمارے تین بھائیوں کی ایک اکلوتی بہن تھی، ہمارے والدین نے اس کی پرورش اور تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دی،بی اے کاامتحان پاس کرنے کے بعد ہم نے اس کے رشتے کے متعلق تلاش شروع کی،رشتوں کے متعلق ہماری برادری کامعیار یہ تھاکہ لڑکا خوبرو، ملنسار، خوش اخلاق،تعلیم یافتہ،برسرروزگار ہونے کے ساتھ ساتھ برادری کے اعتبار سے ہم پلہ اور اس کا خاندان بھی مختصر افراد پر مشتمل ہو، تلاش بسیار کے باوجود ہمیں مناسب رشتہ نہیں مل رہا تھا، اس بناء پروالدین انتہائی پریشان تھے۔ اتفاقا ایک دن ہمیں کسی عورت کے ذریعے خانیوال میں ایک رشتہ کاپتہ چلا‘ اس عورت نے بتایاکہ لڑکے کے والدین فوت ہو چکے ہیں، اس کی خالہ نے تعلیم وتربیت کی ذمہ داری اٹھائی تھی، تعلیم کے بعد اب وہ ایک پرائیوٹ کمپنی میں بطور منیجر جاب کرتا ہے، تنخواہ تقریباایک لاکھ ماہانہ ہے۔کمپنی نے اسے گاڑی بھی دے رکھی ہے، اس کا خانیوال میں اپنا مکان ہے، کافی سوچ وبچار کے بعدمیں اورمیرے والدین اس عورت کے ہمراہ خانیوال گئے، لڑکے سے ملاقات ہوئی،وہ قبول صورت،خوش گفتاراور تعلیم یافتہ معلوم ہوتا تھا، اس کی کوٹھی نما مکان میں زندگی کی تمام سہولیات موجود تھیں، ہم نے بات چیت کے ذریعے اس کے اخلاق وکردارکومعلوم کرنے کی کوشش کی تووہ کچھ آزادخیال تھا، ہم نے گھرآکر باہمی مشورہ کیا، اس کی آزاد خیالی کو نظر انداز کر کے اسے رشتے کے لیے پسند کر لیا، عورت کے بار بار اصرار کرنے پرہم نے جلدی شادی کی تاریخ طے کردی، شادی کے موقع پر اس کے ہمراہ چندافراداورکچھ خواتین تھیں،اس نے پندرہ تولے طلائی زیورات بطورحق مہراداکیے، ہم نے بھی اپنی بہن کوڈھیروں جہیز کے ساتھ دس تولے طلائی زیور پہنائے، اس کے علاوہ ایک نئی گاڑی لڑکے کوبطور گفٹ دی، شادی کے اگلے دن خانیوال ایک ہوٹل میں ولیمے کا اہتمام کیا گیا، ہماری بہن بھی اس انتخاب پر ہرطرح سے مطمئن تھی، ہم بھی خوش تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے ایک اچھے رشتے کا بندوبست کر دیا ہے، شادی کے دو ہفتے بعد وہ اپنی گاڑی پرہماری بہن کو گھر چھوڑنے آیا، اس نے بتایاکہ میں کمپنی کے ایک ضروری کام کے لیے کراچی جا رہا ہوں، وہاں مجھے ایک دوہفتے لگ جائیں گے، میں کراچی سے واپسی پر اسے لے جاؤں گا، دو ہفتے بعد جب وہ نہ آیاتوہمیں فکرلاحق ہوئی، اسے فون کیاتو اس کاموبائل بند تھا، خانیوال گئے توہمیں وہاں سے پتہ چلاکہ دوماہ قبل ایک شخص نے یہ مکان کرایہ پر لیا تھا، اب تین ہفتے قبل وہ اپنا سامان وغیرہ لے کریہاں سے چلا گیا ہے، ہماری بہن کا سامان جہیز اور اس کے زیورات بھی ساتھ لے گیا، ہم نے اسے بہت تلاش کیا لیکن اس کاکچھ اتاپتانہ چل سکا، اب ہم اس سلسلہ میں بہت پریشان ہیں، ہماری بہن کامسقبل بھی داؤ پر لگ گیاہے،ہمیں کچھ نہیں سوجھتاکہ اب کیا کیا جائے، وہ اپنی داستانِ غم سناتے ہوئے بار بار کہہ رہا تھاکہ وہ ہماری بہن کی عزت بھی داغدار کر گیا۔ بہرحال اس واقعہ میں دنیاکی دولت اور اس کی زیب وزینت کو معیار بنانیوالوں کے لیے بہت سامانِ عبرت ہے، یہ دولت تو ڈھلتی چھاؤں ہے‘ بیٹیوں کے رشتہ کے لیے اسے قطعا معیار نہ بنایا جائے اور نہ ہی تقویٰ اور دینداری کو نظر انداز کر کے صرف خاندانی اوربرادری کی بنیادپر رشتے کیے جائیں، اللہ کے نزدیک قومیت اور خاندان صرف تعارف وپہچان کاذریعہ ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:
{یٰٓاَیُّها النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكمْ مِّنْ ذَكرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰكمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا اِنَّ اَكرَمَكمْ عِنْدَ اللّٰه اَتْقٰیكمْ اِنَّ اللّٰه عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ}
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیااورتمہاری ذاتیں اورقبیلے اس لیے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کوپہچان سکو، اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل عزت وہ شخص ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیز گار ہو۔‘‘ (الحجرات: ۱۳)
اس کو پڑھیں:   اسلام کا نظریۂ اجماع
موجودہ دورمیں ذات وقوم،رنگ ونسل کو معبودکی حیثیت دے کر ان کی پوجاکی جارہی ہے، ان کی بنیاد پرپوری انسانی برادری کوکئی گروہوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے پرفخر کرتے رہتے ہیں، حالانکہ سب انسان سیدنا آدم وحوا کی اولادہیں،اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت وشرف کا معیار صرف تقویٰ ہے یعنی جتنا کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والااور اس کی معصیت سے دور رہنے والا ہوگا اتنا ہی وہ اللہ کے نزدیک معزز ومحترم ہو گا، رسول اللہe نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں اس مضمون کو بایں ا لفاظ بیان کیا تھا:
’’کسی گورے کوکالے پر اورکسی کالے کوگورے پر، کسی عربی کو عجمی پراورکسی عجمی کوعربی پرکوئی برتری نہیں، فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ ہے۔‘‘ (مسندامام احمد: ۵/۴۲۲)
لیکن ہم ذات وقومیت اور رنگ ونسل کی بنیاد پرخودکواعلیٰ اوردوسروں کو حقیر سمجھنے لگے ہیں اور انہیں باہمی تفاخر وتنافر کاذریعہ بنالیاہے۔
رسول اللہe کا ارشادگرامی ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اورباپ دادا پرفخر کودور کردیاہے‘ اب لوگ صاحبِ ایمان متقی ہیں یافاجروبدبخت، تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے تھے، لوگوں کوقومی برتری ختم کردینی چاہیے کیونکہ ایسا کرنیوالے توجہنم کے کوئلے بن چکے ہیں، یا پھر یہ لوگ اللہ کے ہاں گندگی کے سیاہ کیڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوں گے جو اپنی ناک سے گندگی کو دھکیلتا پھرتا ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد:کتاب الادب)
ان احادیث سے ہمیں یہ سبق ملتاہے کہ ہم اپنے رشتے ناطے، اسلام اورتقویٰ کو نظر انداز کرکے صرف قوم اور برادری کی بنیاد پر نہ کریں اور نہ ہی اپنی معصوم بیٹیوں کومال ودولت کی بھینٹ چڑھائیں،قیامت کے دن ان کے بارے میں بازپرس ہوگی۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats