اداریہ .. ’’اہل حدیث‘‘ ... 51 سال میں 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

اداریہ .. ’’اہل حدیث‘‘ ... 51 سال میں 02-20


’’اہل حدیث‘‘ ... 51 سال میں

الحمد للہ! ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ اپنی دینی‘ جماعتی اور ملی خدمت کے پچاس برس مکمل کر کے نئے سال کا آغاز کر رہا ہے۔ آپ اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ مجلہ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث پاکستان کا ترجمان اور مسلک اہل حدیث کا داعی ہے۔ جس کا نصب العین کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ e کی دعوت وتبلیغ ہے۔ بحمد اللہ! اس نے ہر دور میں اپنے نصب العین کی پاسداری کے ساتھ ساتھ حق وصداقت کا پھریرا بلند رکھا اور اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ آپ اس تلخ حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ اس دور پر فتن میں جب کہ لوگ دین ومذہب سے دور ہوتے جا رہے ہیں کسی دینی‘ علمی اور اصلاحی پرچے کا مناسب معیار کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھنا ایک بار عظیم اور اہم ذمہ داری ہے۔ نیز جماعتوں کی زندگی میں اخبار کا بطور ترجمان اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جبکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ غیر اسلامی پرچوں کا بڑا دلدادہ ہے۔ ان کی خریداری کے لیے بڑی قیمت ادا کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ پھر ایسے رسائل کے لیے بڑے بڑے اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے بھی مراعات مل جاتی ہیں مگر دینی رسائل ایسی سہولتوں اور مراعات سے تہی دامن ہوتے ہیں۔
پھر مہنگائی کے اس دور میں دینی جرائد زیر بار ہو جاتے ہیں۔ ہم امیر محترم جناب سینیٹر پروفیسر ساجد میرd‘ ناظم اعلیٰ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریمd اور درد مندان جماعت کے شکر گذار اور دعا گو ہیں کہ انہوں نے ادارے کو کسی پریشانی سے دو چار ہونے نہیں دیا۔
پرچے سے ہمیں کسی مالی منفعت کی تحریص اور توقع نہیں بلکہ ہم ہر قسم کے نفع سے بے نیاز ہو کر محض اللہ تعالیٰ کی نصرت وحمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم ان شاء اللہ کتاب وسنت کی دعوت وتبلیغ‘ حق وصداقت کی حمایت اور فساد وشر کے خلاف نبرد آزمائی کے ساتھ ساتھ نظریہ پاکستان کی حمایت‘ اسلامی نظام کے قیام کی ہر کوشش‘ نئے فتنوں‘ لا دینی افکار کے انسداد کی ہر تحریک‘ ملی عناصر کے اتحاد کی ہر سعی اور اصلاح معاشرہ کی ہر جد وجہد میں اپنا فرض منصبی ادا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے اور خلوص دل کے ساتھ ہماری یہ بھر پور کوشش ہو گی کہ اسلامی تعلیمات کے صحیح ابلاغ کا فرض ادا کرتے رہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جرائد ورسائل دعوت وتبلیغ کا بڑا مؤثر ذریعہ ہیں۔ پھر وقت کا تقاضا یہ ہے کہ جوہرِ دین کے بھر پور ابلاغ کے ساتھ ساتھ لوگوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت اور اس کی محبت اور خشیت وانابت کا جذبہ پیدا کیا جائے اور رسول اللہe کے اسوۂ حسنہ کی اطاعت اور آپe کے ساتھ گہری محبت کے لیے لوگوں کی تعلیم وتربیت کی جائے۔ اس صورت میں لوگوں کے غیر اسلامی رجحانات کو تبدیل کر کے ان کے عمل وکردار میں صحت مند انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اور صحیح خطوط پر قوم کی سیرت تشکیل پا سکتی ہے۔
ہمیں قارئین کرام اور درد مندان ملت کے دینی جذبہ اور جماعتی وابستگی سے پوری توقع ہے کہ وہ جماعتی ترجمان کی توسیع اشاعت میں بھر پور حصہ لیں گے تا کہ جماعت کی آواز ہر جگہ پہنچے۔ اہل قلم حضرات سے گذارش ہے کہ وہ اپنے مضامین وغیرہ کے ذریعے پرچے کے ساتھ تعاون فرمائیں۔
آخر میں ہم اس امر کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں کہ جن حضرات نے ادارہ کے ساتھ کسی بھی حیثیت میں تعاون کیا اور کر رہے ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats