بھارت ... شہریت قانون اور مسلمان 01-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 05, 2020

بھارت ... شہریت قانون اور مسلمان 01-20


بھارت ... شہریت قانون اور مسلمان

بھارتی حکومت جس بد نیتی سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ بارے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ملک کے ۲۵ کروڑ سے زائد مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرتی جا رہی ہے اس کے خلاف پوری دنیا بالخصوص اسلامی ملکوں میں غم وغصے اور اضطراب میں شدت پیدا ہو رہی ہے۔
پورے بھارت میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جن میں کئی افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ بھارتی حکومت نے توڑ پھوڑ کا الزام لگا کر مظاہرین کی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کر دی ہیں۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران اب تک ۲۶ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں جبکہ بے شمار لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
بھارتی حکومت اس قانون کے تحت نہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے سال ہا سال پہلے بھارت جانے والے مسلمانوں کے حقوق شہریت تسلیم نہیں کر رہی بلکہ جو مسلمان صدیوں سے وہاں آباد ہیں ان سے بھی بھارتی حکومت شہری ہونے کے ثبوت مانگ رہی ہے۔ یہ بھارت کو ہندو مملکت بنانے کی طرف ایک سنگ دلانہ اقدام ہے جو انتہا پسند ہندوؤں کے نعرہ ’’ہندواتو‘‘ پر عمل در آمد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ مودی سرکار نے پہلے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں مدغم کرنے کا غیر آئینی قدم اٹھایا جس کا مقصد وہاں مسلمانوں کو اقلیت میں بدلنے کے لیے ہندوؤں کو بسانا ہے، اس کے بعد پورے بھارت سے مسلمانوں کے خاتمے کے لیے پارلیمنٹ سے قانون منظور کرا لیا گیا ہے۔ اس پر او آئی سی نے بھارت میں مسلم اقلیت اور ان کے مقدس مقامات کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
او آئی سی نے بھارت میں متنازع شہریت بل اور بابری مسجد کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ او آئی سی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’او آئی سی کے متعلقہ عالمی اصول اقلیتوں کے حقوق کی بلا تفریق ضمانت دیتے ہیں اور ان اصولوں کے خلاف مزید اقدامات تناؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔ او آئی سی بھارت میں مسلمانوں پر اثر انداز ہونے والے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مودی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت میں مسلم اقلیتوں اور اسلامی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔‘‘
بنیاد پرست مودی سرکار نے ۵ اگست سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد اب اس مجوزہ متنازع شہریت بل کے ذریعے بھارت کے اندر اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف خون کا بازار گرم کر رکھا ہے جبکہ اس جرم میں بھارتی میڈیا بھی اپنی دروغ گو حکومت سے پیچھے نہیں رہا۔ بھارت کے اس غیر انسانی، غیر اخلاقی اور غیر آئینی طرز عمل سے جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے ما بین کسی بڑے تصادم کے خدشات کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیرونی دنیا خصوصا مسلم امہ بھارت کی ننگی جارحیت پر کڑا دباؤ ڈالتے ہوئے بھارت کو مقبوضہ وادی سے کرفیو اٹھانے اور ملک میں اقلیتوں کے استحصال سے باز رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے۔ آج کشمیری مسلمانوں کو بھارتی فوج کے محاصرے میں ۱۴۵ روز گذر چکے ہیں اور بھارت کے اندر بھی بڑی تعداد میں مسلمان مظاہرین کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ پکڑ دھکڑ اور جبر کی سیاست کے علمبردار دہشت گرد مودی کس منہ سے بھارت کے سیکولر ریاست ہونے کے دعویدار ہیں جبکہ ان کے تمام تر عملی اقدامات انتہاء پسندی‘ نسلی تعصب اور ہندو بالا دستی کا واضح ثبوت ہیں۔ ہٹ دھرم مودی کے یہی اقدامات خود اس کے گلے کی ہڈی بنتے جا رہے ہیں کہ اسے نہ تو نگلتے بنے گی اور نہ ہی اگلتے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے تا ہم اگر بھارت نے سرحد پار سے دوبارہ کوئی غلطی کی تو اسے پہلے سے زیادہ کرارا اور بھر پور جواب ملے گا۔ جبکہ ہماری وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ امتیازی شہریت ایکٹ کے خلاف دس سے زیادہ بھارتی ریاستوں میں احتجاج اور اسے بزور قوت کچلنا مودی سرکار کا خطرناک کھیل ہے جس سے پورے خطے کا امن متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورت حال سے بوکھلا کر بھارت کوئی ’’فالس فلیگ آپریشن‘‘ بھی کر سکتا ہے۔ ایل او سی پر بنکر بنائے جا رہے ہیں‘ سرحد کے قریب ہوائی اڈے فعال کر دیئے گئے ہیں۔ فوج تعینات کی جا رہی ہے‘ یہ سب جنگ کا پیش خیمہ نہیں تو کیا ہے؟
بھارت اپنے اندر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ لیکن ہندوستان کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان بد سے بد تر حالات سے نبٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی پوزیشن میں ہے جس کا مظاہرہ وہ رواں برس کر چکا ہے۔ پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ایسی سرفروش فوج اور اس کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار بنی قوم کو شکست دینا ناممکن ہے۔ لہٰذا بھارت کو ہوش کے ناخن لینا چاہئیں اور چھیڑ چھاڑ سے باز رہنا چاہیے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats