عیسوی سال کی آمد اور ہم 02-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, January 12, 2020

عیسوی سال کی آمد اور ہم 02-20


عیسوی سال کی آمد اور ہم

تحریر: جناب مولانا مقبول احمد سلفی (سعودیہ)
ہرقوم اپنے کلینڈر کے حساب سے نئے سال کے پہلے دن کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور اس دن کو بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ نیااور پہلا دن بھی دوسرے ایام سے کچھ الگ نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ نئے سال کے پہلے دن میں صرف خوشی ہی خوشی ہوتی ہے ۔ دیکھا جاتا ہے کہ غم میں ڈوبے لوگ آج بھی غمگین ہی ہوتے ہیں۔ نئے سال پہ بھی لوگوں کو موت آتی ہے۔ ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں۔ مصائب ومشکلات پیش آتے ہیں پھر یہ دن خوشی کے طور پر منانے کا سبب و محرک کیا ہے ؟
اس کے جواب سے قطع نظرنئے عیسوی سال کی آمد پہ برصغیر میں عجیب قسم کا ماحول پایا جاتا ہے ، اس ماحول کو ہم اسلامی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
 نیا سال اور Happy New Year :
پہلی جنوری کی آمد سے کئی دن پہلے سے میسیج ، کارڈ اور زبانی طور پر ہیپی نیو ایئر (Happy New Year) کے کلمات جاری و ساری ہوجاتے ہیں۔ الحمدللہ! عیسوی سال سے ہٹ کر مسلمانوں کا اپنا عربی کلینڈر موجود ہے اور یہ قمری ؍عربی کلینڈرصحابہ کرام کے زمانہ سے ہی پایا جاتا ہے ، ان کی زندگی میں بھی نیا ہجری سال آیا مگر انہوں نے ایک دوسرے کو مبارکباد نہیں دی جو اس بات کی دلیل ہے کہ نئے سال کی مبارکبادی دینا خلاف سنت ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لئے روا نہیں کہ کسی کو ہیپی نیوایئرکا کارڈ بھیجے، یا میسیج لکھ کر ہپی نیوایئر کی مبارکباد دے یا زبان سے کسی کو ہیپی نیوایئر کہے ۔
 نیا سال اور Picnic :
پہلی جنوری کو لوگ شہروں میں مشترکہ دعوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس میں کھانے پینے کے ساتھ شراب نوشی، آتش بازی‘ موسیقی اور رقص و سرود کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں۔ نیز مغربی تہذیب کی نقالی کرتے ہوئے مردوں کے ساتھ نوجوان لڑکیاں بھی اس پکنک میں شامل ہوتی ہیں ۔ پکنک دراصل موج مستی کا دوسرا نام ہے ۔ اس میں پائے جانے والے امور اسلام مخالف ہیں۔ اس موقع پر میں تمام مسلمان مردوخواتین کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس قسم کی دعوت اور پکنک سے پرہیز کریں ۔ خصوصا گھر کے ذمہ داران سے التماس کرتا ہوں کہ اپنی اولاد کو اس میں شرکت کی اجازت نہ دیں۔
 نیا سال اورآتش بازی:
نئے سال کی آمد پر آتش بازی کا بڑا ہولناک منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ گھر پہ ، گلی میں ، چوراہوں پہ ، محفلوں میں اور عام گذرگاہوں پہ اس قدر آتش بازی کی جاتی ہے کہ اس سے جابجا حادثات واقع ہوتے ہیں ۔ اس آتش بازی میں مسلمانوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ دین محمدی کے نام لیوا کفار کی نقالی میں شانہ بشانہ کیونکر؟
آتش بازی میں فضول خرچی، جالی و مالی نقصان کا پہلو اور کفار کی مشابہت پائی جاتی ہے جو نئے سال کی مناسبت سے ہی نہیں بلکہ ہر مناسبت سے یہ حرام ہے ۔
 نیاسال اور توہمات:
نئے سال کے تعلق سے بہت ساری توہمات پائی جاتی ہیں۔ کچھ کا تعلق تو رسم و رواج سے مگر کچھ توہمات سیدھے عقائد سے ٹکراتے ہیں۔ تقریبا ہرملک میں عجیب وغریب قسم کی روایات پائی جاتی ہیں۔ کہیں نئے سال کی آمد پہ گھر کے پرانے فرنیچر کو نکال کر نئے فرنیچر کا اضافہ کیا جاتا ہے تو کہیں پرانے سامان سے بدفالی لی جاتی ہے اور اسے پھینک کر نیا سامان لایا جاتا ہے ۔ کہیں کچڑا گھر سے نکالنا بدقسمتی نکالنے کے برابر سمجھا جاتا ہے ۔ تو کہیں پر سکہ اچھال کر قسمتوں کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اسلام میں اس قسم کی روایات و توہمات اور بدفالی کی کوئی گنجائش نہیں ۔
 نئے سال پر ہم کیا کریں ؟
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہم نئے سال کی آمد پہ مذکورہ بالا امور انجام نہ دیں تو پھر ہمیں نئے سال کی آمد پہ کیا کرنا چاہئے؟
اس سوال کے تعلق سے میں سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہم لوگ مسلمان ہیں اور مسلمانوں کا نیا سال عیسوی نہیں ہجری ہے ۔ گویا ہمیں پہلی جنوری سے کوئی سروکار نہیں‘ اگر سروکار ہے تو اسلامی سال ہے ۔ اسلام میں نئے سال کی آمد محرم الحرام سے ہوتی ہے۔ محرم چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے۔
ہمیں محرم کی آمد پر سب سے پہلے یہ فکر کرنا چاہیے کہ یہ دنیا فانی ہے ، یہاں کی ہرشی فانی ہے ، ہمیں بھی ایک نہ ایک دن یہاں سے جانا ہے ۔ اس تصور سے ہمارے اندر یہ احساس جاگزیں ہوگا کہ ہم نے زندگی کا ایک قیمتی سال کھودیا۔ ساتھ ساتھ یہ محاسبہ بھی کرنا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں ہم سے کیا خطا ہوئی ، کیا گناہ سرزد ہوئے اور کون سا نیک کام ہم نے سوچا اور نہیں کر سکے۔ اس محاسبہ کے ساتھ آئندہ سال کے لئے نیکی کی راہ پر چلنے کے لئے مکمل منصوبہ بندی کریں ۔ اگر ہم نے نیکی کی راہ پر چلنے کے لئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار نہ کیا تو ایک ایک سال یونہی ہماری عمر سے کم ہوتا چلا جائے گا اور دامن میں برائی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ جب عمر تمام کرکے خالق حقیقی سے ملیں گے تو کف افسوس ملنا پڑے گا۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats