اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک ’الفاتح‘ کے معانی وفضائل 05-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 01, 2020

اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک ’الفاتح‘ کے معانی وفضائل 05-20


اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک ’الفاتح‘ کے معانی وفضائل

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ فیصل جمیل الغزاوی d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اسمائے حسنیٰ کی سمجھ علم کا بہترین باب ہے بلکہ یہی حقیقی سمجھ ہے۔ اللہ کو جاننے اور پہچاننے سے اس کی محبت پیدا ہوتی ہے، اس کی عزت اور احترام دل میں آتاہے، اس کا ڈر اور خشیت پیدا ہوتی ہے، اس سے امیدیں لگتی ہیں۔ اعمال میں اخلاص آ جاتا ہے۔ جیسے جیسے دل میں اللہ کی پہچان بڑھتی جاتی ہے بندہ اس کی طرف متوجہ ہوتا جاتا ہے، شریعت کے تابع ہوتا جاتا ہے، احکام کا پیروکار ہوتا جاتا ہے اور نافرمانی سے دور ہوتا جاتا ہے۔ کتابِ الٰہی میں آنے والا اللہ کا ایک نام ’’الفاتح‘‘ بھی ہے۔ یہ کتابُ اللہ میں دو مرتبہ آیا ہے۔ ایک آیت ہے:
{قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَهوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیمُ٭} (سبأ: ۲۶)
’’کہو، ہمارا رب ہم کو آمنے سامنے لے آئے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا وہ بڑا زبردست فیصلہ کرنے والا سب کچھ جانتا ہے۔‘‘
اور دوسری آیت ہے:
{وَسِعَ رَبُّنَا كلَّ شَیْئٍ عِلْمًا عَلَی اللّٰه تَوَكلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفَاتِحِینَ٭} (الأعراف: ۸۹)
’’ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا‘ اے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔‘‘
مختلف اہل علم نے فتّاح کا معنیٰ بیان کیا ہے۔  علامہ ابن قیمa فرماتے ہیں:
فتاح کے دو معانی ہیں: ایک فیصلے کا مترادف ہے، یعنی وہ اپنے بندوں کے فیصلے کرتا ہے، شریعت سے بھی ان کے فیصلے کرتا ہے اور دنیا وآخرت میں فرمانبرداروں کو ثواب اور نافرمانوں کو گناہ دے کر بھی فیصلے کرتا ہے۔ دوسرا معنی بندوں کے لیے خیر کے دروازے کھولنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ وہ اپنے بندوں کے لیے دین ودنیا کے منافع کھول دیتا ہے۔ اپنی مہربانی اور توجہ کے لیے منتخب ہونے والوں کے دلوں سے تالے کھول دیتا ہے، اُن پر ربانی علوم اور ایمانی حقائق کی ایسی برکھا برساتا ہے کہ وہ درست ہو جاتے ہیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ بالخصوص اپنے ساتھ پیار اور لگاؤ رکھنے والوں کے لیے بہت سے ربانی علوم کھول دیتا ہے، روحانی احوال دے دیتا ہے، چمکتے نور دے دیتا ہے، صحیح سمجھ اور بہترین ذوق عطا کر دیتا ہے۔ اسی طرح وہ بندوں کے لیے رزق کے راستے کھول دیتا ہے اور اسباب کی راہیں دکھا دیتا ہے، پرہیزگاروں کو رزق کے ایسے راستے اور اسباب دکھاتا ہے جو وہم وگمان میں بھی نہیں ہوتے۔ توکّل کرنے والوں کو طلب اور توقع سے بھی زیادہ دیتا ہے۔ ان کی مشکلیں آسان کر دیتا ہے اور ان کے لیے بند دروازے بھی کھول دیتا ہے۔‘‘
اس کو پڑھیں:   پبلک پراپرٹی کی حرمت
اے بھائیو! نام نامی فتاح پر ایمان کا تقاضا ہے کہ سچے دل کے ساتھ اسی سے سوال کیا جائے کہ وہ ہدایت، رزق اور رحمت کے دروازے کھول دے اور خیر کے لیے شرح صدر نصیب کر دے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر چل رہا ہے۔‘‘ (الزمر: ۲۲)
شرح صدر اور دروازے کھولنے کی کوئی حد نہیں۔ ہر مؤمن کو اس کا کچھ حصہ ضرور نصیب ہو جاتا ہے۔ اس سے اللہ صرف کافروں کو ہی محروم کرتا ہے۔
تو اے اللہ کے بندے! نامِ نامی الفتاح کو سمجھنا کتنا اچھا ہے! اس کے معانی پر غور کرنا کتنا بھلا ہے! اس کے ذریعے اسے پکارنے کی تو کیا ہی بات ہے! کیونکہ وہی تمہاری دعا سنتا ہے، مرادیں اور آرزویں پوری کرتا ہے۔ اگر تمہیں یقین ہے کہ اللہ ہی راستے کھولنے والا ہے، فیصلے کرنے والا ہے، اونچا اور نیچا کرنے والا ہے، حقائق کھولنے والا ہے، معاملات واضح کرنے والا ہے اور شکوک وشبہات ختم کرنے والا ہے تو سخت ترین مصیبتوں پر بھی پریشان نہ ہونا۔ کوئی زیادتی یا برا سلوک کرے تو کبھی نہ ڈرنا، کبھی نہ پشیمان ہونا۔ کیونکہ راستے کھولنے والا اللہ تمہاری مدد اور تائید ضرور کرے گا۔ اگر دل میں یقین ہے کہ اللہ ہی فتّاح اور بند دروازے کھولنے اور مشکل کام آسان کرنے والا ہے، تو کبھی غم نہ کرنا۔ جب لوگوں کے دروازے تمہارے لیے بند ہو جائیں اور تمہارے نیک ارادے پورے نہ ہوں تو کبھی بیتاب نہ ہونا، بلکہ فتّاح کی طرف لپکنا جس کے ہاتھ میں ہر شئے کی کنجی ہے۔ اے اللہ کے بندے! کیا تمہیں معلوم ہے کہ فتّاح کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے لیے دین ودنیا کے منافع کھولنے والا ہے۔ ان کے لیے خیر کے دروازے کھولنے والا ہے۔ مصیبتوں، مشکلوں، سختیوں اور تنگیوں سے بند ہونے والا ہر دروازہ اپنے بندوں کے لیے کھولنے والا ہے۔ اگر یہ بات تیرے دل میں بیٹھ جائے، اور اس یقین سے تو اللہ کی عبادت کرنے لگے تو تیرا عزم وارادہ دونوں مضبوط ہو جائیں، تیری ہمت بلند ہو جائے اور تجھے اطمینان ہو جائے، کیونکہ تیرا ساتھی فتّاح ہے۔ اگر تم فتّاح کے عبادت گزار ہو تو اس کے سامنے عاجزی اختیار کرو، اس کے سامنے انکساری اپناؤ، اسی کو اپنی ضرورتیں بتاؤ۔ اس سے یوں سوال کرو: اے فتّاح! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اے فتّاح! میرے لیے رزق کے دروازے کھول دے۔ اس کے ساتھ دل ہی دل میں باتیں کرو کہ اے فتّاح! میرے معاملات تو ہی چلا سکتا ہے، میرے غم تو ہی ختم سکتا ہے۔ میرے لیے بند دروازے کھول دے! میرے لیے مشکلات آسان کر دے! میرے لیے سختیاں نرمیوں میں بدل دے!۔
یاد رکھو! وہی بند دروازے کھولنے والا ہے، ہدایت کے دروازے، رزق کے، علم کے اور آسانیوں کے دروازے! اخلاص اور اس یقین واعتماد سے دعا کرو کہ وہی ہے جو وہاں سے رزق دیتا ہے، جہاں تیرا گمان بھی نہیں جاتا۔ کسی اور کی طرف مت لپکنا، اس کی رحمت اور مہربانی کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرنا۔ اپنی امیدیں کم رکھنا، تمنائیں چھوٹی رکھنا اور اس کے سوا کسی سے آس نہ لگانا۔
اے مسلمانو! بہت سے دروازے اللہ کھولتا ہے، اپنے مالک سے مانگنے والے بنو! ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ پاک بندوں کے لیے توبہ کا دروازہ کھولتا ہے۔ رسول اللہe کا فرمان ہے:
’’اللہ رات کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے، دن کے وقت ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گنہگار توبہ کر لے۔ یہ سلسلہ مغرب سے طلوعِ آفتاب تک جاری رہتا ہے۔‘‘ (مسلم)
علامہ ابن قیمa فرماتے ہیں:
’’اللہ کسی کے بارے اللہ اچھا ارادہ کر لے تو اس کے لیے توبہ، ندامت اور عاجزی کا دروازہ کھول دیتا ہے، اسے انکساری، گریہ زاری، اللہ کی مدد مانگنے، سچائی سے اس کی طرف لپکنے، دعا اور گریہ زاری کرتے رہنے، ہر ممکنہ نیکی سے اس کا قرب چاہنے، اپنے عیب دیکھنے، پروردگار کی مہربانی، احسان، رحمت، عطا اور خیر کو دیکھنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ اسی طرح خیر کا ایک دروازہ آسمان سے خیر وبرکت کے نزول اور دعاؤں کی قبولیت کا دروازہ ہے۔‘‘
اس کو پڑھیں:   یوم آخرت پر ایمان
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے، مگر اُنہوں نے تو جھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔‘‘ ایک دروازہ اللہ بندۂ مؤمن کی موت سے پہلے بھی نیکی کی توفیق کی صورت میں کھولتا ہے۔ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اللہ جس کے بارے میں اچھا ارادہ کر لیتا ہے، اسے نیک نامی نصیب کر دیتا ہے۔ کہا گیا: وہ کیسی نصیب کرتا ہے؟ آپe نے فرمایا: موت سے پہلے اسے نیکی کی توفیق دے دیتا ہے، پھر اسی پر اسے موت دے دیتا ہے۔ (مسند احمد)
امام معروفa بیان کرتے ہیں: اللہ جس کے بارے میں اچھا ارادہ کر لیتا ہے، اس کے لیے نیکی کا دروازہ کھول دیتا ہے اور بحث مباحثے کا دروازہ بند کر دیتا ہے، جب کسی کے بارے میں برا ارادہ کرتا ہے تو اس کے لیے عمل کا دروازہ بند اور بحث مباحثے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
اللہ کے بندو! دلوں میں اللہ کی عزت موجود ہونا ضروری ہے، یہ یقین بھی ضروری ہے کہ جسے اللہ دینا چاہے، اسے کوئی محروم نہیں کر سکتا اور جسے محروم کرنا چاہے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔
’’اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں۔‘‘ (فاطر: ۲)
اسی نے بندوں کے لیے رحمت اور قسم ہائے رزق کے دروازے کھولے ہیں۔ اپنی عطاؤں اور مہربانیوں کے خزانے کھولے ہیں۔ انہیں اللہ کی طرف سے آنے والی بارش اور رزق سے کوئی محروم نہیں کر سکتا۔ اگر اللہ کی طرف سے نہ آئیں تو کوئی انہیں حاصل نہیں کر سکتا۔ خزانے اسی کے پاس ہیں۔ خیر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ جب دل میں یہ بیٹھ جاتا ہے تو بندے کے تصورات، جذبات اور زندگی کے بارے میں سوچ بدل جاتی ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ سے تعلق مضبوط ہو، ہر طرح سے اپنی محتاجی بیان کی جائے، صرف اسی سے دعا مانگی جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور اسی سے مہربانی مانگی جائے۔ اے اللہ! ہمیں اُن میں شامل فرما، جو تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں تو تو ان کے لیے کافی ہو جاتا ہے، جو تجھ سے ہدایت مانگتے ہیں تو انہیں ہدایت دے دیتا ہے، جو تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں تو انہیں معاف کر دیتا ہے، جو تجھ سے مدد مانگتے ہیں تو ان کی مدد کرتا ہے اور جو تجھ سے دعا کرتے ہیں تو ان کی دعا سنتا ہے۔
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اے اللہ کے بندے! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کرو:
’’اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ (فاطر: ۲)
 غور کرو کہ اگر اللہ تم پر رحم کرنا چاہے تو اس کا رحم کوئی نہیں روک سکتا، اگر وہ رحمت کرنا چاہے تو کوئی اسے دور نہیں کر سکتا، کوئی اسے منع نہیں کر سکتا۔ اللہ کے حسین ناموں سے اسے پکارو۔ اس کا ایک نام الفتّاح بھی ہے۔ پھر ان شاء اللہ کوئی دروازہ تمہارے سامنے بند نہیں ہو گا۔ اللہ کے پاس جو کچھ ہے اس پر بھروسہ رکھو۔ لوگوں کے اندازوں اور پیمانوں سے بے نیاز ہو جاؤ۔ لوگ تو مریض کو یہ کہہ دیتے ہیں: یہ بیماری تجھے مار دے گی، تمہاری شفا کی کوئی امید نہیں۔ تنگ دست کو کہتے ہیں: کوشش نہ کرو، تم کامیاب تو نہیں ہو گے، تو تھکتے کیوں ہو؟ مگر بندے اور پروردگار کے بیچ کون آ سکتا ہے؟ شفا تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ کتنے زخمی بس مرنے ہی والے ہوتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے آسانی آ جاتی ہے، اور انہیں شفا اور عافیت مل جاتی ہے۔ گویا کہ وہ کبھی بیمار ہوئے ہی نہ ہوں۔ کتنے محنتی رزق کے اسباب تلاش کرتے ہیں تو اللہ انہیں کامیاب کر دیتا ہے، انہیں کھلا رزق عطا کر دیتا ہے، ان پر خیر کی برکھا برسانے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ پہلے شدید فقر وفاقہ کا شکار رہتے تھے۔ جو خیر اللہ تجھے دینا چاہے لوگ اسے نہیں روک سکتے، اپنا دل اللہ سے جوڑو، وہی فتّاح ہے۔ وہی تمہارا معاملہ آسان کرتا ہے، تیری ضرورتیں پوری کرتا ہے، تیری پریشانیاں ختم کرتا ہے۔ خیر اور آسانی وہاں سے دیتا ہے جہاں گمان بھی نہیں جاتا۔ اس کا انتظام سارے انتظامات کے اوپر ہے۔ اس کی قدرت کی کوئی حد نہیں۔ وہی کہتا ہے: ہو جا تو ہو جاتا ہے۔ اس کے خزانے بھرے ہیں۔ رزق اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی عطا بہت زیادہ ہے! وہ بہت دینے والا ہے، اس کی نعمتیں بے انتہا ہیں۔ نبیe کی وہ نصیحت یاد کرو جس میں آپe نے ایک بندے کو اللہ سے امید لگانے اور لوگوں کی عطاؤں سے مکمل مایوسی کی نصیحت کی۔ فرمایا: لوگوں کی جائیدادوں سے مکمل طور پر مایوس ہو جاؤ یعنی: خود کو خوب سمجھاؤ اور پختہ ارادہ کر لو کہ تم لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیزیں ہیں، ان سے مایوس ہو جاؤ گے۔ ان سے کوئی امید نہیں لگاؤ گے۔ اللہ کے علاوہ باقی سب سے مایوس ہو جاؤ گے۔ سب لوگوں سے امیدیں توڑ لو گے، صرف اللہ سے امیدیں لگاؤ گے۔ سب سے زیادہ رسوائی اسے ملتی ہے جو غیر اللہ سے امیدیں لگاتا ہے۔
ان عظیم باتوں سے کبھی غافل نہ ہونا، مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت ان چیزوں کو یاد رکھنا۔ نبی اکرمe نے فرمایا ہے:
’’مسجد میں داخل ہوتے وقت کہو: اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب نکلے تو یہ کہے: اے اللہ! میں تیری مہربانی کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ (مسلم)
رحمت، مہربانیاں اور خیر، سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ جسے چاہتا ہے اسے ہی عطا کرتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے انہیں حاصل کرنا آسان بنا دیتا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ کے نام الفتاح کے معانی اور تقاضے ہیں۔ وہی حق اور اہل حق کی مدد کرتا ہے۔ باطل اور اہل باطل کو رسوا کرتا ہے اور انہیں سزاؤں میں مبتلا کرتا ہے۔
اے مسلمانو! دروازے کھولنے کے حوالے سے یہ کہنا بھی مناسب ہو گا کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے، فرماں برداری اور تقرب کے مختلف اور رنگا رنگ دروازے کھول دیتا ہے، کچھ لوگوں کے لیے تلاوت وتدبر قرآن آسان کر دیتا ہے۔ کسی کے لیے نفل نمازیں آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے دعا آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے روزہ آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے صلہ رحمی آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے لوگوں کی مدد اور مصیبت زدگان کے ساتھ تعاون آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے مشکلات آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے نفل کام آسان کر دیتا ہے، وہ نیکی کا حکم دینے لگتا ہے اور برائی سے روکنے لگتا ہے، کسی کے لیے سفارش کرنا اور لوگوں میں صلح کرانا آسان کر دیتا ہے، کسی کے لیے علم سیکھنا اور سکھانا آسان کر دیتا ہے۔
اس کو پڑھیں:   اللہ کی رحمت سے مایوسی
اے اللہ کے بندے! جب تیرے لیے نیکی کا کوئی دروازہ کھل جائے، اس میں تمہیں شرح صدر نصیب ہو جائے اور وہ تمہیں اچھا لگنے لگے تو اسی پر قائم رہنا اور موقع سے فائدہ اٹھانا۔ حکیم بن عمیرt فرماتے ہیں: ’’جس کے لیے خیر کا کوئی دروازہ کھل جائے، اسے اسی میں لگے رہنا چاہیے۔ کیونکہ معلوم نہیں کہ کب وہ بند ہو جائے۔‘‘
اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں اور تیرے نام الفتّاح کا واسطہ دے کر مانگتے ہیں۔ تجھ سے دعا کرتے ہیں، تو ہی فتّاح  ہے، تو ہی بہترین راستے کھولنے والا ہے، کہ تو ہمارے دلوں کے لیے ایمان، ہدایت اور یقین کا راستہ کھول دے۔ ہمارے لیے اپنی رحمت کے خزانے کھول دے۔ اپنی کرم نوازی کے دروازے کھول دے۔ اپنی عطا کے دسترخوان عطا کر دے۔ اپنی کشادہ رحمت اور فضیلت عطا فرما دے۔ یقینا! تو دعا سننے والا ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats