عظمتِ رفتہ کی بازیابی 05-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 01, 2020

عظمتِ رفتہ کی بازیابی 05-20


عظمتِ رفتہ کی بازیابی

تحریر: جناب مولانا عبدالمنان
انسان اپنی بد اعمالیوں‘ عاقبت نا اندیشیوں‘ منصبی فریضہ سے غفلت اور بر وقت نوشتۂ دیوار پڑھنے سے لا پرواہی برتنے کی پاداش میں جب ہر چہار سمت سے مصیبتوں میں گھر جاتا ہے تو مایوسی اور نا امیدی اس کے ذہن ودماغ پر ڈیرہ جمال لیتی ہے۔ بری طرح ذہنی دباؤ کا شکار ہو کر اللہ کی رحمت سے اس کا یقین اُٹھ جاتا ہے تو اس کی مایوسی کفر کا روپ دھار لیتی ہے۔
آج امت مسلمہ ہر طرف سے مصائب سے گھری ہوئی ہے۔ مسلم ممالک سے لے کر پوری دنیا کے اندر چھوٹی بڑی مسلم اقلیتوں تک مسلمانوں میں بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے اور کیوں نہ ہو آج ملت اسلامیہ کے حالات جس قدر ناگفتہ بہ ہیں چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں کبھی نہ تھے۔ کہیں قتل وخونریزی ہے تو کہیں اسلامی تشخص کو مٹانے کی ناروا کوششیں اور کہیں اپنی ہی زمین‘ گھر بار سے بے دخل کیے جانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ خود مسلم ممالک کے باشندے اغیار کی سازشوں اور اپنی عاقبت نا اندیشیوں کی بدولت دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں اور اللہ کے رسول e کی پشین گوئی:
اس کو پڑھیں:    راستے کے حقوق
 [’یُوشِك الْاُمَمُ اَنْ تَدَاعَی عَلَیْكمْ كمَا تَدَاعَی الْاَكلَة اِلَی قَصْعَتِها‘۔ فَقَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّة نَحْنُ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: ’بَلْ اَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ كثِیرٌ، وَلَكنَّكمْ غُثَائٌ كغُثَائِ السَّیْلِ، وَلَیَنْزَعَنَّ اللّٰه مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكمُ الْمَهابَة مِنْكمْ، وَلَیَقْذِفَنَّ اللّٰه فِی قُلُوبِكمُ الْوَهنَ‘۔ فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُولَ اللَّه! وَمَا الْوَهنُ؟ قَالَ: ’حُبُّ الدُّنْیَا، وَكرَاهیَة الْمَوْتِ‘۔](ابوداؤد، مسند احمد)
’’قریب ہے کہ قومیں تمہارے خلاف ایسے ہی ایک دوسرے کو دعوت دیں گی جیسے کھانے والے اپنے (کھانے کے) پیالے کی طرف ایک دوسرے کو بلاتے ہیں۔ سوال کرنے والے نے سوال کیا: کیا اس دن ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپe نے فرمایا: بلکہ تم اس دن کثرت میں ہو گے لیکن سیلاب کے جھاگ میں کوڑے کرکٹ سے زیادہ تمہاری حیثیت نہ ہو گی۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دل سے تمہارا رعب ختم کر دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔ پوچھنے والے نے پوچھا: وہن کیا ہے؟ آپe نے فرمایا: دنیا سے محبت اور موت سے کراہیت۔‘‘
آپe کی یہ پشین گوئی اِس وقت پوری طرح صادق آ رہی ہے۔
راوی حدیث سیدنا ثوبانt کے زمانے سے لے کر اولین عباسی دور حکومت تک امت مسلمہ کو زبردست شان وشوکت اور مکمل سطوت وغلبہ حاصل رہا۔ قومیں اس کے جاہ وجلال اور حشمت وہیبت سے ڈری اور سہمی رہتی تھیں۔ اس کے خلاف ذرا سے اقدام کے لیے بھی سو بار سوچنا پڑتا تھا۔ لیکن اس کے خلاف حدیث مذکور والی پیش گوئی کا ظہور مشرق سے مغلوں اور مغرب سے صلیبیوں کے بغداد پر حملے سے ہوا‘ یہاں تک کہ سقوط بغداد کا سانحہ پیش آیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے امت پر حملوں اور سازشوں کی کہانی دہرائی جاتی رہی اور آج تو حالت یہ ہو گئی ہے کہ امت مسلمہ دشمنان اسلام کے لیے لقمۂ تر بن گئی ہے۔ جب جو چاہے اس پر ظلم وزیادتی کے پہاڑ توڑے۔ عصمتیں لوٹ لے‘ معیشت تہ وبالا کر دے اور دولت وثروت برباد کر دے۔ قومیں اس کی داستان مظلومیت لکھنے کے لیے بے چین ہیں اور مل کر مفت کے کھانے کی طرح اس پر پل پڑی ہیں۔
آج کے ان روح فرسا حالات میں مسلمانوں کو مایوسی سے نکلنے‘ اپنے ہوش وحواس درست کر کے اپنی غلطیوں کو سدھارنے اور دنیا کی قیادت کا بھولا ہوا سبق یاد کر کے پھر سے یک جان ہونے کی ضرورت ہے۔ آج بھی اگر الٰہی قوانین کی پاسداری اور اپنے منصبی فریضہ کی ادائیگی کی جانب ملت گامزن ہو جائے تو حالات بتدریج پلٹ سکتے ہیں‘ ورنہ اللہ کا یہ قانون ودستور بھی اٹل ہے:
{اِنَّ اللّٰه لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهمْ٭} (الرعد: ۱۱)
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت کے بدلنے کا
مایوسی وناامیدی کبیرہ گناہ ہے اور کافروں اور گمراہ لوگوں کی صفت ہے۔ اللہ کی رحمت سے وہی لوگ مایوس ہوتے ہیں جو راہ راست سے بھٹک جاتے ہیں اور اللہ کی صفات رحیمی وکریمی سے انجان ہونے کی بناء پر اللہ سے خیر کے امیدوار نہیں ہوتے۔ سیدنا ابراہیمu کی زبانی ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَة رَبِّهٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ٭}
’’اپنے رب کی رحمت سے نا امید تو صرف گمراہ اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں۔‘‘ (الحجر: ۵۶)
اسی طرح سیدنا یعقوبu کی زبانی فرمایا:
{لَا یَایْـَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰه اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ}
’’یقینا رب کی رحمت سے نا امید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں۔‘‘ (یوسف: ۸۷)
سیدنا عبداللہ بن مسعودt فرماتے ہیں:
’’اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا‘ اللہ کی تدبیر سے غافل رہنا اور اس کی رحمت سے نا امید ہو جانا کبیرہ گناہ ہیں۔‘‘ (طبرانی)
مایوسی سے کام نہیں چلے گا بلکہ ہمت وحوصلہ کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ سازگار حالات میں تو ہمت وحوصلہ کی ضرورت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب انسان چاروں طرف سے گھر جاتا ہے اور چہار سو باد مخالف چلنے لگتی ہے۔ ایسے میں اگر حوصلہ کھو دیا تو ہلاکت ونامرادی آپ کا مقدر بن جائے گی اور آنے والی نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ نا امیدی اور مایوسی لا علاج اور مہلک مرض سمجھا جاتا ہے لیکن اگر اس کے علاج کے لیے شرعی نسخہ اختیار کیا جائے تو اللہ کے حکم سے اس سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
صاف ستھرے اسلامی اصول وضوابط اور اسلامی اقدار وروایات کو اپنانا ترقی کی بنیاد ہے۔ ہمارے اسلاف نے جو ترقی کی منازل طے کیں وہ اسی کی بدولت تھیں۔ انہوں نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہe کو مضبوطی سے تھاما تو حالات یکسر پلٹ گئے۔ ہمیں حالات کا جائزہ  لینا چاہیے اور موجودہ دور کے تقاضوں کو شرعی ضابطوں کے مطابق پورا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے تا کہ کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کی جا سکے۔
سب سے پہلے ایک مسلمان کو زندگی کا مفہوم سمجھنا ہو گا۔ نیز اپنے مقصد تخلیق اور کردار پر نظر ڈالنا ہو گی۔ اسے سمجھنا ہو گا کہ اس کی حیثیت زمین پر اللہ کے خلیفہ کی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ وہ اس زمین پر اللہ کا حقیقی بندہ بن کر زندگی گذارے اور زمین کو آباد کرنے کا اصلی کردار ادا کرے۔ نیز زمین کے خزانوں اور وسائل وذرائع کی حفاظت کرناا پنا فرض سمجھے۔ ان کی تعمیر وترقی کے لیے نہ صرف فکر مندر رہے بلکہ عملی طور پر اس کے اقدامات کرے اور بہر قیمت انہیں بربادی سے بچانے کے لیے مخلصانہ جد وجہد کرے۔ علاوہ ازیں وہ اس پر نہ صرف خود کار بند ہو بلکہ لوگوں کے اندر بھی ان کے صحیح استعمال کی بیداری مہم میں فعال کردار ادا کرے۔
اس کو پڑھیں:    حجیت حدیث مصطفی ﷺ
کھوئی ہوئی عظمت کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں نئی نسل کو علم کے زیور سے آراستہ کرنا ہو گا اور تعلیم کے فروغ کی مہم چلانا ہو گی۔ اسلام نے علم کے حصول کو بڑی اہمیت دی ہے۔ علم اور اہل علم کی فضیلت سے متعلق قرآن کریم وحدیث شریف میں بے شمار نصوص موجود ہیں اور اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔
اسلام علم کو براہ راست ترقی کی معراج سمجھتا ہے۔ متلاشیان علوم کو چاہیے کہ معاشرہ وسوسائٹی کے تقاضوں کے مد نظر علمی میدان کو ترجیح دیں اور جس چیز کی واقعی ضرورت ہو اس میں مہارت حاصل کر کے قوم کی خدمت کریں۔ علم کو دینی وعصری علوم میں بانٹ کر کسی کی اہمیت کو کم نہ کریں۔ بلکہ تمام ہی علوم سیکھنا ضروری ہیں تبھی ہم زمانے کے تقاضوں کو پورا کر سکتے ہیں اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں جبکہ امت مسلمہ ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ چکی ہے علم کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ معیاری تعلیمی ادارے قائم کر کے نئی نسل کے لیے ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے اور تعلیم کے ساتھ تریت کا بھی خاص خیال رکھنا ہو گا۔ قوم کے سرمایہ داروں کو چاہیے کہ اس راہ میں آنے والی مادی مشکلات کو دور کریں اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح انہیں نوازا ہے اس کا حق ادا کریں۔ قوم کے باشعور لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ملت کے نو نہالوں کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیں اور کوشش کی جائے کہ تعلیم کے کسی بھی میدان کو خالی نہ رہنے دیا جائے۔
امت مسلمہ کا ایک اہم فریضہ دعوت الی اللہ کا ہے جسے ہم نے یکسر فراموش کر دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
{كنْتُمْ خَیْرَ اُمَّة اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ٭}
’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے۔‘‘ (آل عمران: ۱۱۰)
کی روشنی میں دعوت ہمارا منصبی فریضہ تھا جس سے نہ صرف ہم نے مجرمانہ لا پرواہی وبے اعتنائی برتی بلکہ اس کی اہمیت کو ہی بھلا بیٹھے۔ خیر امت کا لقب ہمیں اس لیے ملا تھا تا کہ ہم اپنی بھلائی کے ساتھ لوگوں کی بھلائی کے لیے بھی ہمہ وقت فکر مندر رہیں‘ بندگان الٰہی تک اللہ کا پیغام پہنچائیں۔ دعوت الی اللہ کے فریضے کی اہمیت کو سمجھیں اور عملی طور پر اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔
اس کو پڑھیں:   کرسمس کی حقیقت
مسلم اقلیتیں جہاں بھی ہیں ان کی مشکلات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہم وطنوں تک اسلام کا پیغام نہیں پہنچایا‘ ورنہ اگر وہ حلقہ بگوش اسلام نہ بھی ہوتے تو اسلام کی تعلیمات کو جان کر مسلمانوں کے اتنے بڑے دشمن نہ ہوتے کہ ان کے وجود ہی کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔ ان کے ذہن ودماغ میں طرح طرح کی غلط فہمیاں بیٹھی ہوئی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ایک بیکار مخلوق ہے‘ ان کی تاریخ ظلم وجبر سے عبارت ہے۔ جتنا جلد ہو سکے ملک کو ان کے وجود سے پاک کر دینا چاہیے۔ اسی لیے آج بڑے پیمانے پر انہیں دوسرے نمبر کا شہری بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور عوام وخواص آئینی مراعات سے محروم کرنے کی جد وجہد میں مصروف ہیں۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اگر ہم نے حکمت ودانائی کے ساتھ دعوت کے فریضہ پر توجہ نہ دی تو ہماری حالت میں سدھار مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔
امت مسلمہ کی ترقی کا ایک اہم راز اتفاق واتحاد میں مضمر ہے۔ اسے اجتماعیت کی حیثیت اور قیمت کو سمجھنا ہو گا۔ اسلام نے اجتماعیت پر بہت زور دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰه جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۱ وَ اذْكرُوْا نِعْمَتَ اللّٰه عَلَیْكمْ اِذْ كنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖٓ اِخْوَانًا٭}
’’اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے‘ تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی‘ پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہو گئے۔‘‘ (آل عمران: ۱۰۳)
ایک مقام پر یوں فرمایا:
{وَ اَطِیْعُوا اللّٰه وَ رَسُوْلَه وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهبَ رِیْحُكمْ وَ اصْبِرُوْا۱ اِنَّ اللّٰه مَعَ الصّٰبِرِیْنَ}
’’اور اللہ کی اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرتے رہو‘ آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ (الانفال: ۴۶)
اللہ کے رسول e کا ارشاد ہے:
[لَیْسَ أَحَدٌ یُفَارِقُ الجَمَاعَة شِبْرًا فَیَمُوتُ، إِلَّا مَاتَ مِیتَة جَاهلِیَّة۔] (بخاری)
’’جو کوئی جماعت سے ایک بالشت بھی الگ ہو کر مرے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔‘‘
قرآن کریم اور حدیث شریف میں جا بجا اتحاد واتفاق کی تعلیم اور اختلاف وانتشار سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ الٰہی دستور کے مطابق اجتماعی پرچم تلے رہ کر مکمل کوشش کی جائے گی تو اس سے یقینی طور پر معاشرے میں استحکام آئے گا۔ نظم بحال ہو گا اور امن وسکون کو بالا دستی حاصل ہو گی۔ ساتھ ہی تعمیر وترقی کے قافلے کو پیش قدمی کرنے میں مدد ملے گی۔ ہمیں اتحاد کی شرعی بنیادوں کو تلاش کر کے ان پر عمل پیرا ہونا ہو گا اور مسلکی تنازعات کو اختلاف کے آداب کے دائرے میں رکھ کر منافرت کی خلیج کو بھی پاٹنا ہو گا۔
 وقت کی قدر دانی:
ایک اور اہم بات جس میں ملت کی ترقی کا راز مضمر ہے وہ ہے وقت کی قدر دانی۔ ہم وقت کی قیمت کو سمجھیں اس کی قدر کریں۔ اپنے اوقات کو مثبت کاموں میں لگائیں اور منفی سوچ سے دور رہیں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے اسے بیکار ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے:
[مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ المَرْء ِ تَرْكه مَا لَا یَعْنِیه۔]
’’آدمی کا بیکار باتوں کو چھوڑ دینا اس کے اچھے مسلمان ہونے کی دلیل ہے۔‘‘ (ترمذی)
لہٰذا ہر شخص کو چاہیے کہ اپنا قیمتی وقت بھلائی کے کاموں میں لگائے اور اسے ضائع نہ کرے۔ وقت بیش قیمت چیز ہے۔ عربی کی کہاوت ہے [الوقت كالسیف ان لم تقطعه فإنه یقطعك] ’’وقت تلوار کی طرح ہے اگر آپ اسے نہیں کاٹیں گے (یعنی اس کا صحیح استعمال نہیں کریں گے) تو وہ آپ کو کاٹ دے گا۔‘‘ (یعنی وہ گذر جائے گا اور اس کے ضائع ہونے کا ہمیشہ ملال رہے گا۔)‘‘
جو وقت آپ کو کچھ کرنے کے لیے ملا تھا وہ ختم ہو جائے گا اور پھر موقعہ نہیں ملے گا۔ ہمیں جاپان سے سبق سیکھنا چاہیے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے جاپان کے شہر ہیرو شیما اور ناگا ساکی کو ایٹم بم سے اڑا دیا۔ ان کا نام ونشان تک مٹا دیا جس کے بعد جاپان نے نوشتہ دیوار کو پڑھ کر اپنی پوری توانائی بغیر کسی سے الجھے پوری دلجمعی کے ساتھ ملک وقوم کی تعمیر وترقی پر صرف کی‘ ایک ایک لمحہ کی قیمت کو سمجھا اور اس کا صحیح استعمال کیا جس کے نتیجے میں کچھ ہی سالوں کے اندر وہ دوبارہ ترقی یافتہ قوموں کی صف میں اعلیٰ مقام پر فائز ہو گیا اور آج صنعت وحرفت میں اس کی مثال دی جاتی ہے۔ اگر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کی جائے تو اس کے اثرات یقینا برآمد ہوتے ہیں۔ اسلام نے عبادت کی حد تک کام کو اہمیت دی ہے۔ اس نے یہ مانا ہے کہ جب تک انسان کام کرنے کی استطاعت رکھتا ہے وہ اس میں لگا رہے۔ ارشاد نبویe ہے:
[إِنْ قَامَتْ عَلَی اَحَدِكمُ الْقِیَامَة، وَفِی یَدِهٖ فَسِیلَة فَلْیَغْرِسْها۔] (مسند احمد)
’’قیامت آجائے اور تمہارے ہاٹھ میں ٹہنی ہو تو اگر اسے لگا سکتا ہو تو لگا دے۔‘‘
اس حدیث سے جہاں شجر کاری کی اہمیت واضح ہوتی ہے وہیں وقت ضائع نہ کرنے کی بھی تاکید سمجھ میں آتی ہے۔
 معاشرہ کی اصلاح:
ایک بہت ہی اہم بات جو قوم کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے وہ معاشرے کی اصلاح ہے جو بھلائی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا مزاج بنائے بغیر ممکن نہیں۔ بھلائی کا جب تک لوگ حکم نہیں دیں گے بھلائی کا مزاج نہیں بنے گا اور جب تک برائی سے روکیں گے نہیں اس کا سد باب نہیں ہو گا۔ اسی لیے اسلام میں امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی بڑی اہمیت ہے۔ قرآن کریم ببانگ دہل پکار رہا ہے:
{وَ لْتَكنْ مِّنْكمْ اُمَّة یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهوْنَ عَنِ الْمُنْكرِ۱ وَ اُولٰٓیِك همُ الْمُفْلِحُوْنَ٭} (آل عمران: ۱۰۴)
’’تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلائے‘ اچھی بات کا حکم دے اور برائی سے روکے اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔‘‘
اس آیت کریمہ میں فلاح اور کامیابی کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر موقوف رکھا گیا ہے۔
اس کو پڑھیں:   ضعیف اور موضوع احادیث
معاشرے کے اندر خرابی اس صورت میں خوب پھلتی پھولتی ہے جب لوگوں کے اندر برائی کے پھیلنے کو لائق اعتنا نہیں سمجھا جاتا‘ برائی کو برائی سمجھنے کا احساس ختم ہو جاتا ہے بلکہ اس سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ لوگ برائی کے خلاف منہ کھولنے سے ہچکچاتے ہی نہیں بلکہ ڈر وخوف محسوس کرتے ہیں۔
نبی کریم e نے مرحلہ وار برائی کو مٹانے کا طریقہ بیان فرمایا:
[مَنْ رَاٰی مِنْكمْ مُنْكرًا فَلْیُغَیِّرْه بِیَدِهٖ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ، فَإِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذَلِك اَضْعَفُ الْاِیمَانِ۔] (مسلم)
’’جو تم میں سے کوئی برائی دیکھے تو چاہیے کہ اسے ہاتھ سے بدل دے ورنہ اپنی زبان سے اس کی اصلاح کرے‘ یہ بھی نہ کر سکے تو دل سے اس کو برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘
معاشرے کی اصلاح سے متعلق یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے لہٰذا فرد کی اصلاح سے معاشرے کی اصلاح ہو گی۔ ہر شخص اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔ کسی فرد یا معاشرے کے پاس کوئی ایسا بٹن نہیں جس کو دبا کر آناً فاناً اصلاح کی مہم کو سر کر لیا جائے بلکہ اس کے لیے زمینی سطح سے اصلاح کی کوشش کرنا ہو گی۔
خلاصۂ کلام یہ کہ عالمی پیمانے پر ملت اسلامیہ کے حالات بہت ہی خراب ہیں جو ہماری فرض ناشناسی‘ عاقب نا اندیشی‘ لاپرواہی اور شریعت کے اصولوں سے روگردانی کی بناء پر ہوئے ہیں۔ یہ سب ہمارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور اس کے لیے ہم خود ذمہ دار ہیں لیکن پھر بھی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ مصائب سے نکلنے اور تعمیر وترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے جو اصول وضوابط الٰہی نظام میں متعین ہیں انہیں اختیار کریں اور اللہ سے لَو لگائیں‘ اس کے لیے کوئی چیز مشکل نہیں۔ اس نے فلاح وکامرانی نیز بربادی کے راستوں کی نشاندہی فرما دی ہے۔ فلاح وکامیابی کے راستے پر چل کر ہی کھویا ہوا وقار‘ عظمت اور تمکنت حاصل ہو سکتی ہے۔ امام مالکa کا بہت ہی مشہور قول ہے:
[لَنْ یُّصْلِحَ آخِرُ هٰذِه الْاُمَّة اِلَّا بِمَا صَلُحَ بِهٖ اَوَّلُها]
’’اس امت کا آخری انسان بھی انہی الٰہی قوانین واصول کو اپنا کر درست ہو سکتا ہے جن کے ذریعہ اس امت کے پہلے شخص کی اصلاح ہوئی تھی۔‘‘
اللہ تعالیٰ سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین!


No comments:

Post a Comment

View My Stats