اداریہ .. آٹے کا بحران! 05-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 01, 2020

اداریہ .. آٹے کا بحران! 05-20


آٹے کا بحران!

ملک میں گذشتہ کئی روز سے آٹے کا بحران جاری ہے۔ گندم کی قلت کے باعث آٹے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے شہری تلملا اُٹھے ہیں۔ لاہور سمیت مختلف شہروں میں فی کلو آٹے کی قیمت ۷۰ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ آٹے کا بحران نہیں بلکہ نا اہل حکومت کی عقل کا فقدان ہے۔
پنجاب جو دنیا بھر میں زراعت اور اناج کے حوالے سے خود کفیل جانا اور پہچانا جاتا ہے وہاں آٹے کا بحران پیدا کر دیا گیا ہے۔ پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ ۸۰ فیصد آبادی کا تعلق زراعت سے ہے۔ ارض پاک زرخیزی میں اپنی مثال آپ ہے۔ عالمی سروے میں پاکستان کی زمینوں کو بہترین پیداوار کے حوالے سے دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ مگر ہم خوراک کے معاملے میں اکثر بحرانوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ کبھی آٹے کی قلت‘ کبھی چینی کا بحران‘ کبھی پیاز ناپید تو کبھی ٹماٹر غائب۔ تھوڑی تدبیر یعنی مینجمنٹ سے ہم ہمیشہ کے لیے خوراک کے ان بحرانوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ لیکن کیا کہیں کہ حکومتی ایوانوں میں ہی اس طرح کے بحران پیدا کرنے والے چھپے بیٹھے ہیں۔ کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم ٹماٹر‘ پیاز حتی کہ مصالحہ جات تک دشمن ملک سے منگواتے ہیں۔
موجودہ صورت حال یہ ہے کہ ۲۰ کلو آٹے کے تھیلے کا نرخ حکومت نے ۸۲۰ روپے مقرر کر رکھا ہے لیکن حکومتی رٹ کی ناکامی کے باعث یہ تھیلا دگنی قیمت پر بھی دستیاب نہیں۔ جبکہ چکی کا آٹا جو ایک سال پہلے تک ۴۲ روپے کلو میں ملتا تھا اب ۷۰ روپے کلو ہو چکا ہے۔ کیا گندم درآمدی اشیاء میں شامل ہے؟ یا گندم کی قیمت اچانک بڑھ گئی ہے؟ یا پھر حکومت نے کسی قسم کا نیا ٹیکس لگا دیا ہے؟ گندم کا سرکاری نرخ گذشتہ برس بھی ۱۳۰۰ روپے فی من تھا‘ اس سال بھی یہی ریٹ مقرر کیا گیا تو گندم ناپید کیوں ہو گئی اور آٹے کے نرخ اچانک کیوں بڑھ گئے؟ کیا کوئی پوچھنے والا ہے؟ اگر یہ بحران یونہی جاری رہا تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمتوں میں نہ صرف مزید اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ یہ قلت اور افراتفری شدت اختیار کر سکتی ہے۔
ہر سال تقریبا ۵۔۱ ملین ٹن گندم وفاقی ادارہ پاسکو خریدتا ہے جبکہ ۳ سے ۴ ملین ٹن گندم پنجاب کا محکمہ خوراک خریدتا ہے تا کہ مصنوعی ذخیرہ اندوزی یا اسمگنگ کے ذریعے ملک میں غذائی قلت کی کیفیت پیدا نہ ہو سکے۔ گذشتہ برس پنجاب حکومت نے ۴۰ لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدنے کا ہدف مقرر کیا جسے ۹۰ فیصد حاصل کر لیا گیا تھا۔ اس سال تبدیلی سرکار نے گندم خریداری پالیسی کا اعلان کیا تو خریداری کا ہدف ہی مقرر نہ کیا گیا۔ محکمہ خوراک کے ترجمان کے مطابق اس سال ۳۳ لاکھ میٹرک ٹن گندم خریدی گئی جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق گندم خریداری اس سے کہیں کم ہے۔ یہ بھی شنید ہے کہ عالمی بنک سے قرض کے حصول کے لیے حکومت نے یہ وعدہ کیا ہے کہ ۲۰۲۱ء تک سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کا سلسلہ ترک کر دیا جائے گا۔ دوسری طرف حکومت کے پاس سٹاک گندم میں سے ۸۰ ہزار ٹن خیر سگالی کے طور پر افغانستان کو بطور تحفہ دے دی گئی۔ جبکہ اناج پیدا کرنے والے خود ایک ایک دانے کو ترس رہے ہیں۔ اب مشیر خزانہ نے باہر بھیجی گئی گندم ڈبل قیمت پر درآمد کرنے کا نسخہ پیش کر دیا ہے۔
سلطنت شغلیہ نے اپنے ادارے چلانے کے لیے اندرون وبیرون ملک سے نہایت اہتمام کے ساتھ جو ’’رنگیلے‘‘ جمع کیے ہوئے ہیں ان کی محنت اب برگ وبار لا رہی ہے۔ یہ نا اہل ترین لوگ ’’تباہ دیلی‘‘ سرکار کا حصہ ہیں تو پھر مان لیجیے کہ یہ آٹے کا بحران نہیں بلکہ عقل اور فہم وفراست کا فقد ان ہے۔
عوام خبردار رہیں کہ گندم کے بعد چینی کا بحران بھی انگڑائی لے رہا ہے۔ چینی جو گذشتہ برس کے آغاز میں ۵۴ روپے کلو تھی اس کے نرخ ۸۵ روپے کلو تک لے جا کر پہلے ہی شوگر مافیا اپنی تجوریاں بھر چکا ہے مگر موقع غنیمت جان کر ایک بار پھر کمائی کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ کیا کریں کہ ایجوکیشن مافیا‘ ڈرگ مافیا‘ لینڈ مافیا‘ ملاوٹ مافیا سمیت کئی چھوٹے بڑے طاقتور مافیاز ہر روز ایک نئے انداز میں عوام کو پریشان اور ذلیل وخوار کرتے رہتے ہیں جہاں قانون کمزور ہوتا ہے وہاں قانون توڑنے والے طاقتور مافیا بن جاتے ہیں۔ بس مجبور ولاچار ہیں عوام جو ان مافیاز کی سزا تنہا اور مسلسل بھگت رہے ہیں جبکہ حکومت صرف بیان بازی تک محدود اور تماشائی بنی ہوئی ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats