احکام ومسائل 05-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 01, 2020

احکام ومسائل 05-20


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

ٹڈی دل کی شرعی حیثیت
O آج کل ہمارے ہاں ٹڈی دل فصلوں اور کھیتوں پر حملہ آور ہے‘ درختوں کو بھی تباہ کر رہی ہے‘ اس کے متعلق سنا ہے کہ یہ حلال ہے اور اسے ذبح کیے بغیر ہی کھایا جا سکتا ہے۔ قرآن وحدیث کی رو سے اس کی حلت وحرمت کے متعلق وضاحت کریں۔
P ٹڈی دل جسے عربی میں ’’الجراد‘‘ کہتے ہیں‘ اس سے مراد حشرات کی وہ قسم ہے جو بعض اوقات جھنڈ کی صورت اکٹھی اڑتی ہوئی آتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی رحمت کے دونوں پہلو رکھتی ہے۔ عذاب اس بناء پر کہ جہاں ان کا پڑاؤ ہو وہاں فصلوں‘ کھیتوں اور درختوں کا صفایا ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں صراحت ہے کہ قوم فرعون پر جو مختلف عذاب آئے تھے ان میں سے ایک ٹڈی دل کا عذاب تھا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ہم نے ان پر طوفان‘ ٹڈیاں‘ جوئیں‘ مینڈک اور خون برسایا جو عذاب کی صورت میں الگ الگ نشانیاں تھیں۔‘‘ (الاعراف: ۳۳)
ان کی تیز رفتاری اور کثرت کو قرآن مجید میں بایں الفاظ بیان کیا گیا ہے: ’’لوگ قبروں سے نکلیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں۔‘‘ (القمر: ۷)
اور اللہ کی رحمت اس وجہ سے ہے کہ اسے ذبح کیے بغیر کھایا جاتا ہے۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے‘ جسے سیدنا عبداللہ بن عمرw بیان کرتے ہیں: ’’ہمارے لیے دو مردہ چیزیں حلال کر دی گئی ہیں: ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی۔‘‘ (مسند احمد: ج۲‘ ص ۹۷)
امام بخاریa نے ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: ’’ٹڈی کھانے کا بیان۔‘‘ (بخاری‘ الذبائح والصید‘ باب نمبر ۱۳)
پھر ابن ابی اوفی ٰt سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے‘ آپt نے کہا: ’’ہم نے رسول اللہe کے ساتھ مل کر چھ یا سات جنگیں لڑیں‘ ہم آپ کے ہمراہ ٹڈی کھایا کرتے تھے۔‘‘ (بخاری‘ الذبائح: ۵۴۹۵)
ایک روایت میں ہے جسے حافظ ابن حجرa نے محدث ابونعیم کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہeخود بھی اسے کھاتے تھے۔ (فتح الباری: ج۹‘ ص ۷۶۹)
لیکن سیدنا سلمان فارسیt سے روایت ہے کہ رسول اللہe سے ٹڈی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپe نے فرمایا: ’’یہ اللہ کے بہت بڑے بڑے لشکروں میں سے ہے‘ نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ حرام ٹھہراتا ہوں۔‘‘ (ابوداؤد‘ الاطعمہ: ۳۸۱۳)
لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کے مرسل ہونے کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ ایک روایت کے مطابق اس ٹڈی کو سمندر کا شکار کہا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہt بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حج یا عمرے کے سفر میں رسول اللہe کے ہمراہ تھے تو ہمارا ٹڈی دل سے سامنا ہوا۔ ہم نے انہیں اپنی جوتیوں اور لاٹھیوں سے مارنا شروع کر دیا تو رسول اللہe نے فرمایا: ’’اسے کھاؤ‘ یہ تو سمندر کا شکار ہے۔‘‘ (ابن ماجہ‘ الصید: ۳۲۲۲)
لیکن اس کی سند میں ابی المہذم نامی راوی کی وجہ سے حافظ ابن حجرa نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (فتح الباری: ج۹‘ ص ۷۶۸)
امام نوویa نے اس کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے۔ البتہ امام ابن العربی نے حجاز اور اندلس کی ٹڈی کے متعلق کچھ تفصیل بیان کی ہے کہ اندلس میں پائی جانے والی ٹڈی زہریلی اور نقصان دہ ہے لہٰذا اسے نہ کھایا جائے۔ اگر یہ بات صحیح ہے تو اسے حلال ہونے سے مستثنیٰ قرار دینا قرین قیاس ہے۔ (فتح الباری: ج۹‘ ص ۷۶۹)
البتہ سرزمین حجاز میں پائی جانے والی ٹڈی زہریلی نہیں ہوتی۔ عرب لوگ اسے بھون کر کھاتے ہیں بلکہ قصیم کے علاقے میں اسے کھلی منڈی میں فروخت بھی کیا جاتا ہے۔
کچھ اہل علم کی طرف سے یہ اعتراض سامنے آیا ہے کہ جب ٹڈی اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے تو پھر اسے کھانا چہ معنی دارد؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کا ہر وقت اور ہر جگہ پایا جانا عذاب ہی کی صورت میں نہیں بلکہ بطور خوراک پایا جانا بھی ممکن ہے۔ اس کی مثال پانی سے دی جا سکتی ہے کہ سیدنا نوحu کے وقت عذاب کی شکل میں آیا تھا‘ لیکن اب ہماری زندگی کا دار ومدار ہی پانی پر ہے اور ہم اسے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اس کی کثرت فصلوں اور کھیتوں کے ضیاع کا باعث ہو تو اسے مارنے اور تلف کرنے کی شرعی طور پر اجازت ہے۔ واللہ اعلم!
ہم جنس اشیاء کی خرید وفروخت
O حدیث میں ہے کہ ہم جنس اشیاء کی باہمی خرید وفروخت کرنا ہو تو دونوں کا برابر ہونا ضروری ہے۔ لیکن اگر ایک جنس مثلاً کھجور بہتر قسم کی ہو اور دوسری قسم اس معیار کی نہ ہو تو دونوں کو ہم مقدار رکھنا کیسے قرین انصاف ہو سکتا ہے؟ جبکہ اسلام نے ہمیں عدل وانصاف کا حکم دیا ہے۔
P اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم جنس اشیاء کی خرید وفروخت میں د و شرطیں ہیں: ایک یہ کہ د ونوں طرف سے نقد ہوں۔ دوسری یہ کہ مقدار کے اعتبار سے برابر ہوں۔ جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہe نے فرمایا: ’’سونا‘ سونے کے عوض فروخت کرنا سود ہے۔ جب تک دست بدست نہ ہو اور گندم کو گندم کے عوض فروخت کرنا سود ہے مگر نقد بنقد سودا کرنا جائز ہے۔ اسی طرح جو کی بیع جو کے ساتھ سود ہو گی جب تک دست بدست نہ ہو اور کھجور کی بیع بھی کھجور کے ساتھ سود ہے جب تک دست بدست نہ ہو۔‘‘ (بخاری‘ بیوع: ۲۱۷۴)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ’’سونے کو سونے کے عوض فروخت نہ کرو مگر برابر‘ چاندی کو چاندی کے عوض فروخت نہ کرو مگر برابر برابر‘ البتہ سونے کو چاندی کے عوض‘ اسی طرح چاندی کو سونے کے عوض جیسے چاہو فروخت کرو۔‘‘ (بخاری‘ البیوع: ۲۱۷۵)
اجناس مختلف ہوں تو انہیں کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ سودا نقد بنقد ہو۔ اس کی صراحت بھی ایک حدیث میں ہے جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’گندم کو جو کے بدلے جس طرح چاہو فروخت کرو بشرطیکہ سودا نقد بنقد ہو۔‘‘ (بیہقی: ج۱‘ ص ۲۷۷)
شریعت نے سودی معاملات میں سود سے بچنے کے لیے یہ حکم دیا ہے کہ کم کوالٹی والی کھجوروں کو فروخت کر کے جو رقم حاصل ہو اس سے اچھی کھجور خرید لی جائے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’ان ردی کھجوروں کو درہموں کے عوض فروخت کر دو پھر ان دراہم سے عمدہ کھجور خرید لو۔‘‘ (بخاری‘ البیوع: ۲۲۰۱)
اس وضاحت کے بعد ہم اس اعتراض کی طرف آتے ہیں جو سوال میں اٹھایا گیا ہے‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نوع کی کھجور یا گندم بنیادی طور پر بھوک مٹاتی ہے۔ محض تنوع یا ذائقے میں فرق رکھنے کے اعتبار سے تبادلے کی گنجائش ہے۔ لیکن بھوک مٹانے میں دونوں برابر ہیں۔ اس بناء پر ہم جنس اشیاء کا تبادلہ کرتے وقت دونوں کی مقدار برابر رکھی جائے۔ عدل وانصاف کا تقاضا یہی ہے‘ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ غذائی ضرورت کو پورا کرنے میں ایک نوع‘ دوسری نوع سے بہتر ہے‘ اس لیے ان دونوں کا تبادلہ کرتے وقت فرق کو ملحوظ رکھا جائے‘ عام آدمی کے پاس تو ایسا کوئی آلہ یا ترازو موجود نہیں جو عدل وانصاف کے مطابق ایک کوالٹی دوسری کوالٹی سے تبادلے میں دونوں کی تعدادیں صحیح طور پر متعین کر سکے۔ اس لیے رسول اللہe نے اس کا حل یہ بتایا ہے کہ گھٹیا کوالٹی کی نقدی کے ذریعے قیمت طے کر لو اور اسے طے شدہ نقدی کے عوض فروخت کرو‘ پھر اعلیٰ کوالٹی کی قیمت بھی بذریعہ نقدی طے کر لو اور اسے نقدی کے عوض خرید لو۔ اس طرح عدل وانصاف کے تقاضے صحیح معنوں میں پورے ہو جائیں گے۔ کوالٹی کا فرق کتنا ہے‘ اس کو وزن یا ماپ کے ذریعے متعین نہیں کیا جا سکتا۔ قیمت کے ذریعے سے متعین کیا جا سکتا ہے۔ کوالٹی کے تعین کے لیے قیمت ہی غیر جانبدارانہ اور مناسب ترین ذریعہ ہے۔ اگر قیمت کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ محض وزن میں کمی بیشی کے ذریعہ سے کام چلانے کی کوشش کی جائے تو دونوں میں سے ایک فریق کا حق ضرور مارا جائے گا۔ کوالٹی کا فرق متعین کرنے کے لیے وزن کو معیار بنایا گیا تو باہمی رضا مندی کے تقاضے بھی پورے نہیں ہوں گے جو صحت بیع کے لیے ضروری ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ‘ مگر یہ کہ آپس کی رضا مندی سے تجارت ہو۔‘‘ (النساء: ۲۹)
رسول اللہe نے سودی معاملات میں سود سے بچنے کے لیے اس قسم کے حیلے کو جائز قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم!
غلے کو وزن کر کے رکھنا
O حدیث میں ہے کہ غلے کو وزن کر کے رکھنا چاہیے‘ جبکہ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اسے وزن کرنے سے برکت ختم ہو جاتی ہے۔ ان دونوں احادیث میں تطبیق کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔ قرآن وحدیث کے مطابق اس کا کیا حل ہو سکتا ہے۔
P امام بخاریa نے ایک عنوان قائم کیا ہے: ’’غلہ وغیرہ ماپنا مستحب ہے۔‘‘ (بخاری‘ البیوع‘ باب نمبر ۵۲)
پھر ایک حدیث بیان کی ہے جسے مقدام بن معدی کرب t بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اپنا غلہ ماپ لیا کرو‘ اس سے تمہیں برکت حاصل ہو گی۔ (بخاری‘ البیوع: ۲۱۲۸)
غلے کو ماپ تول کر رکھنے کا حکم اس وقت ہے جب غلہ خریدا جائے اور اپنے گھر لایا جائے۔ رسول اللہe کے فرمان کے مطابق‘ اس میں برکت ہو گی اور اس سے اعراض کی صورت میں برکت اٹھا لی جائے گی۔ لیکن گھر میں خرچ کرتے وقت وزن کرتے رہنا اس کی برکت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ سیدہ عائشہr کا بیان ہے کہ میرے پاس کچھ جو تھے جنہیں میں ایک مدت تک استعمال کرتی رہی۔ آخر میں نے ایک دن ان کا وزن کیا تو وہ ختم ہو گئے۔ (بخاری‘ الرقاق: ۶۴۵۱)
اس کا مطلب یہ ہے کہ خرید وفروخت کے وقت ماپ تول باعث برکت ہے جبکہ اسے خرچ کرتے وقت تولا یا ماپا جائے تو اس سے بے برکتی ہو گی۔ امام بخاریa کا بھی یہی رجحان معلوم ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے اس حدیث کو خرید وفروخت کے احکام میں بیان کیا ہے۔ ہمارا بھی یہی رجحان ہے کہ رسول اللہe کے حکم میں بجا آوری میں برکت ہے۔ جب نافرمانی کرتے ہوئے خرید وفروخت کے وقت اس کا وزن نہیں کیا جائے گا تو اس کی نحوست سے برکت اٹھا لی جائے گی۔ اس طرح گھر کے اخراجات کا حساب لگانے کے لیے اگر اس کا وزن کیا جائے تو بھی غلہ اس نحوست کی بناء پر برکت سے محروم ہو جائے گا۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

View My Stats