خوفِ الٰہی اور اس کے اثرات 06-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 08, 2020

خوفِ الٰہی اور اس کے اثرات 06-20


خوفِ الٰہی اور اس کے اثرات

امام الحرم المکی فضیلۃ الشیخ اُسامہ خیاط d
ترجمہ: جناب عاطف الیاس
حمد و ثناء کے بعد!
اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! یاد رکھو کہ ایک دن آپ نے اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔
{یَوْمَ تَاْتِیْ كلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِها وَ تُوَفّٰی كلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ همْ لَا یُظْلَمُوْنَ}
’’جب کہ ہر متنفس اپنے ہی بچاؤ کی فکر میں لگا ہوا ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا۔‘‘ (النحل: ۱۱۱)
اے مسلمانو! لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا کی زیب وزینت کے دھوکے میں آ جاتے ہیں، یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ وہ یہاں ہمیشہ رہیں گے، خواہشات پرستی میں لگ جاتے ہیں اور صحیح عقیدے کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگ متوقع خطرات سے ہمیشہ سہمے، برائی کے ڈر میں اور مقاصد کی تکمیل میں آنے والی رکاوٹوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو درست راہ پر قائم رہتے ہیں، صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہیں، پریشانی اور تذبذب کی راہوں سے دور، شک اور قلتِ یقینی سے بچے رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کو پہچان لیتے ہیں، پھر اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی کا رخ کر لیتے ہیں۔
یہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے اور کسی دوسرے سے امید نہیں باندھتے۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ نیک لوگوں اور اللہ پر بھروسہ کرنے والوں میں خوفِ الٰہی کا مقام بہت بڑا اور عظیم ہوتا ہے جس کے اثرات دنیا وآخرت، دونوں میں نظر آتے رہتے ہیں۔ خوفِ الٰہی تو ساری اولادِ آدم پر فرض ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے:
{اِنَّمَا ذٰلِكمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآئَه۱ فَلَا تَخَافُوْهمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ٭}
’’وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرا رہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو۔‘‘ (آل عمران: ۱۷۵)
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ٭}(المائدة: ۴۴)
’’تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔‘‘
خوفِ الٰہی رکھنے والوں کی اللہ تعالیٰ نے کمال تعریف فرمائی ہے۔ فرمایا:
{اِنَّ الَّذِیْنَ همْ مِّنْ خَشْیَة رَبِّهمْ مُّشْفِقُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ همْ بِاٰیٰتِ رَبِّهمْ یُؤْمِنُوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ همْ بِرَبِّهمْ لَا یُشْرِكوْنَ٭ وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهمْ وَجِلَة اَنَّهمْ اِلٰی رَبِّهمْ رٰجِعُوْنَ٭ اُولٰٓیِك یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ همْ لَها سٰبِقُوْنَ٭} (المؤمنون: ۵۷-۶۱))
’’جو اپنے رب کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں جو اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے بھلائیوں کی طرف دَوڑنے والے اور سبقت کر کے انہیں پا لینے والے تو درحقیقت یہ لوگ ہیں۔‘‘
اس کو پڑھیں:    پبلک پراپرٹی کی حُرمت
حسنa فرماتے ہیں: ان کی تعریف اسی لیے کی گئی ہے کہ انہوں نے نیکیاں کیں اور خوب محنت سے کیں، مگر پھر بھی ڈرتے رہے کہ وہ قبولیت سے محروم نہ ہو جائیں۔ مؤمن نیکی بھی کرتا ہے اور ڈرتا بھی رہتا ہے، جبکہ منافق برائی بھی کرتا ہے اور سزا سے بے خوف بھی رہتا ہے۔ خوفِ الٰہی فرشتوں میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
{یَخَافُوْنَ رَبَّهمْ مِّنْ فَوْقِهمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ٭} (النحل: ۵۰)
’’اپنے رب سے، جو اُن کے اوپر ہے، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔‘‘
اسی طرح انبیاءo کی تعریف کرتے ہوئے بھی اسی صفت کا ذکر کیا۔ فرمایا:
{الَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰه وَ یَخْشَوْنَـــه وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰه۱ وَ كفٰی بِاللّٰه حَسِیْبًا٭}
’’جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک الٰہی کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔‘‘ (الاحزاب: ۳۹)
اب چونکہ خشیت علم کے ساتھ جڑی ہوئی ہے تو اللہ کے بارے میں جو جتنا زیادہ جانے گا، وہ اس سے اتنا ہی زیادہ ڈرے گا۔ اسی لیے رسول اللہe سب سے بڑھ کر خوف وخشیت رکھنے والے تھے۔ جیسا کہ امام بخاری کی روایت کردہ حدیث میں آتا ہے کہ آپe نے فرمایا:
’’اللہ کی قسم! میں اللہ کے بارے میں تم سب سے زیادہ جاننے والا بھی ہوں سب سے بڑھ کر اس سے ڈرنے والا بھی ہوں، صحیح مسلم میں یوں بیان ہوا کہ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے بڑھ کر ڈرنے والا ہوں اور اس سے ڈرنے کے طریقے کو سب سے بڑھ کر جاننے والا ہوں اسی طرح فرمایا: اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو تمہارا ہنسنا کم ہو جائے، رونا زیادہ ہو جائے، اور تم بستر پر عورتوں کیساتھ لطف اندوز ہونا چھوڑ دو، بلکہ تم پہاڑوں کی طرف نکل جاؤ اور اللہ سے خوب معافیاں مانگو۔‘‘ (مسند احمد‘ ترمذی)
اہل علم کے بارے میں بتایا کہ یہی لوگ صحیح انداز میں اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔ فرمایا:
{وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُه كذٰلِك۱ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰه مِنْ عِبَادِه الْعُلَمٰٓؤُا۱ اِنَّ اللّٰه عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ٭} (فاطر: ۲۸)
’’اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے۔‘‘
ان کے دلوں میں یہ خشیت اس یقین کی وجہ سے آئی کہ اللہ ہی کائنات کا مالک ہے۔ زمین وآسمان کی کنجیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ سارے معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ وہی ساری کائنات کے معاملات چلانے والا ہے۔ وہی زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آنی۔ وہی کائنات کو سنبھالنے والا ہے، ساری کائنات اسی کی محتاج ہے۔ کسی اور کے اتنے محتاج نہیں۔ باقی تو سب بے بس ہیں، اپنا نفع نقصان بھی ان کے ہاتھ میں نہیں اور نہ زندگی، موت اور قبر سے نکالنا ہی ان کے بس میں ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی لکھی تقدیر کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ جامع امام ترمذی میں بڑی واضح حدیث میں اس کا بیان آیا ہے۔ امام احمد کی مسند میں اور امام حاکم کی کتاب مستدرک میں بھی صحیح سند کے ساتھ یہ حدیث آئی ہے۔ عبد اللہ بن عباسw بیان کرتے ہیں: رسول اللہe نے فرمایا: بیٹا! میں تجھے کچھ باتیں سکھاتا ہوں۔ اللہ کو یاد رکھنا، وہ تمہیں یاد رکھے گا۔ اللہ کو یاد رکھو گے تو تم اسے اپنی طرف متوجہ پاؤ گے۔ جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، جب مدد طلب کرو تو اللہ ہی سے مدد مانگو۔ یاد رکھو کہ اگر ساری امت مل کر تیرا کوئی فائدہ کرنا چاہے تو وہی فائدہ کر سکتی ہے جو اللہ نے تمہارے لیے لکھا ہو، اور اگر مل کر تمہارا نقصان کرنا چاہے تو وہی نقصان کر سکتی ہے جو اللہ نے لکھا ہو۔ قلم اٹھ چکے اور صحیفوں کی سیاہی خشک ہو چکی۔
اس کو پڑھیں:    یوم آخرت پر ایمان
اللہ کے بندو! خوف بذات خود کوئی مقصد نہیں، بلکہ اس کے ذریعے کچھ اور چیزیں حاصل کرنا مقصود ہیں۔ خوف ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ اس لیے جب ڈرانے والی چیز ختم ہو جائے تو خوف بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اہل جنت پر تو کوئی خوف نہیں ہو گا، وہاں انہیں کوئی پریشانی بھی نہیں ہو گی، کیونکہ وہ سزا سے بچ چکے ہوں گے اور اللہ کے فضل وکرم سے، فرماں برداری پر صبر اور نافرمانی سے بچنے کی کوشش کی وجہ سے اپنی آرام گاہ اور نعمتوں کے مقام پر پہنچ چکے ہوں گے۔ صحیح خوف تو وہ ہے جس کے بارے اہل علم بیان کرتے ہیں: جو بندے کو گناہوں سے بچا لے۔ جب خوف اس سے آگے بڑھ جائے تو پھر مایوسی اور نا امیدی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے جو کہ کافروں کی صفات میں سے ہے۔ فرمایا:
{اِنَّه لَا یَایْـئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰه اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ٭} (یوسف: ۸۷)
’’اللہ کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔‘‘
اللہ کی طرف سفر کرنے والے دل کی مثال پرندے جیسی ہے۔ پیار اس کا سر ہے، ایک پر ڈر کا ہے اور دوسرا پر امید کا ہے۔ اگر اس کا سر اور دونوں پر صحیح سلامت ہوں تو پرندہ خوب اڑتا ہے۔ اگر سر کٹ جائے تو مر جاتا ہے، اور اگر ایک پر کٹ جائے تو اسے شکاریوں اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے خطرہ ہی رہتا ہے۔ یاد رہے کہ اہل علم یہ پسند کرتے ہیں کہ خوف والے پر امید والے سے زیادہ رہے، یہاں تک کہ انسان دنیا سے رخصت ہونے لگے، تب امید والا پر زیادہ طاقتور ہو جائے۔ کامل ترین صورت یہ ہے کہ خوف اور امید دونوں برابر رہیں اور پیار دونوں پر غالب ہو۔ محبت منزل ہے‘ امید ہانکنے والی ہے اور خوف قائد ہے اور اللہ اپنے فضل وکرم سے پہنچانے والا ہے۔
ایک اہم چیز کی طرف توجہ ہونا ضروری ہے، بلکہ تمام تر ذرائع اس میں لگنے چاہئیں اور اسے خوب قدر وقیمت دینی چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ پروردگار کی محبت پر، اس کے ڈر پر اور اس کے فضل وکرم کی امید رکھنے پر دل کی تربیت کی جائے۔ اس کے لیے ایمان مضبوط کیا جائے، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت، عبودیت اور اس کے ناموں اور صفات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ یہ بھی جانا جائے کہ اس نے اپنے عطا خانے میں کتنی دائمی نعمتیں رکھی ہیں۔ گناہ گاروں کے لیے کتنی سخت سزائیں اور درناک عذاب مہیا کر رکھے ہیں۔ ہمیشہ محاسبۂ نفس کرتے رہنا چاہیے تاکہ نفس کو قابو میں رکھا جا سکے، اسے درست راہ پر قائم رکھا جا سکے، حق کی راہ پر قائم رکھا جا سکے اور باطل کی تمام تر شکلوں، صورتوں اور رنگوں سے بچایا جا سکے۔ فرمایا:
{اِنَّآ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰٹة فِیْها هدًی وَّ نُوْرٌ۱ یَحْكمُ بِها النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كتٰبِ اللّٰه وَ كانُوْا عَلَیْه شُهدَآئَ۱ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا۱ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰه فَاُولٰٓپك همُ الْكٰفِرُوْنَ٭}
’’ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی سارے نبی، جو مسلم تھے، اُسی کے مطابق اِن یہودی بن جانے والوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے پس (اے گروہ یہود!) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔‘‘ (المائدۃ: ۴۴)
دوسرا خطبہ
حمد وصلوٰۃ کے بعد:
اللہ کے بندو! اہل علم بیان کرتے ہیں: جس سے انسان ڈرتا ہے، اس سے دور بھاگتا ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کے۔ اس سے جو ڈرتا ہے، اسی کی طرف بھاگتا ہے، اللہ سے ڈرنے والا اپنے پروردگار اپنے پروردگار کی طرف بھاگتا ہے، اسی سے ڈر کر اسی کے پاس جاتا ہے۔ اس سے بچنے کی، اس کے سوا کوئی جگہ نہیں۔ اس سے ڈرنے سے امن نصیب ہوتا ہے، کیونکہ خوفِ الٰہی کے نتیجے میں کاموں میں اخلاص پیدا ہوتا ہے اور رسول اللہe کی پیروی آ جاتی ہے۔ پھر انسان نافرمانی سے بچنے لگتا ہے۔ ان سارے اسباب کو اپنے اندر سمو لینے والی چیز اللہ کو خوش کرنے والی ہر چیز کا اہتمام اور اسے ناراض کرنے والی ہر چیز سے بچاؤ ہے۔ یہی خوف سے بچاؤ کا راستہ ہے، اللہ کی طرف سفر میں سلامتی کی ضمانت ہے، رکاوٹوں سے نجات کا سامان ہے، جنت پانے کا ذریعہ اور آگ سے نجات کا سبب ہے۔
اے اللہ! ہر معاملے میں ہمارا انجام بھلا بنا۔ دنیا کی رسوائی اور عذاب آخرت سے ہمیں محفوظ فرما! اے اللہ! ہمارے دین کی اصلاح فرما جس پر ہمارے معاملات کا دار ومدار ہے۔ ہماری دنیا کی اصلاح فرما جس میں ہمارا روزگار ہے۔ ہماری آخرت کی اصلاح فرما جس کی طرف ہم نے لوٹنا ہے۔ زندگی کو نیکیوں میں اضافے کا ذریعہ بنا اور موت کو ہر برائی سے نجات کا سبب بنا۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats