اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات 06-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 08, 2020

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات 06-20


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ 1 گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ محمدe اس کے پیغمبر ورسول ہیں۔ 2 نماز قائم کرنا۔ 3 زکوٰۃ دینا‘ 4 حج کرنا اور 5 رمضان کے روزے رکھنا۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر اور ہر شعبۂ حیات میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض مغرب زدہ اور سیکولر طبقے کا خیال ہے کہ اسلام کی تہذیب‘ تمدن‘ روایات‘ خیالات اور عقائد چودہ سو سال پرانے ہیں اور زمانے کے تقاضے نئے ہیں۔ اس لیے انہیں جدید حالات کی روشنی میں ڈھالنا ضروری ہے۔ یہ نظریہ اسلامی عقائد اور اقدار کے سراسر خلاف ہے اور اسلام کے کسی پہلو سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اسلام اتنا ہی قدیم مذہب ہے جتنا جدید ہے۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام ایک متحرک اور عالمگیر دین ہے جو ترقی پذیر اور ہر لمحہ تغیر پذیر زندگی کے لیل ونہار کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں میں خود نہیں ڈھلتا بلکہ اپنی عالمگیر اور نکتہ رس حکمت وتدبیر کے سانچوں میں ان تقاضوں کو ڈھال لیتا ہے۔ کیونکہ ہر دور کے تقاضوں کی تکمیل واصلاح کے بغیر اس ابدیت اور حقانیت پر حرف آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام} یعنی اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین صرف اسلام ہے۔ پھر یہ بات علی وجہ البصیرت کہی جا سکتی ہے کہ انسان کی فلاح وبہبود اور رشد وہدایت صرف اسلام سے وابستہ ہے۔ کیونکہ یہی وہ دین ہے جسے خالق کائنات نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء o کے ذریعے بھیجا‘ جس کی آخری اور مکمل ترین صورت انسانیت کو خاتم المرسلین رحمۃ للعالمین e کو عطا ہوئی‘ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
{اَلْیَوْمَ اَكمَلْتُ لَكمْ دِیْنَكمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْكمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَكمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا} (المائده)
یعنی ’’آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی ہے اور اسلام کو تمہارے لیے بطور دین قبول کر لیا ہے۔‘‘
چنانچہ اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہونے کی حیثیت سے ایسے اصول اور ایسا اسلوب حیات پیش کرتا ہے جو انسان کے لیے دنیا وآخرت میں بھلائی کا موجب ہے۔ نیز اسلام ہی وہ دین ہے جس میں حقوق انسانی کی مکمل ضمانت موجود ہے اور یہی وہ مذہب ہے جو انسانی عادات اور اسلامی اخوت کا پیامبر ہے۔ رسول اکرمe کا ارشاد گرامی ہے کہ تمام انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک برابر ہیں۔ گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت نہیں مگر تقویٰ ہی وجۂ امتیاز ہے۔ قرآن مجید کا ارشاد ہے: {اِنَّ اَكرَمَكمْ عِنْدَ اللّٰه اَتْقَاكمْ} یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز وہ ہے جو تقویٰ میں سب سے آگے ہے۔ ابراہیم لنکن نے دنیا میں اس وجہ سے بڑی شہرت حاصل کی کہ اس نے شمالی امریکہ میں غلاموں کو آزادی دی تھی جبکہ رسول معظم e نے صدیوں پیشتر یہ عمل خود کر کے دکھلایا۔ آپe غلاموں کو خرید کر آزاد کر دیا کرتے تھے۔ سیدنا صہیب رومیt ہوں یا سیدنا بلال حبشیt بظاہر حبش کے سیاہ فام جو مدتوں غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رہے اور عرب جنہیں قبائلی حد بندیوں اور تفوق وبرتری پر ناز ہوتا تھا‘ اس معاشرے میں آپe نے سیدنا بلالt کو یہ عظمت بخشی کہ انہیں مؤذن بنا کر بلند وبالا کر دیا جبکہ ان کا تلفظ بھی درست نہیں تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول پاکe ظاہری الفاظ کو اہمیت نہ دیتے تھے بلکہ ان کی نظریں اس جذبہ وخلوص پر تھیں جو سیدنا بلالt کے دل کی گہرائیوں میں کروٹیں لے رہا تھا۔
آج دنیا میں جو خود ساختہ معاشی نظام رائج ہیں وہ دم توڑ رہے ہیں اور انسانیت کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ اسلام ہی وہ فطری نظام زندگی ہے جو انسانیت کو تباہی وہلاکت سے بچا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی اقدار کو اپنایا جائے۔ یہاں صرف ریاست مدینہ کا ذکر اور نام لیا جاتا ہے لیکن ابھی تک سود کے خاتمہ کی توفیق نہیں ہوئی جسے اسلام نے اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ قرار دیا ہے۔ پھر وعدے ہی وعدے ہیں جو پورے نہیں کیے جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک آئے روز نئے سے نئے بحران کا شکار ہو رہا ہے۔ لوگ نانِ شبینہ کے لیے پریشان ہیں۔ ملک میں چوری‘ ڈکیتی‘ قتل اور رہزنی کی وارداتیں عام ہو رہی ہیں۔ ایسی صورت میں امن وامان کا خواب ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ رسول اللہe جس دین اور شریعت کے حامل تھے آپe نے اس دین کو قبول کرنے والوں کو بہتر انجام اور خوشگوار مستقبل کی نوید دی تھی اور فرمایا تھا کہ ’’اگر تم اسلام قبول کر لو گے تو دنیا میں اتنا امن وامان ہو گا جس کا تم تصور نہیں کر سکتے۔‘‘ پھر چشم عالم نے دیکھا کہ ایک نوجوان عورت زیورات سے لدی ہوئی مشرق سے مغرب کی طرف تن تنہا طویل سفر کرتی ہے مگر اس پورے سفر میں ایک شخص بھی نہیں ملتا جو اس کے حسن اور مال کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام پر عمل پیرا ہونے سے انسان اس کے فیوض وبرکات سے سرفراز ہو جاتا ہے۔
اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا تھا کہ [یایها الناس قولوا لا اله الا الله تملك العرب والعجم] یعنی اسلام قبول کر لو عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے۔ یعنی ’’اسلام قبول کر لو عرب وعجم کے مالک بن جاؤ گے۔‘‘ پھر دنیا نے دیکھا کہ قیصر وکسریٰ کی سلطنتیں مسلمانوں کے زیرنگیں ہو گئیں۔ آج لوگ خود ساختہ نظاموں پر عمل پیرا ہیں‘ وہ یاد رکھیں کہ کتاب وسنت کے نظام کے بغیر نہ کما حقہ امن وامان کا دور دورہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی ملک ترقی واستحکام سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats