اسلامی نظامِ معیشت کی خصوصیات 06-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 08, 2020

اسلامی نظامِ معیشت کی خصوصیات 06-20


اسلامی نظامِ معیشت کی خصوصیات

(دوسری قسط)      تحریر: الشیخ حافظ عبدالحمید ازہری﷾
۶۔ عدالت:
یہ کائنات کہ انسان جس کا ایک حصہ ہے اللہ تعالی نے اس کا سارا نظام عدل‘ اصلاح اور توازن پر قائم کیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے :
’’اس نے آسمان کو بلند کیا اور اوپر اٹھایا اور میزان عدل رکھدی تاکہ تم میزان میں خلل اندازی نہ کرو اور انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں تولتے وقت کمی نہ کرو۔‘‘ (الرحمن: ۷-۹)
کائنات کا سارا نظام عدل پر قائم ہے اس لئے انسان جو اس امانت کاامین ہے ، اس کا فرض ہے کہ اپنے دائرہ اختیار میں عدل قائم کرے اور ہر حقدار تک اس کا حق پہنچائے۔ اگر یہ عدل و توازن قائم نہ رہے تو میزان عالم خلل پذیر ہوتی ہے اور اسی کو قرآن فساد فی الارض سے تعبیر کرتا ہے۔ ارشاد بار ی تعالی ہے :
’’اور اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کومبعوث کیا انہوں نے (اپنی قوم) سے کہا اے میری قوم! صرف اللہ کی موحدانہ عبادت کرو‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو‘ میں تم کو آسودہ حال دیکھتا ہوں اور تمہارے بارے میں ایک ایسے دن کے عذاب کا خوف ہے جو تم کو گھیرے گا ۔ اور اے میری قوم کے لوگو! عدل و انصاف کے ساتھ پورا ماپو اور تولو اور لوگوں کی چیزیں کم کرکے نہ دیا کرو ، اور زمین میں فساد نہ مچاتے پھرو۔‘‘ (ہود: ۸۴)
چنانچہ عدل و انصاف کائنات کی سب سے بڑی ضرورت اور انسان کا سب سے بڑا فریضہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عدل صرف قانون کی عملداری کا نام نہیں بلکہ عدل وانصاف کا گلا تو قانون سازی کے نام پر ہی گھونٹا جاتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان عدل کر بھی نہیں سکتا‘ اس کے پاس علم نہیں جھل ہے‘ عدل نہیں ظلم ہے۔ خالق کائنات کا بیان واجب الاذعان ہے {اِنَّه كانَ ظَلُوْمًا جَهوْلًا} بلاشبہ انسان بڑا ہی ظالم ، جاہل واقع ہوا ہے۔ اس کو علم اللہ تعالی عطا فرماتا ہے {وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِنْ عِلْمِهٖٓ اِلَّا بِمَا شَآءَ} ’’اس کے علم میں سے یہ کسی چیز کو حاصل نہیں کر سکتے مگر جسے اللہ چاہے ۔اور عدل اللہ تعالی اور اس کا رسولe سکھاتے ہیں {وَتَمَّتْ كلِمَتُ رَبِّك صِدْقًا وَعَدْلًا} ’’اور تیرے رب کا کلام صداقت اور عدل میں کامل ہے۔‘‘ اس لئے آسمانی ہدایت اور رہنمائی سے بے نیاز ہو کر انسان جو بھی نظام بناتا ہے اس میں علم نہیں ہوتا ،صداقت نہیں ہوتی، عدل نہیں ہوتا۔ مزدور یا کسان اگر قانون سازی کا موقع پائے گا تو کار خانہ دار یا زمیندار کے حقوق ملحوظ نہیں رکھ پائے گا بلکہ حقوق کا پلڑا اپنے طبقہ کی طرف جھکالے گا۔ اگر سرمایہ دار اور زمیندار قانون سازی کرے گا تو حقوق کا بہاؤ اپنی طرف کرلے گا ۔ اسی لئے مختلف نظامہائے معیشت عدم توازن اور عدل کے فقدان کے باعث ظلم و عدوان کا دوسرا نام بن کر رہ گئے۔ قرآن حکیم نے اسی لئے فرمایا: {وَمَنْ لَّمْ یَحْكمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰه فَاُولٰئِك همُ الظّٰلِمُوْنَ} ’’اور جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا تو ایسے لوگ ہی ظالم ہیں۔‘‘
عدل پر مبنی نظام وہی تشکیل دے سکتا ہے جو تمام فریقوں پر حاکم ہو اوران سے بالا تر بھی ۔اس کا مفادان میں سے کسی کے ساتھ وابستہ نہ ہو اور یہ آسمانی وحی کے سوا کہیں نہیں ہوسکتا ۔ظلم اور ظلمت کا ازالہ اسی نور سے ہوسکتا ہے جو انسانوں کو عدل کا راستہ دکھاتے ہوئے فرماتا ہے۔
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهدَائَ لِلّٰه وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِكمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ اِنْ یَّكنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰه اَوْلٰی بِهمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا  وَاِنْ تَلْوٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰه كانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا} (النساء: ۱۳۵)
’’اے ایمان والو! انصاف قائم کرنے والے اور اللہ کے لئے سچی گوا ہی دینے والے بنو‘ خواہ وہ گواہی تمہارے اپنے والدین یا قرابت داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کوئی فقیر ہے یا امیر تو اللہ انکا بہتر کارساز ہے لہٰذا تم اپنی خواہش کے پیچھے لگ کر عدل و انصاف نہ چھوڑو۔ اگر پیچیدہ شہادت دو یا شہادت دینے سے گریز کرو تو (تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے۔‘‘
۷۔ دوام و شمول:
اسلامی نظام معیشت ازلی بھی ہے اور ابدی بھی ،وقتی یا موسمی نہیں اور نہ ہی ہر دم متغیر نظریات کی طرح تبدیلی اور ترامیم کا شکار ہوتا ہے ۔اس لئے کہ یہ تجربات و حوادث کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا بلکہ علیم و خبیر، خلاق ارض و سماء‘ عالم الغیب و الشہادہ کا نازل فرمودہ دین ہے جو انسان کی فطرت سے مطابقت رکھتا ہے:
{فِطْرَتَ اللّٰه الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْها لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰه ذٰلِك الدِّیْنُ الْـقَیِّمُ  وَلٰكنَّ اَكثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ} (الروم: ۳۰)
’’اللہ تعالیٰ کی پیدہ کردہ فطرت کو جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے(اختیار کرو )، اللہ کی تخلیق کردہ فطرت میں تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا ، یہی سیدھا دین ہے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ۔‘‘
یہ نظام تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے اس کے کسی طبقہ کے لئے نہیں، اس میں عرب و عجم کا امتیازہے نہ آجر و مستاجر کا اور نہ زمیندار اور کاشتکار کا بلکہ سب یکساں طور پر اللہ اور اس کے رسولe کے اوامر و نواہی کے مخاطب ہیں ۔ارشاد باری تعالی ہے :
{اِنَّ اللّٰه یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَایِ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْهٰی عَنِ الْفَحْشَاء ِ وَالْمُنْكرِ وَالْبَغْیِ یَعِظُكمْ لَعَلَّكمْ تَذَكرُوْنَ} (النحل: ۹۰)
’’اللہ عدل، احسان، اور رشتہ داروں کو(مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور نا معقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے اور تمہیں نصیحت فرماتا ہے تاکہ تم یاد رکھو ۔‘‘
نبی کریم معلم بشریت مرشد انسانیتe نے ارشاد فرمایا :
[لا یبیع المرء علی بیع اخیه ولا تناجشوا ولا یبیع حاضر لباد۔] (بخاری: ۲۱۴)
’’کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے‘ ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور کوئی شہری کسی بدوی کیلئے سودا نہ کرے ۔‘‘
علاوہ ازیں قرآن وسنت کے الفاظ اور ان میں بیان کئے گئے اصول و ضوابط میں اتنی وسعت اور گہرائی ہے کہ کوئی جز بھی اس سے باہر نہیں رہ جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اختلاف رونما ہونے کی صورت میں کتاب اللہ اور سنت رسولe کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر کتاب و سنت میں ان اختلافات کا حل نہ ہو اور ان سے نکلنے کا راستہ نہ ہوتو یہ حکم عبث اور بے معنی ہوجاتا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے :
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰه وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْكمْ  فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْء ٍ فَرُدُّوْه اِلَی اللّٰه وَالرَّسُوْلِ اِنْ كنْتُمْ تُوْمِنُوْنَ بِاللّٰه وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ  ذٰلِك خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا} (النساء:۵۹)
’’اے اہل ایمان! اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے اولو الامر ہیں ان کی بھی‘ اگر کسی بات میں تمہارے درمیان اختلاف واقع ہو تو اگر اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو‘ اس میں اللہ اور اس کے رسولe کے حکم کی طرف رجوع کرو‘ یہ بات بہت اچھی ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے۔‘‘
اس بارے میں دو امور ہمیشہ ملحوظ رہنے چاہئیں‘ ان میں سے ایک تو فہم نصوص کا موہبہ الٰہیہ ہے جس کی طرف خلیفہ ء راشد رابع سیدنا علیt نے
[إلا فهم یؤتیه الله عزوجل رجلاً فی كتاب الله۔] (بخاری: ۱۱۱)
فرما کر اشارہ کیا‘ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا آپ لوگوں (اہل بیت) کے پاس کوئی خاص کتاب ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں سوائے اللہ کی کتاب کے یا پھر اس فہم کے جو اللہ تعالی کسی شخص کو قرآن کے متعلق عطا فرمائے۔
دوسر ے نصوص قرآن حکیم اور سنت نبویہ کی معجزانہ بلاغت، شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں :
[بل الصواب الذی علیه جمهور ائمة المسلمین ان النصوص وافیة بجمهور احكام افعال العباد ۔۔۔۔۔وان انكر ذلك من انكره لانه من یفهم معنی النصوص العامة التی هی اقوال الله و رسوله و شمولها لاحكام افعال العباد وذلك ان الّٰله بعث محمداﷺ بجوامع الكلم فیتكلم با لكلمة الجامعة التی هی قضیة كلیة و قاعدة عامة تتناول انواعاً كثیرة و تلك الانواع تتناول اعیانا لا تحصی] (مجموع الفتاویٰ الكبریٰ: ۱۹/۲۸۰)
’’درست بات وہ ہے جو جمہور ائمۃ المسلین کا موقف ہے کہ نصوص (کتاب و سنت) انسانوں کے تمام افعال کے احکام کے لئے کافی و وافی ہیں۔ اس حقیقت کا انکار جس نے بھی کیا تو اس کا سبب یہ ہوا کہ وہ عام نصوص یعنی اللہ تعالی اور جناب رسول اللہe کے فرامین کے معانی اور ان کے افعال العباد کے جملہ احکام پر مشتمل ہونے کے وصف کو سمجھنے سے قاصر رہا ۔اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمدe کو جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ چنانچہ وہ ایسا جامع لفظ بولتے  ہیں جو کلیہ اور قاعدہ عامہ ہوتا ہے اور جو بہت سی انواع کو شامل ہوتا ہے اور یہ انواع انگنت جزئیات کو حاوی ہوتی ہیں۔
اس اصول کی وضاحت میں شیخ الاسلامa متعدد مثالیں ذکر کرکے فرماتے ہیں:
[و من هذا الباب لفظ الربا فانه یتناول كل ما نهی عنه من الربا النسیء والفضل والقرض الذی یجر منفعة وغیر ذلك۔] (مجموع الفتاویٰ الكبریٰ: ۱۹/۲۸۳)
یعنی ’’اس کی مثالوں میں ربا کا لفظ بھی ہے کہ ربا الفضل (اشیاء کی باہم کمی بیشی کے ساتھ خرید و فروخت ) ربا النسیئہ (مہلت کے عوض قرض کی رقم میں اضافہ کرنا )اور ہر ایسے قرض کو شامل ہے جس کے ساتھ فائدہ شرط ہو۔‘‘
اس کو پڑھیں:   جرابوں پر مسح
 ۸۔ مرونت و ملائمت:
غیر متبدل اصول و مبادی پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نظام معیشت کی ایک خصوصیت اس کی مرونت اور ملائمت بھی ہے۔ یہ ہر طرح کے حالات میں مسائل کے حل اور احوال کے ساتھ مناسبت کی کامل صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم اور جناب رسول کریمe نے جس قدر تاکید حلال کے اکتساب اور حرام سے اجتناب کی کی ہے اسی قدر از خود کسی چیز کو حرام قرار دینے سے گریز کی کی ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے:
{یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكمْ وَاشْكرُوْا لِله اِنْ كنْتُمْ اِیَّاه تَعْبُدُوْن} (البقرة: ۱۷۲)
’’اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ اور اگر صرف اسی کی عبادت کرنے والے ہو تو اس کا شکر بجا لاؤ۔‘‘
نیز فرمایا:
{یٰٓاَیُّها النَّاسُ كلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ  اِنَّه لَكمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} (البقرة: ۱۶۸)
’’لوگو! جو چیزیں زمین میں حلال اور طیب ہیں وہ کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو‘ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔‘‘
اسی طرح فرمایا :
{یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰه لَكمْ وَلَا تَعْتَدُوْا اِنَّ اللّٰه لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَوَكلُوْا مِمَّا رَزَقَكمُ اللّٰه حَلٰلًا طَیِّبًا وَّاتَّقُوا اللّٰه الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِهٖ مُوْمِنُوْنَ} (المائدة)
’’اہل ایمان! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کہ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ حلال طیب چیزیں اللہ نے تم کو دی ہیں انہیں کھاؤ اور اللہ سے جس پر ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو۔‘‘
نبی مکرم رحمۃ للعالمینe نے ارشاد فرمایا :
[الحلال ما احل الله فی كتابه والحرام ما حرم الله فی كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا عنه۔] (ترمذی وابن ماجه)
’’حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا اور جس سے سکوت اختیار کیا تو وہ ہے جس سے عفو سے کام لیا ۔‘‘
معاملات میں اصل اباحت (جواز )ہے تا وقتیکہ اس معاملہ میں حرمت یا کراہت پر دلیل قائم ہو جائے۔ چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہa فرماتے ہیں:
[والاصل فی هذا انه لا یحرم علی الناس من المعاملات التی یحتاجون الیها الا مادل الكتاب والسنة علی تحریمه كما لا یشرع لهم من العبادات التی یتقربون بها الی الله إلا ما دل الكتاب والسنة علی شرعه إذا الدین ما شرعه الله والحرام ما حرمه الله۔] (الفتاویٰ الكبریٰ: ۲۸/۳۸۶)
’’اس بارے میں اصل یہ ہے کہ انسانوں پر معاملات میں سے انہیں جس کی ضرورت رہتی ہے صرف وہی معاملات حرام ہوں گے جن کی حرمت پر کتاب و سنت میں سے دلیل قائم ہو‘ جس طرح کہ عبادات جو ان کے لئے حصول تقرب الٰہی کا ذریعہ ہیں‘ صرف وہ عبادات مشروع ہوں جن کی مشروعیت پر کتاب و سنت سے دلیل قائم ہو ۔ اس لئے کہ دین وہ ہے جسے اللہ شریعت قرار دے اور حرام وہ ہے جسے اللہ حرام قرار دے۔‘‘
تاہم یہ ایک نازک مقام ہے شریعت میں ملائمت اورمرونت کا‘ مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسے موم کی ناک بنا لیا جائے اور باب الحیل چوپٹ کھول دیا جائے ۔مولانا و مخدومنا عطاء اللہ الحنیف محدث بھوجیانی رحمہ اللہ کی ایک طویل عبارت بطور تبرک نقل کرنے کو جی چاہتا ہے کہ اس سے بہتر اس مسئلہ کی وضاحت مشکل ہے۔ یہ [خیر الكلام ما قَلَّ و دَلَّ] کی بہترین مثال ہے۔ مولانا تحریر فرماتے ہیں :
اس کو پڑھیں:    قرآن کریم میں اعراب
دراصل یہ مسئلہ بڑا ہی نازک ہے‘ بلاشبہ اس کی افادیت بہت زیادہ ہے لیکن مفاد پرست سیاست باز اپنی ہر بے دینی ، عیاشی اور اقتصادی بے راہ روی کے لئے اس کو استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ چناچہ اسلامی ممالک کے الحاد پسند نہایت ہوشیاری سے  صلاح و فلاح ملت  اور  روح اسلام  کے لیبل لگا کر اسی اصول کی روشنی کی آڑ میں مفادی اور ظالمانہ سیاست کے لئے کھاد مہیا کر رہے ہیں۔‘‘ قَاتَلَھُمُ اللّٰه اَنّٰی یُؤْفَكوْنَ !
حافظ ابن قیمa نے اس نزاکت کو شدید طور پر محسوس فرمایا اور لکھا ہے:
[هذا موضع مزلة الاقدام مضلة افهام و هو مقام ضنك فی معترك صعب فرط فیه طائفة فعطلوا الحدود و ضیعوا الحقوق و جراوا اهل الفجور علی الفساد۔۔۔۔۔۔ و افرط فیه طائفة فسوغت منه ما یناقض حكم الله۔] (اعلام: ۴/۳۰۹، البدائع: ۳/۱۵۳)
’’یہ ایسا مقام ہے جہاں پاؤں پھسلتے ہیں اور عقلیں گمراہ ہوتی ہیں‘ یہ تنگنائی اورانتہائی دشوار گذار کشمکش ہے‘ کچھ لوگوں نے تفریط سے کام لیا تو حدود کو معطل کرنے، حقوق کے ضیاع کا سبب بنے اور انہوں نے اہلِ فجور کی حوصلہ افزائی کی۔ جبکہ ایک گروہ افراط کا شکار ہوا انہوں نے ایسا تشدد روا رکھا جواللہ تعالیٰ کے احکام میں مضمرحکمتوں کے منافی ہے۔‘‘
اظہر حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کہ فلاں کام صلاح سے قریب اور فساد سے دورہے اگر چہ اس بارے میں رسول اللہe نے کو ئی ہدایت نہیں دی ہے پر کہہ ومہ کا کام نہیں‘ اگر کوئی حکومت نیک نیتی سے عصر حاضر کے تقاضوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں پورا کرنا چاہتی ہے تو اس کو یہ کام ایک ایسی کمیٹی کے سپرد کرنا چاہیے جن کی نظر قرآن حکیم ،حدیث نبوی، قضایا وفتاوی صحابہ، مسالک ائمہ مجتہدین اورفقہی مکاتب فکر پر وسیع اور گہری ہونے کے باوصف موجودہ ضروریات کو خوب سمجھتی ہو اور سب سے بڑھ کریہ کہ یہ بزرگ تعلق باللہ اور تقویٰ وتدین کی صفات سے متصف ہوں۔
حق یہ ہے کہ یہ آخری وصف اسلامی نظامِ سیاست وعدالت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ (تعلیق حیات امام احمد بن حنبلa)
واقعیت و افادیت:
اسلام کا نظام معیشت صرف نظریہ نہیں اورافلاطون کی طرح صرف خیال نہیں بلکہ قرونِ مفضلہ میں کامل طور پر اور اس کے بعد بیشتر طور پر نافذ العمل رہا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انسان اسلام کے نظامِ عدل کے سایہ سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ایک زمانہ تھا جب کوئی شخص فوت ہو جاتا تھا تو نبی رحمتe اس کے متعلق سوال کرتے کہ [هل علیه من دین] اگر اثبات میں جواب ملتا تو [هل ترك من وفاء] قرض کی ادائیگی کا کوئی سامان کیا۔اگر اس کے ذمہ قرض کی ادائیگی کا سامان ہوتا تو اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ورنہ کہتے: [صلّوا علی صاحبكم۔] تم خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لو ۔
پھر اللہ تعالیٰ نے رزق امّت کو وسیع کردیا تو نبی اکرمe نے اعلان کروادیا
[من ترك مالا فلورثته، ومن ترك دینا او كلا فإلینا۔] (بخاری: ۳/۱۱۸)
’’جو مال چھوڑ کر مرا تو اس کے وارثوں کے لئے ہے اور اگر کوئی قرض یا عیال چھوڑ کر مرا تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔‘‘
امیر المومنین عمر الفاروقt کے دور میں اسلامی نظام معیشت کے فیوض وبرکات اس طرح عام ہوئے کہ سیدنا معاذبن جبلt یمن کے صدقات جمع کرنے کیلئے مقرر ہوئے۔ وہاں انہوں نے نبی اکرمe کے ارشاد: [تؤخذ من اغنیائهم وترد علی فقرائهم] کہ ’’زکاۃ ان کے اصحاب ثروت سے وصول کی جائے گی اور ان کے محتاج افراد کی طرف لوٹا دی جائے گی۔‘‘ کی تعمیل کی۔ تمام ضرورت مندوں میں تقسیم کے بعد بھی ایک تہائی مال بچ رہاوہ انہوں نے دربار امارت میں پیش کردیا تو امیر المومنین فاروق اعظمt نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیااور فرمایا:
[لم ابعثك جابیاً ولا آخذاً جزیة ولٰكن بعثتك لتأخذ من اغنیاء الناس فتردّ علیٰ فقرائهم]
’’میں نے تمہیں مال اکٹھا کرنے یا جزیہ وصول کرنے نہیں بھیجا تھا‘ میں نے تمہیں اس کام پر مقرر کیا تھا کہ ان کے مالدار لوگوں سے وصول کرو اور ان کے محتاج اورفقیرلوگوں تک پہنچا دو۔‘‘
سیدنا معاذ بن جبلt نے جواب دیا: [ما بعثت الیك بشیء وانا اجداحداًیاخذه منی] ’’میں نے یہ مال آپ کی طرف اس وقت بھیجا کہ مجھے یہاں کوئی وصول کرنے والا نہیں ملا۔‘‘
اس سے اگلے سال سیدنا معاذبن جبلt نے صدقات کی مد میں موصول ہونے والے مال کا نصف بیت المال کے لئے ارسال کر دیا تو امیر المومنین عمرt نے پھر وہی بات کی اور سیدنا معاذبن جبلt نے وہی جواب دیا۔ تیسرے سال یہ ہوا کہ سیدنا معاذبن جبلt کو یمن میں صدقہ دینے کیلئے کوئی نہ ملااور انہوں نے تمام جمع شدہ مال دارالخلافہ مدینۃالرسولe کی طرف بھجوا دیا، خلیفہ ثانی عمرالفاروقt نے پھرکہا کہ میں نے تمہیں مال اکٹھا کرنے یا جزیہ وصول کرنے کے لئے متعین نہیں کیا تھا تو سیدنامعاذبن جبل نے وہی جواب دیا:
[ما وجدت أحداً یأخذ منی شیئا۔] (كتاب الأموال لأبی عبید: ۵۹۶)
گویا اسلامی نظام معیشت کی برکت سے غربت کی شرح تیزی سے کم ہوتے ہوتے معدوم ہو گئی، یہی نقشہ بنوامیہ کے دورِ حکومت میں قائم رہا،چنانچہ جناب عمر بن عبدالعزیزa (جنہیں پانچواں خلیفہ راشد بھی کہا جاتا ہے) نے عراق میں اپنے والی عبد الحمید بن عبد الرحمن کو لکھا کہ [اخرج للناس اعطیاتهم، اخرج للناس اعطیاتهم] ’’لوگوں کو ان کے مقررہ وظیفے پہنچاؤ۔‘‘
تو اس نے جواب میں لکھا: سب کو ان کے مقررہ وظائف دینے کے بعد بھی بیت المال میں صدقات کا مال باقی ہے تو خلیفہ نے اسے حکم دیا:
[انظر كل من ادان فی غیر سفه ولا سرف فا قض عنه]
’’جائزہ لو کہ جس شخص نے بھی حماقت پر قرض نہ لیا ہو اور نہ ہی فضو ل خرچی کی بناء پر مقروض ہو گیا ہو اس کا قرض ادا کر دو۔‘‘
اس کو پڑھیں:    عیسوی کیلنڈر کی حقیقت
حاکم عراق عبد الحمید بن عبد الرحمن نے جواب دیا کہ اس طرح کے مقروضوں کا قرض بھی ادا کر دیا گیا ہے تاہم بیت المال میں زائد مال بدستور موجود ہے اس پر خلیفہ نے اسے لکھا [انظر كلّ بكر لیس له مال فشاء ان تزوّجه فزوّجه و اصدق عنه۔] ’’اچھی طرح دیکھو جو کوئی غیر شادی شدہ چاہتا ہو کہ تم اس کی شادی کرو تو اس کے نکاح کا اہتمام کرو اور اس کا حق مہر بیت المال سے ادا کرو۔‘‘ اس نے جواب دیا: [انی قد زوجت من وجدت] ’’اس طرح کا جو آدمی بھی مجھے ملا اس کانکاح کر چکا ہوں۔‘‘ تو خلیفہ نے حکم دیا:
[انظر من كانت علیه جزیة فضعف عن ارضه فاسلفه ما یقوی به علیٰ عمل ارضه فانا لا نریدهم لعام ولا عامین] (كتاب الأموال لابن أبی عبید بن سلام: ۲۵۱)
’’اگر کوئی جزیہ دینے والا اپنی زمین کی آمدن سے جزیہ دینے کے قابل نہیں رہاتو اس کو اتنا قرض دو جس سے وہ اپنی زمین سنوار سکے ہم ان سے ایک سال نہیں بلکہ دو سال تک کچھ تقاضا نہیں کریں گے۔‘‘
جس طرح اللہ کے دین، اسلام کا محاسن اور خصائص کااستقصاء اور احاطہ حد بیان وتقریر سے باہر ہے اسی طرح اس شجرہ طیبہ کی ایک شاخ اس کے نظام معیشت کے امتیازات وخصوصیات شمار کرنا بھی انسانی طاقت سے افزوں تر ہے۔
اس کو پڑھیں:    خلع .. احکام ومسائل
ہم اس موقع پر لوگوں کی آزردگی اورمضمون کی طوالت کے خوف سے اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ تعالی ہمیں یہ بابرکت نظام اپنی زندگی میں وطن عزیز میں نافذ ہوتا اور اپنی برکات برساتا دکھائی دے۔ وما ذٰلک علی اللہ بعزیز۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats