درس قرآن وحدیث 06-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 08, 2020

درس قرآن وحدیث 06-20


درسِ قرآن
اللہ کی نشانیوں سے اعراض
ارشادِ باری ہے:
﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰيٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِيْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۰۰۲۲﴾ (السجدة)
’’اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسےٍ اللہ کی آیات سے وعظ کیا گیا پھر بھی ان سے اس نے منہ موڑ لیا (یقین مانو) کہ ہم بھی گنہگاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔‘‘
انسانی معاشرہ میں احسان فراموشی بہت بڑا اخلاقی جرم سمجھا جاتا ہے اور فی الحقیقت انسان کا دوسرے انسان کے ساتھ حسن سلوک اور احسان و نیکی والا رویہ رکھنے کے باوجود دوسرے فریق کا احسان مند ہونے کی بجائے منفی طرز عمل اپنانا واقعی بہت بڑا جرم ہے۔ انسانوں کے خالق ومالک کو بھی یہ رویہ پسند نہیں اور ایسا شخص جو اللہ کے احسانات کے بعد شکر گزاری اوررب کریم کا احسان مند ہونے کی بجائے مغرور اور متکبر بن جائے اور اس کی نشانیوں سے اعراض برتنے لگے تووہ شخص کسی اور پر نہیں بلکہ اپنے آپ پر ہی ظلم کر رہا ہے۔ اس ظلم کو کتاب ہدایت میں ’’بہت بڑا ظلم‘‘ قرار دیا گیا ہے اور اس کے عوض دردناک عذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے اور ایسا شخص ہدایت سے محروم رہتا ہے۔
﴿اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَ فِيْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ يَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا۰۰۵۷﴾ (الكهف)
’’بے شک ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں جس کی بناء پر وہ ہدایت کو نہیں سمجھ سکتے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے۔ اب اگر آپ ان کو ہدایت کی طرف بلاتے بھی رہیں تو یہ کبھی بھی ہدایت قبول نہیں کریں گے۔‘‘
اللہ کی نشانیوں میں غوروفکر نہ کرنے اور اس کی ہدایت سےمنہ موڑنے ہی کا نتیجہ ہے کہ انسان حیران و پریشان کسی متاع گم گشتہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں لیکن مجال ہے کہ اسے آسودگی میسر ہو۔
﴿فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَۙ۰۰۴۹ كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ۰۰۵۰﴾ (المدثر)
’’انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیں گو یا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہیں۔‘‘
اقوام ماضی کو اسی رویہ لا پرواہی اور احسان فراموشی کی وجہ سے عذاب سخت نے آلیاتھا:
﴿فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ۰۰۱۳﴾(فصلت)
’’اللہ کی طرف سے ہدایت کے آنے پر بھی اگر  یہ لوگ روگرداں ہوں تو کہہ دیجیے کہ میں تمہیں اس کڑک عذاب آسمانی سےڈراتا ہوں جو قوم عاد اور قوم ثمود پر نازل ہوا۔‘‘
ایسے متکبر انسان سے دور رہنے اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ ایک اچھے اور صالح معاشر ہ کے قیام کے لیے ایسے رویوں سے بچا جاسکے۔
﴿وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا۰۰۲۸﴾
’’اور دھيان رکھنا ایسے شخص کا کہا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل پڑا ہےاور جس کا معاملہ حد سے گزر چکا ہے۔‘‘

درسِ حدیث
تین نامراد اشخاص
فرمان نبویe ہے:
[عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ". قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَابُوا وَخَسِرُوا، مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: "الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ".] (رواه مسلم)
سیدنا ابوذر غفاریt سے روایت ہے وہ نبی کریم e سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ e نے ارشاد فرمایا: ’’تین قسم کے ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا‘ نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور نہ ہی ان کو پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘ سیدنا ابوذرt نے عرض کیا: یہ لوگ تو نامراد ہوئے اور خسارے میں پڑ گئے۔ اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپe نے فرمایا: ’’اپنی چادر (تہبند) نیچے لٹکانے والے اور احسان جتانے والا اور اپنا سودا جھوٹی قسمیں کھا کر بیچنے والا۔‘‘ (مسلم)
رسول اللہ e نے تین قسم کے ایسے لوگوں کا تذکرہ فرمایا جو قیامت کے دن اپنے تمام اعمال کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ن سے کلام نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف رحمت کی نظر کرے گا۔ ان کے لیے درد ناک عذاب تیار کیا ہے۔ ان میں سے ایک قسم ایسے لوگوں کی ہو گی جو تکبر کرنے والے ہوں گے۔ تکبر کی بنا پر اپنا تہبند لٹکا کر چلنے والے اور دوسروں کو حقیر جاننے والے اللہ کے غضب سے دو چار ہوں گے۔ اللہ ان پر اپنی رحمت نہیں فرمائے گا۔ ہر متکبر اللہ کا باغی ہے ان کے تمام اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ دوسرے قسم کے وہ لوگ ہیں جو کسی پر احسان کر کے جتلاتے ہیں۔ احسان کا معنی ہی یہ ہے کہ کسی منفعت کی تمنا کیے بغیر بھلائی کرتے رہنا اور جو احسان جتلاتے ہیں ہ بھی قیامت کے دن اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے اور تیسری قسم کے وہ تاجر ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا مال بیچتے ہیں۔ اسلام نے تجارت کے اصول بیان کر دیئے ہیں کسی تاجر کو یہ اجازت نہیں کہ وہ گاہک کو دھوکہ دے‘ قیمت پوری لے کر مال ناقص دے یا قسمیں کھا کر اپنا مال بیچے۔ بعض لوگ گاہک کو مطمئن کرنے کے لیے قسمیں کھانے لگتے ہیں یہ دھوکہ ہے۔ اس نوعیت کے لوگ قیامت کے دن اللہ کی رحمت سے دور اور اس کے غضب کا شکار ہوں گے۔ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لیے اپنی آخرت خراب نہیں کرنی چاہیے۔ تکبر اللہ کو پسند نہیں بلکہ فرمایا تکبر میری چادر ہے جس نے تکبر کیا اس نے میری چادر اتارنے کی کوشش کی۔ اللہ نے احسان کی روش اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے اور احسان کرنے کے بعد جتلانے سے منع کیا ہے۔ فرمایا: اپنے صدقات اور نیکیوں کو احسان جتلا کر اور تکلیف دے کر ضائع مت کرو۔ تجارت کرنے والوں کو تعلیم دی کہ کسی کو دھوکہ نہ دو اور فرمایا جس نے ہمیں  دھوکہ دیا وہ ہم  میں سے نہیں ہے۔ قیامت کے دن ناکامی اور اللہ کے غضب سے بچنے کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔


No comments:

Post a Comment

View My Stats