احکام ومسائل 06-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Saturday, February 08, 2020

احکام ومسائل 06-20


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

قرض کی معافی کے بعد مطالبہ کرنا
O میرے مالی حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہیں‘ میں نے گریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنے ایک دوست سے کچھ رقم قرض لی‘ چند ماہ بعد اس نے از خود کہا کہ میں نے تجھے قرض معاف کر دیا ہے۔ اب میرے حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں تو وہ مجھ سے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟
P شریعت اسلامیہ میں کسی تنگ دست کو قرض دینا بہت بڑی فضیلت ہے۔ پھر اسے مزید مہلت دینا اس سے بڑھ کر نیکی ہے۔ سیدنا عمران بن حصینt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’کسی کا دوسرے شخص پر کوئی حق ہو اور حق لینے والا تنگ دست مقروض کو مہلت دے دے تو قرض دینے والے کو ہر روز کے بدلے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔‘‘ (مسند امام احمد: ج۴‘ ص ۴۴۲)
اگر مقروض کو قرض معاف کر دیا جائے تو یہ بھی نیکی اور قیامت کے دن ذریعہ نجات ہے۔ چنانجہ سیدنا ابوقتادہt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ اسے قیامت کے دن ان تکلیفوں سے نجات دے دے تو وہ اپنے مقروض تنگ دست کو مہلت دے یا اسے معاف کر دے۔‘‘ (مسلم‘ المساقاۃ: ۴۰۰۰)
بلکہ ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو قیامت کے دن سایہ عنایت کریں گے۔ چنانچہ ابوالیسرt سے مروی ایک طویل حدیث میں رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اسے قرض معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنا سایہ عطا فرمائے گا۔‘‘ (مسلم‘ الزہد: ۷۵۱۲)… قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر مقروض تنگ دست ہے تو اسے اس کی آسودہ حالی تک مہلت دینا چاہیے اور اگر تم اس پر صدقہ کر دو تو یہ تمہارے لیے بہت بہتر ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۸۰)
صورت مسئولہ میں مقروض کے دوست نے بڑی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے از خود فرض معاف کر دیا۔ اب مقروض کے جب حالات بہتر ہوئے ہیں تو اس نے رقم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا ہے حالانکہ شرعی طور پر حق معاف کر دینے کے بعد اس کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔ کیونکہ اپنا حق ساقط کرنا ہبہ کرنے کے زمرہ میں آتا ہے اور رسول اللہe نے ہبہ کر کے اسے واپس لینے کو حرام قرار دیا ہے۔ جیسا کہ آپe کا ارشاد گرامی ہے: ’’اپنا ہبہ واپس لینے والا اس طرح ہے جس طرح قے کر کے اسے چاٹ لے‘ اس سے بڑھ کر بُری مثال کیا ہو سکتی ہے۔‘‘ (بخاری‘ الہبہ: ۲۵۸۹)
حافظ ابن حجر a اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’فرمان رسول اللہe ہمارے لیے بری مثال نہیں۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ اے جماعت اہل ایمان!ہمارے لائق نہیں کہ ہم کسی بری اور خسیس صفت کے ساتھ متصف ہوں یا ہم میں سے کسی میں یہ صفت پائی جائے جو کسی گندے ترین جانور سے مشابہ ہو اور وہ بھی انتہائی گذری حالت میں۔ (فتح الباری: ج۴‘ ص ۲۸۹)
ان احادیث وآثار سے پتہ چلتا ہے کہ اگر کسی شخص کا دوسرے کے ذمے کوئی حق ہو تو وہ اپنا حق معاف کر دے تو مقروض اس حق سے بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا حق لینے والا دوبارہ اس کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ امام ابن قدامہa لکھتے ہیں:
’’اگر کسی انسان کے ذمے کسی کا قرض ہو اور وہ اسے ہبہ کر دے یا اسے معاف کر دے تو مقروض اس سے بری الذمہ ہو جائے گا۔‘‘ (المغنی: ج۸‘ ص ۲۵۰)
قرض معاف کرنے کے بعد اس کا مطالبہ کرنا شرعا واخلاقا صحیح نہیں۔ واللہ اعلم!
نظریاتی منافق کو اللہ کا عذاب ہو گا
O رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی جو کھلم کھلا منافق تھا‘ رسول اللہe نے اسے مرنے کے بعد اپنی قمیص پہنائی‘ کیا اسے قبر یا میدان حشر میں اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرمائیں۔
P جس انسان کا عقیدہ خراب ہو‘ قیامت کے دن اس کی کوئی معافی نہیں۔ قرآن مجید میں اس کی صراحت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور بخش دے گا جو اس کے علاوہ ہے جسے چاہے گا۔‘‘ (النساء: ۱۱۶)
رسول اللہe کے دور میں پائے جانے والے منافقین بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں۔ ان کا یہ جرم ناقابل معافی ہے۔ اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی ہیں تو رسول اللہe نے رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو اس کے مرنے کے بعد اپنی قمیص کیوں پہنائی؟ محدثین کرامS نے اس کی حسب ذیل تین وجوہات بیان کی ہیں:
\          رسول اللہe نے رئیس المنافقین کے مومن بیٹے عبداللہ بن عبداللہt کے اکرام کے پیش نظر اس کے باپ عبداللہ بن ابی کو اپنی قمیص پہنائی۔
\          اس کے قبیلے کی دل جوئی مقصود تھی۔ چنانچہ رسول اللہe کے اس خلق کریم کے باعث قبیلہ خزرج کے متعدد لوگ مسلمان ہو گئے۔ جیسا کہ احادیث میں اس کی صراحت ہے۔
\          سیدنا عباسt جب غزوۂ بدر میں قیدی بن کر آئے تو ان کے گلے میں قمیص نہ تھی‘ چونکہ وہ طویل القامت تھے اس لیے عبداللہ بن ابی نے انہیں اپنی قمیص پہنائی کیونکہ وہ بھی لمبے قد والا تھا۔ اس احسان کا بدلہ چکانے کے لیے رسول اللہe نے اسے قمیص پہنائی۔
سوال میں یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ جب نظریاتی منافق کو قیامت کے دن معافی نہیں ملے گی تو اسے قمیص پہنانے یا اس کا جنازہ پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟ یہی بات سیدنا عمرt کے دل میں تھی‘ چنانچہ جب رسول اللہe نے اس پر جنازہ پڑھنے کا ارادہ کیا تو سیدنا عمرt نے آپ کا دامن تھام کر عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ آپ اس کا جنازہ کیوں پڑھتے ہیں؟ رسول اللہe نے فرمایا: ’’مجھے دو باتوں کا اختیار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ: آپ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں یا نہ کریں۔‘‘ چنانچہ آپ نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ (بخاری‘ الجنائز: ۱۲۶۹)
رسول اللہe کے موقف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کریمہ میں ممانعت کی صراحت نہیں بلکہ جنازہ پڑھنے اور نہ پڑھنے میں اختیار ہے۔ اسی لیے آپe نے فرمایا کہ ’’مجھے دو باتوں کا اختیار دیا گیا ہے۔‘‘ جبکہ سیدنا عمرt کا استدلال بھی اسی آیت سے تھا کہ ’’اگر آپ ان کے لیے ستر مرتبہ بھی دعا مغفرت کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔‘‘ (التوبہ: ۸۰)
بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد سیدنا عمرt کی تائید میں صراحت کے ساتھ رسول اللہe کو ان کا جنازہ پڑھنے سے منع فرما دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور ان (منافقین) میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کی نماز (جنازہ) کبھی نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں کیونکہ بلاشبہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہوتے ہیں اور وہ سب حالت فسق میں مرے ہیں۔‘‘ (التوبہ: ۸۴)
ہمارے رجحان کے مطابق عقیدے کے منافق انسان کے لیے کوئی عمل قیامت کے دن سود مند ثابت نہیں ہو گا۔ البتہ عملی منافق کے لیے مغفرت کی امید کی جا سکتی ہے۔ واللہ اعلم!
استیذان کیا ہوتا ہے؟!
O ہمارے معاشرہ میں جو قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں وہ ایک دوسرے کے گھروں میں بلا جھجک آجاتے ہیں‘ ہمیں اس سلسلہ میں بڑی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ان کو کچھ کہا جائے تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں شرعی ہدایات کیا ہیں؟!
P عرب معاشرے میں یہ دستور تھا کہ لوگ گھروں میں بلا اجازت گھس آتے‘ اسلام نے اس قسم کی آزاد آمد ورفت پر پابندی لگائی اور استیذان کا قاعدہ مقرر کیا ہے۔ حافظ ابن حجرa اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ایسی جگہ آنے کی اجازت لینا کہ اجازت لینے والا اس کا مالک نہیں۔‘‘ (فتح الباری: ج۱۱‘ ص ۵) … قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے گھروں میں داخلے کے آداب بایں الفاظ بیان کیے ہیں: ’’اے ایمان والو! اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں جاؤ تو جب تک تم اہل خانہ سے مانوس نہ ہو جاؤ اور انہیں سلام نہ کر لو وہاں داخل نہ ہوا کرو۔‘‘ (النور: ۲۷)
آیت کریمہ میں اپنے گھروں سے مراد صرف وہ گھر ہے جہاں اس کی بیوی رہتی ہو۔ وہاں شوہر ہر وقت بلا جھجک داخل ہو سکتا ہے لیکن اپنی ماں اور بیٹیوں کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے استیناس ضروری ہے۔ اس استیناس کے معنی کسی سے مانوس ہونا یا اسے مانوس کرنا یا اس سے اجازت لینا ہے۔ اس کی وضاحت ایک واقعہ سے ہوتی ہے کہ سیدنا موسیٰ بن طلحہa اپنے والد گرامی حضرت طلحہt کے ہمراہ اپنی والدہ کے پاس گئے‘ ان کے والد تو اندر چلے گئے اور وہ ان کے پیچھے تھے‘ وہ اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے سینے پر ہاتھ مار کر کہنے لگے: ’’آیا تو بلا اجازت گھر میں داخل ہونا چاہتا ہے؟‘‘ (الادب المفرد: ج۲‘ ص ۵۰۱)
اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاوند کے علاوہ دیگر محرم رشتے داروں کو بھی گھر میں بلا اذن آنے کی اجازت نہیں۔ اسی لیے سیدنا طلحہt نے اپنے بیٹے کو ڈانٹا اور اجازت لینے کا کہا لیکن خود انہوں نے کوئی اجازت نہیں لی کیونکہ وہ اپنی بیوی کے گھر میں جا رہے تھے۔
گھر میں داخل ہوتے وقت اجازت طلب کرنا عمومی طور پر مشروع عمل ہے جس کے متعلق رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’اجازت لینا نگاہ پڑنے کی وجہ سے ضروری قرار دیا گیا ہے۔‘‘ (بخاری‘ الاستیذان: ۶۲۴۱)
محرم کے لیے بھی اجازت لینا ضروری ہے تا کہ بے پردگی سے بچا جا سکے۔ صرف خاوند اس سے مستثنیٰ ہے۔ والدہ سے اجازت لینا ضروری ہے‘ خواہ ماں اور بیٹا ایک ہی گھر میں رہتے ہوں۔ خواہ بیٹا اپنی ماں کی خدمت ہی کرتا ہو اور بار بار اس کے پاس آتا ہو۔ چنانچہ ایک آدمی نے رسول اللہe سے عرض کیا‘ اللہ کے رسول! کیا میں اپنی والدہ سے اجازت طلب کروں؟ آپe نے فرمایا: ’’ہاں‘ اس سے بھی اجازت لے کر گھر میں آیا کر۔‘‘ … اس نے اپنی بات دو تین مرتبہ دہرائی تو آپe نے فرمایا: ’’کیا تو اسے غیر معمولی حالت میں دیکھنا پسند کرے گا؟‘‘  اس نے عرض کیا نہیں اللہ کے رسول! پھر آپe نے فرمایا: ’’اس سے اجازت لیا کر۔‘‘ (بیہقی: ج۷‘ ص ۹۷)
غیر محرم رشتہ داروں کے لیے بہت سختی سے اس پر عمل کرنا چاہیے کہ جب بھی کسی دوسرے کے گھر میں جائیں تو اہل خانہ سے اجازت لے کر اندر جائیں۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

View My Stats