عُجلت پسندی 07-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, February 16, 2020

عُجلت پسندی 07-20


عُجلت پسندی

تحریر: جناب مولانا محمد عبداللہ
اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف اور افضل بنایا ہے‘ انسان کو تمام مخلوقات پر یہ امتیاز ایسے ہی نہیں مل گیا بلکہ اس کی اہم وجہ انسان کے اعمال کے ساتھ جزا وسزا کا منسلک ہونا اور دیگر مخلوقات کے مقابلے میں بہت سی صفات کا حامل ہونا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو جن صفات سے نوازا کچھ تو انسان اور حیوان میں مشترک ہیں جیسے بھوک لگنا‘ نیند کا آنا‘ محبت کرنا اور غصہ آنا وغیرہ اور کچھ صفات میں انسان سب سے ممتاز ہے جیسے صفت ملوکیت‘ تعلیم وتعلم‘ تدبیر کرنا‘ ایجادات کرنا‘ وغیرہ۔
اس کو پڑھیں:    راستے کے حقوق
اللہ تعالیٰ نے انسانی صفات کو ایسے سانچے میں ڈھالا ہے کہ انہیں اچھے اور برے مواقع پر یکساں استعمال کر سکتا ہے۔ ان سے اچھا اور برا دونوں طرح کا کام لے سکتا ہے۔ چنانچہ انسان کو من جانب اللہ کچھ اصول وضوابط دے کر ان صفات کے استعمال میں آزادی دی گئی ہے۔ اب چاہے وہ ان کا اچھا استعمال کرے اور جزا کا مستحق ہو جائے اور چاہے تو ان کو برا استعمال کر کے اپنی دنیا اور آخرت کا نقصان کر لے۔
چنانچہ انسان کی ایک صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ بہت جلد باز واقع ہوا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
{خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ٭} (الانبیاء: ۲۱)
’’انسان جلد باز مخلوق ہے۔ (یعنی وہ ہر کام میں جلد بازی چاہتا ہے۔)‘‘
عجلت پسندی بذات خود کوئی بری چیز نہیں بلکہ بسا اوقات یہ مقصود ومطلوب ہوا کرتی ہے‘ جیسے کسی گناہ کے ہو جانے کے بعد توبہ میں عجلت مطلوب ہے اور عند اللہ یہی محمود ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
{وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَة مِّنْ رَّبِّكمْ وَ جَنَّة عَرْضُها السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ…٭}(آل عمران: ۱۳۳)
’’اپنے رب کی مغفرت اور اس کی اس جنت کی طرف ایک دوسرے سے جلدی پہنچنے کی کوشش کرو جس کی وسعت آسمان وزمین ہے۔‘‘
نماز جمعہ کے تعلق سے بھی جلد بازی کا حکم ہے۔ ارشاد باری ہے:
{یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوة مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَة فَاسْعَوْا اِلٰی ذِكرِ اللّٰه وَ ذَرُوا الْبَیْعَ۱ ذٰلِكمْ خَیْرٌ لَّكمْ اِنْ كنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ٭} (جمعه: ۹)
’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فورا اللہ کے ذکر کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید وفروخت کو چھوڑ دو‘ اگر تم سمجھ رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے بہت نفع کی چیز ہے۔‘‘
اسی طرح نبی کریمe نے کار خیر میں پہل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد نبویe ہے:
’’اچھے کام کرنے میں جلدی کیا کرو۔‘‘ (مسلم: ۱۶۹)
یہ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ ہمیں بتا رہی ہیں کہ جلد بازی فی نفسہ بری صفت نہیں بلکہ بعض جگہ تاخیر ہی باعث مذمت ہوا کرتی ہے۔ لیکن کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں عجلت پسندی اللہ کو نہایت ناپسند ہے اور ایسی جگہوں پر اللہ نے انسان کو اپنی اس صفت کو کنٹرول کر کے صبر وتحمل سے کام لینے کا حکم دیا ہے۔ عام طور سے انسان کی عادت ہے کہ وہ سنی سنائی باتوں کی تحقیق کیے بغیر انہیں جلد بازی میں پھیلا دیتا ہے‘ ہمیں کبھی کوئی ایسی خبر سننے کو ملتی ہے جس کا تعلق ہمارے جذبات سے ہوتا ہے اور اس وقت ہمارا دل بے قابو ہو جاتا ہے اور ہمیں مجبور کرتا ہے کہ جلد از جلد یہ بات دوسروں تک پہنچائیں اور ہم اپنے جذبات کی رو میں بہہ کر بنا جانچ پڑتال کے اسے آگے بڑھا دیتے ہیں جو کبھی کبھار ہمارے اور دوسرے لوگوں کے لیے ایسی باعث نقصان بن جاتی ہیں جن کی تلافی ہم چاہ کر بھی نہیں کر سکتے۔
قرآن پاک نے بلا تحقیق باتیں پھیلانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:
{یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ جَآئَكمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا بِجَهالَة فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ٭} (الحجرات: ۶)
’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی غیر معتبر شخص کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی جانچ پڑتال کر لو‘ کبھی تم کسی قوم کو انجانے میں کوئی نقصان پہنچا دو اور پھر اپنی اس حرکت پر نظریں اٹھانے کے لائق نہ رہو۔‘‘
آپ اپنے اطراف کا جائزہ لیجیے کہ دن بھر میں ہزاروں من گھڑت باتیں بلا تحقیق آگے بڑھا دی جاتی ہیں اور ان کی جانچ پڑتال کے تعلق سے ہم سوچنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ہونے والے بیشتر فسادات انہی افواہوں کی دین ہیں جو اب تک ہزاروں زندگیاں تباہ کر چکے ہیں۔
یہ تو اجتماعی زندگی کے نقصان کی ایک جھلک ہے لیکن اگر ہم اپنی انفرادی زندگی میں بھی جائزہ لیں تو گھریلو‘ معاشرتی اور خاندانی ہر طرح کا نقصان ہماری اس عجلت پسندی کے سبب ہوتا ہے۔
اس لیے آج کل سوشل میڈیا (فیس بک‘ واٹس ایپ‘ یوٹیوب) کے صارفین کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی میسج‘ پوسٹ یا ویڈیو کو بلا تحقیق ہرگز نہ پھیلائیں ورنہ ہماری یہ نادانی ہمیں اور دوسروں کو کسی نا قابل تلافی نقصان سے دو چار کر سکتی ہے۔ اسی طرح عجلت پسندی جن کاموں میں اللہ کو ناپسند ہے ان میں سے ایک بدگمانی ہے‘ یعنی کسی کے تعلق سے اپنے دل میں غلط خیال رکھنا۔ ہم کسی شخص کے کسی ایک عمل کو دیکھ کر بلکہ اس کے متعلق ایک بات سن کر ہی اس سے بدگمان ہو جایا کرتے ہیں پھر اس کے بارے میں اپنا ایک فرضی نظریہ قائم کر کے ساری زندگی اسی نظر سے اسے دیکھا کرتے ہیں‘ جبکہ اپنے بارے میں ہماری خواہش ہوتی ہے کہ لوگ ہمیشہ ہم سے خوش گمان رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس قدر جلد گمان قائم کرنے والوں کو نوٹس دیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
{یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ۱ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ٭} (الحجرات: ۱۲)
’’اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچو‘ کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔‘‘
بدگمانی انسانی معاشرے کا وہ ناسور ہے جو آہستہ آہستہ محبتوں کو ختم کر کے نفرتوں کو جنم دیتا ہے‘ اسی لیے نبی کریمe نے اس سے بچنے کا سختی سے حکم دیا ہے۔ فرمایا:
’’تم لوگ برے گمانوں سے بچتے رہو‘ کیونکہ بدگمانی سے بڑھ کر کوئی جھوٹی بات نہیں۔‘‘ (بخاری)
یاد رکھیے! اپنے کسی بھی بھائی بہن کے متعلق فورا بدگمان ہونے سے بچیے۔ پہلے اچھی طرح اس کو پرکھ لیجیے‘ بہت ممکن ہے کہ آپ خود ہی غلطی پر ہوں۔ آپ خود سوچیے کہ کیا آپ اس بات کو گوارا کریں گے کہ کوئی آپ کی ناکردہ خطا پر آپ سے بدگمان ہو جائے؟ تو پھر یہی معیار اپنے ہی بھائی کے سلسلے میں کیوں نہیں رکھتے؟!
چنانچہ علماء فرماتے ہیں:
دل کا سکون اور زندگی کی حقیقی خوشی چاہتے ہو تو اپنے بھائیوں کے ساتھ حسن ظن رکھنا سیکھو‘ کیونکہ بدگمانی کرنے والے سے ذہنی سکون چھین لیا جاتا ہے۔ ہمارے اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی ودیعت کردہ صفات کا استعمال مثبت انداز سے کرنا چاہیے‘ اس لیے اچھے اور نیک کاموں میں جلد بازی سے کام لیجیے اور جن جگہوں پر اللہ نے ہمیں عجلت پسندی کو قابو میں کرنے کا حکم دیا ہے‘ جیسے سنی سنائی باتوں کو بلا تحقیق پھیلانا‘ کسی کے تعلق سے برا گمان کرنا اور بے جا غصہ سے کام لینا ان جیسی جگہوں پر نہایت صبر وتحمل سے قدم اٹھایا کیجیے۔
آئیے! ایک نئی خوشگوار زندگی کی شروعات کریں‘ یقین جانیے ان اصولوں پر عمل کر کے ہم عند اللہ محبوب بن جائیں گے اور لوگوں کے درمیان بھی ہماری پہچان ایک معتبر اور نیک انسان کے طور پر ہو گی۔


No comments:

Post a Comment

Pages