احکام ومسائل 07-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, February 16, 2020

احکام ومسائل 07-20


احکام ومسائل

جناب مولانا الشیخ حافظ ابومحمد عبدالستار الحمادd
خط وکتابت:  مرکز الدراسات الاسلامیہ ۔ سلطان کالونی‘ میاں چنوں‘ خانیوال‘ پاکستان  ای میل:  markaz.dirasat@gmail.com

لے پالک کی ولدیت
O میں نے ایک طلاق یافتہ عورت سے شادی کی‘ اس کی سابقہ خاوند سے ایک بیٹی اس کے ہمراہ تھی۔ میں نے ب فارم بناتے وقت ولدیت کے خانہ میں اپنا نام لکھوا دیا تا کہ آئندہ سکول میں داخلہ کے وقت کوئی پریشانی نہ ہو۔ کیا شرعی طور پر میں نے درست کیا ہے؟
P دین اسلام میں لے پالک بیٹا اپنے نقلی باپ کا بیٹا نہیں بن سکتا۔ اس کا باپ وہی ہے جس کے نطفہ سے وہ پیدا ہوا ہے۔ اسی طرح کوئی دوسرا شخص لے پالک کا حقیقی باپ بن سکتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا حقیقی بیٹا ہو سکتا ہے۔ نہ ہی کسی شخص کے دو باپ ہو سکتے ہیں۔ دور جاہلیت میں یہ رواج تھا کہ آدمی اپںے لے پالک بیٹے کو حقیقی بیٹے کا مقام دیتے ہوئے‘ اس کی نسبت اپنی طرف کر لیتا اور اسے وہی حقوق دیتا جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں۔ رسول اللہ e نے بھی اس وقت کے رسم ورواج کے مطابق سیدنا زید بن حارثہt کو اپنا لے پالک بیٹا بنایا۔ لوگ بھی آپ کو زید بن محمد کہہ کر بلاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی اصلاح فرمائی اور باقاعدہ قرآن میں اس کے متعلق آیات نازل فرمائیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے حقیقی بیٹے نہیں بنایا۔ یہ تو تمہارے منہ کی باتیں ہیں مگر اللہ تعالیٰ حقیقی بات کہتا ہے اور وہی درست راہ دکھاتا ہے‘ ان منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔ اگر تمہیں ان کے باپوں کے نام کا علم نہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔‘‘ (الاحزاب: ۴-۵)
مذکورہ آیات کا شان نزول‘ ذکر کردہ واقعہ ہے۔ (بخاری‘ التفسیر: ۴۷۸۲)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو اس کے حقیقی باپ ہی کی طرف منسوب کرنا چاہیے‘ کسی بھی دوسرے کی طرف اس کی نسبت نہ کی جائے۔ نیز حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ کوئی شخص بھی خود کو اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی دوسرے شخص یا دوسری قوم کی طرف منسوب نہ کرے۔ چنانچہ سیدنا ابوذرt کا بیان ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’جس نے بھی دوسرے شخص کو دیدہ ودانستہ باپ بنایا‘ وہ کافر ہو گیا اور جو شخص خود کو کسی دوسری قوم کا فرد بتائے وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔‘‘ (بخاری‘ المناقب: ۳۵۰۷)
سائل نے ایک مطلقہ عورت سے نکاح کیا اور اس کے سابق خاوند کی بیٹی کو اپنی طرف منسوب کر کے اپنی ولدیت لکھوا دی‘ ایسا کرنا دور جاہلیت کی ایک مردہ رسم کو زندہ کرنا ہے۔ حالانکہ اسے حقیقی باپ کی طرف منسوب کرنا چاہیے تھا اور کاغذات ت یار کرتے وقت ولدیت کے خانہ میں حقیقی باپ کا نام ہی لکھوانا چاہیے تھا۔ اب بھی اس کی درست ولدیت کے ساتھ اس کے کاغذات تیار کیے جائیں۔ بصورت دیگر مستقبل میں بہت شرعی مشکلات اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ بہرحال بچی کی نسبت اس کے حقیقی باپ ہی کی طرف ہونی چاہیے۔ واللہ اعلم!
بیوی پر لعنت کرنا
O میرے شوہر بات بات پر مجھے لعنتی کہتے ہیں‘ جان بوجھ کر بیوی پر لعنت کرنا شریعت کی نظر میں کیا حکم رکھتا ہے؟ کیا اس طرح بلاوجہ بیوی پر لعنت کرنے سے وہ شوہر پر حرام ہو جاتی ہے؟ اگر ایسا ہے تو اس کا کیا کفارہ ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں۔
P دین اسلام میں بہترین خاوند کی علامت یہ بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے جیسا کہ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر سلوک کرے اور میں اپنے اہل خانہ کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔‘‘ (ترمذی‘ المناقب: ۳۸۹۵)
بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فرمان ہے کہ ’’کوئی صاحب ایمان شوہر اپنی ایماندار بیوی سے ناراض نہیں ہوتا اگر اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہے تو کوئی دوسری عادت پسند بھی تو ہے۔‘‘ (مسلم‘ الرضاع: ۳۶۴۳)
لیکن بات بات پر ناراض ہونا اور اسے برا بھلا کہنا کوئی پسندیدہ عادت نہیں بلکہ قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس سلسلہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ان عورتوں کے ساتھ دستور کے مطابق معاشرت کرو۔‘‘ (النساء: ۱۹)
لعنت کرنا تو انتہائی گھٹیا حرکت ہے‘ رسول اللہe نے فرمایا: ’’مومن لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔‘‘ (ترمذی‘ البر: ۱۹۷۷)
ایک شخص نے رسول اللہe سے عرض کیا‘ اللہ کے رسول! مجھے کوئی وصیت کریں۔ تو آپe نے فرمایا: ’’میں تجھے وصیت کرتا ہوں کہ کسی پر لعنت نہ کرنا۔‘‘ (مسند احمد: ۵/۷۰)
سیدنا ابودرداءt بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’کثرت سے لعنت کرنے والے قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے اور نہ کسی کے سفارشی بنیں گے۔‘‘ (مسلم‘ البر والصلہ: ۶۶۱۲)
رسول اللہe نے مومن پر لعنت کرنے کی سنگینیں بایں الفاظ بیان فرمائی ہے: ’’مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کرنے کے مترادف ہے۔‘‘ (مسند امام احمد: ۵/۳۳)
ان احادیث کے پیش نظر خاوند کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو لعنت ولمامت اور گالی گلوچ کرنے سے اجتناب کرے اور اس کے ساتھ نرمی کا اسلوب اختیار کرے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے: ’’جس چیز میں نرمی پائی جاتی ہے وہ اسے مزین اور خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی ختم ہو جائے وہ اسے بدصورت بنا دیتی ہے۔‘‘ (مسلم‘ البر والصلہ: ۲۵۹۳)
اس لعن وطعن سے بیوی حرام نہیں ہ وتی اور نہ ہی اس سے نکاح ٹوٹتا ہے۔ البتہ اس پر واجب ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت اختیار کرے اور اپنی زبان کو ہر اس بات سے محفوظ رکھے جو میاں بیوی کے درمیان تعلقات کی خرابی کا باعث ہو۔ سیدہ عائشہr بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہe نے فرمایا: ’’اہل ایمان میں سے کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اچھے اخلاق والا ہو اور اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ مہربان ہو۔‘‘ (ترمذی‘ الایمان: ۲۶۱۲)
بیوی کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اچھی بود وباش اختیار کرے اور اسے ہر طرح سے خوش کرنے کی کوشش کرے اور ہر اس کام اور بات سے پرہیز کرے جو اس کے خاوند کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’مردوں کو عورتوں پر درجہ فضیلت حاصل ہے۔‘‘ (البقرہ: ۲۲۸)
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے درمیان محبت والفت پیدا فرمائے۔
نام رکھنے کے متعلق شرعی ہدایات
O ہمارے پڑوس میں بچوں کے نام بسم اللہ‘ الحمد للہ اور سبحان اللہ ہیں‘ ہم نے پہلی دفعہ یہ نام سنے ہیں‘ ایسے ناموں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا اس طرح کے دیگر قرآنی نام رکھے جا سکتے ہیں؟ قرآن وحدیث میں بچوں کے نام رکھنے کے متعلق کیا شرعی ہدایات ہیں۔
P اولاد‘ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ اس کے ہمارے ذمے کئی ایک حقوق ہیں‘ ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ پیدا ہونے کی ساتویں دن اس کا نام رکھا جائے۔ اگرچہ پہلے دن بھی نام رکھا جا سکتا ہے تا ہم بہتر اور افضل یہ ہے کہ ساتویں دن عقیقہ کے موقع پر بچے کا نام رکھا جائے۔ نام کا اپنے مسمی کے ساتھ ایک خاص رب وتعلق ہوتا ہے اور اچھے ناموں کے اچھے اثرات بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے رسول اللہe نے اچھے نام رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ اور برے ناموں سے منع فرمایا ہے بلکہ برے ناموں کو بدل کر اچھی صفات کے حامل نام رکھنے پر زور دیا ہے۔ رسول اللہe کا فرمان ہے: ’’قیامت کے دن تم سب کو تمہارے نام اور تمہارے باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔ اس بناء پر تم اپنے اچھے نام تجویز کیا کرو۔‘‘ (ابوداؤد‘ الادب: ۴۹۴۸)
ذیل میں ہم اچھے ناموں کے متعلق چند ایک اصول ذکر کرتے ہیں:
\          ایسے نام تجویز کیے جائیں جن میں اللہ تعالیٰ کی بندگی اور ع بدیت کا اظہار ہو‘ اس بناء پر اللہ تعالیٰ کو دو نام عبداللہ اور عبدالرحمن بہت پسند ہیں۔ رسول اللہe کا ارشاد گرامی ہے: ’’تمہارے ناموں میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ نام عبداللہ اور ع بدالرحمن ہیں۔‘‘ (مسلم‘ الادب: ۵۵۸۷)
                قرآن کریم میں عبد کی نسبت اور اللہ اور رحمن کی طرف موجود ہے اور ایسے ناموں میں اللہ کی لازمی صفت ’’معبود‘‘ اور بندے کی لازمی صفت ’’عبد‘‘ کا اظہار ہے۔
\          حضرات انبیاء o کے نام پر نام رکھنا‘ رسول اللہe کا ارشاد ہے: ’’تم انبیاء کرام کے ناموں پر نام رکھو۔‘‘ (ابوداؤد‘ الادب: ۴۹۵۰)
                رسول اللہe کے ہاں جب بیٹا پیدا ہوا تو آپe نے سیدنا ابراہیمu کے نام پر اس کا نام ابراہیم رکھا۔ اور حضرت عبداللہ بن سلام t کے بیٹے کا نام یوسف رکھا تھا۔ اس لیے انبیاءo کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھے جائیں تا کہ ان حضرات کی یاد تازہ رہے۔
\          نیک اور اچھے کردار کے حامل حضرات کے ناموں پر نام رکھے جائیں جیسا کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہt جب نجران گئے تو عیسائیوں نے پوچھا کہ تمہارے قرآن میں سیدہ مریم کو سیدنا ہارون کی بہن کہا گیا ہے حالانکہ حضرت ہارون بہت پہلے فوت ہو چکے تھے۔ جب انہوں نے رسول اللہe سے یہ تذکرہ کیا تو آپe نے فرمایا: ’’وہ لوگ اپنے انبیاء اور اپنے پہلے لوگوں کے ناموں پر نام رکھتے تھے۔‘‘ (مسلم‘ الادب: ۲۱۳۵)
                اس بناء پر صحابہ کرام]‘ تابعینS‘ تبع تابعینS محدثین کرام اور فقہاء عظامS کے ناموں پر نام رکھے جائیں تا کہ ان حضرات کے کارنامے اور واقعات محفوظ رہیں۔
\          ایسا نام رکھا جائے جس کا معنی اور مفہوم اچھا ہو جیسا کہ صلح حدیبیہ کی شرائط طے کرتے وقت جب سہیل بن عمروt بطور نمائندہ آئے تو رسول اللہe نے فرمایا: ’’اب تمہارے لیے تمہارا معاملہ آسان ہو گیا ہے۔‘‘ (بخاری‘ الشروط: ۲۷۳۱)
رسول اللہe نے سہیل کی آمد پر خوشی کا اظہرا کیا اور اس یس نیک فال لی۔ کچھ ایسے نام بھی ہیں جنہیں شریعت نے پسند نہیں فرمایا: ان کے اصول حسب ذیل ہیں:
\          توحید کے منافی نام جیسے غلام محمد‘ غلام مہدی اور کنیز فاطمہ۔
\          کسی پیرکی طرف منسوب نام مثلاً پیر بخش‘ غوش بخش‘ غلام فرید اور پیراں دتہ وغیرہ۔
\          رسول اللہe کے مخصوص نام مثلاً سید الناس‘ سید ولد آدم‘ سید الکل۔
\          جن ناموں میں نافرمانی اور اکھڑ پن کا اظہار ہو مثلاً عاصیہ اور حزن وغیرہ۔
\          کافر اور جابر حکمرانوں کے نام جیسے قیصر‘ ہرقل‘ فرعون‘ پرویز۔
\          قرآنی سورتوں کے نام پر نام رکھنا جیسا طٰہٰ‘ یٰسین‘ حم وغیرہ
ناموں کو بگاڑنا بھی درست نہیں اور اگر کوئی غلط نام ہے تو اسے بدل لینا چاہیے۔ ہمارے ہاں محض انفرادیت قائم رکھنے کے لیے کچھ نام رکھے جاتے ہیں جن کا کوئی مفہوم نہیں ہوتا۔
صورت مسئولہ میں بسم اللہ‘ الحمد للہ اور سبحان اللہ نام رکھنا درست نہیں‘ انہیں بدل لینا چاہیے۔ واللہ اعلم!


No comments:

Post a Comment

Pages