حُب الوطنی کا تصوّر اسلام میں 07-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, February 16, 2020

حُب الوطنی کا تصوّر اسلام میں 07-20


حُب الوطنی کا تصوّر اسلام میں

تحریر: جناب مولانا عبدالرزاق رحمانی
معزز قارئین کرام! میں ایک پاکستانی ہوں‘ اپنے وطن عزیز اور اس کی مٹی سے جان سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں۔
یاد رکھیں! اپنے وطن اور اس کی مٹی سے پیار اور محبت کرنا ایک فطری عمل ہے۔ اسلام نے بھی اس فطری عمل کو برقرار ہی رکھا ہے‘ تبھی تو قرآن مقدس کے اندر اللہ تعالیٰ نے جانوں کی محبت کو وطن کی محبت کے ساتھ ملا دیا ہے۔ یعنی جس طرح انسان اپنی جان سے محبت کرتا ہے اسی طرح وطن سے بھی محبت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَ لَوْ اَنَّا كتَبْنَا عَلَیْهمْ اَنِ اقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكمْ مَّا فَعَلُوْه اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهمْ۱ وَ لَوْ اَنَّهمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكانَ خَیْرًا لَّهمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًا٭} (النساء: ۶۶)
’’اور اگر ہم ان پر یہ فرض کر دیتے کہ اپنی جانوں کو قتل کر ڈالو! یا اپنے گھروں (یعنی وطن) سے نکل جاؤ! تو اسے ان میں سے بہت ہی کم لوگ بجا لاتے اور اگر یہ وہی کریں جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو یقینا یہی ان کے لیے بہتر اور بہت زیادہ مضبوطی والا ہو۔‘‘
اس آیت سے پتہ چلا کہ وطن سے محبت انسان کے دل میں بہت ہی زیادہ ہوتی ہے اور انسان اس کے چھوڑنے کو پسند نہیں کرتا۔
یہ محبت یقینا ایک فطری محبت ہے‘ اسی وجہ سے وہ مہاجر صحابہ] جو اپنے وطن کو چھوڑ کر مدینہ گئے تھے اللہ نے ان کی اس قربانی کی قدر کی اور بے حد تعریف کی:
{لِلْفُقَرَآئِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهمْ وَ اَمْوَالِهمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰه وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰه وَ رَسُوْلَه۱ اُولٰٓپك همُ الصّٰدِقُوْنَ٭} (الحشر: ۸)
’’(فئے کا مال) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے نکال دیئے گئے ہیں‘ وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں‘ یہی سچے لوگ ہیں۔‘‘
یہ بہت بڑی نعمت ہے کہ انسان اپنے وطن کے اندر آرام‘ سکون اور اطمینان کے ساتھ زندگی گذارے اور ملک میں امن سے ہو۔ جیسا کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[عَنْ سَلَمَة بْنِ عُبَیْدِ اللَّه بْنِ مِحْصَنٍ الخَطْمِیِّ، عَنْ اَبِیه، وَكانَتْ لَه صُحْبَة، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهﷺ: ’مَنْ اَصْبَحَ مِنْكمْ آمِنًا فِی سِرْبِهٖ مُعَافًی فِی جَسَدِهٖ عِنْدَه قُوتُ یَوْمِه فَكاَنَّمَا حِیزَتْ لَه الدُّنْیَا۔‘ قال أبوعیسیٰ هٰذَا حَدِیثٌ حَسَنٌ غَرِیبٌ، لَا نَعْرِفُه اِلَّا مِنْ حَدِیثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِیَة۔ وَحِیزَتْ: جُمِعَتْ] (ترمذی: ۲۳۴۶)
’’تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی۔‘‘
سیدنا انسt فرماتے ہیں:
[كانَ رَسُولُ اللَّهﷺ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَاَبْصَرَ دَرَجَاتِ المَدِینَة، اَوْضَعَ نَاقَتَه، وَإِنْ كانَتْ دَابَّة حَرَّكها۔] (بخاری: ۱۸۰۲)
’’رسول اللہe جب سفر سے مدینہ کی طرف لوٹتے اور مدینہ کے بالائی علاقوں پر نظر پڑتی تو اپنی اونٹنی کو تیز کر دیتے‘ کوئی دوسرا جانور ہوتا تو اسے بھی ایڑی لگاتے (جلدی پہنچنے کے لیے)۔‘‘
حافظ ابن حجرa کہتے ہیں:
[وفی الحدیث دلالة علے فضل المدینة، وعلے مشروعیة حب الوطن، والحنین الیه] (فتح الباری: ۳/۷۸۳)
’’یہ حدیث مدینہ کی فضیلت‘ وطن سے محبت کی مشروعیت اور اس سے لگاؤ پر دلالت کرتی ہے۔‘‘
امام ابن بطالa کہتے ہیں:
[قد جبل الله النفوس علی حب الأوطان والحنین إلیهما وفعل ذلك علیه السلام، وفیه أكرم الأسوة] (شرح ابن بطال: ۴/۴۳۵)
’’یقینا اللہ تعالیٰ نے جانوں کو وطن کی محبت اور اس کی طرف رغبت اور شوق پر پیدا کیا ہے اور یہی نبی کریمe نے کیا اور یہی بہترین نمونہ ہے۔‘‘
اسی طرح جب نبی کریمe پر پہلی وحی آئی اور آپ نے اس کے بعد ورقہ بن نوفل سے ملاقات کی۔ (یہ واقعہ بخاری ودیگر کتب میں مذکور ہے) محدث امام سہیلیa اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:
[یُؤْخَذُ مِنْه شِدَّة مُفَارَقَة الْوَطَنِ عَلَی النَّفْسِ فَإِنَّهﷺ سَمِعَ قَوْلَ وَرَقَة اَنَّهمْ یُؤْذُونَه وَیُكذِّبُونَه فَلَمْ یَظْهرْ مِنْه انْزِعَاجٌ لِذٰلِك فَلَمَّا ذَكرَ لَه الْاِخْرَاجَ تَحَرَّكتْ نَفْسُه لِذٰلِك لِحُبِّ الوطن وَإِلْفِهٖ فَقَالَ اَوَ مُخْرِجِیَّ همْ] (فتح الباری: ۱۲/۴۵۰)
’’اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وطن کی مفارقت جان پر کتنی گراں اور مشکل گذرتی ہے کہ آپe نے ورقہ سے یہ بھی سنا کہ مکہ کے لوگ آپ کو تکلیف دیں گے‘ آپ کی دعوت جھٹلا دیں گے لیکن آپ e نے پریشانی کا اظہار نہ کیا‘ مگر جب آپ کے نکالے جانے کی بات آئی تو وطن سے محبت وانسیت کی بناء پر آپe رہ نہ سکے اور بے ساختہ کہا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟‘‘
اسی وجہ سے جب رسول اللہe مکہ سے نکل رہے تھے تو فرما رہے تھے:
[وَاللَّه إِنَّك لَخَیْرُ اَرْضِ اللَّه، وَاَحَبُّ اَرْضِ اللَّه إِلَی اللَّه، وَلَوْلَا اَنِّی اُخْرِجْتُ مِنْك مَا خَرَجْتُ] (ترمذی: ۳۹۲۵)
’’اللہ کی قسم! (اے مکہ) بے شک تو سب سے بہترین اللہ کی زمین ہے اور اللہ کے ہاں سب سے محبوب ترین ہے‘ اگر تیری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں کبھی نہیں نکلتا۔‘‘
طب نبویe کے اندر یہ بات بھی موجود ہے کہ انسان دم کرتے وقت اپنے وطن کی مٹی کو استعمال کرے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
[عَنْ عَائِشَة، رَضِیَ اللّٰه عَنْها، اَنَّ النَّبِیَّﷺ كانَ یَقُولُ لِلْمَرِیضِ: ’بِسْمِ اللَّه، تُرْبَة اَرْضِنَا، بِرِیقَة بَعْضِنَا، یُشْفٰی سَقِیمُنَا، بِإِذْنِ رَبِّنَا۔‘] (بخاری: ۵۷۴۶)
’’نبی کریمe دم کرتے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: [تربة أرضنا وبریقة بعضنا یشفی سقیمنا باذن ربنا] ہماری زمین کی مٹی اور ہمارے بعض کا تھوک‘ ہمارے رب کے حکم سے ہمارے مریض کو شفاء ہو۔‘‘
علامہ ابن حجرa فتح الباری میں اس حدیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
[وقال البیضاوی: قد شدت المباحث الطبیة علے أن للریق مدخلا فی النضج وتعدیل المزاج وتراب الوطن له تأثیر فی المزاج ودفع الضرر۔]
علامہ بیضاویa نے فرمایا: ’’طبی مباحث اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بے شک تھوک یا لعاب کا ایک کردار ہے مزاج کو تبدیل کرنے اور معتدل بنانے میں‘ اسی طرح وطن کی مٹی کے اندر بھی تاثیر موجود ہے مزاج کی حفاظت کرنے اور نقصان کو ہٹانے میں۔ (اللہ کے حکم کے ساتھ)‘‘
اسی طرح کئی صحابہ سے وطن کی محبت منقول ہے‘ جیسا کہ سیدنا بلالt جب مدینہ منورہ آئے تو اپنے اصلی وطن مکہ کو یاد کرتے اور اشعار پڑھتے تھے:
ألا لیت شعری هل أبیتن لیلة
بواد وحولی اذخر وجلیل
وهل أردن یوما میاه مجنة
وهل یبدون لی شامة وطفیل
’’اے کاش! کیا میں مکہ کی اذخر اور جلیل گھاس والی وادیوں میں رات گذاروں گا؟ کیا میں کسی دن مکہ میں موجود مجنہ پانیوں کے پاس جا سکوں گا؟ کیا میرے لیے دوبارہ مکہ کے شامہ اور طفیل پہاڑ جلوہ افروز ہوں گے؟‘‘ (بخاری: ۳۹۲۶)
اس کو پڑھیں:    قرآن کریم میں اعراب
رسول اللہe نے جب صحابہ کرام] کی یہ باتیں سنیں تو دعا فرمائی:
[اللَّهمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا المَدِینَة كحُبِّنَا مَكة اَوْ اَشَدَّ] (بخاری: ۱۸۸۹)
’’اے اللہ! جس طرح ہماری (اپنے وطن مکہ،) کے ساتھ محبت ہے اسی طرح ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت کو بھی بٹھا دے۔‘‘
 حب الوطنی کے تقاضے:
حب الوطنی کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ۱۴ اگست کو ڈانس کریں‘ محفل موسیقی منعقد کریں‘ عورتوں کو روڈ اور راستوں پر بے پردہ حالت میں پیش کریں‘ اور وہ کام کریں جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو‘ بلکہ ایک ایمان والے کی ذمہ داری ہے کہ اس وطن کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ جیسا کہ رسول اللہe نے فتح مکہ کے موقع پر فرمایا تھا:
[الْحَمْدُ لِلَّه الَّذِی اَنْجَزَ وَعْدَه، وَنَصَرَ عَبْدَه، وَهزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَه] (مسلم: ۱۲۱۸)
’’تمام تعریفات اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنا وعدہ پورا کیا‘ اپنے بندے کی مدد کی اور تمام دشمنوں کو اس اکیلے اللہ نے شکست دی۔‘‘
آپe مکہ میں داخل ہو کر صلوٰۃ الفتح ادا کرتے ہیں۔ یعنی کامیابی ملنے پر بطور شکرانہ کے نماز پڑھتے ہیں۔
حب الوطنی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے ملک میں قرآن وسنت کے نفاذ کے لیے مخلصانہ کوشش کریں اور حقیقی معنی میں اس ملک کو مدنی فلاحی ریاست بنائیں کیونکہ اس ملک کے لیے اس سے بڑی کوئی اور خیر خواہی نہیں ہو سکتی۔ قرآن مقدس کے اندر ہے:
{اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكنّٰهمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوة وَ اٰتَوُا الزَّكٰوة وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهوْا عَنِ الْمُنْكرِ۱ وَ لِلّٰه عَاقِبَة الْاُمُوْرِ٭} (الحج: ۴۱)
’’یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم زمین میں ان کو اقتدار دیتے ہیں تو یہ پوری پابندی سے نمازیں قائم کریں اور زکوٰتیں دیں اور اچھے کاموں کا حکم کریں اور برے کاموں سے منع کریں‘ تمام کاموں کا انجام اللہ کے اختیار میں ہے۔‘‘
حب الوطنی کا یہ بھی تقاضا ہے کہ ہم ملکی قوانین کی پاسداری کریں‘ حکمرانوں کا احترام کریں اور اپنے ملک کی ترقی‘ خوشحالی اور بقاء کے لیے اللہ سے ہر وقت دعا گو رہیں اور اس کے لیے کوشش ومحنت کریں اور اس ملک کی افواج اور سپاہ جو ہماری ملک کی سرحدوں پر موسم سرما اور گرما میں جان کی پروا کیے بغیرا پنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ان کے لیے بالخصوص دعائیں کریں‘ اسی طرح اپنے حکمرانوں کی اصلاح کے لیے دعا گو رہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے وطن عزیز پاکستان کی حفاظت فرمائے‘ اس کو امن کا گہوارہ بنائے‘ اسے ہمیشہ شاد وآباد رکھے‘ اس پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے‘ جو اس ملک کے لیے خراب ارادہ رکھتا ہے اللہ اسے ذلیل ورسوا کرے۔ آمین!
 اہم ترین نوٹ:
حب الوطنی کے حوالے سے عوام میں ایک من گھڑت روایت مشہور ہے جس کے الفاظ ہیں: [حب الوطن من الایمان] ’’وطن سے محبت کرنا ایمان کا حصہ ہے۔‘‘
یہ الفاظ رسول اللہe سے ثابت نہیں۔ لہٰذا حب الوطنی کو بیان کرتے وقت ان الفاظ کو رسول اللہe کی طرف منسوب کرنا درست نہیں۔ شیخ البانیa نے اس کو سلسلہ ضعیفہ میں ذکر کیا ہے۔ دیکھیے: ۳۶۔
شیخ البانیa مزید فرماتے ہیں: یہ حدیث معنی کے اعتبار سے بھی ٹھیک نہیں کیونکہ مشرک اور کافر بھی تو اپنے وطن کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!


No comments:

Post a Comment

Pages