تبصرۂ کتب .. فکر فراھی 07-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, February 16, 2020

تبصرۂ کتب .. فکر فراھی 07-20


تبصرۂ کتب

تبصرہ نگار: جناب ابوحمزہ پروفیسر سعید مجتبیٰ السعیدی
نام کتاب:               فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات
تالیف:                    حافظ صلاح الدین یوسفd
صفحات:                   474 صفحات   (مجلد)
ناشر:                        مجلس البحث العلمی‘ المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر
تبصرہ نگار:               جناب ابوحمزہ پروفیسر سعید مجتبیٰ السعیدی
ملنے کے پتے:          مرکز المدینہ اسلامک سنٹر‘ ڈیفنس‘ کراچی
                                مسجد سعد بن ابی وقاص‘ کراچی
اردو بازار اور مکتبہ قدوسیہ لاہور
حق وباطل کے درمیان آویزش کا سلسلہ ابتدائے آفرینش ہی سے جاری ہے۔ البتہ بالآخر فتح اور غلبہ حق کے لیے مقدر ہوتا ہے اور باطل ناکام ونامراد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَكلِمَة اللّٰه هیَ الْعُلْیَا}
کہ ’’بالآخر اللہ کا کلمہ ہی سربلند وسرفراز رہتا ہے۔‘‘
اسلام کو بھی دورِ نبوت سے آج تک یہی صورت حال درپیش ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ اسلام میں جھوٹ اور کذاب مدعیان نبوت‘ مانعین زکوٰۃ‘ خوارج‘ روافض اور ان کے رد عمل میں نواصب کا ظہور‘ ان کے بعد قدریہ‘ مرجیہ‘ معتزلہ‘ جہمیہ‘ معطلہ‘ مشبہہ اور حروری ان کے علاوہ اشاعرہ‘ ماتریدیہ اور واضعین حدیث وغیرہ ان گنت فتنوں اور گمراہ وبدعتی گروہوں نے جنم لیا۔ ان کے علاوہ ایک بہت بڑا فتنہ عقیدہ خلق قرآن کا بھی تھا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال رہا اور یہ تمام باطل فرقے اور گروہ حق کے مقابلے کی تاب نہ لا کر نیست ونابود ہوتے چلے گئے اور آج ان کا وجود تک باقی نہیں۔ والحمد للہ!
فتنۂ انکار حدیث:
اسلام مخالف ومعاند فتنوں میں ایک بڑا فتنہ انکار حدیث کا ہے۔ مذکورہ بالا فرقوں اور گروہوں کی دیگر گمراہیوں کے ساتھ ساتھ ان سب میں ’’انکار حدیث‘‘ کی سوچ قدر مشترک رہی ہے۔ اس ذہن کے لوگ ہر دور میں موجود رہے۔ ان میں سے بعض نے تو حجیت حدیث کا واضح طور پر اور کھلم کھلا انکار کیا مگر ان کی اکثریت نے مختلف حیلوں اور بہانوں سے احادیث کا انکار اور رد کیا اور بعض نے بعض دیگر عذر پیش کر کے احادیث کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
احباب گرامی! انکار حدیث کے اسباب اور اس کے قائلین کا باب از حد طویل اور اس کی تاریخ بھی قدیم ہے۔
برصغیر میں چند مشہور منکرین حدیث:
ہندوستان میں اس فتنے کی ابتداء اور اس کی آبیاری کرنے والوں میں بعض درج ذیل نام نمایاں ہیں: سر سید احمد خاں‘ مولوی چراغ دین‘ مولوی احمد دین امرتسری‘ محمد اسلم جے راج پوری‘ غلام احمد پرویز‘ مولوی حشمت علی لاہوری‘ مولوی محمد رمضان گوجرانوالہ‘ رشید الدولہ گجرات‘ شیخ محمد چٹو لاہور‘ مولوی رفیع الدین ملتانی‘ عنایت اللہ مشرقی‘ محب الحق بہاری‘ آصف فیضی‘ حبیب الرحمن کاندھلوی‘ مولانا امین احسن اصلاحی‘ محمد عبداللہ چکڑالوی‘ جاوید احمد غامدی‘ نیز ادارہ ثقافت اسلامیہ کے بعض احباب مثلا خلیفہ عبدالحکیم اور سید جعفر شاہ۔
اس کو پڑھیں:    سیدنا امیر معاویہؓ
ان کے علاوہ مولوی عمر کریم پتنوی‘ شبلی نعمانی‘ حمید الدین فراہی‘ سید ابوالاعلیٰ المودودی‘ ظفر احمد تھانوی اور احمد رضا بجنوری وغیرہ حضرات ایسے ہیں جنہوں نے کھلم کھلا انکار حدیث کی جسارت نہیں کی البتہ ان کی تصانیف وتحاریر نے سنت وحدیث کے استخفاف وانکار اور اس میں تشکیک کے دروازے ضرور کھولے اور انکار حدیث کرنے والوں کو کاندھا دیا۔
مستشرقین میں گولڈزپر اور پروفیسر شاخت اس فتنے کے نمایاں علم بردار رہے۔ عالم عرب بھی اس فتنے سے محفوظ نہ رہ سکا۔ چنانچہ مستشرقین کی تحاریر سے متاثر ہو کر اور بعض اپنی آزاد خیالی کی بناء پر انکار حدیث کے قائل ہوئے۔ ان میں ڈاکٹر توفیق صدیقی مصری‘ احمد امین‘ اسماعیل اودھم‘ محمود ابو ریہ‘ ڈاکٹر احمد ذکی شادی‘ محمد عبدہ‘ قاسم امین‘ علی عبدالرزاق‘ حسنین ہیکل‘ محمد الخضری‘ حسن ترابی اور محمد الغزالی کے نام نمایاں ہیں۔
حمید الدین فراہی:
سرسید احمد خان سے ان کے گمراہ کن عقائد ونظریات کا سبق حمید الدین فراہی نے لیا۔ سر سید احمد خان نے اسلام کی ان تمام باتوں اور اصولوں کا یکسر انکار کیا تھا جو عقلی یا سائنسی نقطۂ نظر سے بظاہر ناممکن ہیں۔ مثلاً معجزات کا انکار‘ معراج جسمانی کا انکار‘ سیدنا عیسیٰu کی خرق عادت ولادت‘ رفع آسمانی اور بعد ازاں قرب قیامت میں ان کا نزول وغیرہ۔
مولانا حمید الدین فراہی ایک پڑھے لکھے اور ذہین آدمی تھے۔ وہ مولانا شبلی نعمانی کے ماموں زاد اور ان سے عمر میں چھ سال چھوٹے تھے۔ انہوں نے سر سید سے ان کے باطل اور گمراہ کن افکار اخذ کیے اور نظم القرآن کے خوش نما عنوان کے تحت انکار حدیث کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ ان کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی اور ان کے بعد جاوید احمد غامدی اس فتنے کے سالار ہیں اور آج کل عمار خان ناصر آف گوجرانوالہ اس فتنے کے سرگرم مناد ہیں۔
محترم المقام حافظ صلاح الدین یوسفd ایک معمر‘ محقق‘ نامور صحافی اور ادیب‘ قرآن کریم کے مفسر اور حدیث کے بلند پایہ شارح ہیں۔ آپ اللہ کے فضل سے وسیع المطالعہ صاحب علم ہیں۔ علمی دنیا میں آپ شہرت یافتہ اور سنجیدگی کے حوالے سے ضرب المثل ہیں۔ اسلام کے خلاف اٹھنے والے فتنے روافض ہوں یا نواصب‘ اہل بدعت ہوں یا اہل تقلید‘ یا تاریخی واقعات کی آڑ لے کر صحابہ کرام] پر سب وشتم اور طعن وتشنیع کرنے والے لوگ‘ آپ نے وقت آنے پر باوقار اور علمی پیرائے میں تمام فتنوں کی خبر لی۔ آپ نے اپنی تحریر میں کبھی بھی متانت وسنجیدگی کا دامن نہیں چھوڑا۔
آپ نے برصغیر کے نامور منکرین حدیث کی کتابوں کا گہرائی سے ناقدانہ مطالعہ کر کے ان کے مغالطات اور شبہات کی حقیقت کو طشت از بام کیا اور موضوع کا حق ادا کر دیا۔
’’ایں کار از تو آید ومردان چنیں کنند‘‘
برصغیر میں فتنہ انکار حدیث کے بانی سر سید احمد خان سے مولانا حمید الدین فراہی بہت زیادہ متاثر ہوئے اور انہوں نے اس فکر کی آبیاری کر کے اسے خوب ہوا دی۔ فراہی صاحب کے حوالے سے حافظ صلاح الدین یوسفdکی ایک تصنیف ’’فکر فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات‘‘ اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔
اس کتاب کو ’’مجلس البحث العلمی‘ المدینہ اسلامک ریسرچ سنٹر کراچی‘‘ نے انتہائی خوبصورت انداز میں شائع کیا ہے۔
عرض ناشر کے عنوان کے تحت محترم عزیز مولانا عبدالمجید بلتستانیd نے فکر فراہی اور اس کے متاثرین کا مختصر تعارف کرایا ہے۔ اس کے بعد محترم المقام فضیلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانیa نے مقدمہ اور تقدیم کے عنوانات کے تحت حدیث رسول کی تشریعی اہمیت اور منکرین حدیث کے رد ومقابلے میں اہل علم کی مساعی کا شان دار تذکرہ کیا ہے۔ اس کے بعد ملک کے معروف صاحب قلم اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین قاسمی d نے اس کتاب کا تعارف کرایا ہے۔
موصوف نے منکرین حدیث بالخصوص غلام احمد پرویز کی تصنیفات کا گہرا مطالعہ کیا اور علمی انداز میں ان پر نقد کیا ہے۔
جناب حافظ صلاح الدین یوسفd نے اس کتاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ حصہ اول کا عنوان ہے ’’مولانا حمید الدین فراہی نظم قرآن کے عنوان پر ایک نئے فتنے کے بانی۔‘‘ اس میں آپ نے بڑی تفصیل سے مولانا فراہی اور ان کے فکر کا تعارف کرایا ہے۔ نیز فراہی صاحب کے تفسیری منہج کی کجی وکج روی کو واضح کرتے ہوئے سورۂ الفیل کی تفسیر کے حوالے سے فراہی کی ضلالت وگمراہی کو خوب طشت از بام کیا ہے۔
فراہی مکتب فکر میں ایک نام جاوید غامدی کا بھی ہے۔ بلکہ دور حاضر میں وہ اس مکتب فکر کے بہت بڑے حامی ومبلغ ہیں۔ حافظ صاحب نے اس کی بہت سی فکری غلط فہمیوں اور گمراہیوں کا جائزہ لیا ہے۔ ’’فتنۂ غامدیت‘‘ کے عنوان سے قبل ازیں اسے علیحدہ شائع کیا گیا تھا۔
موضوع کی مناسبت کے پیش نظر اس تحریر کو بھی پیش نظر کتاب کے حصہ دوم کی حیثیت سے شامل اشاعت کر دیا گیا ہے۔ غامدی فتنے اور گمراہی سے ایک اور شخص بہت زیادہ متاثر ہو کر اس فتنے کو بہت زیادہ پھیلانے کا سبب بن رہا ہے وہ ہے گوجرانوالہ کا عمار خان ناصر۔ یہ اپنے پیش رو حضرات سے بھی چند قدم آگے بڑھا ہوا ہے۔ اس کے والد صاحب اور دادا جان دیوبندی مکتب فکر کے نامور بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں مگر عمار خاں کی قسمت میں گمراہی وبدنامی ان کے حصے میں آئی۔
حافظ صاحب نے کتاب کے تیسرے حصے میں عمار خاں کی فکری گمراہی وکج روی کا بھی جائزہ لیا ہے۔
اس کو پڑھیں:    اسلام کا نظریۂ اجماع
سب سے اہم بات یہ ہے کہ حافظ صاحب نے پوری کتاب میں سنجیدگی وعلمی انداز میں ان حضرات کا تعاقب کیا ہے اور کہیں بھی متانت کا دامن نہیں چھوڑا۔
فراہی‘ غامدی اور عمار خان ناصر کے فتنوں اور ان کے گمراہ کن اثرات سے واقفیت کے لیے اس کتاب کا مطالعہ از حد مفید ہے۔ ہم اپنے قارئین سے اس کتاب سے استفادے اور اس کے مطالعہ کی سفارش کرتے ہیں۔


No comments:

Post a Comment

Pages