دعوتِ دین .. امت مسلمہ کی ذمہ داری 07-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, February 16, 2020

دعوتِ دین .. امت مسلمہ کی ذمہ داری 07-20


دعوتِ دین .. امت مسلمہ کی ذمہ داری

تحریر: جناب سیف اللہ مغل
قارئین کرام کو معلوم ہے کہ جب نبی کریم حضرت محمد رسول اللہe کی بعثت ہوئی تھی اس وقت سارے عالم میں کفر وشرک اور گمراہی کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ تمام ممالک اور بر اعظم‘ اللہ کی یاد سے‘ توحید کے نور سے‘ علم کی روشنی سے اور اخلاق حسنہ کی برکتوں سے محروم ہو چکے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کون اس زمانے کے لوگوں کا نقشہ کھینچ سکتا ہے۔
چنانچہ مالک کائنات نے ارشاد فرمایا:
{ظَهرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهمْ یَرْجِعُوْنَ٭} (الروم: ۴۱)
’’خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا تا کہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے‘ عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں۔‘‘
یعنی لوگوں کے برے اعمال کی وجہ سے خشکی اور تری میں زمین پر سمندروں میں اس کے جزیروں میں‘ ایک عالمگیر فساد بپا تھا۔ دنیا کا کوئی کونہ بھی ایسا نہ تھا جہاں پر یہ فساد پھیلا ہوا اور چھایا ہوا نہ تھا۔ اگر کوئی شخص چراغ لے کر نکلتا اور کسی بہت بڑے بر اعظم یا ملک میں کسی ایسے شخص کی تلاش کرتا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سچی معرفت اور محبت ہو‘ اللہ جل شانہٗ کو صحیح طور پر یاد کر رہا ہو‘ اس کو موت کا خیال اور آخرت کی زندگی کا کچھ دھیان ہو تو تمام ملکوں اور بر اعظموں میں اسے ایسے آدمی کا ملنا بھی ناممکن ہو گیا تھا۔
دنیا میں بت پرستی عام تھی‘ آگ‘ درخت‘ سورج‘ چاند کی پوجا کی جا رہی تھی۔ خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کا د نیا میں کوئی نام ونشان نہ تھا۔ سیدنا عیسیٰu کے بعد تقریبا چھ صدیاں کسی سچے ہادی ورہنما سے خالی پڑی تھیں کہ اللہ رب العزت کو انسانیت کے حال پر رحم آیا اور اس نے اپنے پیارے حبیب حضرت محمدe کو مکہ مکرمہ کی سنگلاخ وادی میں پیدا فرمایا۔ آپe سے پہلے جو انبیاء اور رسول o تشریف لائے وہ کسی خاص قوم اور خاص علاقے کے لیے آئے جیسے قوم نوح‘ قوم لوط‘ قوم عاد‘ قوم ثمود کی طرف اور ہزاروں انبیاءo تو صرف بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے۔ تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء o مختلف اقوام اور مختلف زمانوں میں تشریف لائے۔ یعنی ان کی نبوت ایک خاص قوم اور ایک خاص زمانے تک محدود رہی۔ پھر آخر میں ہمارے رسول e تشریف لائے۔ آپe کو جو دین عطا فرمایا گیا وہ بھی کامل اور محفوظ دین عطا فرمایا گیا۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
{اَلْیَوْمَ اَكمَلْتُ لَكمْ دِیْنَكمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا٭}
’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔‘‘ (المائدہ: ۳)
جو کتاب قرآن پاک عطا فرمائی وہ بھی کامل اور محفوظ‘ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے:
{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكرَ وَ اِنَّا لَه لَحٰفِظُوْنَ٭}
’’بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘ (الحجر: ۹)
رسول اللہe کو اللہ جل شانہ نے خاتم النبیین بنا کر ساری دنیا کے انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے:
{قُلْ یٰٓاَیُّها النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰه اِلَیْكمْ جَمِیْعَا٭} (الاعراف: ۱۵۸)
’’(اے محمد!) کہہ دو کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘
آپe عالمی نبی ہیں اور آپe کی امت بھی عالمی امت ہے۔ آپe کے آخری نبی ورسول ہونے کی وجہ سے قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی نئی امت آئے گی۔
رسول اللہe نے اعلان نبوت کے ساتھ ہی دعوت الی اللہ کے کام کا آغاز کر دیا۔ آپe کی دعوت سے جو لوگ مسلمان ہوتے گئے وہ آپe کی کامل اتباع اور اطاعت کرتے ہوئے دعوت والے کام میں لگ گئے۔
البدایہ والنہایہ (ج۲‘ ص ۸۰) میں لکھا ہے کہ
’’رسول اللہe کی دعوت سے سیدنا ابوبکرt مسلمان ہو گئے۔ رسول اللہe سیدنا ابوبکرt کے اسلام لانے پر جتنے خوش تھے مکہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کوئی شخص کسی بات کی وجہ سے اتنا خوش نہ تھا۔‘‘
سیدنا ابوبکرt وہاں سے سیدنا عثمان بن عفان‘ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ‘ سیدنا زبیر بن العوام اور سیدنا سعد بن ابی وقاص] کے پاس تشریف لے گئے۔ انہیں اسلام کی دعوت دی تو یہ سب مسلمان ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکرt اگلے دن سیدنا عثمان بن مظعون‘ سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح‘ سیدنا عبدالرحمن بن عوف‘ سیدنا ابوسلمہ بن عبدالاسد اور سیدنا ارقم بن ارقم] کو لے کر حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یہ سب حضرات بھی مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس طرح سیدنا ابوبکرt کی دعوت سے نو حضرات دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔
اس کو پڑھیں:    حجیت حدیث مصطفیٰ ﷺ (اول)
اس زمانے کا ہر بچہ‘ بوڑھا‘ امیر غریب اور مرد عورت اسلام قبول کرتے ہی دعوت کے کام میں لگ جاتا تھا۔ اسلام کی دعوت قبول کرنے والوں پر اہل مکہ نے ظلم وستم کے پہاڑ توڑ دیئے لیکن ان حضرات کے دل میں ایمان اس قدر مضبوطی سے جم گیا تھا کہ جان دینا تو گوارا تھا لیکن ایمان چھوڑنا گوارا نہ تھا۔ اگر کبھی دنیاوی مشغولیات سے فرصت ملے تو سیرت صحابہ] کا مطالعہ کر کے دیکھیں کہ یہ دین اسلام کس طرح خون میں تیرتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ اب ہمارے پاس صحابہ] جیسی قربانیاں کرنا تو بہت دور کی بات ہے‘ ہم نے انہیں معلوم کرنے کی کیا کوشش کی ہے؟ ہر ایک کو معلوم ہے۔
رسول اللہe نے ۱۳ سال مکہ مکرمہ میں‘ ۱۰ سال مدینہ منورہ میں دعوت کا کام کیا۔ ایمان بچانے کے لیے اور ایمان پھیلانے کے لیے دو دفعہ ہجرت حبشہ کرائی۔ ان مہاجرین حبشہ کی دعوت سے حبشہ کا بادشاہ نجاشی مسلمان ہو گیا۔ اس کی وفات پر آپe نے اس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی۔ صحابہ کرام]‘ تابعین عظامS قرآن وسنت کے علم‘ عمل اور دعوت کو لے کر ساری دنیا میں پھرے۔ انہوں نے توحید کی دعوت ساری دنیا میں پھیلائی‘ صرف یہی نہیں بلکہ انہوں نے سنت رسولe کو اپنایا اور پھیلایا۔ سنت کا لفظ استعمال کر کے کسی غیر معصوم امتی کے اقوال وافعال کو دین نہیں سمجھا‘ پہلی صدی میں ہی یہ دین حق دنیا کے کناروں تک پہنچ گیا۔ مشرق میں سندھ اور ہند سے گزرتا ہوا چین تک‘ مغرب میں الجزائر ومراکش سے ہوتا ہوا فرانس کے برف پوش پہاڑوں تک اور شمال میں سمرقند بخاریٰ تک اہل ایمان نے توحید وسنت کے پرچم لہرا دیئے۔
۹۲ھ میں محمد بن قاسمa ۱۲ ہزار کے لشکر کے ساتھ سندھ پر حملہ آور ہوئے۔ راجہ داہر کو قتل کیا‘ یہ توحیدی لشکر دعوت اسلام لے کر ملتان تک آئے۔ سب کسی مسلک یا کسی فقہ کی گروہی دعوت لے کر نہیں آئے تھے۔ انہوں نے خالص قرآن وسنت کی تعلیمات سے ساری دنیا کے مسلمانوں میں امت مسلمہ ہونے کے جذبے کے ساتھ اجتماعیت کو برقرار رکھا جو کہ چار صدیاں گزرنے پر سیاسی‘ فقہی‘ جغرافیائی طور پر الگ ہونے کی وجہ سے یہ اجتماعیت برقرار نہ رکھی جا سکی۔
مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹیa اپنی کتاب ’’برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش‘‘ جس میں پاک وہند میں صحابہ کرام]‘ تابعین اور تبع تابعین عظام S کی آمد ہوئی۔ ان کے احوال بیان کرتے ہوئے فرماے ہیں کہ خلفاء اربعہ ] اور سیدنا امیر معاویہt کے ادوار میں برصغیر میں ۲۵ صحابہ ] ۴۲ تابعینS اور ۱۸ تبع تابعین S تشریف لائے‘ اہل ہند اور سندھ کو دعوت اسلام دے کر ان کے سینوں کو قرآن وسنت کے انوارات سے منور کیا۔
چونکہ اہل مکہ اور ہندوستان کے لوگوں میں کچھ چیزیں مشترک تھیں۔ مثلاً پتھر‘ لکڑی کے بتوں کو تراش کر پوجنا‘ وساوس اور اوہام کا شکار ہونا اس لیے مکہ کے جو لوگ بت پرستی سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ان کی دعوت سے ہندوستان کی بت پرست اقوام بہت متاثر ہوئیں‘ اس سے علاقوں کے علاقے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔
اس کو پڑھیں:    حجیت حدیث مصطفیٰ ﷺ (دوم)
مذکورہ کتاب میں ایسے ہندو راجاؤں کا بھی ذکر ہے جنہوں نے مکہ اور مدینہ میں حاضر ہو کر رسول اللہe کی زیارت کی اور اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہوئے۔ مسلمان اپنے جہادی سفروں میں بھی دین حق کی دعوت کو ہی اپنا مقصد حیات بنایا جس کے بارے میں علامہ اقبالa نے فرمایا:
شہادے ہے مطلوب ومقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
یعنی مسلمان کی زندگی کا مقصد نہ تو مال غنیمت حاصل کرنا ہوتا ہے اور نہ ہی ملکوں پر قبضہ کرنا بلکہ اس کی زندگی کا مقصد تو صرف اور صرف توحید وسنت کی دعوت حق سارے انسانوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اتنے شاندار ماضی کے حاملین مسلمان دنیا کے سارے مادی وسائل کی فراوانی کے باوجود دنیا میں ذلت ورسوائی‘ فرقہ وارانہ تعصب اور غیروں کی غلامی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے ہیں اور غیروں کے رحم وکرم پر زندگی کے دن گذار رہے ہیں۔
یاد رکھیں! کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ مسلمان کی کامیابی‘ غلبہ اور فلاح اللہ کی مدد کے ساتھ ہے اور اللہ کی مدد اللہ تعالیٰ کے احکامات کو پورا کرنے کے ساتھ ہے۔ نام کے مسلمان تو ماضی میں بھی ذلت وخواری میں رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد نہیں کی بلکہ فرمایا:
{ضُرِبَتْ عَلَیْهمُ الذِّلَّة وَ الْمَسْكنَة٭}
’’ان پر ذلت لازم کر دی گئی۔‘‘ (البقرہ: ۶۱)
اگر مسلمان کی سب سے بڑی ترجیح مال ودولت‘ ملک واقتدار کی بجائے احکامات ربانی پر عمل کرتے ہوئے دعوت دین ہو جائے تو اب بھی یہ مغلوب ومقہور مسلمان غالب اور فلاح دنیا وآخرت سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ جب تک مسلمان دعوت دین کا کام کرتے رہے اس کے دو فائدے تھے:
\          غیر مسلم اسلام میں داخل ہو رہے تھے اور مسلمان اپنے ایمان وعمل میں مضبوط تھے۔ جب مسلمانوں نے دعوت دین کا کام چھوڑا اس کے دو نقصان ہوئے۔
\          مسلمانوں کی زندگیوں سے دینی تعلیمات نکلتی گئیں اور غیر مسلموں کا اسلام میں داخلہ رک گیا۔
حتی کہ اس وقت دنیا میں ایک بھی اللہ کا حکم ایسا نہیں جس کو تمام مسلمان پورا کر رہے ہوں۔
اللہ پاک کے حکموں سے لا پرواہی برتنا اللہ کی منع کردہ چیزوں کی طرف پورے جوش وخروش سے راغب ہو جانا۔ رسول اللہe کے طریقوں کو اپنانے کی بجائے رسول اللہe کے دشمنوں کے طریقوں کو اپنانا اور اس کے لیے دلائل ڈھونڈنا اور پھر اس طرز عمل پر فخر کرنا۔
کیا یہی طرز عمل اللہ کی مدد کے آنے کا سبب ہے اور کیا اسی طرز عمل پر ہم اللہ کی مدد کے منتظر ہیں؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ ارشاد فرمایا ہے:
{یٰٓاَیُّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰه یَنْصُرْكمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكمْ٭} (محمد: ۷)
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ تعالیٰ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدموں کو جما دے گا۔‘‘
دوسری جگہ فرمان باری تعالیٰ ہے:
{وَ لَا تَهنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ٭} (ال عمران: ۱۳۹)
’’اور نہ حوصلہ ہارنا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔‘‘
اس کو پڑھیں:    کرسمس کی حقیقت
ہر دور میں علماء امت اور صلحائے ملت درس وتدریس اور وعظ وتبلیغ سے امت کی رہنمائی کرتے رہے۔ اللہ پاک‘ جو زندہ ہیں ان کی زندگیوں میں برکت عطا فرمائے اور امت مسلمہ کو ان کے علم وعمل اور ان کی پاکیزہ صحبت میں رہ کر دین سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو اپنے رب کے پاس چلے گئے انہیں کروٹ کروٹ اپنی رحمتوں اور مغفرتوں سے نوازے۔ (آمین!)


No comments:

Post a Comment

Pages