گانا سننے کی سنگینی 07-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Sunday, February 16, 2020

گانا سننے کی سنگینی 07-20


گانا سننے کی سنگینی

(تیسری قسط)   تحریر: جناب مولانا محمد طیب محمدی
گانے سننے کے انیس ایمانی نقصانات
۱۔ گانے سے منفی اور گندی سوچ پیدا ہوتی ہے:
گانے عشق معشوقی پر مشتمل ہوتے ہیں جن سے مرد عورت کی طرف اور عورت مرد کی طرف مائل ہوتی ہے اور زنا کی طرف رغبت ہوتی ہے ، جن سے ساری زندگی انسان زنا کا ہی سوچتا رہتاہے۔ اسی طرح موسیقی جن اَشعار پر مُشتمل ہوتی ہے وہ بھی اپنا اثر جماتے ہیں اور انسان منفی سوچ کا شکار ہوتاہے۔
۲۔ گانا بے حیائی ہے:
گانا بجانا بے حیائی ہے‘ فحش اور گندگی سے تعلق رکھتا ہے، یہ لڑکے اور لڑکی کو قریب کرنے والی بے غیرتی ہے، اگر یہ کام اچھا ہوتا تو اسے اللہ اور رسول حرام قرار نہ دیتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ﴾ [الاعراف]
’’کہہ دیں کہ بے شک میرے ربّ نے حرام کیا ان تمام فحش باتوں کو جو علانیہ اور پوشیدہ ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہe کے بارے میں فرمایا:
﴿وَ يُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَ يُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓىِٕثَ﴾ [الاعراف]
’’اور حلال کرتاہے ان کے لئے پاکیزہ چیزیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہی۔‘‘
۳۔ گانا زنا کا زینہ اور بے حیائی کا سبب ہے:
گانا زنا کا زینہ اور پیش خیمہ ہے، اس سے نفاق و شرک پیدا ہوتا ہے۔ شیطان کی شراکت ہوتی ہے۔ عقل میں خمار پیدا ہو جاتا ہے۔ گانا بجانا ایک ایسی چیز ہے جو قرآن مجید سے روکنے اور منع کرنے والی باطل قسم کی باتوں میں سب سے بڑی ہے، کیونکہ اس کی جانب نفس بہت زیادہ میلان رکھتا، اور رغبت کرتا ہے۔
فضیل بن عیاضa فرماتے ہیں:
[الْغِنَاءُ رُقْيَةُ الزِّنَى.] (شعب الایمان :۴۷۵۴)
’’گانا بجانا زنا کا منتر ہے(یعنی اِس سے زنا کا دروازہ کھلتا ہے)۔‘‘
موسیقی بےحیائی میں مبتلا کردیتی ہے۔ امام سیوطیa فرماتے ہیں: ’’گانے ( باجے) سے اپنے آپ کو بچاؤ! کیوں کہ یہ ”حیا“ کو کم کرتے، شَہوت کو اُبھارتے اور غیرت کو برباد کرتے ہیں اور یہ شراب کے قائم مقام ہیں، اس میں نشے کی سی تاثیر ہے۔‘‘ [تفسیر درمنثور، پ۲۱، لقمان:۶،ج ۶،ص۵۰۶]
قرآن کریم میں اللہ تعا لیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًا۰۰۳۲﴾ [الإسراء]
’’تم زنا کاری کے نزدیک مت جاؤ کیونکہ وہ بڑی بے حیائی اوربہت ہی بری راہ ہے۔‘‘
جس طرح زنا بے حیائی کاسبب اور حرام ہے، اسی طرح ہر وہ فعل جو زنا کاری کا سبب بنے حرام ہوگا۔ مثلاً کسی غیر محرم عورت کو دیکھنا، خلوت میں اس سے کلام کرنا، عورت کا بے پردہ ہو کر بن سنور کر گھر سے باہر نکلنا، عورت کا گانے سننا‘ یہ سب راستے زِناکاری کاپیش خیمہ ہیں۔ ان تمام امور سے آپe نے سختی سے منع کیا ہے ، گویا جوشخص غیر محرم عورتوں کے گانے سنتا ہے تو یہ اس کے کانوں کا زنا لکھا جاتا ہے او رجو آنکھ سے کسی غیر محرم کو دیکھے تو یہ اس کی آنکھوں کا زنا شمار ہوتاہے۔جس طرح گانا سننا حرام ہے اسی طرح کسی مجلس میں شریک ہوکر مجرہ دیکھنا سننا بھی حرام ہے۔ نبی اکرم eنے فرمایا:
[إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ ‏‏‏‏‏‏فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ ‏‏‏‏‏‏وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ ‏‏‏‏‏‏وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي ‏‏‏‏‏‏وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ كُلَّهُ وَيُكَذِّبُهُ.] (صحیح بخاری  : ۶۲۴۳)
’’اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے معاملہ میں زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے جس سے وہ لامحالہ دوچار ہوگا پس آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل کا زنا یہ ہے کہ وہ خواہش اور آرزو کرتا ہے پھر شرمگاہ اس خواہش کو سچا کرتی ہے یا جھٹلا دیتی ہے۔‘‘
﴿وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِيْلًا۰۰۳۲﴾ [الإسراء]
’’تم زنا کاری کے نزدیک مت جاؤ کیونکہ وہ بڑی بے حیائی اوربہت ہی بری راہ ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب نہ جاؤ ۔ اس طرح کہنے سے بے حیائی کے سب رستے بند کردیے ہیں۔
۵۔ گانا بجانا زنا کی دَعوت دیتا ہے ، ۶۔ شہوت کو بڑھاتا شرم و حیاء کو کم کرتا ہے ، ۷۔ شراب اور دیگر نشہ آور چیزوں کے قائم مقام ہے :
یزید ابن الولید النّاقض فرماتے ہیں :
[إِيَّاكُمْ وَالْغِنَاءَ فَإِنَّهُ يُنْقِصُ الْحَيَاءَ وَيَزِيدُ فِي الشَّهْوَةَ وَيَهْدِمُ الْمُرُوءَةَ وَإِنَّهُ لَيَنُوبٌ عَنِ الْخَمْرِ وَيَفْعَلُ مَا يَفْعَلُ السُّكْرُ فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَجَنِّبُوهُ النِّسَاءَ إِنَّ الْغِنَاءَ دَاعِيَةُ الزِّنَى.]
’’گانا بجانے سے بچو اِس لئے کہ یہ شرم و حیاء کو کم کردیتا ہے، شہوت کو بڑھادیتا ہے،مروّت کو ختم کردیتا ہے، اور یہ گانا شراب کے ہی قائم مقام ہوتا ہے(یعنی اُسی کا کام کرتا ہے)اور وہی کام کرتا ہے جو نشہ آور چیز کرتی ہے، پس اگر تم نے گانا بجانا ہی ہے تو عورتوں کو اس سے (ہر صورت میں)ضرور دور رکھو کیونکہ بیشک گانا بجانازنا کو دعوت دینے والا ہے۔‘‘ (شعب الایمان :۴۷۵۵)
اس کو پڑھیں:   عیسوی کیلنڈر کی حقیقت
۸۔ گاناشیطان کی آواز
اللہ سبحانہ و تعالی کا فرمان ہے:
﴿وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۰۰۶۴﴾ [الإسراء]
’’اور ان میں سے جسے بھی تو اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے، اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا، اور ان کے مال اور اولاد میں سے بھی اپنا شریک بنا لے، اور ان کے ساتھ جھوٹے وعدے کر لے، اور ان کے ساتھ شیطان کے جتنے بھی وعدے ہوتے ہیں وہ سب کے سب فریب ہیں۔‘‘
شیطان کی آواز سے مراد پر فریب دعوت یا گانے موسیقی اور لہو و لہب کے دیگر آلات ہیں جن کے ذریعے شیطان بکثرت لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
مجاہدa فرماتے ہیں:اس سے مراد صوت المزامیر یعنی شیطان کی آواز ،گانے بجانے ہیں اور باطل کلام ہے۔
چنانچہ ہر وہ کلام جو اللہ تعالی کی اطاعت کے بغیر ہو، اور ہر وہ آواز جو بانسری‘ دف یا ڈھول وغیرہ کی ہو وہ شیطان کی آواز ہے ، اور اپنے قدم پر چل کر کسی معصیت کی طرف جائے تو یہ شیطان کے پیادہ اور ہر سواری جو معصیت کی طرف لے جائے وہ اس کے گھڑ سوار میں شامل ہوتا ہے۔
سیدنا ابن عباس w فرماتے ہیں کہ گانے اور ساز لہو و لعب کی آوازیں یہی شیطان کی آوازیں ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں کو حق سے قطع کرتا ہے۔ (تفسیر قرطبی)
۹۔ گاناشیطان کے قدموں کی پیروی ہے:
اللہ تعالیٰ نے شیطان کے راستوں کی پیروی سے روکا ہے کیونکہ اس کے سارے ہتھکنڈے بے حیائی اور برائی کے داعی ہیں۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ وَ مَنْ يَّتَّبِعْ خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ فَاِنَّهٗ يَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ﴾ [النور]
”اے ایمان والو! شیطان کے قدم بقدم مت چلو جو شخص شیطان کے قدموں کی پیروی کرتا ہے تو وہ تو بے حیائی اور برے کاموں کا ہی حکم کرے گا۔“
اس کو پڑھیں:   خُلَعَ ... احکام ومسائل
فاحشہ کے معنی بے حیائی کے ہیں ،شیطان کے پاس بے حیائی کی طرف مائل کرنے کی بہت راہیں ہیں۔ فحش اخبارات ، ریڈیو، ٹی وی ، فلمی ڈراموں کے ذریعہ جو لوگ دن رات مسلم معاشرے میں بے حیائی پھیلا رہے ہیں اور گھر گھر اس کو پہنچا ر ہے ہیں، یہ سب شیطانی جال ہیں۔
اس آیت سے ما قبل وہ آیات ہیں جن میں سیدہ عائشہr پر لگائی تہمت کا ذکر ہے کہ جن لوگوں نے آپ پر فحش کا الزام لگایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹی خبر کو صریح بے حیائی قرار دیا اور اسے دنیا و آخرت میں عذابِ الیم کا باعث قرار دیا ہے۔
جو لوگ ان آلات حرب کے چینل چلا نے والے اور ان اداروں کے ملازمین ہیں وہ اللہ کے ہاں کتنے بڑے مجرم ہیں جو آئندہ نسلوں کی تباہی کا سبب بھی بن رہے ہیں ۔
۱۰۔ گانے والا شیطان ہے:
سیدنا ابوسعید خدری t فرماتے ہیں:
[بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِﷺ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِﷺ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِكُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا.] (صحیح مسلم : ۲۲۵۹)
’’ہم عرج ( ایک گاؤں ہے اٹھہتر میل پر مدینہ سے) رسول اللہ eکے ساتھ جا رہے تھے، اتنے میں ایک شاعر سامنے آیا جو شعر پڑھ رہا تھا۔ آپ eنے فرمایا : اس شیطان کو پکڑو‘ اگر تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھرے تو بہتر ہے کہ شعر سے بھرے۔‘‘
۱۱۔ گانے والی شیطان ہے:
اُمّ المومنین سیدہ عائشہ rنے ایک عورت کو گھر پر دیکھا جو گارہی تھی :
[فَرَأَتْهُ يَتَغَنَّى وَيُحَرِّكُ رَأْسَهُ طَرَبًا وَكَانَ ذَا شَعْرٍ كَثِيرٍ فَقَالَتْ أُفٍّ شَيْطَانٌ أَخْرِجُوهُ أَخْرِجُوهُ.] (الأدب المفرد: ۱۲۴۷ قال الشيخ الألباني : حسن)
’’اور اپنے سر کو خوشی سے گھمارہی تھی اور بڑے بڑے بال رکھے ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہ rنے فرمایا: اُف! یہ تو شیطان ہے، اس کو نکالو ،اس کو نکالو۔‘‘
۱۲۔ گانے باجے والی سواری شیطان کی سواری ہے:
ایک دفعہ کچھ لوگ نبی e کے قریب سے ایک اونٹنی لے کر گزرے جس کی گردن میں گھنٹی تھی،آپeنےفرمایا: [”هَذِهِ مَطِيَّةُ شَيْطَانٍ“]
’’یہ شیطان کی سواری ہے۔“ (ابن ابی شیبہ:۳۲۵۹۹)
اس کو پڑھیں:    نمازِ کسوف
۱۳۔ گھنٹیاں شیطانی ساز ہیں:
سیدنا ابو ہریرہt  سے روایت ہے کہ رسول اللہe نے فرمایا:
[الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ.] (مسلم: ۲۱۱۴، ۵۵۴۸، مسند احمد: ۸۸۵۰)
’’ گھنٹیاں شیطانی ساز ہیں۔“
اسی طرح آپ نے جنگ ِبدر کے موقع پر اونٹوں کی گردنوں سے گھنٹیاں الگ کردینے کا حکم دیا تھا۔
۱۴۔ گانا گانے والے پر شیاطین مسلّط ہوجاتے ہیں:
ابوامامہ t فرماتے ہیں :نبی کریمe نے فرمایا :
[مَا رَفَعَ رَجُلٌ صَوْتَهُ بِعَقِيرَةٍ غِنَاءً إِلَّا بَعَثَ اللهُ بِشَيْطَانَيْنِ يَجْلِسَانِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ يَضْرِبَانِ بِأَعْقَابِهِمَا عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى يَسْكُتَ مَتَى مَا سَكَتَ.] ( معجم الكبیر للطبرانی:۷۸۲۵)
’’جب کوئی شخص اپنی آواز کو گانا گانے میں بلند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو شیطانوں کو بھیجتا ہے جو اُس کے دونوں کندھوں پر بیٹھ کر اپنی ایڑھیوں سے اُس کے سینے پر اُس وقت تک مارتے ہیں جب تک وہ خاموش نہ ہوجائے۔‘‘
۱۵۔ گانے باجے کی آواز احمقانہ اور فاجرانہ آواز ہے:
سیدنا عبد الرحمن بن عوف t فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریمe نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ساتھ آپ کے فرزند ابراہیم کی طرف چل دیا۔ وہ اس وقت حالت نزع میں تھے۔ نبی کریمe نے اُنہیں اپنی گود میں اٹھا لیا، یہاں تک کہ ان کی روح نکل گئی۔پھر آپeاُنہیں دیکھ کر رونے لگے۔ عبد الرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا:یارسول اللہ!آپ رو رہے ہیں، جبکہ آپ نے رونے سے منع فرمایا ہے! آپe نے فرمایا:
[إِنِّي لَمْ أَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ وَلَكِنِّي نَهَيْتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ:صَوْتٍ عِنْدَ نَغْمَةِ لَهْوٍ وَلَعِبٍ وَمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ وَصَوْتٍ عِنْدَ مُصِيبَةٍ لَطْمِ وجُوهٍ وَشَقِّ جُيُوبٍ.] (مستدرك حاكم:۶۸۲۵)
’’میں نے رونے سے منع نہیں کیا، البتہ دو احمقانہ اور فاجرانہ آوازوں سے روکا ہے۔ ایک خوشی کے موقع پر لہو و لعب اور شیطانی باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، گریبان چاک کرنے کی آواز۔‘‘
۱۶۔ گانا دل میں بہت تیزی سے نفاق پیدا کرتا ہے:
جابر بن عبد اللہ t نبی اکرم e نے فرمایا :
[الْغِنَاءُ يُنْبِتُ النِّفَاقَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ.] (شعب الایمان: ۴۷۴۶، فالصحيح أن الأثر المذكور موقوف على ابن مسعود ـ رضي الله عنه)
’’گانا دل میں نفاق کواِس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو(بہت تیزی سے) اُگاتا ہے۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن مسعود tاِسی مذکورہ حدیث کو نقل کرنے کے بعدفرماتے ہیں:
[وَالذِّكْرُ يُنْبِتُ الْإِيْمَانَ فِي الْقَلْبِ كَمَا يُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ.] (ذمّ الملاھی لابن ابی الدّنیا:۳۰، تلبیس ابلیس۲۸۰)
’’اور ذکر دل میں اس طرح ایمان کو پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو۔‘‘
عمر بن عبدالعزیزa فرماتے ہیں: ’’راگ گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔‘‘
ابن قیمa کہتے ہیں: اس میں امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ ان کے بیٹے عبد اللہ کہتے ہیں میں نے اپنے باپ سے گانے بجانے کے متعلق دریافت کیا تو ان کا کہنا تھا: یہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے، مجھے پسند نہیں، پھر انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا کہ: ہمارے نزدیک ایسا کام فاسق قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ (ماخوذ از: اغاثۃ اللھفان)
امام ابن تیمیہa فرماتے ہیں:
’’گانا بجانا نفس کی شراب ہے، جو اسے خراب کر دیتا ہے، اور یہ نفس کے ساتھ وہ کچھ کرتا ہے جو شراب کا جام بھی نہیں کرتا۔‘‘ (مجموع الفتاوی ( ۱۰/۴۱۷)
دل زنگ آلود ہو کر اللہ کی یاد سے دور ہوجاتے ہیں‘ بے حیائی، نفاق اور دیوثی کو فروغ ملتاہے،شہوانی وحیوانی جذبات بھڑکتے ہیں۔ ڈاکہ، چوری، فساد ،اغوا ، قتل وغارت گھناؤنے جرائم جنم لیتے ہیں۔ جیسا کہ آج معاشرہ ان قباحتوں میں پھنس چکا ہے۔
مسلمان کہلانے والے لوگ جو حرام عشقیہ گانے بجانے کو اپنا پیشہ یا شغل بنا لیتے ہیں، اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں بدترین نفاق پیدا ہوجاتا ہے اور اللہ کی آیات کو سن کر ان کے ساتھ ان کا رویہ بھی بعینہٖ وہی ہوتا ہے جو اس آیت میں مذکور ہے:
﴿لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ١ۖۗ وَّ يَتَّخِذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ۰۰۶﴾
’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بیہودہ کلام خریدتے ہیں تاکہ بغیر سوجھ بوجھ کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکا دیں اور اس (راہ) کا مذاق اڑائیں، ان ہی لوگوں کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔‘‘ [لقمان]
ایسی صورت میں صرف نام کے مسلمان ہونے کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ کی آیات کے انکار، ان سے استکبار اور ان کو مذاق بنانے کے ساتھ مسلمانی کے دعوے پر اصرار قیامت کے دن ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ افسوس ! اس وقت یہ بیماری بری طرح امت مسلمہ میں پھیل چکی ہے۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن، موبائل فون، انٹرنیٹ، غرض ہر ذریعے سے کفار اور ان کے نام نہاد مسلم گماشتوں نے اسے اس قدر پھیلا دیا ہے کہ کم ہی کوئی خوش نصیب اس سے بچا ہوگا۔ حالانکہ دین کے کمال و زوال کے علاوہ دنیوی عروج و زوال میں بھی اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اقبال نے چند لفظوں میں اس کا نقشہ کھینچا ہے ؂
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر
اس کو پڑھیں:    عیسوی سال کی آمد اور ہم
۱۷۔ قرآن پڑھنے کو دل نہیں کرتا
گانا سننے والے کا قرآن پڑھنے کو دل نہیں کرتا کیونکہ گانے والے برتن میں قرآن داخل نہیں ہوسکتا، دل صاف ہوگا تو اس میں قرآن داخل ہوگا ، جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: 
﴿ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ١ۛۖۚ فِيْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠ۙ۰۰۲﴾
’’(یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لئے ہدایت ہے۔‘‘ [البقرہ]
یہ متقین کے لیے ہدایت ہے۔
۱۸۔ گانا اللہ تعالی کے ذکر اور یاد سے غافل کرتا ہے
موسیقی کا استعمال بندے کو خراب کرے گا، اسے اللہ تعالی کے ذکر اور یاد سے دور کرے گا۔ایک دل میں یا تو اللہ کی یاد آئے گی یا شیطان کی ، اور گانا انسان کو شیطان کی محبت اور یاد دلاتا ہے رحمٰن کی نہیں، کیونکہ دل کو اطمینان صرف اللہ کی یاد سے ہی ملتا ہے :
﴿اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُؕ۰۰۲۸﴾ [الرعد]
”جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔“
اس کو پڑھیں:   اسلام اُبھرتا ہوا دین
۱۹۔ توبہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے
بعض لوگ بڑھاپے میں بھی گانے باجے سننے سے باز نہیں آتے اور توبہ کئے بغیر دنیا سے چلے جاتے ہیں جس کا خمیازہ اسے قبروحشر میں بھگتنا پڑے گا۔ ... (جاری ہے)


No comments:

Post a Comment

Pages