سیرت سیدنا ابوبکر صدیق 08-20 - ھفت روزہ اھل حدیث

تازہ ترین

Friday, February 28, 2020

سیرت سیدنا ابوبکر صدیق 08-20


سیرت سیدنا ابوبکر صدیق﷜

تحریر: جناب میاں عبداللہ
نام و نسب:
نام: عبد اللہ‘ کنیت: ابوبکر‘ لقب: صدیق وعتیق۔ والد کا نام: عثمان اور کنیت ابو قحافہ۔ والدہ کا نام: سلمیٰ اور کنیت اُم الخیر۔
والد کی طرف سے پورا سلسلہ نسب یہ ہے۔عبد اللہ بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی القرشی التمیمی۔
سیدنا ابوبکرt کا سلسلہ نسب چھٹی پست میں مرہ پر امام کائناتe سے مل جاتا ہے۔ (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث صفحہ: ۱۱۹)
اس کو پڑھیں:    اسلام کا تصور محبت
سیدنا ابو بکر کے والد:
ابو قحافہ عثمان بن عمرو شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے‘ ابتداء میں جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے وہ اسلام کی تحریک کو بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے چنانچہ سیدنا عبداللہt کا بیان ہے کہ جب امام کائناتe نے ہجرت فرمائی تو میں امام کائنات کی تلاش میں ابو بکر کے گھر آیا اور وہاں ابوقحافہ موجود تھے۔ انہوں نے سیدنا علیt کو ایک طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ کر نہایت برہمی سے کہا کہ ان بچوں نے میرے لڑکے کو بھی خراب کر دیا ہے۔ (الاصابہ جلد ۴ صفحہ ۲۲۱)
ابو قحافہ فتح مکہ تک اپنے آبائی مذہب پر قائم رہے‘ فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہe مسجد میں تشریف فرماتھے اور وہ اپنے فرزند سعید سیدنا ابو بکر کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور امام کائنات نے ان کی ضعف پیری کو دیکھ کر فرمایا کہ انہیں کیوں تکلیف دی ہے میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا‘ اس کے بعد امام کائنات نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین کر کے مشرف بہ اسلام فرمایا‘ سیدنا ابو قحافہ نے بڑی عمر پائی۔ امام کائنات کے بعد اپنے فرزند ارجمند سیدنا ابو بکر کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے‘ آخر عمر میں بہت ضعیف ہوگئے تھے اور آنکھوں کی بصارت چلی گئی تھی۔ ۱۴ھ میں ۹۷ برس کی عمر میں وفات پائی۔ (الاصابہ جلد ۴ صفحہ ۲۲۲)
 صدیق قبل اسلام:
سیدنا ابوبکر صدیقt اسلام سے قبل ایک متمول تاجر کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی دیانتداری اور راست بازی کا خاصہ شہرہ تھا۔ اہل مکہ ان کو علم‘ تجربہ اور حسن خلق کے باعث نہایت معزز سمجھتے تھے۔ ایام جاہلیت میں خون بہا کا مال آپ ہی کے پاس جمع کرایا جاتا تھا‘ اگر کبھی کسی دوسرے شخص کے یہاں جمع ہوتا توقریش اس کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔سیدنا صدیق اکبرt کو ایام جاہلیت میں بھی شراب نوشی سے نفرت تھی جیسی زمانہ اسلام میں تھی۔ اس قسم کے ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ شراب نوشی میں نقصان آبرو ہے۔ رحمت کائنات کے ساتھ بچپن ہی سے ان کوخاص انس اور خلوص تھااور امام کائنات کے حلقہ ء احباب میں ہی داخل تھے‘ اکثر تجارت کے سفروں میں بھی ہمراہی کا شرف حاصل ہوتا تھا۔
اسلام اور صدیق:
رحمت کائنات کو جب خلعت نبوت عطا ہوا اور امام کائنات نے مخفی طور پر احباب مخلصین اورمحرمان راز کے سامنے اس حقیقت کو ظاہر فرمایا تو مردوں میں سے سیدنا ابوبکرt نے سب سے پہلے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا۔ بعض ارباب سیر نے ان کے قبول اسلام کے متعلق بہت سے طویل قصے نقل کیے ہیں لیکن یہ سب حقیقت سے دور ہیں۔ اصل یہ ہے کہ سیدنا ابوبکرt کا آئینہ دل پہلے ہی سے صاف تھا‘ فقط خورشید حقیقت کے عکس افگنی کی دیر تھی کیونکہ گذشتہ صحبتوں کے تجربوں نے نبوت کے خدوخال کو اس طرح واضح کر دیا تھا کہ معرضت حق کے لیے کوئی انتظار باقی نہ رہا‘ البتہ ان کے اول مسلمان ہونے میں بعض مورخین اور اہل آثار نے کلام کیا ہے۔ بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدہ خدیجہr کا اسلام سب سے مقدم ہے اور بعض سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علیt کو اولیت کا فخر حاصل ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ سیدنا زید بن ثابت بھی سیدنا ابوبکر سے پہلے مسلمان ہوچکے تھے لیکن اس کے مقابلہ میں ایسی اخبار وآثار بھی بکثرت موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیت کا طغرائے شرف و امتیاز صرف اسی ذات گرامی کے لیے مخصوص ہے۔ سیدنا حسان بن ثابت کے ایک قصیدہ سے بھی اسی خیال کی تائید ہوتی ہے:
اذا تذكرت شجوا من اخی ثقة
فاذكر اخاك ابابكر بما فعلا
جب تم صداقت شعار ہستی کے دکھ درد کو یا د کرنے لگو تو اپنے بھائی ابوبکرt کے کارناموں کو یاد کرلینا۔
خیر البریة اتقاھا واعدلها
بعدالنبی واوفاها بما حملا
جو نبی کریمe اور انبیاء کرامo کے بعد تمام مخلوق میں سب سے بہتر، سب سے زیادہ پرہیزگار اور سب سے زیادہ انصاف پسند ہیں، نیز ذمہ داری میں سب سے زیادہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے والے ہیں ۔
والثانی التالی المحمود مشهده
واول الناس ممن صدق الرسلا
نبیe کے یار غار ، ہمیشہ آپ کی صحبت میں رہنے والے اور مخلوق میں قابل تعریف ہیں  اور سب سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرنے والے ہیں ۔
محققین نے ان مختلف احادیث وآثار میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین سیدہ خدیجہr عورتوں میں‘ سیدنا علی بچوں میں‘ سیدنا زید بن حارثہ غلاموں میں اور سیدنا صدیق آزاد اور بالغ مردوں میں سب سے اول مومن ہیں۔ (فتح الباری ج ۷ ص ۱۳۰)
 صدیق اسلام اور مکی زندگی:
رحمت کائنات نے بعثت کے بعد کفار کی ایذا رسانی کے باوجود تیرہ برس تک مکہ میں دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا‘ سیدنا ابوبکرt اس بے بسی کی زندگی میں جان مال رائے اور مشورہ غرض ہر حیثیت سے رحمت کائناتe کے رنج و راحت میں دست و بازوبنے رہے‘ امام کائنات روزانہ صبح وشام سیدنا ابوبکرt کے گھر تشریف لے جاتے اور دیر تک مجلس راز قائم رہتی۔ (بخاری باب الہجرۃ النبی واصحابہ الی المدینہ)
مکہ میں ابتداً جن لوگوں نے داعی توحید کو لبیک کہا ان میں کثیر تعداد غلاموں اور لونڈیوں کی تھی جو اپنے مشرک آقاؤں کے پنجہء ظلم و ستم میں گرفتار تھے‘ بندگانِ توحید نے ان کے جفاکار مالکوں سے خرید کر آزاد کردیا۔ چنانچہ سیدنا بلال‘ عامر بن فہیرہ، نہدیہ، جاریہ بنی مومل اور بنت نہدیہ وغیرہ نے اس صدیقی جودوکرم کے ذریعہ نجات پائی۔ لیکن آج معاملہ اس کے برعکس نظر آتا ہے کہ ایک نام نہاد مسلم حاکم وقت جس نے ایک آزاد بنت حوا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کافروں اور اسلام کے دشمنوں کے حوالے کیا آج کہاں ہیں صلاح الدین ایوبی اور طارق بن زیاد کے روحانی فرزند جو زیاد کی طرح اپنی بہن کی عصمت کے لیے لبیک کہیں؟ اور صدیق تھے کہ جب بھی کفار مکہ امام کائنات پر دست درازی کرتے تو یہ مخلص جانثار اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے کافروں کے آگے سینہ سپر ہو جاتے ایک دفعہ رحمت کائنات خانہ کعبہ میں تقریر کر رہے تھے اور مشرکین مکہ اس تقریر سے سخت برہم ہوئے اور اس قدر مارا کہ امام کائنات بے ہوش ہوگئے اور ابو بکر نے آگے بڑھ کر کہا کہ اللہ تمہیں سمجھائے! کیا تم ان کو اس لیے قتل کرو گے کہ یہ صرف ایک اللہ کا نام لیتاہے۔(فتح الباری ج ۷ ص ۱۲۹)
ایسے پیچیدہ حالات کی وجہ سے رحمت کائنات نے ہجرت مدینہ کا ارادہ کیا اور مشرکین مکہ اپنے تمام مکر وفریب کو آزمانے کے باوجود اپنی ناکامی پر سخت برہم ہوئے اور اسی وقت رحمت کائنات کی گرفتاری کا اعلان کیا کہ جوشخص محمدe کو گرفتار کرکے لائے گا اس کو سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے۔ چنانچہ متعدد بہادر اپنے باطل مذہب کا جوش اور انعام کی طمع و لالچ میں امام کائنات کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ مکہ کے اطراف میں کوئی آبادی ویرانہ جنگل اورپہاڑ یا سنسان میدان ایسا نہ ہوگا جس کا جائزہ نہ لیا گیا ہو‘ یہاں تک کہ ایک جماعت غارثور کے پاس جاپہنچی(جوکہ ہجرت کے دوران سب سے پہلی آرام گاہ تھی) اس وقت سیدنا صدیق اکبرt کو نہایت اضطراب ہوا اور حزن و یاس کے عالم میں بولے: اللہ کے رسول! اگر وہ ذرا سی بھی نیچے کی طرف نگاہ کریں گے توہمیں دیکھ لیں گے مگر امام کائنات نے صدیق کو تشفی دی اور فرمایا کہ مایوس وغمزدہ نہ ہوں‘ ہم صرف دو نہیں بلکہ ایک تیسرا (یعنی اللہ) بھی ہمارے ساتھ ہے۔ (مسلم فضائل ابی بکر الصدیق)
اس تشفی آمیز فقرہ سے سیدنا ابو بکر صدیقt کو اطمینان ہو گیا اور یہ مضطرب دل امداد غیبی کے تیقن پر لازوال جرات و استقلال سے مملو ہوگیا۔ خدا کی قدرت کہ کفارجو تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچے تھے ان کو مطلق محسوس نہ ہوا کہ ان کا گوہر مقصود اسی کان میں پنہاں ہے اور وہ ناکام واپس چلے گئے۔ فرمایا امام کائنات نے [من كان لله كان الله له…] اسی طرح یہ مختصر قافلہ دشمنوں کی گھاٹیوں سے بچتا ہوا نبوت کے چودہویں سال مدینہ کے قریب پہنچا اور انصار کو امام کائنات کی روانگی کا حال معلوم ہو چکاتھا۔ وہ نہایت بے چینی سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔ امام کائنات شہر کے قریب پہنچے تو انصار مدینہ استقبال کے لیے نکلے اور ہادی برحق کو حلقہ میں لے کر شہر قبا کی طرف بڑھے۔ امام کائنات نے اس قافلے کو داہنی طرف مڑنے کا حکم دیا اور بنی عمرو بن عوف میں قیام پذیر ہوئے۔ یہاں انصار جوق در جوق زیارت کے لیے آنے لگے اور رحمت کائنات خاموشی کے ساتھ تشریف فرماتھے اور سیدنا ابوبکر کھڑے ہو کر لوگوں کا استقبال کر رہے تھے۔ بہت سے انصار جوپہلے رحمت کائنات کی زیارت سے مشرف نہیں ہوئے تھے وہ غلطی سے سیدنا ابو بکر کے گرد جمع ہونے لگے‘ یہاں تک کہ جب آفتاب نبوت سامنے آنے لگا اور جانثار خادم نے بڑھ کر اپنی چادر سے آقائے نامدار پر سایہ کیا تو اس وقت خادم اور مخدوم میں امتیاز ہو گیا اور لوگوں نے رسالت مآب کو پہچانا۔ (بخاری باب ہجرۃ النبی واصحابہ)
اس کو پڑھیں:   گانا سننے کی سنگینی
ایک المناک سانحہ پر سیدنا صدیقؓ کی ثابت قدمی:
جب اللہ کے رسولe اس دنیا سے رخصت ہوئے تو سیدنا ابوبکر صدیقt مدینہ کی مشرقی جانب سُخ نام گاوں میں مقیم تھے‘ یہ جگہ اب مدینہ کے ائیرپورٹ کے قرب وجوار میں بنتی ہے۔ جیسے ہی ان کو اس عظیم سانحے کی اطلاع ملی تو فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر سُخ سے مدینہ منورہ تشریف لائے اور گھوڑے سے اترتے ہی مسجد نبوی میں داخل ہوئے‘ لوگوں سے گفتگو نہیں کی‘ سیدھے سیدہ عائشہr کے حجرے میں پہنچے جہاں رسول اللہ کا جسد اطہر یمنی کپڑے سے ڈھکا ہواتھا۔ سیدنا ابوبکرt نے آپe کے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹایا اور جھک کر آپ کے سر مبارک کا بوسہ لیا اور فرط غم سے رونے لگے پھر فرمایا:
[بِاَبِی اَنْتَ یَا نَبِیَّ الله لاَ یَجْمَعُ اللَّه عَلَیْك مَوْتَتَیْنِ اَمَّا الْمَوْتَة الَّتِی كتِبَتْ عَلَیْك فَقَدْ مُتَّها۔] (البخاری: ۲/۹۰)
’’اللہ کے نبی! میرا باپ آپ پر قربان ہو! اللہ آپ کو دو مرتبہ موت نہیں دے گا جوموت آپ کے لیے لکھی تھی وہ آچکی ہے۔‘‘
سیدنا ابو بکرt حجرے سے باہر نکلے‘ سیدنا عمر لوگوں سے محو گفتگو تھے‘ آپ نے فرمایا [اجلس یا عمر] عمر بیٹھ جائیے لیکن سیدنا عمر نے جوش و غضب میں اپنی گفتگو جاری رکھی‘ سیدنا ابو بکر کھڑے ہو گئے اور خطبہ دینے لگے‘ آپ نے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد وہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ اگر ان الفاظ کو سونے کے پانی سے لکھا جائے تو پھر بھی حق ادا نہیں ہوگا۔
[فَمَنْ كانَ مِنْكمْ یَعْبُدُ مُحَمَّدًاﷺ فَإِنَّ مُحَمَّدًاﷺ قَدْ مَاتَ وَمَنْ كانَ یَعْبُدُ اللَّه فَإِنَّ اللَّه حَیٌّ لاَ یَمُوتُ۔] (البخاری: ۲/۹۱)
’’جو شخص محمدe کی عبادت کرتا تھا تو وہ جان لے کہ وہ فوت ہوگئے ہیںاور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے۔‘‘
اس کو پڑھیں:    عجلت پسندی
 خلافت علی منہاج النبوۃ:
امام کائنات کو خواب میں دوخلفاء دکھائے گئے جن کی خلافت عین منہج نبوی کے مطابق ہوگی اور وہ آپ کے طریقے سے ذرہ برابر انحراف نہیں کریں گے رحمت کائنات فرماتے ہیں میں سویا ہواتھا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں نے اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں‘ اتنے میں ابو بکر آگئے انہوں نے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا تاکہ مجھے آرام وسکون کا موقع دیں‘ انہوں نے دو ڈول نکالے لیکن ان کے ڈول نکالنے میں کمزوری تھی‘ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے پھر عمر آگئے انہوں نے ابوبکرt سے ڈول لے کر(خوب پانی نکالا) میں نے کبھی اس سے زیادہ قوت کیساتھ ڈول کھینچتے کسی کو نہیں دیکھا حتی کہ لوگ سیر ہوکر چلے گئے اور حوض ابھی بھرا ہوا تھا اور بڑے جوش کے ساتھ پھوٹ رہا تھا۔ (مسلم حدیث: ۲۳۹۲)
 پہلا خطبہ خلافت:
بیعت کے بعد سیدنا ابوبکرt نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی شان اقدس کے لائق حمد وثنا بیان کی اور فرمایا: حاضرین کرام! مجھے تمہارا سربراہ بنایا گیا ہے اور میںخود کو تم سے بہتر نہیں سمجھتا‘ اگر میں درست کام کروں تو میری مدد کرنا‘ اگر مجھ سے غلطی ہو جائے تو میری اصلاح کرنا۔ سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے‘ تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک طاقت ور ہے حتی کہ اس سے مظلوم کا حق وصول کر لوں ان شاء اللہ۔ جب کوئی قوم جہاد فی سبیل اللہ سے منہ موڑ لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کر دیتے ہیں جس قوم میں بے حیائی عام ہوجائے اللہ تعالیٰ ان پر عمومی عذاب نازل کر دیتاہے۔ میری اطاعت اس وقت تک کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے لگوں تو تم پر میری اطاعت ضروری نہیں‘ اُٹھو نماز ادا کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔ (البدایہ والنہایہ: ۶/۳۰۵-۳۰۶)
 صدیق اور سیاسی بصیرت:
سیدنا ابو بکرt بے پناہ سیاسی بصیرت کے حامل تھے اور حالات کے نشیب و فراز پر گہری نگاہ رکھتے تھے۔ اپنے دور کی حکومتوں اور ان کے قوانین سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ اس وقت ایران اور روم کی دو مملکتوںکا تمام دنیا میں شہرہ تھا اور کسی معاصر حکومت کو ان کے سامنے سر اٹھانے کی جرات نہ تھی۔ جمہوریت کا اس زمانے میں کہیں نام و نشان نہ تھا۔ تمام حکومتیں جبروآمریت کی بنیاد پر قائم تھیں۔ آج کے حکمرانوں کی طرح رعایا ان کے ہاتھوں سخت تکلیف میں مبتلا تھی۔ ہر باشندہ ملک کو انہوں نے دبا کر رکھا ہواتھا اور لوگوں سے اچھوتوں کا سا برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ سیدنا ابو بکر کے عہد خلافت میں دنیا کی ان دو عظیم مملکتوں کے جو علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوئے وہاں کامل مساوات کا قانون نافذ کیا گیا۔ سیدنا صدیق نے فوج کے سر براہوں کے نام حکم جاری کیا کہ بلا امتیاز مذہب و ملت سب سے یکساں معاملہ کیا جائے‘ کسی سے بے گارنہ لی جائے اور کسی کو محکوم اور مفتوح سمجھ کر مبتلائے اذیت نہ کیا جائے۔ چھوٹے بڑے ہر طبقے کے لوگوں سے عدل و انصاف کیا جائے‘ کسی قوم کی عبادت گاہوں کو منہدم نہ کیا جائے۔ مذہبی اور معاشرتی آزادی کا کھلے الفاظ میں اعلان کیا جائے‘ حالانکہ مفتوحہ علاقے کے لوگوں نے مساوات کا کبھی نام تک بھی نہیں سناتھا‘ وہ مسلمانوں کے اس طرز عمل اور طریق گفتگو سے نہایت خوش ہوئے اور بہت سے لوگ صرف ان کے اس رویے سے متأثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔(ابو بکر صدیق لمحمد حسین ہیکل صفحہ: ۲۵)
 جیسے حکمران ویسی رعایا:
ایک بدوی خاتون نے سیدنا صدیقt سے پوچھا اے خلیفہ رسول! جاہلیت کے بعد اللہ نے ہمیں اسلام کیوجہ سے جو نعمت عطا کی ہے ہم اس پر کب تک قائم رہیں گے؟ صدیق نے فرمایا:
[بَقَاؤُكمْ عَلَیْه مَا اسْتَقَامَتْ بِكمْ اَئِمَّتُكمْ۔]
’’تم لوگ اس پر اس وقت تک قائم رہو گے جب تک تمہارے حکمران اسلام پر قائم رہیں گے۔‘‘
وہ کہنے لگی کہ حکمرانوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ صدیقt نے فرمایا:
[اَمَا كانَ لِقَوْمِك رُؤُوسٌ وَاَشْرَافٌ یَأْمُرُونَهمْ فَیُطِیعُونَهمْ۔]
’’کیا تمہاری قوم کے شرفاء اور سردار نہیں‘ جو قبیلے والوں کو حکم دیتے ہیںاور وہ ان کی اطاعت کرتے ہیں؟‘‘
اس نے کہا بالکل ہیں۔ جناب صدیقt نے فرمایا: [فَهمْ اُولَئِك عَلَی النَّاسِ۔] ’’یہی لوگ تو حکمران ہیں۔‘‘ (بخاری: ۳۸۳۴)
 وسعت علم اور صدیق:
رحمت کائنات نے دنیائے اسلام کے پہلے حج میں سیدنا صدیقt کو مدینہ منورہ سے امیر الحج بناکر روانہ فرمایا۔ عبادات میں سے مناسک حج کا علم انتہائی دقیق ہے اگر صدیقt کے پاس وسعت علم نہ ہوتی تو رسول اللہe کبھی امیر الحج نہ بناتے۔ اسی طرح نماز کے معاملہ میں بھی رحمت کائنات نے سیدنا صدیق ہی کو اپنا نائب بنایا اور رسول اکرمe نے سیدنا انس سے جو کتاب الصدقہ لکھوائی تھی اس کو سیدنا صدیقt سے روایت کیا ہے‘ وہ صدقہ کے بارے میں سب سے زیادہ قابل اعتماد دستاویز ہے‘ کوئی شرعی مسئلہ ایسا نہیں جس میں سیدنا صدیقt نے غلطی کی ہو۔ جبکہ دیگر صحابہ کرام] کے کئی ایک ایسے مسئلے مذکور ہیں جن میں انکو غلطی لگی۔ (ابو بکرؓ افضل الصحابہؓ : ص: ۶۰)
اس کو پڑھیں:   ٹی وی ڈرامے اور ہم
 اجتہاد اور صدیق:
سیدنا صدیقt کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جس کی اصل کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے نہ ملتی تو وہ اس میں اجتہاد کرتے اور کہا کرتے تھے:
[اَقُولُ فِیها بِرَاْی فَإِنْ یَكنْ صَوَابًا فَمِنَ اللَّه، وَإِنْ یَكنْ خَطَاً فَمِنِّی وَمَنَ الشَّیْطَانِ۔] (السنن الصغیر للبیهقی: ۲/۳۶۲)
’’میں اپنی رائے سے کہتا ہوں اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو یہ میری غلطی ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔‘‘
جب بھی ان کے پاس کوئی مسئلہ آتا تو وہ کتاب اللہ سے اس کا حل ڈھونڈتے‘ اگر مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اگر نہ ملتا تو پھر صحابہ کرام سے اس بارے میں پوچھتے ایسے موقعوں پر آپ کہا کرتے تھے:
[اَلْحَمْدُ لِلَّه الَّذِی جَعَلَ فِینَا مَنْ یَحْفَظُ عَنْ نَبِیِّنَا ﷺ۔] (السنن الكبری للبیهقی: ۱۰/۱۱۴)
’’اللہ کا شکر ہے ہم میں ایسے لوگ موجو دہیں جنہوں نے رسول اللہ e کی سنت کو محفوظ کر رکھا ہے۔‘‘
لیکن دور حاضر میں اہل الرائے کا ایک ٹولہ دلیلیں تو ابو بکر و عمر کے اجتہاد کی پیش کرتے ہیں لیکن ان کے اکثر و بیشتر مسائل حدیث رسول سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں ۔ سچ کہا تھا سیدنا علیt نے [الكلمة حق ارید بها الباطل] آئیڈیل اور نمونہ تو صحابہ کے اجتہاد کو پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں شریعت کی مخالفت کرتے ہیں‘ اللہ انہیں ہدایت دے اور دین کی سمجھ دے۔
 صدیق بطور فیصل:
سیدنا ابو بکر صدیقt نے اپنے نہایت معتمد ساتھی سیدنا عمر فاروقt کے خلاف ایک مقدمہ میں فیصلہ دیا تھا۔آئیے اس واقعہ کے بارے میں ان کا موقف پڑھتے ہیں۔ ہوا کچھ یوں کہ سیدنا عمرt نے اپنی ایک انصاری اہلیہ کو طلاق دے دی تھی‘ اس خاتون سے ان کا بیٹا عاصم تھا‘ کچھ عرصہ بعد سیدنا عمرt نے دیکھا کہ وہ انصاری خاتون اپنے بیٹے کو اٹھائے تھی اور بچہ دودھ پینا چھوڑ چکا تھا اور اب چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تھا‘ سیدنا عمرt نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر ماں سے چھیننا چاہا اور تھوڑی سختی بھی کی کہ بچہ رونے لگا۔ سیدنا عمرt کہنے لگے کہ میں اپنے بیٹے کا تمہاری نسبت زیادہ حقدار ہوں‘ یہ جھگڑا سیدنا صدیقt تک پہنچا تو سیدنا صدیقt نے ماں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور فرمایا: اس بچے کے لیے ماں کی محبت و شفقت اس کو گود اور بستر تمہاری نسبت زیادہ بہتر ہے حتی کہ بچہ جوان نہ ہوجائے اور اپنا فیصلہ خود نہ کرے کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ماں زیادہ مشفق و مہربان زیادہ رحم دل زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ نرم مزاج ہے جب تک وہ عورت دوسری شادی نہ کرے تب تک وہ بچے کی زیادہ حقدار ہے۔ (مصنف عبدالرزاق: ۷/۵۴، حدیث: ۲۶۰۰)
 صدیق بطور خطیب:
سیدنا ابوبکرt نے لشکر اسامہ کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے لوگو! ٹھہرو میں تمہیں کچھ ہدایات دینا چاہتا ہوں۔ انہیں اچھی طرح یاد کرلو، نہ خیانت کرنا، نہ مال غنیمت چرانا، نہ بد عہدی کرنا، نہ لاشوں کی بے حرمتی کرنا، نہ پھل دار درخت کاٹنا، نہ بلا ضرورت بکری گائے اور اونٹ ذبح کرنا۔(اب ذرا سوچئے جتنے کاموں سے سیدنا صدیق نے منع کیا ان میں سے وہ کونسا ایسا کام ہے جو ہم اورہمارے حکمران نہیں کرتے؟ پھر فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ وہ ان سب امور کی پابندی کر کے فتح عزت وعظمت و کامیابی ان کا ثمرہ بنتی تھی اور ہم ان سب کاموں میں مخالفت کرتے ہیں تو ذلت و رسوائی آج ہمارا مقدر بن چکی ہے۔) عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزروگے جو گرجا گھروں میں عبادت میں مصروف ہوں گے۔ان سے تعرض نہ کرنا، تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہوجو تمہارے لیے رنگ برنگے کھانے لائیں گے تم ہر کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا‘ تمہارا ایسے لوگوں سے مقابلہ ہوگا جنہوں نے اپنے سر درمیان سے مونڈ رکھے ہونگے اور بقیہ بالوں کو پٹیوں کی مانند چھوڑ دیا ہوگا ایسے لوگوں کو تہ تیغ کر دینا، اب اللہ کا نام لیکر روانہ ہو جاؤ۔ پھر سیدنا ابوبکرt نے سیدنا اسامہt کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
[اصنع ما امرك به نبی اللهﷺ ابدا ببلاد قضاعة ثم إیت آبل ولا تقصرن فی شیء من امر رسول اللهﷺ ولا تعجلن لما خلفت عن عهده۔]
رسول t کے حکم کی تعمیل کرنا‘ جنگ کی ابتدا بلاد قضاعہ سے کرنا پھر آبل (موجودہ اردن کے جنوب میں واقع ایک شہر ہے) پر حملہ آور ہونا لیکن رسول اللہe کے کسی حکم میںذرہ بھر بھی کوتاہی نہ کرنا اور رحمت کائنات کے عہد سے پیچھے مت ہٹنا۔
سیدنا اسامہ کا لشکر چلاگیا‘ اہل لشکر امام کائنات کے حکم کے مطابق قضاعہ کے قبائل پر حملہ آور ہوئے‘ آبل فتح کیا اور مال غنیمت او رفتح کے ساتھ سرخرو ہوکر لوٹے‘ ان کا یہ پورا مشن چالیس روزہ تھا اور چالیس ہی دن میں مکمل کامیابی مل گئی۔ (تاریخ الطبری: ۴/۴۵-۴۷، والسیرہ النبویۃ الصحیحہ للدکتور العمری: ۲/۴۶۷-۴۷۰)
 سیدنا صدیق کی اولو العزمی:
سیدنا صدیق نہایت درجہ اولو العزم اور صمیم القلب خلیفہ تھے‘ ان کی اولوالعزمی کے واقعات تو بہت ہیں لیکن یہاں ہم چند ایک ذکر کرتے ہیں:
1          مرتدین اور مانعین زکاۃ کا فتنہ بپا ہوا تو سیدنا صدیقt نے فتنہ بپا کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنیکااعلان فرمایا۔ زیادہ تر صحابہ نے اس بات سے اختلاف کیا جن میں سیدنا عمر بھی شامل تھے لیکن سیدنا صدیق اپنے ارادے پر قائم رہے اور بہ درجہ غایت اولوالعزمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف لفظوں میں فرمایا کہ جو لوگ نماز اور زکاۃ میں فرق کرینگے میں ان سے ضرور جنگ کروں گا چاہے مجھے اکیلا ہی کیوں نا مقابلہ کرنا پڑے۔
2          عراق میں مثنی بن حارثہ شیبانی جب برسر پیکار تھے تو انہوں نے دربار خلافت سے مزید فوج کا مطالبہ کیا تو سیدنا صدیقt نے ان کی امداد کے لیے خالد بن ولیدt کو اچھی خاصی فوج دیکر عراق روانہ کیا۔
3          شام کے محاذ پر فوج بھیجنے کی ضرورت پڑی تو تمام عرب سے فوجیں جمع کیں پھر سیدنا ابو عبیدہ بن جراحt اور اسلامی فوج کے سربراہوں کی طرف سے جو شام میں مقیم تھے دشمن پر حملہ کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ سی ہوئی تو سیدنا خالد بن ولیدt کو وہاں پہنچنے اور حملہ کرنے کا حکم دیا۔ (الصدیق ابو بکر‘ محمد حسین ہیکل ص: ۴۰-۴۱)
 سیدنا صدیق کا وقت رحلت:
سیدہ عائشہr فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکرt کی بیماری کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ انہوں نے سخت سردی والے دن غسل کیا تو انہیں بخار ہوگیا جو پندرہ دن تک جاری رہا بیماری کی شدت کے باعث آپ ان دنوں مسجد نہ جا سکتے تھے‘ اس لیے سیدنا عمرt کو نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے۔ صحابہ کرام آپ کی تیمارداری کرنے آتے تھے‘ سب سے زیادہ خبر گیری سیدنا عثمانt کرتے تھے۔ (اصحاب الرسولe‘ محمود مصری)
جب ان کی بیماری شدید ہوگئی تو ان سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لیے طبیب بلائیں؟ تو فرمایا:
[قَدْ رَآنِی فَقَالَ: إِنِّی فَعَّالٌ لِمَا اُرِیدُ۔] (ترتیب و تهذیب البدیه والنهایه للدكتور السلمی،ص: ۳۳)
’’طبیب نے مجھے دیکھ لیا ہے اور وہ کہتا ہے بیشک میں جو چاہتا ہوں کرتاہوں۔‘‘
سیدہ عائشہr فرماتی ہیں: سیدنا ابو بکر نے فرمایا:
[انظروا ماذا زاد فی مالی منذ دخلت فی الإمارة فابعثوا به إلی الخلیفة بعدی۔] (صفة الصفوة لابن الجوزی: ۱/۲۶۵)
’’جب سے میں خلیفہ بنا ہوں اس دوران جتنا مال بڑھا ہے وہ میرے بعد والے خلیفہ کو پہنچا دینا۔‘‘
ہم نے جب ان کا مال چیک کیا تو ایک نوبی غلام تھا (مصر کے جنوب میں سوڈان کے شہر نوبہ میں ایک قوم آباد تھی یہ غلام انہیں میں سے تھا) اور یہ خلیفہ کے بچے کھلاتا تھا۔اس کے علاوہ ایک اونٹ تھا جو ان کے باغ کو سیراب کرتا تھا‘ ہم نے یہ دونوں چیزیں سیدنا عمرt کی خدمت میں بھیج دیں تو وہ رو پڑے اور روتے روتے فرمایا: ابو بکر پر اللہ کی رحمتیں ہوں! انہوں نے اپنے بعد والوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔(صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی: ۱/۲۶۵)
 صدیق اکبر کے آخری لمحات:
سیدہ عائشہr فرماتی ہیں کہ سیدناابوبکرt کا مرض پندرہ دن جاری رہا حتی کہ جب ۱۳ ہجری ۲۲ جمادی الآخرہ کو پیر کا دن ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا:
[فِی اَیِّ یَوْمٍ مَاتَ رَسُولُ الله ﷺ۔]
رسول اللہe کس دن رحلت فرمائی تھی؟
میں نے جواب دیا پیر کے دن، تو ابو بکرt نے فرمایا:
[إِنِّی لاَرْجُو فِیمَا بَیْنِی وَبَیْنَ اللَّیْلِ۔] (مسند احمد: ۶/۱۳۲)
’’مجھے امید ہے کہ میں آج دن کو یا رات کو کسی وقت فوت ہو جاوں گا۔‘‘
پھر پوچھا: فَفِیمَ كفَّنْتُمُوه؟ تم لوگوں نے رسول اللہe کو کتنی چادروں میں کفن دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا یمن کی دھاری دار تین چادروں میں۔ اس میں قمیص اور عمامہ نہیں تھا، سیدنا ابو بکرt نے فرمایا: میری چادر میں زعفران یا گیرو کا نشان ہے اسے دھو دینا اور دیگر دو چادریں ملا کر میرا کفن بنادینا، ان سے عرض کیا گیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے‘ خوب احسان فرمایا ہے‘ ہم آپ کو نئی چادروں میں کفن دیں گے؟ انہوں نے فرمایا: زندہ شخص کو نئے لباس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے جبکہ میت کا انجام تو گلنا سڑنا ہوتاہے اور لباس کا بوسیدہ ہونا ہوتاہے۔ سیدنا ابو بکرt نے وصیت کی کہ انہیں ان کی بیوی سیدہ اسماء بنت عمیسr غسل دیں اور انہیں رسول اللہe کے پہلو میں دفن کیا جائے۔
اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت صدیق اکبرt کی زبان سے جو آخری صدا نکلی وہ قرآن پاک کی یہ آیت مبارکہ تھی:
{تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ}
’’(اے اللہ!) اسلام پر میرا خاتمہ کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل کرلے۔‘‘ (یوسف: ۱۰۱)
وفات کے وقت ان کی عمر ۶۳ برس تھی۔ (اصحاب الرسول‘ محمود مصری: ۱/۱۰۶ والتاریخ الاسلامی‘ محمود شاکر ص: ۱۰۴)


No comments:

Post a Comment

Pages